ایران کی جانب سے شام کے ساحلوں پر فوجی اڈے قائم کرنے کے ارادے کا انکشاف ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب دوسری طرف تہران نواز عراقی ملیشیا پاپولر موبیلائزیشن نے عراق کے صوبے نینوی میں تلعفر کے اطراف متعدد علاقوں پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس طرح ایران کی جانب سے ایک تزویراتی گزرگاہ کے قیام کا منصوبہ اپنے انجام کی جانب بڑھ رہا ہے ، یہ گزرگاہ عراق کو چیرتی ہوئی شمال مشرقی شام اور حلب اور حمص سے گزرتی ہوئی بحیرہ روم میں لاذقیہ کی بندرگاہ پر اختتام پذیر ہو گی۔
ایران کے چیف آف اسٹاف کمیٹی جنرل محمد باقری نے ہفتے کے روز اعلان کیا تھا کہ "ان کا ملک شام اور یمن کے ساحلوں پر بحری اڈوں کی تعمیر کی طرف متوجہ ہو رہا ہے تاکہ دور دراز اڈوں کے لیے ایرانی بیڑوں کی ضرورت کو پورا کیا جا سکے"۔
مذکورہ بیان پاپولر موبیلائزیشن ملیشیاؤں کے اس اعلان کے فوری بعد سامنے آیا ہے جس میں ان ملیشیاؤں نے کہا تھا کہ وہ موصل کا معرکہ ختم ہونے کے بعد ایران کے احکامات پر عمل کرتے ہوئے بشار حکومت کی افواج کے شانہ بشانہ لڑنے کے لیے شام کا رخ کریں گی۔

"ایرانی انقلاب کی کوئی سرحد نہیں "

یہ پہلی مرتبہ نہیں ہے کہ ایران نے بحیرہ روم میں شام کے ساحلوں پر اپنی موجودگی کو یقینی بنانے کا اعلان کیا ہے۔ اس سے قبل رواں سال اپریل میں ایرانی پاسداران انقلاب میں بحریہ کی فورس کے کمانڈر ایڈمرل علی فدوی نے ایرانی بحریہ کا ایک خصوصی یونٹ شام کے ساحلوں پر بھیجنے کا اعلان کیا تھا۔
فدوی کا کہنا تھا کہ " ایرانی اسلامی انقلاب کی کوئی سرحد نہیں ہے ، جہاں کہیں بھی ضرورت محسوس ہوئی تو وہاں انقلاب کے دفاع کے واسطے پاسداران موجود ہوں گے"۔
ایرانی پاسداران انقلاب کے نائب سکریٹری جنرل حسین سلامی نے 31 اکتوبر کو اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایران کی حدود بحیرہ احمر اور بحیرہ روم کے مشرق تک پہنچ چکی ہیں۔
ایران نے خطے کے ممالک کے خلاف اپنی مداخلتوں اور دھمکیوں میں اضافہ کردیا ہے بالخصوص نیوکلیئر معاہدے کے بعد جو تہران اور چھ بڑے ممالک کے درمیان طے پایا ہے۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک ایران کی آزاد کی جانے والی رقوم کو تہران حکومت اپنی توسیع پسندانہ پالیسی کے لیے خطے میں دہشت گردی کی سپورٹ کے واسطے استعمال کر رہی ہے۔