Search This Blog

Showing posts with label SELECTED ARTICLES. Show all posts
Showing posts with label SELECTED ARTICLES. Show all posts

Wednesday, 19 April 2017

طیب اردگان کی کامیابی : خدا جانے کتنی دعاؤں کا اثر ہے!

طیب اردگان کی کامیابی : خدا جانے کتنی دعاؤں کا اثر ہے!
مفتی محمد صادق حسین قاسمی کریم نگری
ترکی کی سرزمین سے ہر مسلمان کوایک گہرا تعلق اور خصوصی دلچسپی ہے ،اسلامی تاریخ کی یادیں اس سرزمین سے وابستہ ہیں ۔اس لحاظ سے وہاں پیش آنے والے حالات وواقعات پردنیا کے مسلمان بالخصوص نظر رکھتے ہیں ،اچھی خبروں سے خوش ہوتے ہیں کامیابی اور ترقی کی اطلاعات سے مسرت محسوس کرتے ہیں ،اور مسلمانوں کے عروج وسربلندی سے عالمِ اسلام کے لئے فالِ نیک لیتے ہیں۔چناں چہ گزشتہ دنوں ترکی میں صدارتی نظام میں ترمیم کے مقصدسے ریفرنڈم ہوا،جس میں ترکی کے موجودہ صدر رجب طیب اردگان کامیاب ہوگئے ،اردگان کی یہ کامیابی بہت بڑی کامیابی ہے ،اس کی وجہ سے ان شاء اللہ ایک نئے دور کو آگے بڑھنے اور کامیابی کے ساتھ سفر طے کرنے میں بڑی مدد ملے گی ،حیرت انگیز طور پر اس کامیابی کا اثر پوری دنیا میں محسوس کیا گیا اور مسلمانوں میں ایک خوشی ومسرت کی لہر دوڑگئی ۔خود ترکی باشندوں نے اس کامیابی پر صرف ظاہری خوشیوں کا مظاہرہ نہیں کیابلکہ وہ فرطِ جذبات میں اللہ تعالی کے حضور سجدہ ریز ہوگئے،اللہ اکبر کی صداؤں سے ترکی گونج اٹھا اورلوگوں کو اس فتح وکامیابی سے ایک حوصلہ ملا ۔
ترکی میں ریفرنڈم ہو ،کامیابی رجب طیب اردگان کو حاصل ہو اور دنیا کے مختلف علاقوں کے مسلمانوں میں خوشی ومسرت پائی جانے لگے ،یقیناًیہ ایک حیرت انگیز بات ہے ،اگردنیا کے دیگر مسلمان طیب اردگان کی کامیابی پر خوشی محسوس کررہے ہیں اور اس کو ایک عظیم فتح سمجھ رہے ہیں تو اس کی ایک وجہ ہے ۔وجہ یہ ہے کہ ہمیں اس حقیقت کو فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ ایک طویل دور تک عظمتِ اسلام کا نشان رہنے والی اس سرزمین پر ایسی تیز وتند آندھیاں بھی آئیں کہ آمریت وجابریت کے علم برداروں نے الحاد ودہریت کی جڑوں کو مضبوط کیا ،اوربغاوت اور دین بے زاری کا ماحول پیداکرنے میں اسلام دشمنوں نے کو ئی کسر نہیں چھوڑی ،لیکن سخت ترین حالات ،آزمائش وامتحان کے کٹھن زمانہ میں بھی اس سرزمین پر ایمان کی خاموش محنتیں ہوتی رہیں،ایمان کی چنگاریاں بجھی نہیں تھیں ،اور حفاظتِ اسلام کی تڑپ رگ وپے میں باقی تھی،جانوں کا نذرانہ پیش کرکے نسلوں کے ایمان واسلام کا بیڑااٹھانے والے ترکی کے ایمان پسندوں نے بڑی قربانیاں دیں۔حالات ومشکلا ت سے گزر کر ترکی پھر اب ایک نئی تاریخ رقم کرنے کی طرف بڑھ رہا ہے اور وہاں کے مسلمانوں کی بڑی تعداد پھر سے حرارتِ ایمانی سے سرشار ہورہے ہیں ،اس انقلاب کو برپاکرنے میں خاموش اور دور اندیش محنتیں اور کوششیں رہی ہیں ۔اور وہاں کے علماء ومفکرین اور مصلحین کی غیر معمولی جدوجہد رہی ،افراد کو تیار کرنے اور ان کے ذہن ودل کو اسلامی سانچے میں ڈھال کر تربیت دینے میں بڑی کوشش کی گئی تب جاکر آج آنکھوں کو یہ دلکش نظارے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔
اسلامی انقلاب کے زیر اثر تربیت والوں میں ایک ’’رجب طیب اردگان ‘‘ بھی ہیں۔جو اس وقت ملتِ اسلامیہ کے ایک عظیم رہبر ورہنما اور قائد کی حیثیت سے پہنچانے جارہے ہیں ،وہ جہاں اپنے ملک کی ترقی ،نیک نامی ،اپنی لوگوں کی کامیابی ،ان کی عزت ،فلاح کی جدوجہدکرتے ہوئے دلوں پر حکمرانی کرنے والے بے مثال قائد بن گئے جنہیں ترکی کے لوگ دل وجان سے چاہتے ہیں اور ایک اشارہ پر انقلاب برپا کرنے لئے تیار ہوجاتے ہیں ،وہیں انہیں ہر مسلمان سے محبت ہے ،وہ ہر مسلمان کے دکھ درد کو اپنا دکھ سمجھتے ہیں ،خنجر کسی پر چلے ،حالات کاکوئی بھی شکار ہو،دنیا کے کسی بھی خطے اور گوشے میں مسلمان ظلم وستم میں مبتلا سب سے پہلے اپنے درد وکرب کا اظہار کرنے والے اور مظلوم انسانوں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کرنے والے ایک مثالی قائد کی حیثیت سے اردگان نے اپنی پہنچان بنائی ہے۔اور یہ کوئی بناوٹ یا ظاہری ڈھونگ نہیں بلکہ ان کی انسانیت دوستی ،اورمظلوموں کی حمایت کا ثبوت ملکِ شام ،فلسطین ،برما وغیر ہ ہیں۔نیک دل اور معتدل مزاج ادرگان اس وقت دنیا کے مظلوم مسلمانوں کے مسیحا وخیر خواہ سمجھے جاتے ہیں ،ان کے کتنے ویڈیواور تصاویر ہیں جنہیں آپ دیکھ سکتے ہیں جس میں وہ شام کے بے قصور انسانوں پر ہونے والے مظالم کو بیان کرتے ہوئے آبدیدہ ہوجاتے ہیں ،فلسطینیوں کی حمایت میں سب سے پہلے رہنے والے اور وہاں کے انسانوں کو امن وامان دلانے کے لئے فکر مند رہنے والے اردگان ہیں،اپنی سرزمین کوانہوں نے مظلوم انسانوں کے لئے پناہ گاہ بنائی ،ان کو آباد کیا ،ان کے لئے سہولیتیں فراہم کی۔ابھی چند دن پہلے جب قاتل بشار الاسد نے زہریلی گیس کے ذریعہ حملہ کیااور بے قصوروں کو موت کے گھاٹ اتارا،جس میں بڑی تعداد میں معصوم بچے بھی تھے۔ صدر طیب اردگان سے کیمیائی حملوں کا شکار بننے والے 9ماہ کے جڑواں بچوں کے باپ عبد الحمید الیوسف نے ملاقات کی اور اپنے دکھ اور درد کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ:’’ہمیں امید ہے کہ دنیا ہمارے دکھ کو سمجھے گی،میرے بچے بہت خوبصورت تھے ،لیکن وہ پہلے بچے نہیں تھے جو اسد کے ظلم کا نشانہ بنے ہوئے ہیں،ہم دنیا کو دکھائیں گے کہ ہم کتنے صابر ہیں،اس جاری جنگ میں نہ ہم پہلے نشانہ بننے والے ہیں اور نہ آخری نشانہ ہیں ،چھ سال سے ہم اپنے بچوں کے لاشے اٹھارہے ہیں۔‘‘اس نوجوان نے فرطِ جذبات میں صدر طیب اردغان کی تسلی،تعزیت اوراظہارِ ہمدردری پر پیشانی کا بوسہ دیتے ہوئے کہاکہ:’’وہ اس کی آخری امید ہیں۔‘‘مظلوموں کے ساتھ اظہارِ ہمدردی کے لئے ان کا یہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے کہ:سوئزرلینڈ کے شہر ڈیوس میں ہونے والے ورلڈ اکنامک فورم کے اجلاس میں اسرائیل کے صدر شمعون پیرز نے اپنی تقریرمیں کہاتھاکہ اسرائیل کو غزہ میں کئے گئے قتل عام پر کوئی شرمندگی نہیں ۔اگر ضرورت پڑی تو مستقبل میں بھی وہ اس طرح کے اقدام سے گریز نہیں کرے گا۔اسرائیلی صدر کی وحشیانہ اقدام اور درندگی کے اعلان پر مشتمل اس متکبرانہ تقریر کا جواب دینے کے لئے اجلاس میں رجب طیب اردگان نے منتظمین سے وقت مانگا ۔منتظمین کے انکار پر وہ اجلاس سے یہ کہتے ہوئے واک آؤٹ کرگئے کہ وہ اس اجلاس میں آئندہ کبھی شریک نہیں ہوں گے ،چوں کہ اجلاس کے منتظمین کا رویہ مظلوم مسلمانوں کے خلاف اور ظالم اسرائیل کے حق میں جانب دارانہ ہے۔‘‘اس کے علاوہ بھی اردگان نے دنیا کے ہر علاقہ میں ہونے والے ظلم وتشدد کے خلاف کہا ہے اور مسلمان جہاں کہیں کا بھی ہو ،ان کے ساتھ برابر ہمدردی کا اظہار کیا اور جو کچھ وہ اور ان کی حکومت کرسکتی ہے اس کے کرنے سے بالکل بھی گریز نہیں کیا ،ظالموں کے خلاف صدائے احتجاج بلندکی ،مظلوموں کے لئے اپنے دروازے کھول دئیے ،خداجانے کتنوں کوانہوں نے سہارادیا،بے ٹھکانوں کو آباد کیا،بلکتے انسانوں کے آنسوؤں کو صاف کیا ،یتیم بچوں کو سینے سے لگایا،عورتوں کو عزت واکرام کے ساتھ زندگی گزارنے کا حوصلہ دیا۔اس وقت ترکی کی سرزمین شام کے مظلوم مسلمانوں کا دوسرا ٹھکا نہ ہے۔اردگان نے حکومت کا نظام سنبھال کر اپنی انفرادیت بھی بتائی ،لوگوں کے دلوں کو بھی جیتا ،مسائل ومشکلات کو بھی حل کیا،مغرب زدہ ذہنوں کو اسلام کی طرف لانے اور اسلامی فکر کو پروان چڑھانے کا عظیم کارنامہ بڑی حکمت،دوراندیشی کے ساتھ انجام دیااور دینے میں لگے ہوئے ہیں۔اردگان کی قیادت پر تبصرہ کرتے ہوئے عالم اسلام کے معروف قلم کار ومصنف مفتی ابولبابہ شاہ منصور لکھتے ہیں:’’عظیم ترک قائدرجب طیب اردگان کی قیادت وسیادت نے نہ صرف ترکی میں اسلامی تحریک کو منظم ومستحکم کیا ،بلکہ پورے عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک کے عوام کے اسلامی رجحان ومیلان کے لئے حوصلہ افزاترغیبی مثال پیش کی ہے۔اب ان ممالک کے عوام اورمخلص قائدین کے لئے انسانی فلاح وبہبود کا نمونہ امریکا،برطانیہ،فرانس اور روس وغیرہ نہیں رہے ۔ان کی نگاہیں ترکی پر ٹکی ہوئی ہیں۔اس وقت ہر ملک کے باشعور اور خوش حالی چاہنے والے افراد رجب طیب ارگان کی سی سحر انگیز اور کایاپلٹ قیادت کے طلب گار ہیں۔‘‘
اگر آج صدر رجب طیب اردگان نے ایک تاریخی کامیابی حاصل کی ہے تو جہاں اس میں ان کے خلوص ،درد وتڑپ ،ملنساری و معتدل مزاجی اورعوامی خدمات ومقبولیت کا دخل ہے ،وہیں اردگان کے لئے خدا جانے کتنی ماؤں،کتنے بچوں ،کتنے بوڑھوں،کتنے جوانوں ،کتنی عورتوں کی صبح وشام کی دعاؤں کا اثر ہوگا ،جن کے دلوں کو اردگان نے جیت لیا اور جنہیں ظلم وستم سے نجات دلاکر امن واطمینان کی زندگی گزارنے کے لئے اپنی سرزمین پر رہائش فراہم کی اور ظالموں کے چنگل سے نکالنے کے لئے ہرممکن تگ ودو کی۔محبت بانٹنے والے، ہر ایک کو ہنستا مسکراتا دیکھنے والے اورظلم کا نشانہ بنے دیکھ کر بے قرار وبے اختیار ہوجانے والے اردگان دعاؤں کے حصار میں ہے اور وہ بھی مظلوم انسانوں کی دعائیں ان کے لئے عظیم تمناؤں کے ساتھ ہیں ،اور بے شمار مسلمانوں کی دعائیں ہیں جو ان کی ترقی ،نیک نامی ،سلامتی کے لئے ہر وقت نکلتی ہیں کیوں کہ اس وقت ملتِ اسلامیہ کو ایسے ہی قائدین اور حکمرانوں کی ضرورت ہے۔خدا اردگان کو سلامت رکھے،اور پاکیزہ عزائم وبلند ارادوں میں کامیاب کرے۔آمین

یہی نا........ کہ نکلا پہاڑ کهودا چوها

یہی نا........ کہ  نکلا پہاڑ کهودا چوها
عزیزخان بڑیچ

 .جی هاں وہ معجزہ تم هی تهے کہ جس کو زمین پر  رونما هوجانے کی خاطر  کروڑوں اور اربوں  مرد و زن پیدائش کے عمل میں مشغول رهے.......
کیوں؟
تاکہ آخرکار  ڈرامائی اور معجزانہ طور پر سلسلہ آپ پر منتہج هو......
آپ ذرا اپنی  8 نسلیں پیچهے کی طرف دیکهے تو آپ دیکهه لوگے کہ اس دوران  250  مرد و زن  جمع هوجاتے ہیں جنکی برمحل مجامعت پر آپکی هستی کا دارومدار هے..

آپ  20 نسلیں پیچهے کی طرف سفر کریں تو دیکهوگے کہ  1048576  افراد فقط آپکی خاطر پیدائیش کے عمل میں مصروف ہیں.....

اگر آپ  25 نسلیں پیچهے تک دوڑے  تو  مرد و زن کا اک ٹهاٹیں مارتا هوا سمندر  یعنی   33 کروڑ  55 لاکهه 44 هزار 432  افراد کو صرف تمہاری پیدائیش کی خاطر تگ و دو  میں مصروف پاوگے......

اور پهر اس سے مزید پانچ نسلیں  یعنی  اگر آپ اپنے 30 نسلوں کا خاکہ بنانے کی کوشش کروگے تو  آپ یہ دیکهه کر حیران رہ جاوگے کہ صرف تیس نسلوں تک کا وہ سلسلہ جسکی آخری کڑی تم پر آکر سستانے لگی هے کی بطون میں ایک ارب سے بهی زیادہ یعنی   1073741824 خوابیدہ  مرد اور عورتوں کا صرف آپکو  زمین پر اتارنے کے ارمان، تگ و دو، خواهشات اور کاوشیں  لئے  آپکی شکل میں زمین پر رقصاں ہیں........ صرف اور صرف آپکی شکل میں......... یعنی اک تم  اور  اک ارب سے زیادہ لوگوں کے آپ پر احسانات.....

اور.....اور..... اور جب آپ تهوڑی سی همت کرکے  اپنی نسل کے  64 ویں  کڑی پر پہنچ جائے  تو اتنے لوگوں کا احسان کہ آپکے لئے تصور کرنا محال هوجائے..........
یعنی  ان لوگوں کی تعداد جن کے میل ملاپ کی بدولت آپ نے  عدم وجود سے هستی میں قدم رکها  اندازاا   1000000000000000000  اتنی بنتی هے  اور یہ تعداد ان لوگوں کی تعداد سے سینکڑوں گنا زیادہ هے جو کسی بهی وقت اس کرہ ارض پر موجود رهے............
یہ بات ذہین نشین رهے  کہ ان افراد میں  بهائی ، بہین، چچا ، پهوپهی ، خالہ  غرض کوئی بهی شامل نہیں سوائے  ماں اور باپ کے.........

کیا سمجهے؟؟؟؟؟ 
یہی نا......  کہ ان لاتعداد انسانوں کو مجهے اس دهرتی پر اتارنے کیلئے  کی خواهشات، ارمانوں، محنت اور احسانات کا نتیجہ یہ هرگز نہیں هوسکتا کہ..............  تم سارا دن کمانے اور پیسہ بنانے میں صرف اس لیئے صرف کردو  کہ پهر بیٹه کر آرام سے کهایا جائے اور راتوں کو سکون کی نیند سویا جائے... اور بس....

اگر هماری زندگی کا  75 فیصد حصہ  علم حاصل کرنے،  سیکهنے اور سکهانے، فطرت کے قوانین کو کهوجنے اور  عظیم فطرت سے هم آهنگ هونے کی تگ و دو میں نہیں گزررهی تو پهر کیا هے؟؟؟
 یہی نا........ کہ  نکلا پہاڑ کهودا چوها.

هاں آخری بات کہ پہاڑ کهودنے کے بعد چوهے کا منظر عام پر آنا بهی زیادتی هوگی.......... کیونکہ یہ بهی تو ممکن هے کہ  معلوم نہیں کتنے چوهوں کے بهی احسانات شامل حال هو......


Sunday, 26 March 2017

The spectre of eviction that haunts Assam’s Bengali Muslims

ISSUE OF IDENTITY SOCIETY

The spectre of eviction that haunts Assam’s Bengali Muslims
Suvojit Bagch

Assam’s Bengali Muslims guard with their lives yellowing documents that prove they are Indian. But it is not enough to keep at bay the constant spectre of eviction

A sudden gust of wind swept up a bunch of worn-out papers at Firoza Khatun’s makeshift house. As the papers flew about, it was a brittle, four-square-inch paper in a blue plastic folder that Khatun and her husband Hanif Ali seemed to care about the most. Firoza ran after the yellowing, leaf-like paper and, much like a child catching a sparrow, she carefully trapped it in her palms.

The tiny piece of paper is the original National Register of Citizens (NRC), 1951, document that was prepared on the basis of independent India’s first census. It has Hanif’s father Altaf Ali’s name written on it in blue ink. The document states that Ali’s ancestors migrated to Assam from erstwhile East Bengal before the Partition. The NRC is being updated again now, so Firoza and Hanif must guard this paper with dear life to establish that they are indeed Indian citizens.

Such ancient documents, often illegible, are possessed in prolific numbers by Assam’s Bangladeshi Muslim immigrant families. “We are obsessed with identity and with papers,” said Ali with a smile.

The anxiety to possess proof of identity has never been greater for this community. The updated NRC will include the descendants of all those who were included in the 1951 register. But a vast majority of these immigrants have been described as ‘doubtful citizens’, and before the 2016 elections in Assam, the Bharatiya Janata Party (BJP) had announced clearly that its key objective was to evict “doubtful citizens” from all government land and ensure the “complete sealing of the Indo-Bangladesh border.”

So, the yellowing piece of paper could not stop Ali’s family from being evicted last September from Deosursang village in Nagaon district. His family now lives in lean-tos in Chikunipathar, where a dozen families were huddled together in the winter cold when we visited early this year.

****

In rhino land

In Banderdubi village, also on the edge of Kaziranga National Park and adjacent to Deosursang, Bimala Khatun’s son, 22-year-old Fakhruddin, stepped out of his hut to see the dozen excavators that had roared into his village. The excavators, escorted by nearly 2,000 policemen and at least a dozen elephants, had arrived to demolish the 200-odd houses made of tin and bamboo. As Fakhruddin stepped out, a stray bullet hit him in the neck. “I was cooking when I heard he was shot. I reached the spot in about five minutes, but he died almost instantaneously,” said Sufiya, his wife. When Bimala Khatun heard about her son’s death, her first thoughts were “about our identity papers,” she said.

Unofficial sources say that about 10,000 people have been evicted from roughly two dozen villages across Assam over the last six months. However, last month, the Assam government officially pegged the figure at 3,500.


In the villages around Kaziranga, the official statement is that these villages fall inside the boundaries of Kaziranga National Park. But the families dispute this. According to Ali, in the mid-90s, around 100 families had been settled in Deosursang by the then Circle Officer. The families allege that the boundary of the national park has been arbitrarily pushed south by about 500 yards and fenced in to displace them. “The police said our village was in the animal corridor, but the adjacent village of Baghmari was not razed. Why are some villages being left and others destroyed,” asked Md. Nizamuddin, a 55-year-old small farmer. He claims it is because his is a Muslim village while Baghmari is an ethnically mixed village.

Banderdubi has seen another death. Anjuma Khatun, 19, was shot dead when “she stood between the bullet and the peasant leader Akhil Gogoi,” said Ashraful Hussain, 24, a social activist. Her death has already become legend in the region.

Gogoi is widely seen by the predominantly Muslim villagers as putting up the only resistance to the administration’s eviction efforts. Anjuma’s death has convinced the villagers of Banderdubi and of the chars (islands) and chaporis (banks) along the river that Gogoi could have stopped the eviction by contesting the elections.

Gogoi, 40, belongs to the Krishak Mukti Sangram Samiti and was mentored initially by Anna Hazare. But he refused to contest the polls, emerging instead as an opponent to the administration’s large-scale eviction plans. He was arrested soon after he staged an agitation in Banderdubi. While in prison, Chief Minister Sarbananda Sonowal continued with the winter evictions. Gogoi was incarcerated for nearly three months. Eventually, a notice was issued to the Assam government by the National Human Rights Commission, but the evictions continued. “People must follow the law, and the State machinery must ensure maintenance of law and order so that all sections of society feel secure,” the Chief Minister said in the Assembly.

Assam’s latest eviction drama has no simple solution, as its roots lie in pre-independence India. It was in 1911 that the British Census Commissioners noted the migration from “overpopulated East Bengal” to the “labour-short, land-abundant Assam,” as mentioned by Assam’s foremost historian Amalendu Guha.

A year later, the Sylhet Division was carved out of Bengal and attached to Assam province. But the growth of the Muslim population proved threatening. “It was then that an open clash of interests began to take place,” wrote Guha in Planter Raj to Swaraj—Freedom Struggle and Electoral Politics in Assam 1826-1947. Eventually a ‘Line System’ was adopted in 1920 to settle immigrants in ‘segregated areas’ with 85% Muslims.

A debate brewed within the Congress. In 1937, Jahawarlal Nehru argued that “from the point of view of developing Assam and making it wealthier… immigration (from East Bengal) is desirable.” It was challenged by the country’s first President, Rajendra Prasad, who believed in populating the Brahmaputra valley with “Hindus of Bihar than Muslims of Mymensingh.” After decades, the cut-off date to accept immigrants was marked as March 24, 1971, a couple of days before the start of the Liberation War in Bangladesh.

Soon after Independence, the Congress opted for a similar large-scale eviction of settlers. “The (Gopinath) Bordoloi government’s routine measures to evict thousands of immigrant squatters from grazing and forest reserves… looked like a counter-measure to curb the (Muslim) League,” wrote Guha. Bordoloi, however, “wisely decided to go slow with the policy and was able to keep the province (Nagaon) free from communal riots.”

This tradition to “go slow” continued until the BJP decided to reverse it now. Even though identifying individuals who arrived after March 24, 1971, is a complex exercise, large-scale eviction has started. A notification in January announced that “encroachment” on government land “shall be removed forthwith by the Deputy Commissioner”. It is this move that threatens to dispossess tens of thousands of people today.

****

Cops in the schools

From a distance, Fuhuratoli, a village in Darrang district, looked like a large, unkempt graveyard. As we got closer, the dust mounds got bigger; they were the remains of what were once tin-roofed huts. On the vacant lot, six or seven girls were plucking yellow flowers from the grass. Their school, Fuhuratoli Primary, had been taken over.

“The police are staying there,” said Anisha Khatun, a Class IV student. Two fractured platoons of about two dozen central paramilitary forces were stationed in the school and in the madrassa to prevent villagers from resettling in Fuhuratoli. Before the eviction, Fuhuratoli had a little over 200 families living on a verdant highland that was about two sq. km in size. The greenery had now disappeared. A strong stench permeated the air in the new settlement lying in the lowland next to Nao river, a distributary of the Brahmaputra, with its polythene shanties that offered no protection against the biting cold. The villagers defecated in holes made on the banks of the Nao. A child had died of diarrhoea and cold, dozens were sick.

Khorshed Mollah is in his 70s. He said that he had moved house three times; living on the banks of the erratic Brahmaputra forces you to do so.

“In 1995,” said Mollah, “I was on the edge of the river in Ballakheti when the river took a turn and ate up our village; that’s when we came here. Now, after 22 years, we are described as encroachers,” said Mollah. The vagaries of the river seem to have been overlooked. Surveys suggest that erosion has created hundreds of new villages in the chars and chaporis, turning settlers to refugees or foreigners, depending on the day’s politics.


This is a key problem. Some 4.27 lakh hectares (or 7.4%) of land has disappeared into the Brahmaputra since the 1950s, widening the river by around 15 km in some places. “The people who lose land to the river set up new villages in new places and are often identified as ‘illegal immigrants’ when they are actually victims of erosion,” said a senior bureaucrat.

The Assam government agreed to rehabilitate “erosion affected families” in an earlier notification but, curiously, added that the order will not extend to those affected by “other natural calamities or man-made disasters.”

****

The cut-off date

The man instrumental in fast-tracking evictions insists that the papers the evicted villagers possess are not authentic. Supreme Court lawyer Upamanyu Hazarika launched Prabajan Virodhi Manch (Forum Against Infiltration) in 2013. He said that their papers are an act of “forgery”.

Hazarika also heads the one-man commission appointed by the apex court to look into the issue. He said that all the people were ‘encroachers’ who did not have land rights. “Otherwise, they would have got immediate protection from the court,” he said. “These people came in through a porous border and should go back the same way.” His forum, he said, is not attached to the BJP or the Rashtriya Swayamsevak Sangh.

Their agendas appear to overlap but as far as Hazarika is concerned, even Bangladeshi Hindus must not be allowed into Assam. “Narendra Modi said that Assam would not take immigrants—so act on that pledge,” said Hazarika.

Vijay Kumar Gupta, a BJP general secretary in Assam, differed. “Any Hindu from Bangladesh or any other country is our citizen,” he said, but Bangladeshi Muslims are “foreigners”. He insisted that the Assam Accord’s 1971 cut-off date be respected. Interestingly, Bengali-origin Muslims also say that they accept this cut-off date.

Meanwhile, the evicted people have gotten together to create a platform demanding compensation and rehabilitation and have even managed to get some recompense. But the Rs. 5 lakh she got makes little sense to Sufiya, Fakhruddin’s wife. “They can take back the money and return my husband,” she said.

As for the others, they continue to cling to blue, purple and yellow files filled with brittle documents, even though they have provided little protection so far.

suvojit.bagchi@thehindu.co.in

Courtesy The Hindu






Thursday, 16 March 2017

Saffron storm in Uttar Pradesh - Zoya Hasan

Saffron storm in Uttar Pradesh

Zoya Hasan

U.P. has been the epicentre of identity politics, but this election exposed the limits of the politics of social justice

The big verdict in the big State is out. It highlights several important trends, which though specific to Uttar Pradesh, have implications far beyond it. The spectacular political triumph of Prime Minister Narendra Modi and the Bharatiya Janata Party (BJP) is the strongest evidence yet of the tectonic shift in progress since the 2014 Lok Sabha election; to all intents and purposes, the BJP’s resurgence in U.P. consolidates the rightward shift in Indian politics and alters the balance of power to its advantage ahead of the 2019 general election.

Nationalisation of elections
At a broader level, the historic outcome represents the nationalisation of State elections which is a key element of the BJP’s strategy to establish its electoral dominance across the country. The similarity in the national and State election outcomes indicates the re-nationalisation of elections. What underpins nationalisation? Mr. Modi was front and centre in the campaign; thanks to him, the party won a massive majority in a State election without a local face. People voted for Mr. Modi in the State election as though they were voting in a general election. This knocked out the earlier trend of regionalisation when people voted in the general election as though they were voting in State elections.

Also, people voted for Mr. Modi even though he has not done much to deliver on the promises of development, and moreover has not done much for U.P. But the public dissatisfaction with the incumbent State government was enough to persuade voters to believe the Prime Minister’s promise of development rather than either of the two State-based alternatives on offer. Polarisation was actively fuelled by communal appeals, with Mr. Modi taking the lead in stoking the feeling of discrimination against Hindus, pushing in the process a shift towards majoritarian consolidation. The election campaign which started on the high note of development then began to traverse the proverbial ground of polarisation. Not a single Muslim was given a BJP ticket. This sent a clear message that the BJP would not ‘appease minorities’, and that Muslims would be shown their place. Muslims have indeed been shown their place in this election.

As in 2014, it was not overt communalism or straightforward development rhetoric; it was a heady cocktail of both elements couched within a discourse of ‘communalised development’. This mix was dressed up in the political language of ‘nationalism’ which appeals to large parts of U.P.’s electorate. The secular parties were unable to offer an effective counter-narrative to this discourse.

In a surcharged political climate, the critical issue is not the project of ‘development for all’, but the prospect of development for certain groups cleverly articulated in the rhetoric of discrimination against none. The odious communal reference to graveyards and crematoriums in Mr. Modi’s Fatehpur speech repeated by BJP president Amit Shah immediately afterwards and laced with ‘KASAB’ left no scope for misunderstanding which way the politics of development was going. The mordant discourse split U.P., which was once defined by cultural syncretism and Ganga-Jumni culture, along Hindu-Muslim lines.

Marginalising Muslims
In the event, many voters were willing to buy into the BJP’s charges of minority appeasement. Muslims, on the other hand, were expected to vote en masse for the Samajwadi Party (SP)-Congress alliance in order to check the BJP’s advance but it seems this didn’t quite happen because many Muslims reportedly voted for the Bahujan Samaj Party. Nonetheless, the prospect of Muslim consolidation behind the SP was used as a rallying cry for the polarisation of Hindu votes.

While the BJP leadership was propagating its mantra of ‘development for all’, it lost no opportunity to indulge in ‘community-oriented developmentalism’ of its own. It repeatedly attacked the SP government for discriminating between Hindus and Muslims even at the level of providing basic facilities like electricity. The SP government released detailed data of electricity provisions during Eid and Diwali festivals, but it certainly didn’t stop the BJP from continuing to make wild charges of discrimination and giving the impression that it is the only party to challenge the patronage system practised by the SP and Congress. Undeterred by facts, it went on to complain that Muslims were the only ones to benefit from the Kanya Vidya Dhan Yojana, under which the U.P. government provides assistance of ₹30,000 to each girl student who has passed the 12th board examinations with distinction. It is evident that post-truth is having a field day in U.P. A blithe disregard for facts characterised the political campaign of the BJP in this election.

U.P. has been the epicentre of identity politics for over two decades but this election exposed the limits of the politics of social justice. The OBC and Dalit movement, which started off as a political voice of the marginalised social groups giving them a sense of participation in political affairs, had been reduced to the politics of reservations with benefits cornered by particular segments of these castes which alienated sub-groups within the wider category. The BJP was quick to take advantage of the discontent of large social segments with old style identity politics. Turning the politics of social justice on its head, the Rashtriya Swayamsevak Sangh (RSS)/BJP crafted a broad-based identity politics on the ruins of the old political order which had outlived its utility for a critical mass of OBCs. It mobilised a new bloc of voters by showering attention on the most backward among them — the non-Yadav OBCs and non-Jatav Dalits — that blunted the politics of BSP and SP in one stroke. The terms of engagement were unmistakably driven by identity and motivated by resentment towards Yadav-Muslim domination under SP rule. The BJP’s idea of community politics gained new traction as a large number of Hindu voters saw it as a more capacious identity which aligns them to a larger narrative than the fragmentation inherent in caste politics.

The strategy of reverse social engineering that Mr. Shah scripted was clearly aimed at mobilising the most backward castes, notably non-Yadav OBCs and non-Jatav Dalits, to capture the heartland State. In pursuit of this agenda, he distributed tickets copiously to non-Yadav OBCs and to non-Jatavs in reserved seats. Mr. Modi’s assiduous wooing of non-Yadav OBCs and Dalits convinced large sections of them to desert the SP and BSP in the 2014 Lok Sabha election and again in the 2017 Assembly elections.

The power of propaganda
Finally, the stunning victory emphasises the importance of propaganda and messaging. No one can match up to the appeal and the energy of Mr. Modi when it comes to non-stop election campaigning, and the organisational capacity of the RSS when it comes to relentless propaganda and booth management executed in this election by 1.4 lakh booth samitis. Demonetisation is a good illustration of the power of propaganda. Voters in U.P. seem to connect to Mr. Modi’s political messaging and were more than willing to forgive the hardships inflicted on them by notebandi.

In the end, a fractured opposition too helped the BJP. In a three-cornered contest, the BJP had a strong advantage. The party’s vote share jumped from just 15% in 2012 to 39.6% in 2017, which was large enough to win more than a three-fourths majority against a divided opposition. The combined vote share of the BSP (22.2%) and the SP-Congress alliance (28.2%) adds up to over 50%. The Opposition’s only hope of taking on Mr. Modi and the ruling party is to unite on a common platform and ensure that the vote is not split since 50% of voters have not been swayed by BJP’s ideology of ‘communalised development’, which is an essential part of its growth strategy.

Zoya Hasan is Professor Emerita, Centre for Political Studies, Jawaharlal Nehru University and Distinguished Professor, Council for Social Development, New Delhi

Courtesy: The Hindu



Thursday, 9 March 2017

ہر چوتھی عورت گھر میں تشدد کا شکار ہوتی ہے ۔ راکیش کمار مالویہ

ہندوستان میں  ہر چوتھی عورت گھر میں تشدد کا شکار ہوتی ہے!

راکیش کمار مالویہ 

ہم خوب یوم خواتین منا لیں، لیکن سچ تو یہی ہے کہ ہندوستان میں خواتین نہ گھر سے باہر محفوظ ہیں ، نہ گھر میں. حال ہی میں قومی خاندان صحت سروے کے نتائج جاری کئے گئے ہیں. ان نتیجوں میں تمام معیار تو یہی کہانی پیش کر رہے ہیں. یہ سروے خود بھارت حکومت پورے ملک میں کرواتی ہے. پچھلا سروے (تیسرا) 10 سال پہلے 2006 میں آیا تھا، 2016 میں اس 17 ریاستوں کے نتائج ہی جاری کئے گئے تھے، اب یوپی کو چھوڑ کر تقریبا تمام ریاستوں کے نتائج آ گئے ہیں . اس سے پورے ملک کی تصویر پتہ چلتی ہے. اس سروے میں بہت ہی چونکانے والے اور آنکھیں کھول دینے والے نتائج سامنے ہیں . آئیے یوم خواتین کے موقع پر خواتین سے متعلق معیار پر غور کرتے ہیں . تشدد کی شکار ہمارے ملک میں خواتین کی پوجا کی جاتی ہے، پر اصل میں انہیں کتنا احترام مل پاتا ہے. سروے کے مطابق بھارت میں 28 فیصد خواتین ایسی ہیں جنہوں نے کبھی نہ کبھی اپنے شوہر کے ہاتھوں مار کھائی ہے. سوچئے، جب گھر میں ہمسفر کے رویہ یہ ہوگا تو باقی لوگ کیا احترام کریں گے. 10 سال پہلے جب یہ سروے کیا گیا تھا، تب 37 فیصد خواتین ایسی تھیں جنہیں شوہر نے کبھی نہ کبھی مارا پیٹا گیا. ان 10 سالوں میں بہت کچھ بدلا، ترقی کی شرح اور جی ڈی پی میں اضافہ ہوا، ڈیجیٹل اور سمارٹ سٹيذ کے دور میں چلے گئے، لیکن یہ تصویر کتنے ہولے ہولے بدل رہی ہے. یہی نہیں، حمل میں، جب حاملہ خواتین کو بھاری وزن نہ اٹھانے کا مشورہ دیا جاتا ہے اس وقت بھی وہ ظلم برداشت کرتی ہیں. سروے کے مطابق حمل کے دوران بھی 3.3 فیصد خواتین کو تشدد کا شکار ہونا پڑا ہے. کیا یہ اعداد و شمار معاشرے کے لئے شرمناک نہیں ؟ کام کرتی ہیں ، ہاتھ نہیں آتی مزدوری خواتین کام تو خوب کرتی ہیں، لیکن ان کے ہاتھ میں مزدوری نہیں آتی. سروے کے مطابق ایسی صرف 24 فیصد خواتین ہیں، جن کے ہاتھ میں براہ راست طور پر مزدوری نقد آ جاتی ہے، اور زیادہ تر مقدمات میں عورت شوہر یا باپ یا دوسرے شخص ہی اجرت ہڑپ جاتے ہیں . مزے کی بات یہ ہے 10 سال پہلے 28 فیصد خواتین کو اجرت ان کے ہاتھ میں مل جایا کرتی تھی، اب یہ چار فیصد تک کم ہو گئی ہے. اس سے پتہ چلتا ہے کہ اب بھی معاشرے میں خواتین کے لیبر کا کوئی مول نہیں ہے اور جو مول ہے بھی تو اس پر ان کا اپنا کوئی حق نہیں .

یہ ضرور ہے کہ اب اجرت اور پینشن سکیم کو براہ راست ہت گراہی کے اکاؤنٹس سے جوڑ کر اسے پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن یہ قدم عورتوں کو براہ راست فائدہ پہنچانے کی توقع بدعنوانی روکنے کی کوشش کے طور پر زیادہ ہے، اس سے اس بات کا یقین نہیں ہوتا کہ خواتین کو ان کی اجرت ان کے ہاتھ میں ہی ملے گی. سماج اور خاندان کے ڈھانچے میں کرنسی کا کنٹرول مرد کی طاقت کے ہی ہاتھوں میں ہے. سروے کا ایک نقطہ اس کی تصدیق بھی کرتا ہے. خاندان میں فیصلے میں شامل ہونے یا نہ ہونے کے جواب میں 16 فیصد خواتین نے جواب دیا کہ ان کے خاندان کے فیصلوں میں کوئی شرکت نہیں ہوتی. سروے یہ بھی کہتا ہے کہ 53 فیصد خواتین کے پاس بینک میں اپنا کھاتا ہے. اگر اکاؤنٹس میں براہ راست اجرت جمع کرنے کے نظام کو مثالی طور پر لاگو کر بھی دیا تو باقی 47 فیصد خواتین کے اکاؤنٹ کھولے جانے اور بینکاری خدمات تک پہنچ بنائے جانے کی ایک طویل راستہ باقی ہے، یہ حالات تب ہیں جب گزشتہ سالوں میں حکومت نے بڑے پیمانے پر جن دھن اکاؤنٹ کھلوانے کے لئے کام کیا. اس کے باوجود بینکنگ سیکٹر کی بڑھتی ہوئی مشکلات اور بینکاری خدمات کے لئے تمام طرح کی فیس وصول کرنے کے درمیان یہ نظام تیسری دنیا کی خواتین کے لئے کتنی مشکل ہوگی، سمجھا جا سکتا ہے.  باقی خواتین ظاہر طور پر ایسی عورتیں ہی ہوں گی جو غیر ہنر مند علاقے کے کاموں میں لگی ہوں گی. ایسے میں واقعی میں خواتین کو بااختیار بنانے کا راستہ ابھی بہت لمبا ہے. صحت کے معیار پر بھی تصویر اچھی نہیں صحت سے متعلق نتائج بھی خواتین کی کوئی بہت اچھی تصویر پیش نہیں کر رہے ہیں . ہمارے ملک میں 53 فیصد خواتین خون کی کمی، یعنی خون کی کمی کا شکار ہیں ، 50 فیصد حاملہ خواتین بھی اینيمك پائی گئی ہیں . صرف 51 فیصد خواتین کو حمل کے دوران چار لازمی صحت جاچو کی سہولت مل پاتی ہے. 30 فیصد خواتین ہی آئرن پھلك ایسڈ کی 100 گولیاں استعمال کرتی ہیں . صرف 36 فیصد خواتین کو ادارہ درد زہ کے بعد زچگی فائدہ کے تحت مالی امداد ملتی ہے. یہ سب نتیجہ ہی خواتین کے حق میں تو نہیں ہیں . یہی نہیں ، حیض کے دوران محفوظ ذرائع 57.6 فیصد خواتین نے ہی استعمال کیا ہے. سالوں – سال مہم اور تشہیر کے باوجود صرف 20 فیصد خواتین کو ایچ آئی وی یا ایڈز کے بارے میں کوئی معلومات ہے. 22.9 فیصد خواتین کو باڈی ماس انڈیکس معمول سے کم ہے اور 20 فیصد خواتین ہمارے ملک میں موٹاپے کا شکار ہیں.

بچوں کی شادی کا دکھ بچوں کی شادی کی حالت بھی ایسی ہی ہے. سروے کے مطابق سروے کے وقت 26.8 فیصد خواتین ہیں، جن کی 18 سال سے پہلے کی عمر میں ہی شادی ہو گئی. آبادی کے اعداد و شمار میں بھی ملک میں تقریبا ایک کروڑ 22 لاکھ ایسے بچے نکلتے ہیں، جن کے ‘بال’ شادی ہوئی ہے. ان میں تقریبا 15 سال سے لے کر 19 سال تک کی 7.9 فیصد خواتین سروے کے وقت حاملہ پائی گئیں . ذرا سوچئے، جب 15 سال کی عمر میں ہی کوئی لڑکی ماں بن جائے گی، تو اس ملک کی بنیاد کس طرح مضبوط ہو گی؟ حقیقت میں خواتین کے دن (یوم خواتین ) کی اصل اہمیت  تبھی ہوگی جب ہم ان اعداد و شمار کو ٹھیک کر پائیں . یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔ 

Read more mazameen.com/oped/column/%db%81%d9%86%d8%af%d9%88%d8%b3%d8%aa%d8%a7%d9%86-%d9%85%db%8c%da%ba-%db%81%d8%b1-%da%86%d9%88%d8%aa%da%be%db%8c-%d8%b9%d9%88%d8%b1%d8%aa-%da%af%da%be%d8%b1-%d9%85%db%8c%da%ba-%d8%aa%d8%b4%d8%af.html

Friday, 17 February 2017

عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں بشارالاسد کی ریاستی دہشت گردی

عالمی طاقتوں کی سرپرستی میں بشارالاسد کی ریاستی دہشت گردی

اے۔اے۔سیّد
 امریکہ، روس اور بڑی طاقتوں کی شام میں جاری جنگ میں عام مسلمانوں کا قتلِ عام ہورہا ہے۔ معصوم لوگ لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ ایسی تصویریں سامنے آرہی ہیں جن کی اشاعت بھی مشکل ہے۔عالم اسلام اور بین الاقوامی صورتِ حال پر گہری نظر رکھنے والے صحافی مسعود ابدالی نے شام کے عقوبت خانے کی ڈیلی میل لندن میں شائع ہونے والی جو تصاویر شیئر کی ہیں وہ رونگٹے کھڑے کردینے کے لیے کافی ہیں کہ کس طرح بڑے سے ہال میں لوگ برہنہ حالت میں خون آلود پڑے ہیں۔ شاید ان میں سے زیادہ تر مرہی گئے ہوں گے، اور جو زندہ بھی ہوں گے وہ اپنی موت کی دعا کررہے ہوں گے کہ انہیں زندگی کی اس تکلیف سے نجات مل سکے جوظالم و جابر حکمراں کے ظلم کے خلاف احتجاج کرنیپر مل رہی ہے۔ شام میں روزانہ کی بنیاد پر بچوں کو ماؤں، بیویوں کو شوہروں کے سامنے قربان کیا جارہا ہے۔ شام سسک رہا ہے اور رو رہا ہے اور بدقسمتی سے امتِ مسلمہ کے حکمرانوں کو کیا، عوام کو بھی ان مظلوموں کے آنسو پونچھنے کا شعور نہیں ہے۔ امت کا درد ہے کہ بڑھتا جارہا ہے لیکن کہیں سے مرہم نہیں مل رہا کہ اس درد اور تکلیف کو کم کیا جاسکے۔ مسلمانوں کے خلاف مغربی دہشت گردی ہے جو تسلسل سے جاری ہے۔ امریکہ اور روس مسلمانوں کو مسلمانوں کے ذریعے مل کر گن گن کر اور چن چن کر تہِ تیغ کررہے ہیں۔ روس کے ساتھ شام، ایران اور عراق جیسے ملک ہیں، جب کہ روس کے خلاف امریکہ کی قیادت میں برطانیہ، سعودی عرب، اسرائیل اور مغربی ممالک ہیں۔ ترکی کا کردار اس معاملے میں کچھ مختلف ہے اور وہ کردار مثبت بھی ہے اور اس میں امتِ مسلمہ کی ترجمانی بھی ہے۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان کے دل میں باقی نام نہاد مسلم ممالک کے حکمرانوں کے برعکس درد بھی ہے۔ 
شام کی جنگ اب عالمی سیاست کے کھیل اور گریٹ گیم کا حصہ بن چکی ہے۔ یہ دنیا کی دو بڑی طاقتوں امریکہ اور روس کے درمیان پراکسی وار بھی ہے اور امتِ مسلمہ کو رسوا اور تباہ کرنے کا امریکی ایجنڈا بھی۔ شام میں اس عرصے میں پانچ لاکھ سے زائد شہری ہلاک، بے شمار زخمی اور معذور ہوچکے ہیں، ساتھ ہی بیس لاکھ سے زائد افراد بے گھر ہوگئے ہیں۔ شام معاشی اور معاشرتی طور پر مکمل تباہ ہوگیا ہے۔ 2011ء سے پہلے شام میں 60 فیصد لوگوں کا تعلق متوسط طبقے سے تھا جو شامی معاشرے کا بڑا حصہ تھا۔ ان میں ڈاکٹر،انجینئر، اساتذہ، چھوٹے تاجر، دیگر شعبوں میں خدمات انجام دینے والے ملازمین شامل تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق 2016ء کے آخر میں یہ طبقہ شامی معاشرے میں صرف 9.4 فیصد رہ گیا تھا اور2017ء ان کے لیے مزید المیوں کا سال بنتا جارہا ہے۔ حقوقِ انسانی کی عالمی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق شام کی ایک جیل میں خفیہ طور پر 13 ہزار کے قریب لوگوں کو پھانسی دی گئی۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل کا کہنا ہے کہ پھانسی پانے والوں میں اکثریت عام شہریوں کی تھی۔ ایمنسٹی کی رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ صیدنایا نامی جیل میں ستمبر 2011ء سے دسمبر 2015ء تک ہر ہفتے اجتماعی پھانسی دی جاتی رہی ہے۔ ان مبینہ پھانسیوں کی منظوری شامی حکومت میں اعلیٰ سطح پر ملنے والی منظوری کے بعد دی گئی۔ اقوام متحدہ کے حقوقِ انسانی کے ماہرین نے ایک برس قبل عینی شاہدین اور دیگر شواہد کی مدد سے رپورٹ کیا تھا کہ شام میں ہزاروں افراد کو حراست میں لیا گیا اور دورانِ حراست بڑے پیمانے پر ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں 84 افراد کے انٹرویو کیے ہیں جن میں جیل کے سابق محافظ، حراست میں لیے گئے افراد اور جیل کے عملے کے ارکان شامل تھے۔ رپورٹ میں الزام عائد کیا گیا کہ دارالحکومت دمشق کے شمال میں واقع جیل میں ہفتے میں ایک بار، اور کئی مرتبہ تو ہفتے میں دو بار 20 سے 50 لوگوں کو پھانسی دی جاتی تھی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حراست میں لیے جانے والے افراد کو پھانسی دینے سے پہلے دمشق کے ضلع القابونی میں واقع فوجی عدالت میں پیش کیا جاتا، جہاں ایک سے تین منٹ کی مختصر سماعت ہوتی تھی۔
فوجی عدالت کے سابق جج نے ایمنسٹی انٹرنیشنل کو بتایا ہے کہ ’’زیر حراست افراد سے پوچھا گیا کہ مبینہ جرائم میں وہ ملوث ہیں کہ نہیں؟ اور اس پر اگر جواب ’ہاں‘ کے علاوہ ’نہیں‘ بھی ہوتا تو ان کو مجرم قرار دے دیا جاتا تھا‘‘۔ رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ زیر حراست افراد کو پھانسی والے دن ہی اس کے بارے میں آگاہ کیا جاتا تھا اور انہیں وہاں سے سویلین جیل میں منتقل کیا جاتا جہاں ایک سیل میں ان پر دو سے تین گھنٹے تشدد کیا جاتا تھا، اس کے بعد درمیانی شب میں ان کی آنکھوں پر پٹیاں باندھ کر انھیں جیل کے ایک دوسرے حصے میں منتقل کیا جاتا تھا، جہاں ایک کمرے میں ان کی گردن میں پھندا ڈالنے سے چند منٹ پہلے انہیں پھانسی دینے کے بارے میں بتایا جاتا، اور اس کے بعد لاشوں کو ٹرکوں کے ذریعے دمشق کے ایک فوجی ہسپتال میں بھیجا جاتا، جہاں کاغذی کارروائی کے بعد فوج کی زمین پر واقع قبرستان میں اجتماعی قبر میں دفنا دیا جاتا تھا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے عینی شاہدین کی مدد سے حاصل کی جانے والی معلومات کی بنیاد پر اندازہ لگایا ہے کہ پانچ برس کے دوران تقریباً 13 ہزار افراد کو پھانسی دی گئی۔
اسی طرح ایک اور تازہ ترین رپورٹ میں انسانی حقوق کے بین الاقوامی ادارے’ہیومن رائٹس واچ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کی سرکاری فوج نے گزشتہ برس کے آخر میں حلب شہر پر قبضہ بحالی کی جنگ کے دوران باغیوں کے خلاف کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا جس کے نتیجے میں انسانی جانوں کے ضیاع میں غیر معمولی اضافہ ہوا۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 17 نومبر سے 13 دسمبر 2016ء کے دوران بشارالاسد کی فوج جنگی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے حلب کی شہری آبادی پر ’کلور بموں‘ سے بمباری کرتی رہی ہے۔ ہیومن رائٹس واچ نے ایک ویڈیو رپورٹ میں شہریوں کے بیانات، تصاویر، سوشل میڈیا پر شائع ہونے والے بلاگز اور دیگر معلومات کی روشنی میں بتایا ہے کہ روسی فوج کی جانب سے شامی شہریوں پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا کوئی ثبوت نہیں مل سکا تاہم شامی فوج نے حلب میں بے دریغ کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔ رپورٹ کے مطابق حلب میں شامی فوج کے ’کلور‘ بم سے کیے گئے ایک حملے میں چار بچوں سمیت 9 شہری جاں بحق اور 200 زخمی ہوگئے تھے۔ تنظیم کے ایمرجنسی شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر اولی سولفانگ نے بتایا کہ شامی فوج کی اگلی صفوں میں موجود فوجی اہلکار کیمیائی ہتھیاروں کا اس طرح استعمال کرتے جیسے وہ کارروائی کا محوری حصہ ہے۔
خیال رہے کہ شامی فوج پر کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کا الزام پہلی بار عائد نہیں کیا گیا۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیمیں بار بار یہ دعویٰ کرتی آرہی ہیں کہ فوج شام میں جنگی جرائم، انسانیت کے خلاف جرائم کے ارتکاب اور ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کررہی ہے۔ اس میں کلورگیس سے تیار کردہ بموں کا استعمال بھی شامل ہے۔اس سے قبل اقوام متحدہ اور کیمیائی اسلحہ کے استعمال کی پابندی کی ذمہ دار تنظیم نے اپنی رپورٹوں میں بتایا تھا کہ 2014ء اور 2015ء کے دوران شامی فوج تین بار کلور گیس کے ذریعے باغیوں کے زیرکنٹرول علاقوں پر حملے کرچکی ہے جب کہ داعش نے بھی رائی گیس کے ذریعے متعدد بار حملے کیے ہیں۔ عالمی قوانین اور بین الاقوامی معاہدوں میں کلور گیس کا استعمال سختی سے منع کیا گیا ہے۔ 2013ء میں شام بھی اس معاہدے کا حصہ بنا جب کلورگیس کو ہائیڈرو کلورک گیس میں تبدیل کرنے کا عمل شروع کیا گیا، لیکن شاید مسلمانوں اور مسلم ممالک کے لیے بڑی طاقتوں نے کچھ الگ سے قوانین بنا رکھے ہیں جس کا محور و مرکز مسلمانوں کو کمزور اور رسوا کرنا ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ دنیا اس وقت اگر دہشت گردی اور ظلم میں گھری ہوئی ہے تو اس کا اصل ذمہ دار امریکہ ہے، یہ صرف ہم نہیں کہتے بلکہ وہ تاریخی حقائق اور شواہد کہتے ہیں جن کو خود امریکی دانشور بیان کرتے ہیں۔ پروفیسر نوم چومسکی جو ممتاز مصنف اور امریکی دانشور ہیں وہ امریکہ کے بارے میں کہتے ہیں کہ ’’اگر عالمی قوانین نافذ کیے جائیں تو امریکہ دہشت گردوں کی فہرست میں پہلے نمبر پر آتا ہے۔ امریکہ نے دوسرے ممالک کے قدرتی وسائل پر قبضہ کرنے کے لیے وار آن ٹیرر کا ڈھونگ 1980ء میں رونالڈ ریگن کے دورِ حکومت میں شروع کیا جو آج تک جاری ہے‘‘۔ عراق پر امریکی حملے پر ان کا کہنا تھا کہ ’’2003ء میں وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی موجودگی کا بہانہ بناکر نہ صرف عراق کو تباہ کردیا گیا بلکہ دس لاکھ عراقی شہریوں کو بھی موت کی نیند سلا دیا گیا‘‘۔ وہ تسلسل کے ساتھ یہ کہتے رہے ہیں کہ ’’عالمی رائے عامہ کے مطابق امریکہ عالمی امن کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے۔ کوئی دوسرا ملک اس سلسلے میں امریکہ کے قریب بھی نہیں۔ دنیا کی سب سے بڑی دہشت گردی کی مہم واشنگٹن میں چلائی جارہی ہے۔ یہاں دنیا بھر میں انسان کُشی (ڈرون حملوں) کے منصوبے بنائے جاتے ہیں‘‘۔ نوم چومسکی کے مطابق انہوں نے اس سے زیادہ دہشت گردی کہیں نہیں دیکھی۔ ولیم بیلم نے اپنی کتاب ’’روگ اسٹیٹ‘‘ اور نوم چومسکی نے اپنی کتاب میں امریکی دہشت گردی اور مختلف ممالک میں مداخلت کی 1889ء سے 2003ء تک مکمل فہرست پیش کی ہے، جسے پڑھنے کے بعد نوم چومسکی کے یہ الفاظ کہ ’’امریکہ دنیا کا سب سے بڑا دہشت گرد ملک ہے‘‘ بالکل درست معلوم ہوتے ہیں۔
امریکہ کیا سوچتا ہے اور کس فلسفے پر عمل پیرا ہے، اس کا اندازہ toward hell Marching” ” کے عنوان سے لکھی گئی کتاب میں اہم اور چونکا دینے والی حقیقتوں کو دیکھ کر ہوتا ہے۔ اس کتاب کا ذیلی عنوان ہے”America & Iraq after Islam” جس میں کتاب کا مصنف مائیکل شوئر (جو 20 سال سے زیادہ عرصے تک سی آئی اے سے وابستہ رہا، 1996ء سے 1999ء تک وہ سی آئی اے کے بن لادن یونٹ المعروف ’’الیک اسٹیشن‘‘ کا سربراہ بھی رہا، یہ یونٹ انسدادِ دہشت گردی کے مرکز میں اسامہ بن لادن کا پتا چلانے اور اس کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے لیے قائم کیا گیا تھا، اس کے بعد مائیکل شوئر نے اسی یونٹ کے چیف ایڈوائزر کے طور پر ستمبر 2001ء سے نومبر 2004ء تک فرائض انجام دیے) لکھتا ہے:
’’آج سے پانچ سو سال قبل اٹلی کے سیاسی مفکر میکاولی نے اپنے پڑھنے والوں کو یہ بات ہمیشہ کے لیے ذہن نشین کرلینے کو کہا تھا کہ کسی بھی قوم کو دشمن پر غلبہ حاصل کرلینے کے بعد اس سے کسی قسم کے درگزر اور اچھائی کا برتاؤ نہیں کرنا چاہیے بلکہ اس سے پورا انتقام اس طرح کے سبق آموز اقدامات سے لینا چاہیے کہ موجودہ نسل کو پوری طرح نیست و نابود کردیا جائے تاکہ دشمن کی آئندہ نسلیں بھی آپ پر حملہ آور ہونے سے پہلے کئی بار سوچیں کہ کہیں انہیں بھی اپنے سے پہلی نسل جیسے انجام سے دوچار نہ ہونا پڑے‘‘۔
غالباً آج کے امریکیوں کی حالتِ زارکے بارے میں اس سے اچھا اگرچہ ذرا سخت الفاظ میں بیان ممکن نہیں، جو خانہ جنگی کے زمانے کے ایک جرنیل فلپ ایچ شریڈین نے اپنی یادداشتوں میں تحریر کیا ہے کہ ’’کسی بھی اچھی جنگی حکمتِ عملی کے لیے دو باتیں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ پہلی یہ کہ دشمن پر جس قدر ممکن ہوسکے بھاری ہاتھ ڈالو، اور جب ایک بار وہ تمہارے قابو میں آجائے تو اس کے ملک پر اتنے مصائب نازل کرو کہ وہاں کے عوام اپنے حکمرانوں سے یہ مطالبہ کرنے لگیں کہ جس طرح بھی ممکن ہو وہ انہیں ان مصائب سے نجات دلائیں۔ وہاں کے لوگوں کے پاس سوائے ماتم کے اور کچھ نہ رہنے دو۔‘‘
یہ سوچ اور اس کے مطابق آج امریکہ اور مغرب کا عمل ہے کہ جس کے نتیجے میں امتِ مسلمہ میں موت کا رقص جاری ہے اور انہوں نے مسلم ممالک کے حکمرانوں کو غلام بنا کر رکھا ہے۔
جہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ امریکہ اور روس کے شام میں اپنے اپنے مفادات ہیں جس کے لیے وہ مسلم ممالک کے کٹھ پتلی حکمرانوں کے ساتھ مل کر عراق اور افغانستان اور کئی اسلامی ممالک کو برباد کرکے شام کو بھی تباہ کررہے ہیں، وہیں یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ مغرب بحیثیتِ مجموعی امتِ مسلمہ کا دشمن ہے اور تاریخی طور پر وہ اپنی دشمنی نبھا رہا ہے۔ اسلام کو دہشت گرد مذہب قرار دینا ڈونلڈ ٹرمپ کا کوئی جذباتی نعرہ نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک مکمل فریم ورک اور ایجنڈا موجود ہے۔ اب سوال یہ ہے کہ امتِ مسلمہ یہ لڑائی کس طرح لڑے اور شام سمیت تمام اسلامی ممالک کا امن کس طرح بحال ہو؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ امتِ مسلمہ کو اپنے لیے جینے کے بجائے امت کے لیے جینے کی سوچ پیدا کرنا ہوگی، امت کے درد کو محسوس کرنا ہوگا اور عالم اسلام کے حکمرانوں کو مجبور کرنا ہوگا کہ وہ غلامی کا طوق اتار کر پھینکیں۔ شام اور برما میں مسلمانوں پر ظلم ہورہا ہے اور عالم اسلام کے حکمرانوں نے امت کے مسائل پر خاموشی اختیار کررکھی ہے، مسلم حکمرانوں کو عالم اسلام کے لیے، ڈیڑھ ارب سے زائد مسلمانوں کے لیے اقوام متحدہ کے اندر اپنا حق مانگنا ہوگا، ورنہ اپنی الگ عالمی تنظیم بنائی جائے، حکمرانوں کو یہ فیصلہ کرنا پڑے گا کہ وہ غلامی چاہتے ہیں یا آزادی؟ مسلمانوں کو ایک مشترکہ پلیٹ فارم، مشترکہ معاشی منڈی اور مشترکہ فوج بنانے کی ضرورت ہے۔ مسلمانوں کے لیے زندگی کا واحد راستہ اتحاد و یکجہتی ہے۔

Wednesday, 25 January 2017

Disrespecting heritage

Disrespecting heritage

Written by Saptarshi Sanyal 

The ministry of culture’s proposal to allow construction near historical monuments betrays a lack of understanding of their value.


A recent note of the culture ministry to the cabinet has a proposal to amend the law that accords protection to heritage sites in the country.

Built heritage is a significant public good and is recognised as such in the Constitution’s Seventh Schedule. It nurtures our collective memories of places and is a significant constituent in the identity of cities. It has invaluable potential to contribute to our knowledge of not just history and the arts, but also science and technology. Several buildings and sites throughout the country, even entire areas or parts of historic cities, are examples of sustainable development. They demonstrate complex connections of man with nature.

Unlike other intangible forms of cultural inheritance, our built heritage is an irreplaceable resource. It is site-specific. Knowledge gained from such resources can provide constructive ways to address development challenges. But the persistent oversight of the values of our heritage is one of the major paradoxes of physical planning and urban development in post-colonial India. Conservation of heritage is not seen as a priority to human need and development. Heritage sites are more often than not seen as consumables and usually end up as the tourism industry’s cash cows and little else.
The Ministry of Culture’s note suggests amendments to the Ancient Monuments and Archaeological Sites and Remains (Amendments and Validation) Act, 2010 (AMASR Act, 2010). It concludes by referring to a 2016 bill to amend the act and suggests giving legal powers to the Central government with respect to new construction in protected sites by superceding existing bodies like the Archaeological Survey of India (ASI) and National Monuments’ Authority (NMA) respectively. Ironically, both the ASI and NMA, technical arms of the MoC, have the mandate to regulate construction and threats within and around protected heritage sites.

If the 2016 bill is cleared by Parliament, such construction could happen in the immediate vicinity of protected properties of national importance. Such “prohibited areas”, are within 100 metres of the delineated boundaries of monuments. Historic structures and archaeological remains are most susceptible to heavy vibrations, chemical effects or mechanical stresses in this zone. The AMASR Act, 2010 and its 1958 predecessor can be traced to a colonial legislation, namely the Ancient Monuments Preservation Act, 1904, which deemed it “expedient to provide for the preservation of Ancient Monuments”. The blanket rule on the “prohibited areas” should, and has, been debated at various professional and academic fora. Certainly a law originating from a colonial outlook needs review, given our current depth of knowledge on heritage. However, doing away with protection without survey and documentation, can be catastrophic.

The NMA, constituted under provisions of the 2010 act, is in the process of preparing site-specific guidelines. But given the vast number of heritage sites in India and the small number of in-house specialists, the work has been slow.

The proposal of the Ministry of Culture uses the buzzwords, “innovation”, “sustainability” and “accountability”. None of these are clarified or explained in the proposal with respect to the nature of projects envisaged. Two of the three projects justified in the proposal have contradictions. The first relates to the construction of an elevated road next to Akbar’s tomb at Sikandra to “reduce road accidents” and “for organised traffic movement”. While an elevated road would visually obliterate the historic structure, it would also encourage high-speed traffic,one of the leading causes of road accidents. Traffic movement and automobile fumes would scar an elaborately painted gateway. Cranes and piles operating in the immediate vicinity of the 500-year old Mughal structure will cause excessive vibrations. The other project, Rani-Ki-Vav in Patan, Gujarat is slated to be the site for a railway track. Whether a railway track is as irreplaceable or sustainable, as an 11th century, seven-storied, subterranean step-well demonstrating the best in water management in the past, is surely not a very difficult question to answer. Incidentally, Rani-Ki-Vav is one of the recent most inclusions from India in UNESCO’s World Heritage List.

The field of architectural conservation in India has grown significantly in the past three decades, giving us new definitions of heritage.

Pedagogy and practice of conservation is trans-disciplinary and aims to, at one level, demystify the complex, and sometimes, inscrutable qualities of the historic environments. Professionally, we have moved beyond a colonial, monument-centric understanding of heritage in India. We now appreciate and have developed inter-disciplinary ways to work with it. This understanding needs to be mainstreamed and integrated into development considerations and processes, rather than be ignored or subverted.

In 2011, of Hampi Bazar, a living component of a World Heritage Site was demolished by ill-informed planning authorities. Such actions damage both the historic fabric of a society and its fundamental right to live with, learn from and enjoy heritage. It is imperative that our governance, vision and action related to heritage comes of age. We most certainly need housing for all and enough space to park our cars.

We need improved communication technologies. But we don’t need multi-storeyed apartment blocks or parking complexes stuck to the walls of Humayun’s Tomb, just like we don’t need cellphone towers atop the Charminar. We wouldn’t mind walking a few 100 metres more or not having mobile connectivity for a few minutes. That may prove to be the healthier way out.


The writer is an assistant professor at the School of Planning and Architecture, Delhi

Courtesy: Indian Express


سیرت رسول ﷺاور حسن اعتدال

سیرت رسول ﷺاور حسن اعتدال

 ڈاکٹر سیّد عزیز الرحمن

اگر یہ فرض ادا نہیں ہوگا تو اتنا ہی گناہ ہوگا، جتنا نماز، روزہ، حج، زکوٰۃ چھوڑنے کا گناہ ہوگا۔ کیوں؟ اس لیے کہ انسان کی ضرورتیں انسان کی پیدایش کے فوراً بعد ہی اس کے ساتھ منسلک کردی گئی ہیں کہ ان کو بہ ہر صورت پورا کرنا ہے۔ اگر آپ ان ضرورتوں کی تکمیل حلال طریقے سے نہیں کریں گے تو حرام طریقے سے کریں گے، لیکن حرام طریقے سے کرنے سے اللہ تعالیٰ نے منع کیا ہے، تو یقیناًپھر ہمیں حلال طریقے کی طرف جانا چاہیے۔ جب حلال طریقے کی طرف جانا ہمارے لیے لازمی ہے تو یقیناًیہ اللہ تعالیٰ کا حکم ہے اور اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کی جائے گی تو اس میں ہمیں ان شاء اللہ ثواب ملے گا (قرآن کیا کہتا ہے؟، ص 24۔ 25)۔ دوسری جانب اسلام کمانے میں اعتدال کی تلقین فرماتا ہے، جس کی مثالیں پیش کی جاچکی ہیں۔
اس کائنات میں ایسے نظریات اور خیالات بھی موجود ہیں، جو فطرت کے خلاف عمل ہی کو کام یابی کا ذریعہ تصور کرتے ہیں۔ یہ جسم کے مطالبات کو کچل کر راحت تلاش کرتے ہیں اور روح کو جسم کے مقابل رکھ کر سوچتے ہیں۔ یہی وہ رخنہ ہے، جس سے ’رہبانیت‘ انسانی زندگی میں داخل ہوتی ہے۔ اسلام سے اس تصور کا دور کا بھی علاقہ نہیں۔
’رہبانیت‘ انسانی فطرت سے بے اعتنائی اور اس سے جنگ کا نام ہے۔ جو صلاحیت اللہ تعالیٰ نے انسان کی پیدایش کا حصہ بنادی ہے، اس سے لڑنا کیسے مفید ہوسکتا ہے؟ اسی لیے اسلام انسانی فطرت سے لڑنے کے بجاے اس کا حق ادا کرنے اور اس راستے میں اعتدال سے کام لینے کی تلقین کرتا ہے۔ اسی لیے قرآن کہتا ہے کہ رہبانیت عیسائیت کی اپنی اختیار کردہ راہ ہے، فرمایا:
اور رہبانیت انھوں نے خود ایجاد کی تھی، ہم نے ان پر واجب نہیں کی تھی، لیکن انھوں نے رضائے الٰہی کے لیے اس کو اختیار کیا تھا۔ سو، انھوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی۔ پھر بھی ہم نے ان میں سے ایمان داروں کو ان کا اجر دیا اور ان میں سے اکثر نافرمان ہیں۔ (الحدید57: 27)
’رہبانیت‘ نے برائیوں کے سوا معاشرے کو کچھ نہیں دیا۔ دونوں مقام پر نامکمل انسان انسانی فطرت سے جنگ کرتے اور معاشرے کو برائیوں میں مبتلا کرتے نظر آتے ہیں۔ (ایضاً،ص 62)
اسراف و تبذیر
کمانے کے بعد خرچ کرنے کا مرحلہ آتا ہے۔ ہر مذہب، مسلک اور نظام میں کمانے کے کچھ نہ کچھ آداب مقرر ہیں۔ اپنے آپ کو آسمانی ہدایت سے یک سر آزاد قرار دینے والے معاشرے بھی اس سلسلے میں ایک ریاستی نظام پر یقین ضرور رکھتے ہیں، اور اسی کے دائرے میں رہتے ہوئے دولت کمانے اور مادیت کی تگ و دو میں مصروفِ عمل رہتے ہیں۔ تاہم، کمانے کے بعد خرچ کیسے کیا جائے؟ اس بارے میں اسلام کے علاوہ تمام مذاہب اور تمام نظام ہاے حیات خاموش ہیں۔
اسلام نے اس حوالے سے مکمل وضاحت کے ساتھ ایک نظام قائم کیا ہے، جس کی بنیاد ان دو اصطلاحات پر ہے: اسراف اور تبذیر۔
* اسراف: ’اسراف‘ کی تعریف راغب اصفہانی اس طرح کرتے ہیں:
لغت میں ہر انسانی فعل میں حد سے تجاوز کرنے کو اسراف کہتے ہیں۔ (المفردات، ص23)
اور سفیان بن عیینہ اسراف کی وضاحت کرتے ہوئے کہتے ہیں:
اللہ کی اطاعت کے کاموں کے علاوہ جو کچھ بھی تم خرچ کروگے وہ اسراف ہے، خواہ وہ تھوڑاہی کیوں نہ ہو۔ (موسوعۃ نضرۃ النعیم، ص3884)
اسی طرح مناوی سے اسراف کی اصطلاحی تعریف اس طرح منقول ہے: ’’اسراف حد سے تجاوز کرنے کو کہتے ہیں‘‘۔ ( نضرۃ النعیم، ص 3885)
جرجانی نے اسراف کی یہ تعریف کی ہے: ’’اسراف یہ ہے کہ انسان وہ کچھ کھائے جو اس کے لیے حلال نہیں، یا حلال تو ہے مگر وہ اعتدال اور ضرورت سے زیادہ کھائے‘‘۔ ( ایضاً)
* تبذیر: اس سلسلے کی دوسری اصطلاح ’تبذیر‘ ہے۔ ’تبذیر‘ لغت میں کسی چیز کو پھینکنے اور منتشر کرنے کو کہتے ہیں۔ (نضرۃ النعیم، ص4113)
’تبذیر‘ کی اصطلاحی تعریف امام شافعی سے اس طرح منقول ہے: تبذیر ناجائز کام میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔ نیک کام میں تبذیر نہیں ہوتی۔ (تفسیر قرطبی، ج۱، ص247)
قرطبی کہتے ہیں: ’’تبذیر سے مراد نیک کاموں کے سواکسی ایسے کام میں خرچ کرنا ہے جس سے مقصد اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا نہ ہو‘‘۔ (نضرۃ النعیم، ص4114)
مجاہد کہتے ہیں کہ اگر انسان اپنا سارا مال حق کے راستے میں خرچ کردے تو یہ تبذیر نہیں اور اگر وہ گناہ کے کام میں ایک مد، یعنی ایک سیر غلہ بھی خرچ کرے تو یہ تبذیر ہے۔ (صفوۃ التفاسیر، ج2، ص 139)
قتادہ کہتے ہیں کہ تبذیر اللہ کی نافرمانی اور ناحق اور فساد کے لیے خرچ کرنے کا نام ہے۔(ایضاً)
اسراف و تبذیر میں باہمی فرق واضح کرتے ہوئے کفوی کہتے ہیں:
اسراف تو کسی جائز کام میں ضرورت سے زیادہ خرچ کرنے کو کہتے ہیں اور تبذیر ناجائز کام میں خرچ کرنے کو کہتے ہیں۔ (نضرۃ النعیم،ص4114)
اسراف کی وضاحت کے حوالے سے ایک نہایت اہم روایت ذخیرۂ حدیث میں ہمیں اور ملتی ہے۔ عمرو بن شعیب اپنے باپ اور وہ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کیا: ’’میں محتاج ہوں، میرے پاس کچھ نہیں ہے اور میں ایک یتیم کا سرپرست ہوں‘‘۔ آپ نے فرمایا:
(ابوداؤد، ج3، ص36، رقم: 2872) اپنے یتیم کے مال میں سے کھا، اسراف اور فضول خرچی اور اس کے مال سے پونجی بنائے بغیر۔
یہاں سبق آموز بات یہ ہے کہ یتیم کی کفالت جہاں اسلام میں ایک نہایت اہم فریضہ اور باعث اجر کام ہے، وہیں اس سلسلے میں بھی فضول خرچی، یعنی اسراف سے بچنے کی تلقین کی گئی ہے۔ گویا اعتدال اور توازن کا دامن ہر صورت میں تھامنا ضروری ہے۔

سادگی اور معاشرتی وحدت

آپؐ کی ذات بابرکات نے اس سلسلے میں بھی اپنی امت کے لیے بہترین نمونۂ عمل چھوڑا ہے۔ آپؐ نے ہمیشہ سادہ زندگی بسر کی اور فقر وفاقے کی حالت میں نہایت صبر وشکر سے اپنے فرائض منصبی ادا کیے، باوجود اس کے کہ آپؐ کو تمام سہولتیں میسر آسکتی تھیں۔ یوں آپؐ کا فقر اختیاری تھا۔ ابن عباسؓ کہتے ہیں:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اورآپؐ کے گھر والے کئی کئی رات خالی پیٹ سوتے تھے، گھر میں رات کو کھانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا تھا۔ اور ان لوگوں کی خوراک اکثر جو کی روٹی ہوتی تھی۔(ترمذی، ج4، رقم: 2367)
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کے قیام کے دوران وفات تک کبھی دو وقت سیر ہوکر روٹی نہیں کھائی۔ (الشفا،ج1،ص82)
اسی طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوڑا کبھی تہہ کرکے نہیں رکھا گیا، کیوں کہ آپؐ کا دوسرا جوڑا ہوتا ہی نہ تھا جو تہہ کرکے رکھا جاتا۔ (ایضاً)
آپؐ نے معاشرتی اونچ نیچ ختم کرنے پر بھی زور دیا ہے، اور مساوات واعتدال کا درس دیا ہے۔ جاہ ومال کی غیر ضروری نمایش کا واحد مقصد اپنی برتری کااظہار ہوتاہے۔ اس قسم کی منفی سوچ معاشرے کی وحدت اور اجتماعیت کو ختم کرکے اتحاد واتفاق پرمبنی معاشرے کی تباہی کا سبب بن جاتی ہے۔ اس لیے آپؐ نے آرایش پرتو پابندی عائد نہیں کی، لیکن نمایش کو قطعاً ممنوع قرار دیا ہے تاکہ معاشرتی وقار نمایش پسندوں کا شکار نہ ہوسکے۔ چناں چہ عبادت وریاضت، کھانے پینے، سونے جاگنے، اٹھنے بیٹھنے، ملنے جلنے اور رہنے سہنے سے لے کر لباس ومکان تک ہر مقام پر۔ آپؐ کے ارشادات اعتدال کا درس دیتے نظر آتے ہیں۔ اگرہرمعاملے میں اعتدال ومیانہ روی کو اختیار کرلیا جائے تو معاشرتی وحدت اور مساوات خود بہ خود قائم ہوسکتی ہے۔
انسا ن نمایش کی ابتدا عموماً اپنے لباس سے کرتاہے۔ آپؐ نے اس بارے میں اعتدال پر مبنی ہدایات فرمائیں۔ آپؐ نے جہاں ایک طرف غربا وفقرا کو ان کے لباس سے قطعِ نظر ان کے باطنی حالات کے پیش نظر قبولیت کی سند عطا فرمائی، وہیں مال دار افراد کو بھی حیثیت کے مطابق زندگی بسر کرنے کاحکم دیا، تاکہ افراط وتفریط کے مابین توازن قائم ہو سکے اور اعتدال کاقیام عمل میں آسکے۔ چناں چہ آپؐ نے فرمایا:’’کتنے ہی پراگندا حال چیتھڑوں میں ملبوس انسان ایسے ہوتے ہیں کہ اگر وہ آ کی قسم کھالیں تو آتعالیٰ اس کو پورا کرتے ہیں‘‘۔ (ترمذی، ج 5، رقم: 3880)

آپؐ نے خود کس حالت میں زندگی بسر کی؟ حضرت عائشہ رضی آعنہا کی گواہی ملاحظہ ہو۔ حضرت ابو دردا اور حضرت ابوہریرہ رضی آعنہما سے روایت ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ میں حضرت عائشہ رضی آعنہا کی خدمت میں حاضر ہوا تو انھوں نے پیوند لگی ہوئی چادر اور ایک یمن کی بنی ہوئی لنگی پیش کی، اورخدا کی قسم کھا کر کہا کہ آ کے رسولؐ نے انھی دوکپڑوں میں اپنی جان، جانِ آفریں کے سپرد کی تھی۔ (بخاری، ج4، ص 21۔ ابن ماجہ، ج4، ص 487، رقم: 3550)
دوسری جانب آپؐ نے مال دار افراد کو تلقین کی: ’’اگر کوئی شخص خوش حال ہے تو کیا حرج ہے کہ اگر وہ کام کاج کے دو کپڑوں کے علاوہ جمعہ کے دن کے لیے بھی دو کپڑے رکھے‘‘۔ (ابوداؤد، ج4، رقم: 1078)
اسی طرح ایک شخص کو میلے کچلے لباس میں دیکھا تو فرمایا کہ اس سے اتنا نہیں ہوتاکہ کپڑے دھولیا کرے۔ (ابوداؤد، ج4، رقم :4062 )
ایک شخص آپؐ کی خدمت میں حاضرہوا۔ اس کے بدن پرپھٹا پرانا لباس تھا۔ آپؐ نے اس سے پوچھا کہ کیا تمھارے پاس مال ہے؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ آپؐ نے فرمایا : کس قسم کا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ آنے مجھے ہر قسم کے مال سے نواز رکھا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’جب آ نے تجھے مال دے رکھا ہے تو آ کی نعمت اور سخاوت کااثر بھی ظاہر کر‘‘۔ (ابوداؤد، ج4، رقم:4063)
تاہم، اسلام نے خوش پوشاکی کی حد سے گزر کر اسراف کی حدود میں داخل ہوجانے والی آرایش کی سختی سے ممانعت کی ہے جو دراصل نمایش اور دکھلاوے کی خاطر کی جاتی ہے، کیوں کہ یہ راہِ اعتدال سے ہٹ کر ہے۔ آپؐ کا ارشاد ہے: ’’جس نے دنیا میں شہرت کا لباس زیب تن کیا اللہ تعالیٰ اسے قیامت کے دن ذلت کا لباس پہنائے گا اور اس میں آگ بھڑکائے گا‘‘۔ (ابن ماجہ، رقم: 3607)
زیورات خواتین کی فطری خواہش ہے۔ آپؐ نے اس فطری تقاضے پرپابندی عائد نہیں کی، البتہ افراط سے وہاں بھی منع فرمایا۔ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کی بہن سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’اے عورتو! کیا زیور بنانے کے لیے تمھارے لیے چاندی کافی نہیں ہے؟ خبر دار! جو عورت بھی سونے کا زیور بنائے گی اور اس کے ذریعے زینت کا اظہار کرے گی اسے اسی زیور سے عذاب دیا جائے گا‘‘۔ (ابوداؤد، ج4، رقم: 4237)
یہ وعید ان عورتوں کے لیے ہے جو زیورات کی دیوانی ہوتی ہیں اور جور نگ و نور کے سیلاب میں کھو کر فرائض اورحقوق سے غافل ہوجاتی ہیں۔
مال دار حضرات کاسب سے زیادہ زور تعمیرات میں صرف ہوتا ہے، اور اس موقعے پرعموماً حد اعتدال کوبرقرار نہیں ر کھا جاتا۔ اس کا ایک مقصد نمایش کے علاوہ عیش کو شی اور آرام طلبی ہوتا ہے۔ آپ صلی آعلیہ وسلم نے اس پہلو کو بھی تشنہ نہیں چھوڑا۔ حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کو یمن کی جانب گو رنر بناکر روانہ فرمایا تو یہ نصیحت بھی کی: ’’عیش کوشی سے دور رہنا، کیونکہ اللہ کے بندے آرام طلب نہیں ہوتے‘‘۔ (احمد، ج5، ص 244)
یہی وجہ تھی کہ آپؐ نے سونے اورچاندی کے برتنوں میں کھانا پینا حرام فرمادیا اور مردوں کے لیے حریر وریشم کے استعمال کو ممنوع قرار دیا۔
اس پوری بحث کو ایک حدیث میں یوں مختصراً بیان کیا گیا ہے۔ آپؐ نے فرمایا: ’’میری امت میں ایسے لوگ آئیں گے جو رنگ برنگ کے کھانے کھائیں گے، انواع و اقسام کے مشروبات استعمال کریں گے، اورطرح طرح کے لباس زیب تن کریں گے، اور منہ پھاڑ پھاڑ کر باتیں بنائیں گے۔ یہی لوگ میری امت کے بدترین افراد ہوں گے‘‘۔ (المعجم الکبیر، ج1، ص 107)
خود آپؐ نے عملی طور پر اسلامی حکومت کے قیام کے بعد مساوات کا وہ عظیم الشان نمونہ پیش فرمایا کہ تاریخ اس کی نظیر پیش کرنے سے آج بھی قاصر ہے۔ آپؐ کے اور صحابہ کرامؓ کے مابین لباس کے اعتبار سے بھی کوئی فرق نہ تھا۔ اسی طرح آپؐ کی نشست بھی ایسی عام اور کسی امتیاز کے بغیر ہوتی تھی کہ باہر سے آنے والے شخص کو آپؐ کے بارے میں پوچھنا پڑتاتھا۔ صحابہ کرامؓ نے آپؐ کے بیٹھنے کے لیے ایک چبوترا بنانا چاہا تو آپؐ نے اس کو بھی پسند نہ فرمایا۔ (سیّدعزیز الرحمٰن، ’تعلیمات نبویؐ اور آج کے زندہ مسائل‘، القلم، فرحان ٹیرس، کراچی، مئی 2005ء)
دین میں بے اعتدالی
اعتدال اور توازن کا حکم صرف کھانے پینے، کمانے اور معاشرتی امور تک محدد نہیں ہے۔ یہ حکم انسانی زندگی کے ہر ہر پہلو سے تعلق رکھتا ہے۔ چناں چہ دین کے معاملے میں بھی غلو سے بچنے کا حکم بہ راہ راست قرآن کریم میں دیا گیا، اور یہاں غلو سے مراد بھی حد سے بڑھنا ہے۔ دین کے معاملے میں غلو اور حدود سے تجاوز کرنا سخت ناپسندیدہ ہے۔ قرآن کریم میں فرمایا گیا: (النساء4:171) ’’تم اپنے دین کے معاملے میں غلو نہ کرو‘‘۔
اس غلو کا نتیجہ بھی شدت پسندی کی صورت میں نکلتا ہے، اور جو لوگ غلو سے دوچار ہوجاتے ہیں وہ پھر اعتدال سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ اس لیے اس سے بھی منع فرمایا: ’’تم دین میں غلو سے بچو، کیوں کہ، پچھلی امتیں دین میں غلو کی وجہ سے ہلاک ہوگئیں‘‘۔ (ابوداؤد، ج4، رقم: 4904)
اسی طرح شدت پسندی بھی عدم توازن کی علامت ہے۔ اعتدال اور توازن پر کار بند شخص کسی حوالے سے شدت پسند نہیں ہوسکتا۔ قرآن و سنت کی پوری تعلیمات اور اسوۂ حسنہ کا پیغام اسی کے گرد گھومتا ہے۔ اسی بنا پر اسلام نے دین کے معاملے میں بھی اس سے بچنے کی تاکید کی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم اپنے آپ پر سختی نہ کرو ورنہ تمھارے اوپر سختی کی جائے گی، کیوں کہ ایک قوم نے اپنے آپ پر سختی کی، پھر اللہ نے بھی ان پر سختی کی۔ ان ہی لوگوں کے باقیات ہیں جو گرجوں اور خانقاہوں میں نظر آتی ہیں۔ (ابوداؤد، ج4، رقم:4904)
یہ حقیقت ہے کہ حسنِ اعتدال اور توازن ہی حیات انسانی کا حسن ہے، اور اسی کے ذریعے ہماری دنیاوی زندگی کامیابی سے بسر ہوسکتی ہے، جس پر ہماری اخروی دائمی زندگی کا مدار اور انحصار ہے۔
اللہ تعالیٰ ہمیں دین کی صحیح سمجھ عطا فرمائے، اور اس پر عمل کی توفیق ارزانی فرمائے۔ آمین

فتنہ مادیت اور مسلمان ۔عمر فراہی

فتنہ مادیت اور مسلمان

عمر فراہی ۔ ای میل : umarfarrahi@gmail.com

انسان کا جب خالق سے رشتہ کمزور پڑ جاتا ہے تو انسانی رشتے نہ صرف ذاتی مفاد تک ہی محدود ہو جاتے ہیں بلکہ ان رشتوں سے اخلاص اور رحم کے جذبات کے ساتھ زندگی کا اصل رومانس بھی ختم  ہو جاتا ہے اور پھر ایسے معاشرے کو فتنے اور فساد سے کوئی نہیں روک سکتا - اٹھارہویں صدی کے کارپوریٹ کلچر اور مادی انقلاب کے بعد خدا بیزار دجالی تہذیب کے نتائج بھی ہم دیکھ رہے ہیں کہ کس طرح  ہمارا پورا معاشرہ اس فتنے اور لعنت سے تباہ ہو رہا ہے اور کس طرح پچھلےسو سالوں کے درمیان ہونے والی جنگوں اور فسادات میں کروڑوں انسان آپسی خلش ، نفرت اور نسلی عصبیت کا شکار ہوکر ہلاک ہوگئے - یہ صورتحال بدستور آج 2017 میں بھی قائم ہے - شام کے شہر حلب میں ایران شام اور ان کی دجالی ملیشیاؤں نے دنیا کے ایک بڑے دجال  روس کے ساتھ مل کر  پانچ لاکھ کے قریب شامی مسلمانوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا - بظاہر امن اور جمہوریت کے نام پر کھیلے گئے اس کھیل کا مقصد بھی صرف ایک کھیل اور چند شیطانی طاقتوں کی ذہنی تفریح اور تسکین کی سوا اور کچھ نہی ہے اور یہ اپنے اسی شیطانی نظریے کی بالادستی چاہتے ہیں - دنیا کے اس پورے منظرنامے میں نبوی تحریک  کی نمائندگی کرنے والے چہروں کی حالت یا تو تماشائی کی رہی یا کچھ لوگوں نے اس نظریے کے خلاف مزاحمت کرتے ہوئے اصحاب کہف کی طرح پہاڑوں اور صحراؤں کا رخ کر لیا ہے اور جو طاغوتی حکومتوں کے درمیان رہ کر حق بات کہنے کی جرات کرسکے مسلسل شعب ابی طالب اور سنت یوسفی کے حالات سے گذر رہے ہیں - وہ لوگ جو کفر اور شرک کے ان کشمکش حالات میں بھی اپنی پرامن جدوجہد سے مایوس نہیں ہیں پوچھتے ہیں کہ ان مشکل اور پر آشوب حالات میں امتہ مسلمہ کا کردار کیا ہونا چاہیے تاکہ دنیا سے فساد کا خاتمہ ہو سکے - اگر اس موضوع پر بحث کی جائے یا اس کا کوئی حل پیش بھی ہو سکتا ہے تو اس کا جواب ایک اور مکمل انقلاب کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے - مگر مشکل یہ بھی  ہے کہ عیسوی اور ہجری صدی کے بعد دنیا کے ہر انقلاب کی تاریخ آگ اور خون سے لکھی گئی ہے اور شاید مستقبل کی پرامن دنیا کے انقلاب کا رنگ بھی ایسا ہی ہو - مستقبل میں اس انقلاب کیلئے حالات  کیا رخ اختیار کرتے ہیں اس کی پیشن گوئی کرنا تو مشکل ہے لیکن کسی شاعر کے بقول یہ بات یقینی طورپر کہی جاسکتی ہے کہ
پھر وہی قافلہ شوق وہی نہر فرات
کربلا پھر سے وہی تشنہ لبی مانگے ہے
 
لیکن چونکہ دنیا کے ہر خطے کے  مسلمانوں کے اپنے مسائل اور وسائل دونوں مختلف ہیں اس لئے آج کے پرفتن حالات میں  نبوی تحریک کے علمبرداروں کیلئے قرآن کی سورہ کہف کی آیات میں  بہترین رہنمائی ہے -  مثال کے طور پر اہل ایمان اگر کسی خطے میں یاجوج ماجوج جیسے فتنے یا کسی ظالم قوم کے نرغے میں ہیں تو ان کے پاس اس کے سوا کوئی چارہ نہی کہ کسی ذولقرنین کیلئے دعا کریں اور اس کی مدد کریں - اسی طرح اللہ چاہتا تو کسی ذوالقرنین سے اصحاب کہف کی بھی مدد کروا سکتاتھا مگر اللہ نے  انہیں وقت کے ایک ظالم حکمراں سے پناہ حاصل کرنے کی تدبیر  اختیار کرنے کی حکمت میں قیامت تک کے مسلمانوں کیلئے رہنمائی کی مثال قائم کردی - سورہ کہف کی  انہیں آیات میں  حضرت موسیٰ اور  حضرت خضر کی ملاقات کا واقعہ بیان کرکے اللہ تعالی دنیا کے تمام مومنین کو پیغام دیتا ہے کہ بغیر کسی تحقیق اور  علم کے مومن کسی مومن سے سر زد ہونے والی قابل اعتراض حرکتوں پر بھی اعتراض نہ اٹھائے - جیسا کہ دنیا کے موجودہ حالات میں کچھ  نادان دانشور اورعلماء دین بھی دجالی میڈیا کے پروپگنڈے کا شکار ہو کر مومنوں پر لعنت ملامت کے مرتکب ہو رہے ہیں - بہرحال نبوی تحریک کی تاریخ میں اکثر انبیاء کرام کو مختلف ادوار میں مختلف قسم کے مشکل مراحل سے گذرنا پڑا اور اکثر کو اپنی بستیوں سے ہجرت بھی کرنی پڑی  لیکن اس کے باوجود اللہ کے ان نیک بندوں نے دولت جائداد اور اپنےکاروبار کی ترقی کیلئے اپنے اخلاق اپنے کردار اور صلہ رحمی کے اوصاف کو ترک نہیں کیا -شاید یہی وہ کرداراور اخلاق کی دولت تھی جس کی وجہ سے انہیں مشرکین کی جماعت سے بھی  حمایت ملتی رہی ہے اور تمام مخالفتوں کے باوجود جب وہ کامیاب ہوئے تو ان کی اس تحریک کی بدولت زمین پر برسہا برس تک امن اور خوشحالی کا ماحول رہا - لیکن اس عمل کیلئے اہل ایمان کو خود  اپنے رسول محمد  صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوتی شروعات کا جائزہ لے کر دیکھنا چاہیے  کہ آخر وہ کیا عمل تھا کہ جس نے وقت کے رسول کو جس پر کہ ابھی وحی کے نزول کا سلسلہ بھی نہیں شروع ہوا تھا  مقبول و معروف  بنا دیا تھا - کیا کسی بھی تحریک اور اس کے نمائندوں کی اخلاقی شناخت محض اسٹیج شو یا زبان وبیان کی بلاغت سے کی جاسکتی ہے یا کسی بھی تحریک اور قوم کے قائد پر محض اس کی تعلیمی لیاقت اورسیاسی اثر و رسوخ کی بنیاد پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے ؟ رسول عربی ﷺ کے دور میں ابو جہل ، ابو لہب ، ابو سفیان ، ولید بن مغیرہ اور خود ابو طالب اور عمر بن خطاب جیسے بے شمار سرداران عرب تھے  جو اپنی قابلیت اور لیاقت کی بنیاد پرعربوں کی قیادت کے اہل تو تھے لیکن کیا وہ عربوں کو ایک عالم گیر تحریک کیلئے متحد کرسکے - ایک عالم گیر تحریک کیلئے عربوں کو آمادہ کرنا تو دور کی بات ان میں سے کسی ایک سردار میں یہ صلاحیت تک نہیں تھی کہ وہ مکہ کے تمام قبیلوں کو کسی سیاسی نظام کے ماتحت ایک پرچم کے نیچے متحد کرسکے لیکن محمد صلی اللہ علیہ وسلم  میں ایسی کیا بات تھی کہ جب انہوں نے مشرکین مکہ کو صفا مروہ کی پہاڑی کے نیچے جمع ہونے کی دعوت دی تو بیک وقت مکہ کے تمام سرداران نے ان کی آواز پر لبیک کہا - کیا آپ پر پورا قرآن نازل ہوچکا تھا ، کیا آپ کو اللہ کے مستقبل کے منصوبے کا علم تھا ، کیا آپ کو معراج کی سیر کرادی گئی تھی ؟ شاید یہ وحی اور خواب کے نزول کا ابتدائی دور تھا جس کی اطلاع آپ نے ابھی اپنی شریک حیات حضرت خدیجہ کو دی اور آپ خود اتنے گھبرائے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہ کو اپنے چچا ورقہ بن نوفل سے مشورہ لینا پڑا - خود حضرت خدیجہ جنھوں نے آپ کے اخلاق اور کردار کی بنا پر آپ سے نکاح کیا تھا آپ کو تسلی دیتی ہیں کہ آپ گھبرائیں نہیں آپ کے آپ کی قوم پر اتنے احسانات ہیں کہ وہ  آپ پر کبھی کوئی تکلیف نہیں آنے دیگی - سوال یہ ہے کہ آپ کے آپ کی قوم پر وہ  کیا احسانات تھے کہ آپ مکہ کے لوگوں کیلئے محسن اور ہردلعزیز بن چکے تھے اور کہیں نہ کہیں انہیں آپ سے یہ امید تھی کہ  یہ نوجوان مستقبل میں عربوں کی کامیاب رہنمائی کریگا - یہ بات اکثر آپ کے دادا عبد المطلب بھی کہا کرتے تھےکہ میں اپنے اس بیٹے میں عربوں کی سرداری کی جھلک دیکھ رہا ہوں - بعد میں لوگوں نے دیکھا بھی کہ  آپ نے بچپن سے جوانی کی عمر تک جبکہ ابھی آپ نبوت سے سرفرازبھی نہی ہوئے تھےاپنی زندگی کو لوگوں کیلئے وقف کردیا اور پورے عرب میں  لوگ آپ کو امین کہہ کر پکارتے تھے - ایسا اس لئے تھا  کہ جہاں مشرکین مکہ اپنی ضرورتوں کی تکمیل اورتحصیل کیلئے آمادہ  جنگ تھے  آپ لوگوں کی ضرورت اور مسائل کا حل پیش کرکے ان  کی ضرورت اور پہچان بن چکے تھے - ہندوستان کی  موجودہ صورتحال مسلمانوں سے اسی کردار کی متقاضی ہے کہ کیا اس ملک میں مسلمانوں کی یا مسلمانوں کی کسی تنظیم اور اس کے قائد کی اپنی پہچان بھی یہی ہے - اگر نہیں تو پھر مسلم تنظیموں اور ان کے قائدین کو اپنا احتساب کرنا چاہیے کہ کیا انہوں نے اپنے معاشرے کی اصلاح کیلئے  نبوی تحریک سے کوئی سبق حاصل کیا - کیا ہم نے کبھی غور کیا کہ وحی کے نزول سے پہلے ہی وقت کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بے چینی کیا تھی اور اس نے لوگوں کی عام مادہ پرستانہ سوچ اور ماحول سے باہر نکل کر غار حرا کا رخ کیوں کیا - یہ بات غور طلب ہے کہ زمانے کے ہر دور میں قوموں اور قبیلوں کی گمراہی کی وجہ ان کے لوگوں کی مادہ پرستی اور مفاد پرستانہ سوچ ہی تھی جس نے انہیں جارح ، بے رحم اور متکبر بنا دیا تھا -سورہ کہف کی آیات میں ایک شخص کی تباہی کی ایک وجہ اس کی یہی متکبرانہ اور مادہ پرستانہ سوچ بتائی گئی ہے - شاید یہی وجہ ہے کہ جہاں یہود ونصاریٰ کے علماء نے احکام الٰہی کو مال و زر سے  بیچنا شروع کر دیا تھا مشرکین مکہ میں بیٹیوں کو زندہ دفن کرناعام بات تھی - کل اور آج کے مشرکین میں اگر کچھ فرق آیا ہے تو بس اتنا کہ بچیوں کو قتل تو نہیں کیا جاتا لیکن انہیں  کارپوریٹ سیکٹر یا فحاشی کی صنعت کی طرف موڑ کر دولت اور شہرت کمانے کی ہوڑ لگی ہوئی ہے - مسلمانوں کی اکثریت ممکن ہے ابھی پوری طرح اس دلدل میں نہ گری ہو لیکن جدید ترقی اور معاشی بدحالی کے خوف نے اسے اپنے نصب العین سے ضرور منحرف کر دیا ہے - نئی نسل تو اپنی ملی اور قومی بیداری سے بھی نابلد ہے - اس طرح مسلمانوں کی تحریکوں اور تنظیموں کی بھی  اپنی کوئی  شناخت نہیں رہی کہ جس کی وجہ سے انہیں امین یا امانت دار کے لقب سے پکارا جائے - آج کے حالات میں مسلمان کتنا بھی تعلیم یافتہ ہو جائے یا ترقی کرلے احیائے اسلام کی سیاسی تاریخ کو دوبارہ عروج اسی وقت حاصل ہو سکتا ہے جبکہ وہ اپنی مادہ پرستانہ سوچ سےاوپراٹھ کر لوگوں میں اپنے اخلاق ، فلاح وبہبود اور معاشرے کی اصلاح کے کاموں سے اپنی ایک اسلامی شناخت قائم کرے تاکہ ہماری یہی شناخت مستقبل کے مسلمانوں کیلئے سیاسی عروج کا سبب بن سکے - یہی اللہ سے ہمارا عہد بھی ہے اور اللہ نے بھی اس جماعت کے بارے میں گواہی دی ہے کہ کنتم خیر امتہ اخرجت الناس -یہی وہ جماعت تھی جو ایک معاشرے کی اصلاح اور مستقبل کےانقلاب کیلئے اپنا سب کچھ ترک کرکے مدینہ منتقل ہو گئی - ان کی سب سے بڑی قربانی یہ نہیں تھی کہ انہوں نے اپنے وطن سے ہجرت کی جبکہ حکومت ، اقتدار اور کاروبار کی ترقی کیلئے قوموں نے بارہا اپنے وطن کی قربانی دی ہے اور آج بھی لوگ روزی روزگار کیلئے امریکہ اور لندن میں منتقل ہو رہے ہیں مگر تاریخ میں  لکھی جانے والی بات یہ ہے کہ انہوں نے مکہ میں اپنی زمین جائداد گھر رشتے دار اور کاروبار کوترک کرکے اپنے نفس کی جو قربانی دی وہ دراصل اس وقت کی مادہ پرستانہ ذہنیت کے خلاف جنگ کا پہلااعلان تھا اور مدینے کی جدوجہد خالق کی ربوبیت اور اس کی حاکمیت کے اقرار اور اعلان کی عملی بنیاد تھی - بدقسمتی سےآج اسلام کی جو شبیہ بنا دی گئی ہے ہمارے بچے  اسلام ، دعوت و اصلاح اور انقلاب کا مفہوم بھی بھولتے جارہے ہیں - اس کی وجہ اس کے سوا اور کیا ہو سکتی ہے کہ مادی فتنے میں قید اہل ایمان کو بھی اتنی فرصت کہاں ہے کہ وہ ماہانہ اور ہفتہ واری چھٹی کے دنوں میں رسمی اجتماعات منعقد کرنے کے بعد کچھ غوروفکر کر سکیں یا وہ بے چینی نظر آئے جو کسی معاشرے اور سماج کی اصلاح کے لئے درکار ہوتی ہے - 


عمر فراہی ۔ ای میل : umarfarrahi@gmail.com