Search This Blog

Thursday, 24 May 2012

بچے اب من کے سچے کیوں نہیں؟

بچے
اب من کے سچے کیوں نہیں؟


ماں باپ سے زیادہ اس دنیا میں اپنے بچے کو پیار کرنے والا اور کوئی نہیں۔والدین ایک طرف اور ساری کائنات ایک طرف۔ماں باپ صرف محبت اور شفقت کی مورت نہیں بلکہ اگر دنیا میں کوئی آنکھ بند کرکے بھروسے کے قابل ہیں تو  والدین کے سوا اور کوئی نہیں۔ماں باپ کو اپنے پیار کا دکھاوا کرنے کی کوئی ضرورت نہیںہے ،دوسروں کو پیار کا دکھاوا کرنے کے سوا ان کا پیار دیکھا دکھایا نہیں جا سکتا ہے۔بے لوث محبت اور بنا لالچ کا پیار تو صرف والدین ہی کر سکتے ہیں اور والدین میں بھی ماں کا نام سر فہرست آتا ہے۔دنیا میں اور بھی لوگ ہیں جو بچوں کو پیار دیتے ہیں جس میں بہن بھائیوں کے علاوہ اپنے سگے سمبندھی ماسی ،ماما،پوپھی ،چاچا،دادا،دادی،نانا،نانی،وغیرہ کا نام لیا جاسکتا ہے ۔مگر والدین کے پیار اور محبت کاکوئی بدل نہیں۔
ماں باپ اپنے بچوںکو نہ صرف پیار اور محبت دیتے ہیں بلکہ ان کو اچھے اور بُرے کی تمیز بھی سکھاتے ہیں۔ان کی غلطیوں پر جہاں پردہ ڈالتے ہیں وہاں ان کی غلطیوں پر سزابھی دیتے ہیں۔ اپنے بچوں کو سیدھے راستے پر لانے کے لئے اونچا بھی بولتے ہیں اور کبھی کبھی عقل نما بھی آزماتے ہیں اور کبھی کبھی تو مار پیٹ تک کی بھی نوبت آئی ہے۔اسلام کہتا ہے کہ’’اپنے بچوں کو نماز پڑھنے کی تلقین کرو۔اگر انہوں نے سیدھی طرح سے نہ مانا تو ان پر نصیحت کی غرض سے احتیاط کے ساتھ اپنا ہاتھ اٹھاؤ۔‘‘یہ صرف نماز پڑھنے کی بات نہیں ہے۔والدین کے آگے ان کے بچے اگر کوئی بُرا کام کرتے ہیں،یا اچھائی کرنے سے منع کرتے ہیں،یا پھر اچھی بات کرنے سے دور رہتے ہیں۔اس وقت والدین کو حق ہے کہ وہ اپنے بچوں کو صحیح راستہ دکھانے کے لئے عقل نما کا استعمال کریں۔بچوں کو بھی چاہئے کہ اپنے والدین کی بات کو حکم کی طرح مانیں اور بچے پر حکم ہے کہ اگر والدین کچھ بھی کریں ان پر ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہیں ہے۔ہاتھ اٹھانے کی کیا بات ہے،وہ تو اپنے والدین کو غصہ کی نگاہ سے بھی نہیں دیکھ سکتے۔انہیں تو والدین کی ہر بات پر لبیک کہنا ہے۔چاہے ان کی بات انہیں ناگوار ہی کیوں نہ گذرے۔
والدین کو بھی اس ہدایت کا نا جائز استعمال نہیں کرنا چاہئے۔ والدین کا پہلا حق تو یہ ہے کہ بچوں کو صحیح تعلیم دیں۔دین اسلام کی تعلیم کے ساتھ ساتھ مروجہ تعلیم کا بھی خاص خیال رکھیں۔اس کے بعد اپنے بچوں کی پسند نا پسند،ان کی خوشی نا خوشی کا خیال رکھیں اور اس کے علاوہ ان کے کھانے ،پینے،اور پہننے،چلنے پھرنے اور ان کی صحت کا خاص خیال رکھیں۔
والدین کو اپنے بچوں سے ضرورت سے زیادہ امیدیں نہیں رکھنی چاہئے۔ ضرورت سے زیادہ کی تو بات ہی نہیں بلکہ کہنا چاہئے کہ امید ہی نہیں رکھنی چاہئے۔بس اپنے کام سے کام رکھنا چاہئے۔
زمانہ جنتا ترقی کرتا جاتا ہے ،اسی قدر والدین اور بچوں کا رشتہ ایک دوستانہ شکل و صورت میں ڈھل جاتا ہے ۔ ساتھ ہی ساتھ اب ان کے درمیان خلاء بھی پایا جاتا ہے۔نہ تو بچے کھل کر اپنے والدین کے سامنے آتے ہیں اور نہ ہی والدین ہی اپنے بچوں کے ساتھ کھلے دل سے بات کر سکتے ہیں۔کیونکہ ایک طرف والدین کی امیدیں کچھ ضرورت سے زیادہ بڑھ گئی ہیں اور دوسری طرف بچوں میں بھی برداشت کا مادہ کم ہو گیا ہے۔والدین نے ابھی کچھ کہانہیں کہ بچے غصے سے تلملا اٹھتے ہیں،وہ لال پیلے ہو جاتے ہیں اور غصے کے مارے اپنے والدین کو کبھی دبے الفاظ میں اور کبھی اونچی آواز میںچار باتیں سناتے ہیں۔اور ایسی چیزیں کہتے ہیں جس کی امید تک والدین نہیں کرتے۔کیا کریں، بڑے ہونے کے ناطے صبر اور برداشت کا مادہ ان میں زیادہ ہوتاہے بلکہ زیادہ ہونا بھی چاہئے ،اس لئے چپ سادھے بیٹھ جاتے ہیں۔جب بچوں کا یہ غصہ حد سے تجاوز کر جاتا ہے،جس کی وجہ سے کبھی کبھی بچے اپنی ہی جان لینے تک سے بھی گریز نہیں کرتے،اس جان کی بے قدری کرتے ہیں جس کو ان کے والدین نے دل کے خون اور کلیجے سے سینچا ہوتاہے اور بڑے ناز و نعم سے پالاہوتا ہے اور وہ اپنے  والدین کو اس قدر درد اور دکھ دیتے ہیں کہ جن کا کوئی مداوا نہیں،جسے صرف ماں باپ کا نہیں بلکہ سارے والدین کا جگر زخمی اور روح چھلنی ہو جاتی ہے۔ادھ کھلے گلاب کھلنے سے پہلے مرجھا ہوا دیکھنے کی طاقت والدین میں نہیں ہے۔
رابطہ کیجئے:naaz_neelofer@ yahoo.com 

جہیزسے پرہیز

جہیزسے پرہیز
شادی بیاہ میں مردوںوالاکمال دکھائیں

 عصرِ حاضر میں والدین کی ذمہ داری صرف یہی نہیں ہے کہ لڑکی کی پرورش کریں، اُسے اچھی تعلیم دیں،اُس کی دینی و اخلاقی تربیت کریں،اسے گھریلو زندگی کے آداب و اطوار اور تہذیب و سلیقہ سِکھائیں ،اس کے لئے مناسب رشتہ تلاش کریں اور دستور کے مطابق کسی شریف اور باکردار آدمی کے نکاح میں اپنی لختِ جگر کو دے کر اپنے فرض سے سبکدوش ہوجائیں۔سماجی بگاڑنے یہ بھی  اُن کی ذمہ داری ہے کہ جس لڑکے کو انہوں نے اپنی لڑکی کاشریک زندگی منتخب کیا ہے اس کے وہ مطالبات بھی پورے کریں جنہیں شاید وہ خود بھی پورے نہیں کر سکتا۔ان مطالبات کی فہرست اتنی طویل اور اتنی متنوع ہوتی ہے کہ الاماں والحفیظ مثلاًاس میںنقدی کے علاوہ دولہا کے لئے موٹر سائیکل،ماروتی کار،سونے کی گھڑی،بڑی موبائل فون،کمپوٹر لیپ ٹاپ وغیرہ چیزیں آجاتی ہیں۔یہ فہرست حسبِ حالات مختصر بھی ہوسکتی ہے اور طویل سے طویل تربھی۔بہرحال یہی وہ زر یں موقع ہوتا ہے جب خود غرض دولہے میاں اپنی مردانگی اور تمنائیں پوری کرنے کی بھر پور کوشش کرتے ہیں۔
اس کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ لڑکی کو مطلوبہ زیورات سے آراستہ کیا جائے اور اُسے اتنے سازوسامان کے ساتھ رخصت کیا جائے کہ دولہے میاں کے ساتھ ساتھ اُن کے قسمت جاگ اُٹھے کہ اس کا گھر سچ مچ سنارکی دوکان بن جائے۔لڑکی کودیئے جانے والے اس مال و اسباب کی قیمت تو متعین نہیں ہے ،البتہ اتنی بات طے ہے کہ اسے لڑکی والے کی حیثیت سے بہر حال زیادہ ہوناچائیے۔
سماد میں شادی بیاہ کے حوالے سے ہوسِ زر اس قدر بڑھ گئی ہے کہ لڑکی کی شکل و صورت ،تعلیم و تربیت اور دین و اخلاق سب کچھ اس کے مقابلے میںپیچھے رہ گئے ہیں۔آج کل سب سے پہلی چیز جو دیکھی جاتی ہے وہ یہ ہے کہ لڑکی کتنی دولت اپنے ساتھ لاسکتی ہے۔ حسن و جمال ہی کی نہیں دین واخلاق کی بھی اس قدر توہین شاید ہی دنیا نے کبھی ہی دیکھی ہو۔دولت نے ہر اعلیٰ قدر کو شکست دے رکھی ہے بلکہ کہنا چاہئے کہ شکستِ فاش گو اگر کسی چیز کو مل رہی ہے تو وہ اخلاقیات میں۔
اس کا نتیجہ یہ ہے کہ بہت سی لڑکیاں لمبی لمبی عمر تک محض اس لئے گھروں میںبیٹھی رہتی ہیں کہ بدقسمتی سے وہ ایسے ماں باپ کے گھر پیدا ہو گئیں جو ان کے لئے جہیز فراہم نہیں کر سکتے۔ان میں کتنی ہی مظلوم اور بے زبان زندگی بھر کنواری رہ جاتی ہیں۔کچھ نیک بخت صور تحال کی نزاکت کا احساس کر کے از خود شادی کا انکار کردیتی ہیں تاکہ ان کے والدین ان کی شادی کی فکر سے آزاد ہو جائیں اور وہ اپنی اُمنگوں اور تمناوّں کا مرثیہ پڑھی ہوئی زندگی گزاردیں۔اس کے علاوہ بر صغیر میں مشترک خاندان کا عام رواج ہے۔جب کسی خاندان میںلڑکوں کی شادیاں ہوتی  ہیں اور لڑکیاں کنواری رہ جاتی ہیں تو خاندان کے اندر بڑی نفسیاتی پیچیدگیاں پیدا ہو جاتی ہیں بلکہ خانگی زندگی کا سکون درہم برہم ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ان ناکتخدا ئوں کا وجود اس ظالم سماج کے خلاف مسلسل فریاد ہے لیکن کون ہے جو ان بے نوائوںکی فریاد سُنے  ؟
سب سے بڑا مسئلہ اُس لڑکی کا ہے جو جہیز کے بغیر اپنے شوہر کے گھر چلی جائے۔اُس میں لاکھ خوبیاں سہی اُس کی یہ غلطی معاف نہیں ہوسکتی کہ وہ خالی ہاتھ اپنے میکے سے آئی ہے۔اس سے باز پرس کرنے والا صرف اس کاشوہر ہی نہیں ہوتا بلکہ شوہر کا پورا خاندان اُس کا ڈنڈابردارمحاسب ہوتا ہے۔اُسے اپنے اس ناکردہ جرم کا ایک ایک فرد کو حساب دینا پڑتا۔اس کی عام سزا تحقیر وتذلیل،طنزوتعریض اور مارپیٹ ہوتی ہے۔اس کے نتیجے میں اُسے خانہ بدر بھی کیا جاتا ہے اور شوہر سے علیحدگی بھی ہو سکتی ہے۔اتنا ہی نہیں اس ’’جر م‘‘کی پاداش میںاسے کبھی کبھار اپنی جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑتا ہے۔جہیز کے لئے جان لینے کے واقعات اس قدر زیادہ ہورہے ہیںکہ اب ان میں کوئی ندرت یا نیا پن نہیں ہے۔ان کی نوعیّت روز مرّہ کے حادثات کی ہوکر رہ گئی ہے۔کبھی یہ سزا شوہرنامراد دیتا ہے اوراگر اسے اس میں کوئی تامُل یا ہچکچاہٹ ہو تو خاندان کے دوسرے افراد اس ’خدائی‘خدمت کے لئے تیار رہتے ہیں۔
بسا اوقات جہیز کے مسائل و مصا ئب سے چھٹکاراحاصل کرنے کے لئے عورت خودکشی کو بھی ترجیح دینے لگتی ہے۔اس کے لئے کبھی وہ مٹی کے تیل اور پیٹرول کا سہارا تک لیتی ہے۔کھبی کسی اونچی عمارت سے چھلانگ لگاتی ہے،کبھی گلے میں پھندا لگا کر چھت سے لٹک جاتی ہے،کبھی زہرکھا کر ہمیشہ کی نیند سو جانا چاہتی ہے۔خداہی بہتر جانتا ہے کہ کتنی معصوم جانیں اس خونِ آشام جہیز کی نذر ہو رہاہے  اور ابھی اور کتنی معصوم جانیں نذر ہوں گی۔ جہیز کے اس ذلیل فعل سے جنگل کے درندے بھی شرمارہے ہوں گے۔جہیزکی ان ہلاکت خیزیوں کو آج ہر شخص اپنے سر کے آنکھوں سے دیکھ سکتا ہے بلکہ دیکھ رہا ہے لیکن اس کے باوجود معاشرے کی بہت بڑی اکثریت نے اسے ایک ناگزیر سماجی خرابی کی حیثیت سے قبول کر لیا ہے۔اس کے نزدیک موجودہ حالات میں لڑکوں کے لئے جہیز لینا اور لڑکیوں کو جہیز دینا اس قدر ضروری ہوگیا ہے کہ اس سے بچنے کی کوئی بھی صورت نہیں ہے۔ اس کی دلیل یہ دی جاتی ہے کہ لڑکیوں کو بہرحال جہیز دینا ہی پڑتا ہے۔( اس میں لڑکے کے تمام مطالبات زرکی تکمیل بھی شامل ہے ) اس کے بغیر ان کی شادی نہیں ہوسکتی۔والدین اس کی ہمت نہیں کرسکتے کہ ان کی لڑکی بن بیاہی گھر بیٹھی رہے۔جو شخص جہیز دیتا ہے وہ اپنی باری پرجہیز لینے پر مجبور بھی ہے۔اُس سے یہ مطالبہ بے جاسا ہوگا کہ وہ تو اپنی لڑکیوں کو جہیز کے ساتھ رخصت کرتا ہے اور دوسروں کی لڑکیاں اُس کے گھر خالی ہاتھ آئیں۔ ہوسکتا ہے اس ’’نقصان‘‘ کو بعض لوگ برداشت کرجائیں،ہر شخص کو یہ صورت قابل قبول نہیں۔
اس منطق کی رو سے سوچئے کہ وہ انسان کتنا بدقسمت ہوگا جس کی صرف لڑکیاں ہی لڑکیاں ہوں اور جو ریاضی کے اس فامولے کے تحت نقصان پر نقصان اُٹھاتا رہے،اور پھر کتنا خوش قسمت ہے وہ شخص جس کے یہاںصرف لڑکے ہوں اور جہیز کی دولت سے وہ مسلسل نہال ہوتا چلا جائے۔
اس منطق کا حاصِل یہ ہے کہ کسی برائی کو ہم محض اس وجہ سے نہ صرف یہ کہ گوارہ کریں بلکہ عملََا اختیار کرلیں کہ دنیا اس کا ارتکاب کررہی ہے اور اس سے لطف اورفائدہ اُٹھا رہی ہے۔اس طرح آدمی رشوت،خیانت،فریب اور مکاری کو بھی جائز قرار دے سکتا ہے۔اس لئے کہ یہ نسخے آج کی دنیا میں بڑے ہی مجرب اور کامیاب نسخے ہیں اور جو انہیں استعمال نہیں کرتا وہ سراسر نقصان میں رہتا ہے۔
اسی قسم کی غلط توجیہات دنیا کی ہر بُرائی کو استحکام عطا کرتی ہیں۔ان سے انسان کے ضمیر میںاس کے خلاف جو کھٹک ہوتی ہے وہ بھی جاتی رہتی ہے اور وہ پوری ڈھٹائی کے ساتھ اس کا ارتکاب کرنے لگتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ جہیز کے نام پر جو ذیادتی ہورہی ہے اسے دنیا کا کوئی بھی مذہب،کوئی فلسفۂ اخلاق اور قانون جائز قرار نہیں دے سکتا۔ آج کل ہماری وادی کے بیشتر اخبارات کا ایک خاص موضوع یہی جہیز ہے۔اس کے خلاف مختلف سماجی،اصلاحی اور مذہبی حلقوں سے آواز اُٹھتی رہتی ہے۔حکومت بھی قانون کے ذریعے اس پر پابندی لگانا چاہتی ہے لیکن کسی بھی خرابی کو بدلنے کے لئے حکومت اور سماج کا دباوّ کافی نہیں ہے بلکہ اس کے لئے ذہن و فکر کی تبدیلی اور خدا اور آخرت کے خوف کی ضرورت ہے۔اسلام یہی فرض انجام دیتا ہے۔وہ سب سے پہلے سماج کے غلط دستور اوررسم و رواج کو توڑتا ہے اور زندگی کا صاف ستھرا اور آسان طریقہ سکھاتا ہے۔اسلام نے ازدواجی زندگی کے تمام مسائل کو بھی بہت آسانی سے حل کیا ہے۔اس کے نزدیک نکاح سادگی اورسہولت اور آرام سے ہونا چاہئے۔اسے مشکل اور دشوار بنانا بہت بڑی زیادتی ہے۔اس سلسلہ میں اسلام کی بعض اصولی تعلیمات کا ذکر کیا جارہاہے۔
۱اسلام اس بات کا شدت سے مخالف ہے کہ کسی بھی معاملہ میں ظلم وزیادتی کا رویہ اختیار کیا جائے۔اس کے نزدیک کسی کی کمزوری اور مجبوری سے غلط فائدہ اُٹھانا اور اس کااستعمال کرنا سراسر ناجائز ہے۔جہیز کے نام پر لڑکی والوں کا استحصال بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔اسلام اس کا کسی حال میں روادار نہیں ہے۔
۲شادی بیاہ لڑکی والوں سے بے جا دولت سمیٹنے کا ذریعہ نہیں بلکہ یہ بعض بلند مقاصد کے لئے ہوتی ہے۔وہی شادی کامیاب ہے جن سے ان نیک مقاصد کی تکمیل ہو۔ہوسِ زر میں ان مقاصد کو پسِ پست ڈال دینا سراسر غلط اور ناپسندیدہ ہے۔
۳)مرد کو اــــﷲ نے قواّم بنایا ہے۔وہ اسی حیثیت سے عقد نکاح کرتا ہے۔وہ اس عہد و پیماں کے ساتھ لڑکی کا ہاتھ پکڑتا ہے کہ وہ اس کے نان و نفقہ و لباس اور رہائش وغیرہ کا ذمہ دار ہے،جس کو خدائے تعالیٰ نے یہ مقام عطا کیا ہو اس کے لئے یہ بات سخت توہین کی باعث ہے کہ وہ شادی سے چند دن پہلے لڑکی یا اس کے سرپرستوں کے سامنے ’’جہیز ‘‘ کے نام پر دستِ سوال دراز کرے اور جب اپنی مراد پوری نہ ہو تو پھر کسی دوسری لڑکی کے در پر پہنچ جائے۔
۴جہیز کے نہ ملنے پر عورت کے ساتھ بالعموم جو زیادتی ہوتی ہے اس کا کوئی دینی اور اخلاقی جواز نہیں ہے۔ جہیز یا مال و اسباب کے لئے عورت کو تنگ کرنے کی جگہ اسلام نے عورت کی دلجوئی کا حکم دیا ہے۔ ’’مہر‘‘ اس کی علامتِ خاص ہے ۔مہر کی بہت سی حکمتیں ہیں۔ایک حکمت یہ بھی ہے کہ عورت اپنے گھر اور خاندان سے چونکہ جدا ہوتی ہے،اس لئے مرد مہر کی شکل میں خلوص و محبت کا تحفہ پیش کرتا ہے اور اس بات کا اظہار کرتا ہے کہ وہ اس کا دشمن نہیں بلکہ مخلص،ہمدرد اور غم خوار ہے۔ پھر جہیز کے لئے پریشان کرنا عورت کے ساتھ حسن  سلوک کی اس تعلیم کے بھی خلاف ہے جو اسلام نے دی ہے۔
جس شخص کے سامنے یہ پاکیزہ اور مقدس تعلیمات ہوں اُس کا وہ ذہن ہرگز نہیں ہوسکتا جو آج کے نوجوانوں کا ذہن ہے۔وہ جہیز کے نام پر عورت اور اس کے گناہ گارانہ خاندان کے استعمال کی جگہ ان سے ہمدردی اور محبت کارویہ اختیار کرے گا اور اپنے حسنِ سلوک شرافت اور انسانیت کا ثبوت فراہم کرے گا۔
جہیز کا ایک علاج تو یہ ہے کہ سماج میں اسلامی تعلیمات کو عام کیا جائے۔دوسرا علاج یہ ہے کہ جو لوگ جہیز کی خرابی کو محسوس کر رہے ہیں وہ ہمت کر کے اس کے لین دین کو ختم کریں۔اس معاملے میں لڑکی والے تو مظلوم ہیں اُنہیں نصیحت کی نہیں بلکہ ہمدردی کی ضرورت ہے۔البتہ لڑکے والوں کی طرف سے جہیز کے خلاف اقدام ہونا چاہئے۔
اس موضوع پراپنی خامہ فرسائی  تک پہنچانے سے پہلے بعض باتوں کی وضاحت بھی مناسب معلوم ہوتی ہے تاکہ اس مسئلہ میں اسلام کا نقطئہ نظر پوری طرح سامنے آجائے۔
۱:شادی کے بعد لڑکے اور لڑکی کو اپنا نیا گھر بسانا ہوتا ہے۔اس فعل میں لڑکے والے بھی ان کی مدد کرسکتے ہیں اورلڑکی والے بھی۔لیکن یہ ان کی اپنی صوابدید اور مالی وسعت سے مشروط ہے۔اگر نیا جوڑا اس معاملہ میں تعاون کا مستحق ہو تو تعاون کو پسندیدہ ہی کہا جائے گا۔یہ تعاون پیسہ کی صورت میں بھی ہوسکتا ہے اور سازو سامان کی شکل میں بھی۔لیکن واضح رہے یہ نہ تو فرض ہے اور نہ واجب اورنہ نکاح کی شرط کہ اس کے بغیر نکاح ہی نہیں ہوتا۔
۲:شادی کے موقع پر دولہا اور دلہن کو اعزہ و اقارب اور دوستوں و احباب کی طرف سے تحفے اور ہدیے دیئے جاسکتے ہیں لیکن اسے جواز ہی کی حد میں ہونا چائیے۔اسے ضروری سمجھنا یا اس کے نہ دینے پر بُرا ماننا اور شکوہ شکایت کا پیدا ہونا سراسر غلط ہے۔تحفہ اور ہدیہ خوش دلی سے ہوتا ہے ورنہ وہ تحفہ نہیں تاوان اور جرمانہ ہوگا۔
۳:شادی کے موقع پر لڑکی کو جو زیور یا سامان دیا جاتا ہے اُس کے بارے میں یہ تصور صحیح نہیں ہے کہ وہ شوہر یا سسرال والوں کی ملکیت ہے۔اس کی مالک اصلا لڑکی ہو تی ہے۔اُس کی اجازت کے بغیر اس میں خرچ کرنا قطعاًجائز نہیں۔
۴آخری بات یہ کہ اسلام نے نکاح کو آساں بنا رکھا ہے۔اس لئے سماج کی وہ ساری بندشیں جن سے اس میں دشواری پیدا ہو قابل مذمت ہیں۔ان سے ہمیں احتراز کرنا چائیے۔
یہ ہے اعتدال کی راہ جواسلام نے دکھائی ہے۔اس میں محبت اور ہمدردی ہے،حسنِ سلوک ہے،ظلم و زیادتی کی ممانعت ہے اور اس کے ساتھ انسان کے جذبات اور ضروریات کی بھر پور رعایت بھی ہے۔اس پر عمل درآمدہو تو جہیز کے جھگڑے ختم ہی نہیں ہوں گے بلکہ پرسکون خاندانی زندگی بھی نصیب ہوگی۔کاش کہ ہم اس خدائی اہتمام کی طرف پلٹ آئیں۔
Email:Ishfaqparvaz@hotmail.co.uk 

Wednesday, 23 May 2012

ارجب طیب اردگان .... مشعل راہ-ERDGAN

ارجب طیب اردگان .... مشعل راہ

سرور منیر رائو ـ 

 ترکی کے وزیر اعظم طیب اردگان کے حالات زندگی اور سیاسی جد وجہد تیسری دنیا کے ابھرتے ہوئے سیاسی راہنماﺅں اور قائدین
کیلئے ایک مشعل راہ کی حیثیت رکھتی ہے۔ طیب اردگان ایک ایسی مقناطیسی شخصیت ہیں جس نے ترکی کے سیاسی نظام کی سمت کو بدل کر رکھ دیا ہے انہوں نے ترکی کے سیاسی کلچر کو ایک تعمیری اورنئی جہت عطا کی ہے۔ انہوں نے اپنے عزم ،ہمت، حوصلے، دانشمندی اور حکمت عملی کی بنا پر ترکی کو متحد، مستحکم اور عالمی برادری میں ممتاز مقام دلایا ہے۔

ترکی میں ہونےوالے عام انتخابات میں رجب طیب اردگان کی سیاسی جماعت نے تیسری بار کامیانی حاصل کر کے ترکی کی سیاسی تاریخ میں ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔ اس طرح انہوں نے انتخابات جیتنے اوروزیر اعظم بننے کی ہیٹ ٹرک مکمل کی۔ اردگان نے جس طرح ترکی میں امن و امان قائم کیا ہے اور ترقی کی راہ ہموار کی ہے وہ سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔

ترک وزیر اعظم اردگان نظریاتی اعتبار سے کٹر مسلمان ہیں۔ ترکی میں خلافت کے خاتمے کے بعد سے 1996تک اقتدار پر فوج کا قبضہ رہا۔ لولی لنگڑی جمہوریت کے نام پر جو بھی وزیر اعظم بنا وہ فوج کا چہرہ رہا۔ ترکی کی فوج نے روشن خیالی اور اعتدال پسندی کے نام پر پورے ترکی میں اسلامی تشخص کو ختم کرنے کی شعوری کوشش کی لیکن جون 1996میں اربکان کے وزیر اعظم بننے کے بعد سے ملک کے سیاسی نظام میں بتدریج فوج کا اثر کم ہونا شروع ہوا۔ اور معاشرے میں اسلامی تشخص بھی اجاگر ہونے لگا۔ طیب اردگان ترک نیوی کے ایک کیپٹن کا بیٹا ہے اس کا بچپن غربت میں گزرا، ابتدائی تعلیم دینی مدرسے میں حاصل کی۔ تعلیمی اخراجات پورے کرنے کیلئے اردگان استنبول شہر میں ٹافیاں فروخت کیا کرتا تھا۔ پھر وہ وقت بھی آیا جب اردگان استنبول کا مئیر بنا۔ اس نے اپنے عزم اور اصلاحات کے ذریعے استنبول کو ایک مثالی شہر بنا دیا۔ استنبول کو منشیات سے پاک شہر قرار دیا گیا انسانی سمگلروں اور عصمت کے بیوپاریوں کا خاتمہ کیا، شہر بھر کی سڑکوں کو پختہ اور سیوریج کے نظام کو بہتر بنایا۔ استنبول کو جدید اور قدیم تہذیب کے گہوارے کے طور پر محفوظ کرنے کیلئے بھی مرحلہ وار پروگرام شروع کیا۔شہر کو سیاحوں کےلئے پر کشش بنانے اور تحفظ فراہم کرنے کیلئے اہم اقدامات کیے۔آج کی جدید دنیا میں استنبول دنیا کے ان شہروں میں شامل ہے جہاں دنیا بھر کے سیاح تفریح کیلئے ترجیحی بنیادوں پر آنے کے خواہشمند ہیں۔ استنبول جو یورپ اور ایشیا کے سنگم پر واقع ہے آبنائے باسفورس پر تعمیر کیا جانے والا پل یورپ اور ایشیا کو ایک دوسرے سے ملاتا ہے۔ استنبول کو مسجدوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے۔ حضرت ابو ایوب انصاری ؓ کا مزار بھی استنبول شہر میں ہے۔

استنبول اردگان کا آبائی شہر ہے۔ طیب اردگان نے اسی شہر کے گلی محلوں میں پرورش پائی اور اسی شہر میں اس نے گیارہ سال قبل 2001میں اپنی سیاسی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کی بنیاد رکھی اور 2002 کے عام انتخابات میں حصہ لینے کا اعلان کیا۔ عوام نے ان ساتھ دیا اور وہ ملک کے وزیراعظم بن گئے۔ترکی کی تاریخ میں اردگان اور انکی سیاسی جماعت واحد مثال ہے جو تواتر سے تیسری بار اقتدار میں آئی ہے۔

طیب اردگان کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پانچ وقت کی نمازباقاعدگی سے ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے کبھی شراب نہیں پی۔ انکی اہلیہ ایمان اردگان اور بیٹیاں سمیہ اور اسریٰ سر پر سکارف لیتی ہیں اور مردوں سے مصافحہ نہیں کرتیں۔طیب اردگان کا سیاسی انداز عوامی طرز کا ہے۔ وہ اچانک شہر کے کسی بھی حصے میں جا کر عوام میں بیٹھ جاتے ہیں۔خاص طور پر وہ ٹیکسی ڈرائیوروں سے ملکی حالات کے بارے میں فیڈ بیک کو بڑی اہمیت دیتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکسی ڈرائیور کی حیثیت ہمارے معاشرے میں دائیوں کی طرح ہے وہ عوام کی اجتماعی سوچ کے مظہر اور حالات کے رخ کے بارے میں اچھی رہنمائی کرتے ہیں۔

طیب اردگان نے یہ کامیابی امریکہ، یورپ اور مغربی میڈیا کی مخالفانہ مہم اور سیکولر قوتوں کے مقابلے میں حاصل کی ہے۔ ترکی کی فوج نے ماضی میں ایسی آئینی ترامیم کروائیں جس کی وجہ سے ترکی کے سیاسی نظام میں فوج کا ایک خاص کردار قائم رہا۔ ان آئینی ترامیم کیلئے اردگان کو دو تہائی اکثریت کی ضرورت تھی۔ اردگان کی خواہش ہے کہ وہ ترکی کو ایک نیا جمہوری آئین دیں۔ انہوں نے اپنی کامیابی کے بعد اعلان کیا ہے کہ وہ دیگر جماعتوں کے تعاون اور اتفاق رائے سے نیا آئین تشکیل دینگے۔ترک فوج نے ماضی میں ملک میں سیکولرازم کے فروغ اور سیاسی قائدین کو راہ سے ہٹانے کیلئے انتہائی اقدامات کیے جن میں عدنان میندریس کی پھانسی سے لےکر نجم الدین اربکان کی برطرفی کے علاوہ تین مارشل لاﺅں کا نفاذ بھی ہے۔ ترکی کے موجودہ آئین کے تحت کوئی بھی شخصیت تین بار سے زیادہ وزیر اعظم نہیں بن سکتا۔ اس اعتبار سے اگر اردگان آئینی ترامیم نہ کرا سکے تو ان کی یہ آخری ٹرم ہو گی۔

اردگان کی شخصیت اوران کا ذاتی کردار ایک ایسی کتاب ہے جس میں ہمارے لیے کئی سبق ہیں۔ انہوں نے ترکی کی سیاسی ، معاشرتی اور معاشی ترقی کےساتھ ساتھ بین الاقومی طور پر ترکی کے پرچم اور وہاں کے شہریوں کی عزت و تکریم میں اضافہ کیا ہے .

مولانا حالی نے کہاتھا Moulana Hali ne kaha tha

مولانا حالی نے کہاتھا

متفرق 
-مولانا حالیؒ نے کہا تھا: ’’ہرچند کوئی قصبہ اور کئی گائوں اور کوئی شہر زمانے کی زبردست تاثیروں سے کسی طرح بچ نہیں سکتا۔ لیکن جب تک مسلمانوں میں اسلام باقی ہے اور شریعت کی قید سے آزاد نہیں ہوتے‘ اس وقت تک ہمارے خاندانوں کی عفت اور پاک دامنی کی حفاظت کے لیے پردے کا ایک ایسا پاک اور محکم قاعدہ موجود ہے جس پر زمانے کی تاثیر کا کوئی افسوں اور کوئی منتر چل نہیں سکتا۔ بعض مسلمان ممالک نے مکان‘ طعام لباس اور سواری غرض کہ ہر چیز میں اہل یورپ کی پیروی اختیار کرلی ہے مگر چونکہ شریعت کی پابندی نے انہیں پردے سے آج تک آزاد ہونے نہیں دیا۔ اس لیے جس قدر عفت اور پاک دامنی وہاں کے مسلمانوں میں اب تک موجود ہے۔ یورپ کی کسی قوم میں اس کا دسواں حصہ بھی نہیں پایا جاتا۔ پس اے میرے بزرگووعزیزو! پردے کے حکم اور مضبوط قاعدے کو ہاتھ سے نہ چھوڑو کہ اس اخیر زمانے میں صرف یہ ایک چیز باقی رہ گئی ہے جس کی بدولت ہم تمام دنیا کی قوموں پر فخر کرسکتے ہیں اور صرف یہی ایک چیز ایسی ہے جس سے قوم میں غیرت اور حمیت باقی رہ سکتی ہے۔ وماعلینا الالبلاغ!۔!! مولانا الطاف حسین حالیؒ برصغیر کے تمام پڑھے لکھے مسلمان جانتے ہیں کہ ملت اسلامیہ کے ایک جلیل القدر مفکر و مدبر تھے انہوں نے تحریر ‘ تقریر اور شاعری کے ذریعے ملت کو اس وقت جھنجھوڑ کر بیدار کرنے کا کام کیا تھا جب 1857 ء کی جنگ آزادی کے بعد مسلمانان برصغیرپربرطانوی حکومت نے زندگی کا دائرہ تنگ کر رکھا تھا اور مقامی اکثریت آبادی بھی اپنی روایتی زمانہ سازی سے کام لیتے ہوئے غاصب حکومت کے ساتھ ہوگئی تھی۔ (جب کہ غیرملکی اقتدار کے خلاف یہ پہلی بڑی عوامی جدوجہد تھی جس کا بگل مسلمانوں نے بجایا تھا) تاج برطانیہ کا قبضہ اس وقت کئی مسلم ملکوں پر بھی تھا۔ لہٰذا 1857ء میں مسلمانوں کے عزم و حوصلے اور ان کی نظریاتی اساس کو دیکھ کر اس نے مسلم ملکوں کے عوام کو ان کی اصل سے ہٹانے کی کوششیں تیز تر کردیں۔ سب سے موثر حربہ تہذیبی یلغار کا تھا۔ چنانچہ مسلم ملکوں کی خوشحال آبادیوں نے اپنے رہن سہن ‘ خورونوش اور لباس پرحکمراں تہذیب کا وہ رنگ غالب کرلیا تھا جس کی طرف کہ مولانا حالی نے اشارہ کیا ہے لیکن اس کے باوجود مسلمان نہ صرف یہ کہ شرعی احکام سے دستبردار نہیں ہوئے بلکہ اپنے عقائد اور بنیادی اقدار پر مصر اور قائم رہے اور حجاب و پردہ ان میں سے ایک تھا۔

Friday, 18 May 2012

حضرت سیدعلی ہجویری قرآن کریم کا رمز شناس

حضرت سیدعلی ہجویری
قرآن کریم کا رمز شناس

گذشتہ ایک ہزار سال کی ملی تاریخ اس حقیقت کبریٰ کی بین شہادت فراہم کرتی ہے کہ علمائے حق کے قلمی جہاد، صوفیائے کرام کے قلبی مجاہدات اور عارفین و مشائخین کے روحانی و وجدانی تجربات و مشاہدات نے کروڑوں نفوس کو اسلام کی آفاقی تعلیمات سے نہ صرف آشنا کیا بلکہ ان پاکیزہ تعلیمات کے داعی و مبلغ بنا کر رکھ دیا۔ ان نفوسِ قدسیہ کے نقوش اقصائے عالم میں صدیاں گذر جانے کے بعد بھی افرادِ امت کے دلوں میں گھر کئے ہوئے ہیں۔ خاصانِ ملت کی اسی جماعت میں غزنہ افغانستان کے علی بن عثمان ہجویریؒ جو چوتھی صدی ہجری میں پیدا ہوئے، پورے برصغیر میں پابند شریعت اسلامیہ کے گروہ صوفیا میں ایک منفرد مقام پر فائز نظر آتے ہیں۔ جناب ہجویریؒ جو افغانستان سے خدمت دین کے لئے ہندوستان تشریف لائے تھے ، لشکر ابرار کے قافلہ سالار بن کر لاہور کے شہر کو اپنا مستقر بنا کر ’’داتا کی نگری‘‘ کا اعزاز عطا کر چکے ہیں   ؎
گنج بخش فیضِ عالم مظہرِ نورخدا
ناقصاں را پیرِ کامل، کاملاں را رہنما
سیدہجویریؒ نہ صرف ایک روحانی مرشد تھے بلکہ آپ ایک اعلیٰ پایہ عالم اور صاحب طرز مصنف بھی تھے۔ آپ کی معرکتہ الآراء تصنیف ’’کشف المحجوب‘‘ تصوف کے موضوع پر جامع اور مستند کتاب تصور کی جاتی ہے۔ یہ کتاب گذشتہ ایک ہزار سال سے طریقت و معرفت اور شریعت و حقیقت کے متلاشیوں کے لئے نسخۂ کیمیا سے کچھ کم نہیں۔ ’’کشف المحجوب‘‘ میں جناب ہجویریؒ نے جن موضوعات پر اظہار رائے فرمایا ہے ان میںصحت نیت، علم کے اقسام،فقر کی حقیقت، تصوف کی حقیقت، صوفیاء کے مختلف فرقے، ارکانِ دین کی اہمیت و معنویت اور اسی طرح طریقت و ولایت میں مروجہ اصطلاحات کی عالمانہ وضاحت کی ہے۔ ’’کشف المحجوب‘‘ حقیقی اسلامی تصوف سے متعلق افکار و اذکار کا ایک شاہکار ہے جس کے مطالعے سے راہِ حق کے مسافر کی سفری مشکلات آسان ہوسکتی ہیں اور قربِ الٰہی کی منزل قریب تر آسکتی ہے۔سلوک و معرفت سے وابستہ مختلف افراد کی وضاحت کرتے ہوئے لفظ ’’درویش‘‘ پر یوں اظہار رائے فرماتے ہیں :’’ سچا درویش وہ ہے جسے غیراللہ سے کوئی دلچسپی اور سرورکار نہ رہے۔ اسے صرف خدا کی رضا مطلوب ہو۔ وہ یکسو ہو کر خدا کی راہ پر چلتا ہے۔ اپنے معاملات کی بھی خوب حفاظت کرتا ہے اور کسی دینی کام کو ہاتھ سے نہیں چھوڑتا۔ اس سارے کام میں اسے اس کی کوئی پرواہ نہیں ہوتی کہ مخلوقات اسے پسند کرتی ہے یا ناپسند اور کون اسے داد دیتا ہے اور کون ملامت کرتا ہے‘‘۔   ؎
درویش خدا مست نہ شرقی نہ غربی
گھر میرا نہ دلّی نہ صفاہاں نہ سمرقند
(اقبالؒ)
علامہ اقبال نے اپنے شہرۂ آفاق کلام و پیام میں ملت اسلامیہ کے جن تیس اولیائے و مشائخ کا تذکرہ کیا ہے اور جن کے ارشادات و احسانات کو نمایاں انداز میں پیش کرنے کی کوشش کی ہے، ان میں سید علی ہجویریؒ کا نام نامی بڑی اہمیت کا حامل ہے۔سید صاحب سے محبت کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ آپ کا مزارِ مقدس لاہور میں ہے، دوسری وجہ کہ خواجہ معین الدین چستیؒ جیسے ولی کامل اس مزار پر حاضری دے چکے ہیں۔سید ہجویریؒ نے روحانی اعتبار سے لاہور کو برصغیر میں ایک نام عطا کیا تو اقبال کے علمی اور شعری وجود نے لاہور کو بغداد کے ہم پلہ بنا دیا۔ اپنی مشہور فارسی تصنیف ’’اسرارِ خودی‘‘ میں سید ہجویریؒ کو ام الکتاب یعنی قرآن پاک کی عزت و عظمت کا پاسبان قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں    ؎
سیدِ ہجویر مخدومِ اُمم
مرقدِ او پیرِ سنجر را حرم
بندہائے کوہسار آساں گیسخت
در زمینِ ہند تخم سجدہ ریخت
عہدِ قاروقؓ از جمالش تازہ شد
حق ز حرفِ او بلند آوازہ شد
پاسبانِ عزت اُمّ الکتاب
از نگاہش خانۂ باطل خراب
خاکِ پنجاب از دمِ او زندہ گشت
صبحِ ما از مہر او تابندہ گشت
ترجمہ:
ہجویر کے سردار اور امتوں کے مخدوم، جن کا مقبرہ پیرسنجر(معین الدین چشتیؒ) کیل ئے نہایت محترم ہے۔
پہاڑوں کی رکاوٹوں کو آسانی سے بدل کر، ہندوستان میں سجدہ کا بیج بویا، آپ کے کردار سے حضرت عمر فاروقؓ کا زمانہ تازہ ہوگیا۔ جن کی تبلیغ سے دین کا بول بالا ہوگیا۔ آپ قرآن مجیدکی عزت کے نگہبان تھے ، آپ کی نگاہ سے باطل کا گھر برباد ہوگیا، آپ کے مبارک نفس سے پنجاب کی سرزمین زندہ ہوگئی، ہماری صبح کو آپ کے سورج نے روشن کیا۔
1933میں اپنے سفر افغانستان کے دوران اقبال نے مختلف شہروں کے اہم مقامات دیکھے اور چند مزارات پر حاضری بھی دی، جن میں سلطان محمود غزنوی اور حکیم سنائی کے مزارات شامل ہیں لیکن اقبال نے غزنین اور مقامات کی رہنمائی کرنے والے معمر ترین بزرگ ملا قربان سے کہا کہ میں سید علی ہجویریؒ کے والد مکرم کی قبر پر فاتحہ پڑھنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ اقبال والد ہجیری کے مقبرے پر حاضر ہوئے اور فاتحہ پڑھی۔ غزنین سے ہجرت کر کے حضرت ہجویریؒ مختلف ممالک کا سفر کرتے رہے اور اپنے گہرے مشاہدے، انقلابی جذبے اور ولولے کے ساتھ زندگی کے آخری برسوں میں لاہور کو اپنا مستقل قرار گاہ بنایا۔ علامہ اقبال نے اپنی شاعری میں حکایات و قصص کے ذریعے نئی نسل کو اسلاف کے نقطہ ہائے نظر اور ان کے کارناموں سے باخبر کرنے کی فاضلانہ کوشش کی ہے۔ چنانچہ سید علی ہجویری کے حوالے سے بھی ایک حکایت بیان کی ہے جو نصیحت آموز بھی ہے اور چشم کشا بھی۔ فرماتے ہیں کہ ایک شخص وسطی ایشیا کے ایک شہر مروؔ سے لاہور آکر حضرت سید علی ہجویریؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ میں دشمنوں کی صفوں میں گھرا ہوا ہوں اور ہر طرف سے خطرات کے تیروں کے نشانے پر ہوں۔ آپ مجھے دشمنوں میں زندگی گذارنے کا کوئی طریقہ بتائیں۔ حضرتؒ نے فرمایا   ؎
راست می گویم عدوہم یارِ تست
ہستی اور رونقِ بازارِ تست
ہر کہ دانائے مقاماتِ خودی است
فضل حق داند اگر دشمن قوی است
کِشت انساں را عد و باشد سحاب
ممکناتش را بر انگیزد ز خواب
سنگِ رہ آب است اگر ہمت قوی است
سیل را پست و بلند جادہ چیست
ترجمہ:
حقیقت میں تیرا دشمن تیرا دوست ہے۔ اس کے وجود سے تیرے بازار کی رونقیں ہیں جو شخص اپنی ذات کے مقاماتِ شعور سے واقف ہے وہ دشمن کے طاقتور ہونے کوخدا کا فضل تصور کرتا ہے۔ انسان کی کھیتی کے لئے دشمن کا وجود گویا ابرِرحمت ہے جس سے اس کی سوئی ہوئی صلاحیتیں اور ممکنات بیدار ہو جاتی ہیں۔ اگر آدمی کی ہمت طاقتور ہو، تو راستے کے پتھر بھی پانی ہو جاتے ہیں۔سیلاب راستے کی پستی اور بلندی کو کیا سمجھتا ہے؟‘‘
جناب ہجویریؒ کی نصائح سے اقبال زندگی میں جدوجہد ،حرکت اور پیغامِ عمل اخذ کرتے ہوئے اپنے پیش کردہ نظریۂ خودی کو نئی جہات، نئے ابعاد اور بزرگانِ ملت کے تصورات سے مربوط کرتا ہے۔سید ہجویریؒ نے جو نصیحتیں مروؔ کے باشندے کو کیں، ان کو اقبال نے دیگر مقامات پر مختلف پیرایوں میں پیش کیا ہے   ؎
۱۔ مصافِ زندگی میں سیرتِ فولاد پیدا کر
۴۔گلتاں راہ میں آئے تو جوئے نغمہ خواں ہوجا
۳۔ گذر جا بن کے سیلِ تند خو کوہ و بیاباں سے
۲۔ شبستاں محبت میں حریر و پرنیاں ہو جا
اقبال کے خیال میں سعی پیہم،سخت کوشی اورنبردآزمائی سے ہی زندگی کے اسرار و معارف منکشف ہو جاتے ہیں۔ عرفانِ ذات، خود شناسی اور خودی درحقیقت ’’کشف المحجوب ‘‘بن جاتی ہے۔ ’’اسرارِ خودی‘‘ میں اقبال نے جناب علی مرتضیٰؓ ، جناب بوعلی قلندرؒ اور جناب سید علی ہجویریؒ کی شخصیات کوقوت، پیکار، توانائی اور جہد مسلسل کے عمدہ ترین استعارات کے طور پیش کیا ہے    ؎
پس طریقت چیست ؟ اے والا صفات
شرع را دیدن بہ اعماقِ حیات
رابطہ
اقبال انسٹی چیوٹ کشمیر یونیورسٹی (کشمیر)

سیدنا ابوبکر صدیق ؓ…ایمان وانفاق کا مجسم پیکر

سیدنا ابوبکر صدیق ؓ…ایمان وانفاق کا مجسم پیکر


-پروفیسر محمد شکیل صدیقی
کسی شے کی قدر و قیمت کا جو بھی اصول اور پیمانہ مقرر کیا جائے اس میں وقت، حالات اور ضرورت کے عامل و عنصر (Factor) کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ ایک وہ شخص ہے جو داعیٔ اعظم صلی اللہ علیہ وسلم کی دعوت کے جواب میں اکیس سال بعد مکہ کی فتح کے موقع پر اسلامی تحریک میں شمولیت اختیار کرتا ہے، حسب توفیق انفاق بھی کرتا ہے، جب کہ ایک وہ شخص ہے جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی پہلی پکار پر لبیک کہتا ہے، مکہ میں ابتلاء و آزمائش کی ہر گھڑی میں ثابت قدم رہتا ہے، اپنے مال سے مظلوموں کی مدد کرتا ہے، ہجرت کے پُرخطر سفر میں رفاقت کا حق ادا کرتا ہے اور تنگی و عسرت میں گھر کا سارا اثاثہ بارگاہِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں لاکر ڈھیر کردیتا ہے… ایسے شخص کی قدروقیمت کے بارے میں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے کیا فیصلہ دیا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ’’تم میں سے جن لوگوں نے فتح مکہ سے پہلے مال خرچ کیا اور جہاد کیا، ان کا درجہ نہایت بلند ہے بہ نسبت اُن لوگوں کے جنہوں نے فتح مکہ کے بعد خرچ کیا۔‘‘ (الحدید 10) مفسرین اس آیتِ مبارکہ کو صدیق اکبرؓ کے ایمان و انفاق کی جانب اشارہ قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ اوّلین ایمان لانے والوں اور اللہ کے لیے مال خرچ کرنے والوں میں پیش پیش تھے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کے انفاق کی تحسین اس طرح فرمائی: ’’کسی کے مال نے مجھے ایسا نفع نہ دیا جیسا ابوبکر کے مال نے دیا۔‘‘ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت و شخصیت کے بے شمار پہلو اور فضائل و مناقب کی طویل فہرست ہے جو ایک مفصل مقالے کی متقاضی ہوسکتی ہے۔ زیرنظر مضمون میں ہم صرف حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ایمان و استقامت اور انفاق فی سبیل اللہ کے چند واقعات اور ان کی اہمیت کی جانب اشارہ کریں گے۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے کہ مکہ میں جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسلام کی دعوت پیش کی تو یہ حضرت ابوبکر صدیقؓ ہی تھے جنھوں نے یہ دعوت بغیر کسی حیل و حجت کے قبول کرلی۔ آپؓ کا قبولِ اسلام اپنے رفیق یعنی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کی صداقت پر یقین اور ایمان کا مظہر تھا۔ قبولِ اسلام کے بعد 23 سال تک حضرت ابوبکر صدیقؓ اسلامی تحریک کے شانہ بشانہ چلتے رہے۔ اسلام قبول کرنے کی پاداش میں ہر طرح سے ستائے گئے۔ مشرکینِ مکہ نے جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔ ہجرت سے پہلے 13 سال تک مکہ میں کفار اور مشرکین کے خلاف اسلامی تحریک کے ساتھ جرأت و استقامت کے ساتھ کھڑے رہے۔ ہجرت کا مرحلہ آیا تو تمام تر خطرات کے باوجود حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت میں سفر کیا، غار ثور میں قیام کیا اور مدینہ پہنچے۔ مدینہ پہنچ کر جب کفار و مشرکین اور یہود سے قتال و جہاد کا وقت آیا تو ہر معرکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہے۔ وصالِ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد نازک موقع پر دینی و ایمانی بصیرت کا ثبوت دیا، غم زدہ مسلمانوں کو تسلی دی اور ان کا ایمان و عقیدہ بھی بچایا۔ مرتدین نے جب اسلام کی بنیاد ڈھانے کی کوشش کی تو اس کے دفاع کے لیے میدان میں نکلے۔ عقیدۂ ختمِ نبوت اور زکوٰۃ کے بارے میں تشکیک پیدا کرنے والوں کے سر کچل دیے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ قبولِ اسلام کے بعد اوّل روز سے تادمِ مرگ ایمان و اسلام پر نہ صرف قائم رہے بلکہ جرأت و استقامت کے ساتھ دین کی اشاعت و تبلیغ اور اس کی اقامت کے لیے سرگرم رہے۔ آپؓ کے اسلام و ایمان کا عرصہ کم و بیش ربع صدی پر محیط ہے، لیکن اس طویل عرصے میں اسلام اور اسلامی تحریک سے کمٹمنٹ میں کوئی کمی نہیں آئی۔ حضرت ابوبکر صدیقؓ کی سیرت و شخصیت کا ایک اور وصف آپؓ کا اللہ کے راستے میں انفاق ہے۔ حق و باطل کی کشمکش میں ایمان و یقین کے بعد اگر کسی چیز کی ضرورت ہے تو وہ وسائل ہیں۔ باطل قوتوں کے خلاف اور غلبۂ اسلام کے لیے مادی وسائل یا مال و دولت کی ضرورت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اگرچہ یہ مال و دولت بھی اللہ ہی کا دیا ہوا ہے، لیکن وہ اپنے بندوں کو دے کر آزماتا ہے کہ کون ہے جو اللہ کی راہ میں اس کے دیے ہوئے مال سے خرچ کرتا ہے۔ سیدنا ابوبکر صدیقؓ مال و دولت کی آزمائش میں بھی ہمیشہ سرخرو رہے۔ آپؓ کا شمار مکہ کے دولت مند تاجروں میں ہوتا تھا۔ آپؓ نے اپنی دولت کا بڑا حصہ مکہ کے مظلوم مسلمانوں کو سردارانِ مکہ کی غلامی سے نجات اور رہائی دلانے کے لیے خرچ کیا۔ مشرکینِ مکہ مسلمان غلاموں اور باندیوں پر تشدد کرتے تھے جسے آپؓ برداشت نہ کرپاتے، چنانچہ انہیں بھاری رقم کے عوض رہائی دلاتے۔ روایات میں آتا ہے کہ قبولِ اسلام کے وقت حضرت ابوبکر صدیقؓ کے پاس 40 ہزار درہم تھے جنہیں آپؓ نے اسلام کی راہ میں خرچ کیا اور ہجرت کے موقع پر صرف پانچ ہزار درہم باقی رہے جنہیں لے کر مدینہ روانہ ہوئے۔ مدینہ ہجرت کے بعد کفارِ مکہ، یہودِ مدینہ اور شامی رومیوں کے خلاف جو جنگیں ہوئیں ان میں بھی آپؓ نے انفاق فی سبیل اللہ کی بے نظیر مثالیں قائم کیں، خصوصاً غزوہ تبوک کے موقع پر آپؓ نے اپنے گھر کا سارا اثاثہ لاکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کردیا۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا کہ ’’ابوبکر! اہل و عیال کے لیے کچھ چھوڑا؟‘‘ فرمایا ’’ان کے لیے اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو چھوڑا ہے۔‘‘ مسندِ خلافت پر متمکن ہونے کے بعد شاہانہ امارت و حکومت اختیار کرنے کے بجائے فقر و درویشی کو اختیار کیا۔ حکومت سے نہایت قلیل وظیفہ پر گزارا کیا۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی سیرت‘ آپؓ کا جذبۂ ایمان و استقامت اور اللہ کی راہ میں جذبۂ انفاق مسلمانوں کے لیے، بالخصوص اسلامی تحریک کے علم برداروں کے لیے نمونہ ہے۔ آج جب کہ ہر جانب سے اسلام اور مسلمانوں پر حملے کیے جارہے ہیں، اسلام کی بنیادوں کو ڈھانے کی سازشیں ہورہی ہیںاور طاغوتی طاقتیں اسلام کے خلاف متحد ہورہی ہیں‘ ایسے میں ضرورت اس بات کی ہے کہ صدیق اکبر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے جذبۂ ایمان و انفاق کو اختیار کیا جائے۔