Search This Blog

Sunday, 10 June 2012

جہیز کسے کہتے ہیں


انٹی بایوٹک کھانے سے پہلے

انٹی بایوٹک
کھانے سے پہلے


ضد ’’حیاتیاتی‘‘ دوائیاں(Antibiotic Drugs)جراثیم کُش ہوتی ہیں اور یہ تب استعمال ہوتی ہیں جب جراثیم انسانی جسم کے کسی بھی حصے پر حملہ آور ہو کر عفونت پیدا کر کے انسان کو مختلف علائم میں مبتلا کرتے ہیں۔ انسان بیماری کا شکار ہوتا ہے اور اس بیماری کو دور کرنے کے لئے ایسی دوائیوں کی ضرورت پڑتی ہے جو ان جراثیموں کو نیست و نابود کرے اور انسان بیماری سے چھٹکارا پا سکے۔ ان دوائیوں کو انٹی بویاٹک کا نام دیاگیا کیونکہ یہ ’’جاندار دشمنوں‘‘ کو ماردیتی ہیں۔ ہمارے جسم کے اندر جراثیم ہر وقت موجود رہتے ہیں جن میں سے اکثر ہمارے ’’دوست‘‘ ہوتے ہیں اور ہمارے لئے فائدہ مند ہوتے ہیں، دوسرے قسم کے جراثیم’’ مرض آور‘‘ یا دشمن جراثیم ہوتے ہیں جو اطراف سے ہمارے جسم میں داخل ہو کر ہمیں مختلف بیماریوں میں مبتلا کرتے ہیں…جب دشمن جراثیم ہمارے جسم میں داخل ہوتے ہیں تو ہم بخار،سردرد،بے قراری، خستگی، کم اشتہائی، عضلات اور جوڑوں کے درد، زکام، کھانسی وغیرہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں…لیکن یہ علامات جراثیموں کے علاوہ ویرسوں(Virus) کے حملہ سے بھی وجود میں آسکتے ہیں۔ ویرسی بیماریوں میں اِن دوائیوں کا کوئی اثر نہیں ہوتا ہے اور ایسی بیماریوں میں یہ دوائیاں استعمال کرنے سے مریض کو کسی قسم کا فائدہ ملنے کے بجائے مختلف پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ انٹی بویاٹیکس استعمال کرنے سے پہلے یہ جان لینا اشد ضروری ہے کہ عفونت (Infection)جراثیمی ہے یا ویئرسی۔ اگر علائم ویئرسی بیماری(زکام، کھانسی، معمولی بخار، یرقان، وغیرہ) کے ہوں تو انٹی بایوٹک کھانے سے گریز کرنا لازمی ہے۔
ہمارے ہاں اکثر لوگ معمولی انفکشن(چاہے وہ ویئرسی ہو یا جراثیمی) میں مبتلا ہونے کے بعد ایک دم، کسی ڈاکٹر سے مشورہ کئے بغیر، انٹی بیوٹک دوائیاں کھانا شروع کرتے ہیں۔ بخار، کھانسی یا سردرد شروع ہوتے ہی گھر میں پڑے انٹی بیوٹک لیتے ہیں، گھر میں موجود نہ ہو تو ہمسایہ یا کسی دوست سے اُدھار لیکر کھاتے ہیں۔ وہاں سے نہ ملے تو دوائی کی دکان پر جاکر خرید لیتے ہیں اور یہ جانے بغیر کہ اس کی ضرورت ہے بھی یا نہیں، چنّے، مٹر کی طرح کھانا شروع کرتے ہیں…ہماری وادی میں انٹی بایوٹک دوائیاں کا جتنا زیادہ استعمال ہوتا ہے اُتنا دنیا کے کسی کونے یا ہندوستان کی کسی ریاست میں نہیں ہوتا ہے، کشمیر میں ہر قسم کی انٹی بویاٹک دوائیاں ہرگلی کوچے کی دکان پر بنا کسی ڈاکٹری نسخے کے دستیاب ہیں اور لوگ جاکر کوئی بھی ایسی دوائی خرید کر از خود اپنے لئے تجویز کر کے استعمال کرنا شروع کرتے ہیں …اگر ان دوائیوں کے نام یاد نہ ہوں تو میڈیکل شاپ پر کام کرنے والے ملازموں سے اپنی بیماری بیان کرتے ہیں اور وہ روپیہ کمانے کے لئے ان کیلئے ڈھیر سارے انٹی بویاٹک تجویز کرتے ہیں اور مریض ایک دو دن تک استعمال کر کے ترک کرتے ہیں اور اس طرح نہ صرف وہ اپنے آپ پر ظلم ڈھاتے بلکہ اپنے گھر والوں اور نزدیکی رشتہ داروں کیلئے ایک سنگین مسئلہ کھڑا کرنے کے علاوہ سماج کے لئے بھی ایک خطرہ بن جاتے ہیں۔ کیونکہ دوتین انٹی بیوٹک کیپسول یا ٹیبلٹ کھانے سے اُس فرد کے جسم کے اندر موجود جراثیم پوری طرح فنا ہونے کے بجائے صرف نیم مردہ ہوتے ہیں اور چند دنوں کے بعد وہ پھر سے تازہ اورصحت مند ہو کر دوبارہ اس بیمار پر حملہ آور ہوتے ہیں… اور ان پر دوبارہ وہ دوائی/دوائیاں اثر اندازنہیں ہوتی ہیں کیونکہ اس دوائی کے خلاف جراثیم مقاوم (Resist)ہو چکے ہوتے ہیں اور وہ اپنا کام زیادہ فعالیت اور مستعدی سے انجام دے کر مریض کو اندر ہی اندر کھوکھلا کر دیتے ہیں… اس طرح اس بیمار کا وقت اور پیسہ برباد ہوتا ہے اور اسے پھر کوئی دوسرا مہنگا اورتیز اثر انٹی بویاٹک استعمال کرنا پڑتا ہے۔ علاوہ ازیں ایسے مریض کے جسم کے اندر یہ مقاوم جراثیم سانس کے ذریعہ چھینکنے سے یا نزدیک سے گفتگو کرنے سے، دوسرے انسانوں میں منتقل ہوتے ہیں اوران کے لئے بھی خطرہ بن جاتے ہیں کیونکہ ان پر وہ انٹی بویاٹک اثر نہیں کرتے اور وہ بے چارے لوگ مفت میں کسی اور کی  غلطی کی سزا بھگت لیتے ہیں اس لئے انٹی بویاٹک دوائیاں کھانے سے پہلے درج ذیل نکات پر غور کرنا بے حد ضروری ہے۔
یاد رکھئے صرف ایک انٹی بایوٹک کیپسول یا ٹیبلٹ کھانے سے یا ایک دو انجکشن لگانے سے، آپ کے جسم کا نظام درہم برہم ہوسکتاہے اوربسا اوقات جسم کے اندر موجود مفید جراثیم بھی نیست و نابود ہونے سے آپ پیچیدگیوں کے شکار ہوسکتے ہیںاس لئے جب بھی انٹی بویاٹک دوائی لینی ہو تو کم از کم دس بار سوچئے اور کسی ماہر ڈاکٹر سے تفصیلی مشورہ کرنے کے بعد یہ دوائیاں شروع کرنے کی جرأت کریں۔
٭  کبھی بھی، کسی بھی صورت میں انٹی بایوٹک دوائیاں اپنی مرضی سے نہ لیں۔
٭  کسی دوست، رشتہ دار یا ہمسایہ سے مانگ کر، کسی دوائی کی دُکان سے خرید کر انٹی بویاٹک دوائیاں استعمال کرنا خطرے سے خالی نہیںہے۔
٭   انٹی بویاٹک شروع کرنے میں جلدبازی سے کام نہ لیں۔
٭  اپنے معالج ڈاکٹر کو انٹی بویاٹک تجویز کرنے پر مجبور نہ کریں۔
٭  اگر آپ کا معالج ڈاکٹر آپ کیلئے ایسی دوائیاں تجویز کرتا ہے تو اس سے ’’وجہ‘‘ ضرور پوچھئے اور مکمل جانکاری حاصل کریں۔انٹی بویاٹیک ادویات لینے سے پہلے اپنے خون کی مکمل جانچ (CBC) کروالیں تاکہ یہ پتہ چلے کہ عفونت ہے یا نہیں!
٭          ویئرسی عفونتوں(Viral Infections)مثلاً زکام، کھانسی، پیٹ درد، اسہال،یرقان وغیرہ کے لئے ان دوائیوں کا استعمال ہرگز نہ کریں۔
٭ انٹی بویاٹک دوائیاں مقررہ مقدار میں مقرر وقت کیلئے استعمال کریں۔ اگر آپ کے سبھی علائم بھی ناپید ہوں تب بھی ان دوائیوں کی پوری مقدار اور تجویز کردہ مقدار کھالیں۔ قبل از وقتِ معین ترک کرنے سے بیماری دوبارہ حملہ آور ہوسکتی ہے اور جسم میں موجود جراثیم آپکے خطرناک دشمن بن جائیں گے۔انٹی بویاٹیک ادویات لینے سے پہلے ان کے منفی یا ذیلی اثرات کے بارے میں مکمل جانکاری حاصل کریں۔
٭  اپنے لئے ایک ہیلتھ فائل بنائیے اس میں مختلف علائم یابیماریوں کے لئے استعمال شدہ انٹی بائٹکس کی تعداد، مقدار اور مدتِ استعمال تفصیل سے درج کیجئے اوربہ وقت ضرورت اپنے ماہر معالج کو دکھائیے۔
٭  اگر چند روز، ڈاکٹر کی تجویز کردہ انٹی بایوٹیکس کھانے کے بعد بھی علائم ناپید نہ ہوں تو فوری ڈاکٹر سے رجوع کر کے خون ،پیشاب اور دیگر لازمی Testsکروالیں۔
 انٹی بویاٹک ادویات شروع کرنے کے بعد اگر جانبی اثرات ستانے لگیں (مثلاً دست کی شکایت ہونے لگے) تب بھی ان کا استعمال جاری رکھیں کیوں کہ عارضی طور استعمال کرنے سے آپ ان دوائیوں کیلئے مقاوم بن جائیں گے اور پھر دوبارہ یہ اثر نہیں کریں گے۔ کمسن بچوں کو انٹی بویاٹک ادویات سوچ سمجھ کر دی جانی چاہئے۔ ہمارے ہاں اکثر ڈاکٹر، حکیم ، نیم حکیم، دوافروش سوچے سمجھے بنا ہی بچوں کو معمولی بخار کھانسی یا اسہال کیلئے انٹی بویاٹک دوائیاں تجویز کرتے ہیں۔ کبھی بھی یہ جاننے کی کوشش نہیں کرتے ہیںکہ بخار کی بنیادی وجہ کیا ہے؟ اگر عفونت ہے تو وہ جراثیمی ہے یا وائرسی۔ بچوں کو بار بار بنا کسی وجہ کے انٹی بویاٹک کھلانے سے اُن کی صحت پر زبردست منفی اثرات پڑتے ہیں، ان کی انٹریوں سے دوست جراثیم کا صفایا ہوجاتا ہے اور وہ سوئِ تغذیہ کا شکار ہوکر لاغر ہوجاتے ہیں، اُن کے جسم کا نظامِ دفاع بُری طرح متاثر ہوتا ہے اور وہ گوناگوں بیماریوں میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ا کثر لوگ ’’انٹریوں کی انفکشن‘‘ کیلئے فوری طور دوائیاں لیتے یں۔ یہ سراسر غلط اور غیر سائنسی ہے۔ انٹرویوں کی انفکشن کیلئے دوائیاں لینے سے پہلے فضلہ کی جانچ (لگاتار تین دن کیلئے) کروانا ضروری ہے اور پھر خون کی مکمل جانچ بھی لازمی ہے۔ کسی بھی ٹسٹ کے بغیر دوائیاں لینا خطرے سے خالی نہیں ہے۔ اسی طرح کھانسی اور زکام اکثر وائریسی نوعیت کے ہوتے ہیں ان میں انٹی بویاٹک دوائیاں لینا پیچیدگیوں کو دعوت دینا ہے۔
آپ کا جسم آپ کی امانت ہے، اسلئے اسکی حفاظت کرنا آپ کی اولین ذمہ داری ہے۔ کسی بھی صورت میں کوئی انٹی بویاٹک ٹیبلٹ، کیپسول یا انجکشن ہرگز نہ لیں۔ اپنے لئے خود ہی انٹی بویاٹک تجویز کرنا یا کسی دوافروش سے خرید کر استعمال کرنا، ایک گناہ ہے اس لئے اس گناہ سے بچنے کی ہر ممکن کوشش کریں
بہ شکءیہ روزنامہ کشمیر عظمی

Saturday, 9 June 2012

پیٹ پوجاہی اصل مقصد ٹھیرا

پیٹ پوجاہی اصل مقصد ٹھیرا

کیاکھاناپینا‘موجیںاڑانا‘رنگ رلیاںکرناہی اصل طرز حیات ومقصدزندگی طے پایاہے؟کیا ناکامی اورکامیابی کا معیار عین وہی ہے جو اس وقت میڈیا پر پیش ہورہاہے؟کیا میڈیا پر چھائے تمام روشن خیال عناصرایک مسلم معاشرے میں بے مقصدیت ‘ لادینیت‘ بے راہ روی وبے باکی کا سیلاب بہانے کے لیے یکجا ہوگئے ہیں؟۔ ذرائع ابلاغ کو مملکت کے چوتھے ستون کی حیثیت حاصل ہے۔اسے ’’واچ ڈاگ‘‘کی ذمہ داری سونپ کردیگرتمام ستونوں میں ممیزو ممتاز حیثیت کاحامل بنادیاگیا۔ کیا صحیح ہے ؟ کیا غلط ہے؟ کی نشاندہی کرنا‘ احسن افعال کی تحسین اور افعال بد کی بیخ کنی کرنا‘ اداروں کو درست راہ پرگامزن رکھنا‘ معاشرے ‘ اس کے مختلف اداروں نیز قوم کی اصلاح وتربیت اس کے فرائض میں شامل ہے۔ اگر بات ایک اسلامی معاشرے کے حوالے سے کی جائے تو اسلامی معاشرے کے میڈیاکو اسلامی کلچر ‘روایات واقدارکے فروغ کے لیے سعی کرنا چاہیے۔ ایک اسلامی معاشرے کی روایات واقدارکی شاخیں‘ایمان باللہ اور ایمان بالآخرہ کے شجر طیّبہ سے پھوٹتی ہیں۔ جس کی بدولت شرم وحیا‘ مضبوط ومنظم خاندانی نظام‘ چھوٹوںسے مہربانی‘ بزرگوں کی تعظیم‘ باہمی ایثار و اخوت جیسی خوبیاں تخلیق پاکراسلامی معاشرے کا پرامن و پاکیزہ ماحول تشکیل دیتی ہیں‘ میڈیا ذہن سازی‘ رائے سازی اوربحیثیت مجموعی ماحول سازی میں جوکردار ادا کرتا ہے اس سے ہرذی شعور واقف ہے۔ مملکت اسلامی پاکستان کا میڈیا دین ومذہب سے بیزار عناصرکے شکنجے میں ہونے کے سبب صرف اورصرف ان نظریات وافکارکی ترویج کا باعث بن رہاہے جوکسی بھی طرح اسلامی اقداروتعلیمات کے ذیل میں نہیں آتے۔ ’’کھائو پیو اور جیو‘‘ جیسے نعرے کو قبولیت عام کا درجہ مل گیاہے۔ سوشل میڈیاکے ذریعے زندگی کو بے مقصدسرگرمیوں‘ لہوولعب پر مبنی لاحاصل گفتگوئوں‘بے راہ روی پرمبنی دوستیوں میں برباد کرنے کی ترغیب کے لیے نت نئے پیکجز متعارف ہورہے ہیں‘ ہر نیا دن‘ ایک نئی آفراورنئے پیکج کے ساتھ نمودارہورہاہے۔ دوسری طرف کیبل کے بیشترچینلزپرہروقت ایک عدد شیف مزیدار کھانوں کی تراکیب کے ساتھ موجود ہوگا۔ ایسا محسوس ہوتاہے کہ دنیا میں تشریف آوری کا صرف یہی مقصد تھا کہ ’’پیٹ پوجا‘‘کی جاتی رہے۔ فی الحقیقت یہ زبان کی لذتوں میں گھر کر اعلیٰ ترین مقاصد حیات سے پرے دھکیلنے کے سامان کے سوا کچھ نہیں ۔ ان چٹخارے دارچینلزمیں گھرنے والی ہماری قوم‘ بالخصوص قوم کی خواتین‘ اوران کی پیٹھ ٹھونکنے والے مردحضرات یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ ہم اس نبی عظیمؐ کے امتی ہیں‘ جس کے گھرمیں 3‘ 3 دن فاقے ہوتے تھے۔ جس نے زبان کی لذتوں کو ناپسندفرمایاتھا۔ یہ توتھاکیبل کے چینلزکا مختصراحوال‘ اب تذکرہ ہوجائے پرائیویٹ چینلزکا…مستی‘رنگینی اورہلّے گلّے سے بھرپورماحول کو فروغ دینے کے لیے ‘ کبھی ’’فتح سروں کی‘ جیت سنگیت کی‘‘ کے تحت عاطف اسلم اورہمیش ریشما‘کی فوجوں کے مابین معرکہ کرایاجاتاہے‘ توکبھی فوڈستان کے نام سے پاک بھارت کوکنگ مقابلے کا انعقادہوتاہے۔بے مقصدیت اس وقت عروج پرہوتی ہے‘ جب غیرمسلم اقوام کے ایام مستعارلے کر اخبارات وجرائد سیاہ اورچینلزرنگین کیے جاتے ہیں۔ رنگارنگ شوزکا ہرمیزبان بے باکی کے اس مظاہرے میں دوسرے پر سبقت لے جانے کی بھرپورکوشش کرتا پایاجاتاہے۔ اقدار وروایات تیزی سے پھیلتی جارہی ہیں ‘ اسلامی کلچرکو ایک کونے میں دھکادے کر‘غیراسلامی کلچرکوفروغ دینے کے لیے پرنٹ‘الیکٹرانک اور سوشل میڈیا تینوں یکجاہوکر اپنی تمام تر وسعتوں کے ساتھ کام کررہے ہیں‘نتیجتاً ایسا معاشرہ وجود میں آرہاہے‘ جس میں جنسی جرائم کثرت سے جنم لے رہے ہیں‘ کہیں محبوبہ کی خاطربیوی بچوںکو موت کے گھاٹ اتارنے کا واقعہ ہے‘ کہیں کمسن بچوں سے زیادتی کے کیسزکی خبریں ہیں‘ کہیں گھروں سے بھاگ کر شادیاں رچانے والے جوڑے ہیں۔ یاد رہے کہ صرف حیاکے تقاضوں کو پوراکرتاہوامعاشرہ ہی پنپ سکتاہے۔ حیا کے تقاضوں پرضربیں لگانے کے نتیجے میں معاشرہ جس انتشارکا شکار ہوتاہے اس کا مظاہرہ ’’یورپ‘‘ میں دیکھاجاسکتاہے۔ مگردکھ کا مقام یہ ہے کہ بے لگام چینلزکے ’’جیسے چاہوجیو‘‘ اور ان جیسے دوسرے آزادی وبے باکی کے پیغامات لیے ہوئے متاثرکن سلوگنزحیا اور اس کے تقاضوں سے نبردآزماہوئے کھڑے ہیں‘ ایسے میڈیا سے سدھار‘اصلاح وتربیت کی توقع رکھنا عبث ہے۔ قرآن حکیم میں ارشادہوتاہے۔ ’’جولوگ چاہتے ہیں کہ اہل ایمان کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا وآخرت میں سخت سزاکے مستحق ہیں‘‘۔ان حالات میں اسلامی افکارکے حامل تعلیم یافتہ طبقے کا فرض بنتاہے کہ وہ بے لگام میڈیا کے مدمقابل اصلاحی نوعیت کے چینلزروشناس کرائیں‘ اس کے لیے مخلصانہ اندازمیں مساعی کریں‘ اسلامی سوچ کے حامل ہنرمندوں اورپیشہ ورافرادتک پہنچ کر اس کار خیر میں شریک کریں۔برائی کے اس منبع کے آگے بندھ باندھنے کی ضرورت جتنی آج ہے‘ پہلے کبھی نہ تھی۔

Wednesday, 6 June 2012

ان کا حصہ


ان کا حصہ

عبدالرحمان مخلص

انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی خوشیوں اور مسرتوں سے زیادہ اپنے دکھ درد کو دوسروں پر ظاہر کر کے اُن کی ہمدردیاں حاصل کرنے کامتمنی رہتا ہے۔(غم و اندوہ اور دکھ درد کی آگ اور دھویں کو اپنے وجود میں جذب کر کے جینے والے  لوگ بہت کم ہوتے ہیں) انسان کو معلوم ہونا چاہئے کہ دوسروں کو اس کے دکھ درد میں شامل ہونے سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ پرائے تو خیر! اپنے عزیز و اقارب بھی بسا اوقات دوسروں کے غم کی کہانی کو ہنسی مذاق کا سامان بناتے ہیں اور متاثر ہونے کے بجائے محظوظ ہو جاتے ہیں۔ رہی عورتوں کے مختلف مواقع پر دوسروں کے لئے رونے اور بین کرنے کی بات(بین کرنا اسلام میں حرام ہے) سو وہ بے چاریاں اپنے ہی کسی دُکھ کو یاد کر کے دھاروں دھار روتی اور آنسو بہاتی ہیں۔ یعنی   ؎

کون روتا ہے کسی کے حال پہ اے دوست

سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا

ایک صاحب ستر برس کی عمر تک ’’آگ‘‘ تھے لیکن جب اس سرحد کے آگے قدم رکھا تو ’’راکھ‘‘ بن چکے تھے۔آگ اور راکھ میں جو فرق ہوتا ہے، اُسے بیان کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ہر کوئی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی پڑائو پر اس کھیل تماشے کا خود نہ صرف احساس کرتا ہے بلکہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیتا ہے۔بڑھاپے اور بیماری میں چونکہ بہت ہی قریبی رشتے داری ہوتی ہے، اس لئے وہ صاحب بھی ایک دن ’’صاحب فراش‘‘ ہو گئے۔ کئی دن دو انتہائوں(Two Extremes)کو دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھا اورپھر پنے بڑے بیٹے کو بے اختیار آواز دی جو کچن میں اپنے بیٹے ’’منا‘‘ کو گود میں لے کر بڑے پیار دُلار سے اُس کے منہ میںLactogen_II چاندی کے چمچے سے ٹپکا رہا تھا۔ منا قلقاریاں مارتے ہوئے اسے نگل رہا تھا اور مسکراتی آنکھوں سے اپنے ’’پاپا‘‘ کو دیکھ رہا تھا۔’’پاپا‘‘ خوشی سے باغ باغ ہورہے تھے۔(گارڈن،گارڈن لکھنا زیادہ مناسب رہتا!)باپ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اُس نے اَن سنی کر دی۔ آوازدوسری بار آئی تو اس کے چہرے کے خطوط کشیدہ ہوگئے۔ تیسری آواز ذرا کرخت تھی جیسے پہاڑ کے اُس طرف کہیں بجلی گری ہو۔ بیٹا طوعاً و کرہاًاُٹھا اور ’’بابا‘‘ کے کمرے میں چلاگیا جہاں وہ بوڑھا تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ بستر پر چِت لیٹا تھا۔ اُسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ شام کی شفق پھولی ہو جس کے دُنبال میں گپ اندھیرا ہوتا ہے۔ اس نے زور سے کہا:

’’اتنی دیر سے چِلّا رہا ہوں اور تم ٹس سے مس نہیں ہوتے!‘‘

’’بس اب تو آگیا نا؟! …خاموش ہو جائو!کیا بات ہے؟!‘‘

’’میری ٹانگوں میں سخت درد ہورہا ہے!‘‘

’’بابا! بڑھاپے میں ایسا ہی ہوتا ہے!‘‘

’’ْمیری کمر بھی دُکھ رہی ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپے کااثر ہے!‘‘

’’سانس پھول رہی ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘

’’سر چکرا رہا ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘

’’نظر میں دھندلاہٹ ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘

’’کوئی بھی چیز ڈھنگ سے ہضم نہیں ہوتی!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘……

اپنے ہر سوال کے جواب میں ’’بڑھاپا‘‘ کی گرداش سن کر بڑے میاں کو غصہ آگیا اور اس نے بیٹے کو ایک لطیف سی ’’پدرانہ‘‘ گالی دی اورکہا:

’’اُلو کے پٹھے…یہ کیا’’بُڑھاپا بُڑھاپا‘‘ کی رٹ لگا دی؟!

اس پر بیٹے نے فرمایا ’’بابا! غصہ ہونا بھی بڑھاپا ہی ہے!!‘‘ اور بڑے میاں خاموش ہو گئے۔Ella Wheeler Wilcoxنے اپنی نظم ’’Solitude‘‘ میں کیا ہی خوب بات کہی ہے:

Rejoice, and men will seek you,

Grieve, and they will turn and go.

They want full measure of your pleasure

But they do not need your woe.

Be glad, and your friends are many,

Be Sad, and you will lose them all.

(ترجمہ: خوش رہو اور لوگ تمہیں تلاش کریں گے۔ غمگین رہو تو لوگ تمہیں پیٹھ دکھائیں گے، وہ تمہاری خوشی سے بھرپور حصہ چاہتے ہیں۔ اُنہیں تمہارے دکھوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خوش رہو تو تمہارے بے شمار دوست ہیں۔ غمگین ہو جائو تو تمہارا کوئی بھی نہیں ہے) کیونکہ    ؎

درا نجمن جائے مدہ ہمچو منے را

افسردہ دل افسردہ کُند انجمنے را

(ایک افسردہ دل ساری انجمن کو افسردہ بنا لیتا ہے اس لئے مجھ افسردہ دل کو اپنی انجمن میں جگہ مت دو)

رابطہ:-سیر جاگیر سوپور (کشمیر)

 ای میل : armukhlis1@gmail.com ؛  

موبائل: 9797219497

فضو لیا ت سے پرہیزلازم

فضو لیا ت سے پرہیزلازم

آج کل شہراور قصبہ جا ت میں شادی خا نہ آ بادیوں، منگنیو ں اور اس نوع کی دوسری سماجی تقریبات کا سیزن اپنی جوبن پر ہے۔عموماً اپریل کے وسط سے لے کر نو مبر تک پوری وادی میں ایسے فنکشنو ں کی دھوم مچی رہتی ہے ۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے یہا ں نو دولتیو ں کے ایک مخصو ص طبقے میں پیسہ کی ریل پیل ہے ۔اس وجہ سے معاشرے میں شادی بیاہ کے نام پر ایسی ایسی بدعتیں اور نازیبا کلچر درآ یا ہے جس کے زیر اثر حیات ِاجتما عی کے رواں رواں میں مختلف مو ذی بیماریاں پیدا ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ اب شادی بیاہ جیسے مقدس فر یضے کی اصل شکل اس حد تک بگڑ کر رہ گئی ہے کہ قلم کو یارا نہیں کہ اس کے ہمہ گیر برُے اثرا ت کا احا طہ کرے۔ بے شک شادی بیا ہ کے مو قع پر اخلا قی بندشوں کے اندر اندر خوشیا ں منا نا اور جا ئز حدود میں احباب و اقربا کی ضیا فت کر نا کو ئی ممنو عہ شئے نہیںہے ،مگر ہم نے اس کام کو اوّل تا آ خر گھر پھو نک تما شے کا ہم معنیٰ بنا کے رکھ دیا ہے۔ کشمیر ی سماج میں اکثر و بیشتر شادی بیاہ کے حوالے سے ہر چیز کی تا ن صرف کا م و دہن کی لذ ت یا بیو ں ، رسو ماتِ بد، فضولیات اورجہیز کے لین دین پر ٹو ٹتی ہے۔اس عنوان سے شادی خانہ آبادی غریب طبقات کے لئے انتہا ئی نحو ست اور تعذ یب کا دوسرا نام بن چکاہے۔ شادی کا مطلب دو انسانو ں کولا فانی پیار محبت والے رشتے میں با ہم دگر پیو ست کرکے انہیں ازدواجی زندگی کی گاڑی میںبٹھا کر شاہراہِ حیات کی منزل کی طرف گا مزن کر نا ہے ۔ اس عظیم رشتے کی اُٹھا ن نیک نیتی، خلوص اور با ہمی عزت واکرام کے اینٹ گا رے پر ہو تی ہے کیونکہ اس کے طفیل دو اجنبی ایک دوسرے کے واسطے شریکِ حیا ت بننے کا شرف پاتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر شادی کے جو ڑ میں میاں بیوی کے لئے مذ ہبی ، روحا نی ، معاشرتی، نفسیا تی اور خا نگی زندگی کی ایک کثیرالجہت دنیا بسی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے ہما ر ے یہا ں ایک چھوٹے سے استثنیٰ کو چھو ڑ کر شادی کے ان اعلیٰ وارفع مقا صدکو ثانوی اہمیت دی جا رہی ہے جب کہ اوّ لیت بے ہودہ رسو مات اور ضرر رساں روا جات کو مل رہی ہے ۔اس سے شادی کے مذ ہبی اور تمدنی پہلو ؤ ں کا مفہوم اول تا آخر رسوماتِ بد کے گر دو غبا ر میں بے چہرہ ہو چکا ہے۔ بگاڑ اس قدر آ چکا ہے کہ گو یا شادی اب صرف ہمسا یوں اور دوست احبا ب رشتہ داروں میں اپنی ناک اونچی رکھنے کا بہانہ ہے ۔ اسے اجتما عی جبر کا شاخسانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر ہرکس و ناکس دیکھا دیکھی میں تمام حدودپھلا نگنے کے لئے ذہنی طور آ ما دہ رہتا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی کو ئی مختلف اسباب کے تحت اس اجتما عی جبراور جنو ن کا حصہ بننے کو ٹھیک نہ بھی سمجھتا ہو لیکن عام مشاہدہ یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو سما جی فیشن کے خلاف چلنے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے ۔ ستم ظریفی یہ کہ شادی غمی کے باب میں مروج رسوماتِ قبیحہ کی نامعقولیت اور بہ حیثیت مجمو عی ان سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے نکتے پر فرداً فرداًہم میں کو ئی ا ختلا ف ِ رائے نہیںپا یا جا تا ہے۔ یہ کو ئی کندۂ ناتراش ہی ہو گا جوبلا چو ں و چرا ان کی تعمیل وپذیرا ئی پر ذہنی یکسوئی رکھتا ہو۔البتہ بہت ہی کم لو گ عملاً آزمائش کے ترازو میں کھرا اُ تر تے ہیں۔ قابل غور با ت یہ بھی ہے کہ آج تک ہمارے یہاں شادی بیا ہ کو نا جا ئز رسوما ت کی زنجیروں سے آزاد کر نے کے لئے بہت ساری اصلا حی مہمیں چلا ئیں گئیں مگر وہ سب یکے بعد دیگرے نا کا می کا منہ دیکھتی رہیں۔با یں ہمہ اس حو صلہ افزا ء حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ گھٹا ٹو پ اندھیرے میں بھی بعض لو گو ں کے یہاں سادہ شا دیوں کا متا ثر کن اور مثا لی اہتمام بدستو ر ہو رہا ہے ۔ اس سلسلے میں کچھ اصحا ب ِ خیر کی اصلاحی کا وشیں بھی واقعی قابل تعریف ہیں ۔ ان کے یہاں سادہ شادی کی خو ش کن تقاریب کی شان اتنی ہی نہیں کہ ان سے سنجیدگی اور وقار جھلکتا ہے بلکہ ان کو یہ چیز بھی منفرد بنا دیتی ہے کہ لذت ِ کام و دہن کے نا م پر فضو ل خرچی ، اصرا ف و تبذیر کا کھلا مظا ہرہ، گو شت پو لٹری سمیت اشیا ئے خو ردو نوش کا ہو ش ربا استعمال،وقت کابلا وجہ اور بے دریغ زیاں ،ریا کارانہ اور دکھا وے کی مہما ن نوازی اور سب سے بڑھ کر شا دی جیسے مقدس انفرادی،سماجی اور مذہبی فر یضے کو جہیز کے لین دین سے بے ہو دہ تجارت اور نرا کار و بار بنا نے کے نا قا بل ِ معا فی جر م کا ادنیٰ سا شائبہ بھی ان میں دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ بلا شبہ ایسی سعید رو حو ں کی برکت سے ہی ابھی تک سو سا ئٹی میں ا خلاقِ حسنہ کاتھو ڑا بہت اُجا لا اور خدا خو فی کی ضیا پا شی کہیں کہیں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ورنہ شادی بیاہ کی بے اعتدا لیو ں نے اس سما ج کو ہر اعتبار سے بے ہودگیوں کے دلدل میںجکڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس میں دو را ئے نہیں کہ عمو ماً کشمیری سو سا ئٹی میں گزر بسر کر نے والے ایک عا م انسان کا خوا ب بلکہ اس کی پو ری زندگی کا ما حصل عا لی شا ن مکا ن کی تعمیر اور بعد ازا ں شادی بیاہ کی پُر شکو ہ تقریب پر دوست احباب کی پرُ تکلف ضیافت کے علا و ہ کچھ اور نہیں۔عا لی شان بنگلے کی تعمیر کے لئے دیا نت و امانت اور اخلا قی اُصولوں کو روند ڈالنااور ضیا فت کے نام پر بے شمار پکوانوںسے لو گو ں کی واہ واہ سننا،شادی کا جشن مناتے وقت مفت کی بجلی سے گھر کے درو دوار کا چرا غا ں کرنا ، رات کو ما ئک لگاکرناچ نغمے کے شورو غو غاسے عوام الناس کی نیند یں حرام کرنا، آتش بازی میں بے حساب مال وزر اُڑاناوغیرہ جیسی بے ہودہ حر کات سے ان غریب نوجوا نو ں اور مہندی کو ترس رہیں دوشیزاؤں کا مذاق اُڑایا جارہاہے ۔ان کے اہلِ خا نہ کی ذہنی کو فت اور احسا س ِ محرو می کو مد نظر رکھتے ہو ئے مذہبی سکالروں اور سماجی اصلا ح کاروں کو اپنی ذمہ دا ریا ں سنجیدگی سے نبھا نے اور ان فضولیات و بدعات کا قلع قمع کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی دوشیزہ کی عمر فضولیات اوربدعات و رسومات کا پیٹ بھرنے کے انتظار میں اُس کے ہاتھ پیلے ہونے کا خواب دھرے کا دھرا نہ رہے ۔

Tuesday, 5 June 2012

اہلِ مصر کے لیے نیا امتحان

اہلِ مصر کے لیے نیا امتحان

حافظ محمد ادریس 
-سال 2011ء مصر کے لیے ایک اور یادگار اور خوشگوار تبدیلی لے کر آیا۔ مصری قوم نے ایک تاریخی جدوجہد اور عوامی تحریک کے ذریعے صدیوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ شاہ فاروق کی بادشاہت کے خاتمے کے بعد1953ء میں فوجی حکومت برسر اقتدار آئی۔ اس وقت سے لے کر گزشتہ سال 2011ء تک تین بدترین آمروں نے ملک کو ظلم و ستم کی آماجگاہ بنائے رکھا۔ عظیم فرزندانِ اسلام دارو رسن اور گولیوں کا نشانہ بنے، نیک سیرت نوجوانوں کی بے داغ جوانیاں زنداں خانوں کی نذر ہوئیں اور وہ بیس بیس سال جیلوں میں گزار کر باہر نکلے تو بوڑھے ہوچکے تھے۔ جمال عبد الناصر، انوار السادات اور حسنی مبارک کسی اخلاقی ضابطے اور انسانی اقدار کو نہیں جانتے تھے۔ وہ درندے تھے اور پوری درندگی کے ساتھ وادیٔ نیل پر پنجے گاڑے ،درندگی کا ارتکاب کرتے رہے۔ گزشتہ سال بے پناہ قربانیوں کے بعد کامیاب عوامی تحریک نے حسنی مبارک کا تختہ الٹا اور مصری عوام کو پہلی بار آزادانہ انتخابات کا موقع ملا تو انہوں نے اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ حزب الحریت والعدالہ اور حزب النور، دو اسلامی جماعتوں پر اعتماد کیا۔ اخوان ساڑھے بیالیس فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر اور حزب النور ساڑھے پچیس فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے۔ گویا اسلامی قوتوں کے مقابلے پر مصری عوام نے سیکولر، لبرل، لیفٹ اور رائٹ اور سابق حکومتی اور مغرب نواز عناصر سبھی کو مسترد کر دیا۔ پارلیمنٹ اور سینٹ ہر دو ایوانوں میں اسلامی جماعتوں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ 23اور 24مئی کو ملک میں بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر پہلے صدارتی انتخابات ہوئے۔ ان میں کل 13 امیدوار میدان میں تھے۔ ووٹنگ کا تناسب قدرے کم یعنی 46 فیصد رہا تاہم پہلے اور دوسرے نمبر پر اخوان کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی اور سابق حکومت کا نمائندہ و سابق وزیراعظم جنرل (ر) احمد شفیق آئے۔ اب انہی دو امیدواروں کے درمیان 15اور 16جون کو حتمی فیصلے کے لیے کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔ کئی امیدواروں نے پہلے مرحلے کے دوران ہونے والی انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی مگر چیف الیکشن کمشنر فاروق سلطان نے تمام عذر داریاں مسترد کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انتخابات میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوئی بڑا اور نمایاں واقعہ ایسا سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر نتائج تبدیل ہونے کا امکان ہوتا ہم آخری گنتی کے وقت کئی انتخابی مراکز پر مبصرین کو اور امیدواروں کے نمائندوں کو بھی کائونٹنگ ہال میں نہیں جانے دیا گیا۔ عبوری فوجی کونسل کے سربراہ، خود ساختہ فیلڈ مارشل، جنرل حسین طنطاوی انتقال اقتدار کے معاملے میں اب تک بالواسطہ ٹال مٹول کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کی ہمدردیاں واضح طور پر سابقہ حکومتی کارپردازوں کے ساتھ ہیں۔ ظاہر ہے وہ سابقہ نظام اور اسٹیٹس کو کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک مضمون میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ احمد شفیق کے حق میں سرکاری عملے نے بے ضابطگیاں کی ہیں۔ پارلیمان اور سینٹ کے انتخابات میں حسنی مبارک دور کے امیدوار جس طرح پٹے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہ نتائج بالکل غیر حقیقی اور مضحکہ خیز نظر آتے ہیں۔ جنرل حسین طنطاوی انقلابی قوتوں کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ وہ مختلف حربوں سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ احمد شفیق سے لوگوں کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی صدارتی امیدوار کے خلاف کہیں بھی کوئی احتجاجی اور شدید رد عمل سامنے نہیںآیا البتہ موصوف جب ووٹ ڈالنے گئے تو عوام نے ان پر جوتے پھینکے۔ وہ انتظامیہ اور پولیس کی حفاظت میں وہاں سے واپس پلٹے۔ ان کا رنر اپ ہونا اہل مصر کے لیے باعثِ حیرت و صدمہ ہے۔ مصر میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں حریت پسند حلقوں میں خوشگوار تاثر پیدا ہوا ہے۔ عالمِ اسلام کی اسلامی تحریکوں نے اس تبدیلی پر خوشیاں منائی ہیں مگر ابھی تک معاملات کو خوش اسلوبی سے منطقی انجام تک پہنچنے میں کافی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا ہوگا۔ فوجی جرنیل جن ممالک میں اقتدار کے نشہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ان کا یہ خمار مشکل ہی سے کافور ہوا کرتا ہے۔ ترکی میں البتہ بظاہر عوامی جمہوری حکومت نے مدتِ مدید کے بعد جرنیلوں کے پر کاٹنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈیڑھ درجن جرنیل جو کبھی ہمہ مقتدر شمار ہوتے تھے، جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ اب مصر میں بھی اللہ کرے یہ بہارِ جاں فزا اس مرحلے میں کامیابی حاصل کرسکے۔ اگر انتقال اقتدار پر امن اور جمہوری طریقے سے عمل میں آگیا تو قوی امید ہے کہ مصر جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھ جائے گا۔ ناصری گروپ کے امیدوار حمدین صباحی نے پہلے تو اخوان کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا مگر اب انہوں نے بھی احمد شفیق کے مقابلے پر ضرب المثل کے مطابق حب علی میں نے نہ سہی، بغضِ معاویہ ہی میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
اب دو بدو مقابلہ اخوان کے امیدوار مردِ درویش جناب ڈاکٹر محمد مرسی اور حسنی مبارک دور کے وزیراعظم اور کرپشن کلب کے ممبر، احمد شفیق کے درمیان کانٹے دار ثابت ہوگا۔ مصر کے 5کروڑ رجسٹر ووٹر جن میں سے تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ نے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے، اگر گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تو سابقہ آمریت کی باقیات کا جنازہ نکلنے کا امکان ہے۔ اگر ٹرن آئوٹ کم ہوا تو جنرل طنطاوی کی فوجی انتظامیہ کو کھل کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ یہ اہلِ مصر کا بڑا امتحان ہے۔ اللہ کرے وہ اس میں سرخرو ہوسکیں اور اپنے شہدا کی قربانیوں کی لاج رکھ سکیں۔ عالم اسلام کے مقبول ترین عالم اور خطیب مفکر اسلام علامہ یوسف القرضاوی نے اہل مصر سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس صدارتی انتخاب کو دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہ سمجھیں بلکہ یہ دو نظاموں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ایک جانب خوفِ خدا سے مالا مال، کرپشن سے پاک صاف، عدل و انصاف کے علمبردار اور انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے والے نظریات کے حامل لوگ ہیں اور دوسری جانب آمریت و کرپشن کے نمائندے ، مصرکو انسانی خون میں نہلانے والے فساد زدہ نظام کے علمبردار ہیں۔ مصری عوام کو بڑی سوچ سمجھ اور شعور کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ قرضاوی صاحب کی پوری دنیا میں اور اپنے آبائی وطن مصر میں بے پناہ عزت اور احترام ہے۔ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر حزب النور نے پہلی مرتبہ کھلے دل کے ساتھ اخوان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوزائیدہ سیاسی جماعت اور اس کے سلفی راہ نما سیاسی لحاظ سے خاصے پختہ، بالغ نظر اور باشعور ہیں۔ اس سے قبل انھیں اخوان اپنے حریف نظر آتے تھے کیوں کہ دونوں پہلی اور دوسری پوزیشن پر فائز تھے۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا ہے کہ اگر ان دونوں اسلامی پارٹیوں کے درمیان اس معرکۂ انتخاب میں ہم آہنگی و یگانگت پیدا نہ ہوسکی تو انقلاب دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں گی جو سب کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اسی کو سیاسی پختگی کہا جاتا ہے۔ ان کی ویب سائٹ پر ان کی ہائی کمان کے اس فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں حزب النور نے اخوان کے سابق رکن عبد المنعم ابو الفتوح کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے اخوان کے فیصلے کے علی الرغم خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا تھا، اس لیے اخوان سے ان کا اخراج ہوگیا تھا۔ وہ چوتھے نمبر پر رہے۔ ان کے کل ووٹ چالیس لاکھ پچاس ہزار تھے۔ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں امیدواروں کے ووٹ ایک دوسرے سے کافی قریب رہے۔ اخوان کے ڈاکٹر محمد مرسی کے ووٹ 57لاکھ 65ہزار، احمد شفیق کے 55 لاکھ 5ہزار، ناصری پارٹی کے امیدوار حمدین صباحی کے اڑتالیس لاکھ ووٹ تھے۔ حزب النور کے حمایت یافتہ ابو الفتوح ساڑھے چالیس لاکھ ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ عرب لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری اور دور آمریت میں مصر کے وزیر خارجہ عمرو موسیٰ مغربی قوتوں اور لبرل عناصر کی حمایت سے پانچویں نمبر پر رہے۔ ان کے ووٹوں کی تعداد پچیس لاکھ اسی ہزار کے قریب تھی۔ پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کا ذاتی تعارف دلچسپ ہے۔ ڈاکٹر محمد مرسی مصر کی کامیاب سیاسی جماعت حزب العدالت و الحریت کے صدر ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر اور کیلیفورنیا یونیورسٹی (امریکا) سے پی ایچ ڈی ہیں۔ مصر کے منطقہ شرقیہ میں 1951ء میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلے گئے۔ 1982ء میں ڈاکٹریٹ کی۔ کچھ عرصہ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں تدریس کی۔ پھر وطن واپس آگئے اور انجینئرنگ یونیورسٹی زقازیق (مصر) میں صدر شعبہ اور پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ دور طالب علمی ہی سے اخوان سے متاثر تھے۔ طویل عرصے تک اخوان کی مجلس اعلیٰ ’’مکتب ارشاد‘‘ کے رکن رہے۔ جب حزب العدالت وجود میں آئی تو اخوان کی قیادت نے ان کو اس کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اخوان کی طرف سے 2000 تا 2005ء کی پارلیمان کے رکن رہے اور عالمی پارلیمانی کمیٹی نے انھیں دنیا کا بہترین پارلیمانی رکن قرار دیا۔ صہیونیت کے خلاف قائم تنظیم میں بھی اہم خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور اس تنظیم کے اساسی ارکان میں سے ہیں۔ مصر کا ہر شہری گواہی دیتا ہے کہ ڈاکٹر محمدمرسی کے دامن پہ کوئی دھبہ نہیں۔ ائیر مارشل احمد شفیق حسنی مبارک دور کا آخری وزیراعظم ہے، جسے عوامی تحریک کے دوران وزیراعظم احمد نظیف کی کابینہ کے استعفا کے بعد حکومت سازی کا حکم دیا گیا۔ اس نے کابینہ بنائی مگر یہ محض 29جنوری سے 3مارچ 2011ء تک صرف پانچ ہفتے چل سکی۔ پھر صدر حسنی مبارک اور وزیراعظم احمد شفیق کے ساتھ پورے نظام کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ احمد شفیق 1941ء میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے بعد ائیرفورس میں بھرتی ہوگئے اور ترقی کرتے کرتے 1991ء میں ہوائی فوج کے اعلیٰ عہدے وائس ائیر مارشل پر فائز ہوگئے۔ ملازمت کے دوران اٹلی اور بعض دیگر ممالک میں مصری سفارت خانے کے ملٹری اتاشی بھی رہے۔ 1994ء میں ائیر مارشل بنائے گئے۔ وہ مصر کی ائیر فورس کے طویل ترین سربراہ رہے۔ حسنی مبارک کے منظور نظر تھے، توسیع ملتی رہی اور 6 سال اس منصب پر فائز رہنے کے بعد 2002ء میں ریٹائر ہوئے۔ ملازمت کے بعد انھیں کئی اہم مناصب عطا کیے گئے۔ وہ سول ایوی ایشن کے وزیر رہے۔ وزارت کے دوران نھوں نے سرکاری زمینوں میں سے ہزاروں ایکڑ زمین حسنی مبارک کے بیٹے محمد حسنی مبارک کو کوڑیوں کے بھائو بیچی۔ موصوف پر کرپشن کے کئی الزمات ہیں۔ آغاز میں الیکشن اتھارٹی نے ان کو صدارتی منصب کے لیے نااہل قرار دیا تھا مگر انہوں نے عذر داری پیش کی تو فوجی کونسل نے ان کو کلیئر کر دیا۔ اب معرکہ محض دو امیدواروں کے درمیان نہیں، ان دو کرداروں کے درمیان بلکہ انقلاب و آمریت کے علمبرداروں کے درمیان ہے۔