Search This Blog

Friday, 27 July 2012

ظالم ابن ظالم، قاتل ابن قاتل…بشارالاسد

ظالم ابن ظالم، قاتل ابن قاتل…بشارالاسد

- اسد احمد

یہ رجب سنہ۱۳ہجری کا ذکر ہے ۔ صحابی رسول حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ کی قیادت میں اسلامی افواج نے دمشق کا چاروںطرف سے محاصرہ کرلیا تھا، شہر میں کافی فوج موجود تھی تاہم رومیوں کی جرات نہ ہوئی کہ وہ میدان میں نکل کر مسلمانوں کا مقابلہ کرتے۔یہ محاصرہ رجب ۱۳ ہجری سے۱۶ محرم ۱۴ ہجری تک ۶مہینے جاری رہا۔(بحوالہ :تاریخ اسلام از محمد اکبر شاہ نجیب آبادی،جلد اول)اسی دوران دمشق کے بطریق کے گھر بچے کی ولادت ہوئی اوراسی خوشی میں اہل شہر نے خوب جشن منایا اور ایسے بدمست ہوکر سوئے کہ کسی بات کا ہوش نہ رہا۔حضرت خالد بن ولید راتوں کو سوتے نہ تھے بلکہ گھوم پھر کر خبریں لیا کرتے تھے اسی لیے انہیں اس بات کی اطلاع ہوگئی ۔وہ کمند لگا کر مع چند جانبازوں شہر کی دیوار پر چڑھ کر اندر اُتر گئے اور پھاٹک کے محافظوں کو قتل کرکے پھاٹک کھول دیے۔مسلمان باہر منتظرتھے اور پھاٹک کھلتے ہی اندر داخل ہوگئے ،اہل شہر اس ناگہانی مصیبت سے گھبرا گئے اور سیدھے حضرت ابوعبیدہ کے پاس پہنچے جو دوسری سمت متعین تھے اور صلح کی درخواست کی ،انہیں صورت حال کا پوری طرح علم نہیں تھا اس لیے صلح قبول کرلی۔اب شہر کی ایک سمت سے خالد بن ولید فاتحانہ داخل ہوئے اور دوسری طرف سے ابوعبیدہ مصالحانہ۔ لیکن سپہ سالار ابوعبیدہ چونکہ مصالحت کرچکے تھے اسی لیے دمشق کی فتح مصالحانہ قرار دی گئی اور نہ مال غنیمت حاصل کیا گیا اور نہ کسی کو لونڈی غلام بنایا گیا۔ (بحوالہ:تاریخ اسلام از الدین معین شاہ ندوی، حصہ اول)بعض روایات کے مطابق حضرت خالد بن ولید بذریعہ بمصالحت اور حضرت ابوعبیدہ بن الجراح بذریعہ شمشیر شہر میں داخل ہوئے۔ شام و مصر کی فتح کے سلسلے میں مسلمانوں نے جو کارنامے انجام دیے وایران کی فتح سے کم حیرت انگیز نہیں تھے۔رومی سلطنت دنیا کی طاقتور ترین سلطنتوں میں شمار ہوتی تھی اور ہرقل کو اپنے وقت کا سب سے بڑا سپہ سالار سمجھا جاتا تھا۔ اسلامی افواج کی کامیابیوں کو دیکھ کر اس نے معزز اور صائب الرائے اشخاص کو بلا کر ان سے دریافت کیا کہ :جب عرب تم سے تعداد،اسلحے اور ساز وسامان غرض ہر چیز میں کم ہیں تو پھر تم ان کے مقابلے میں کامیاب کیوں نہیں ہوتے؟اس پر ایک تجربہ کار شخص نے جواب دیاکہ:عربوں کے اخلاق ہمار ے اخلاق سے اچھے ہیں،وہ رات کو عبادت کرتے ہیں اور دن کو روزہ رکھتے ہیں۔وہ کسی پر ظلم نہیں کرتے،ایک دوسرے سے برابری کا سلوک کرتے ہیں۔اس کے برخلاف ہمارا حال یہ ہے کہ ہم شراب پیتے ہیں،بدکاریاں کرتے ہیں،وعدے کی پابندیاں نہیں کرتے،دوسروں پر ظلم کرتے ہیں۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ان کے ہرکام میں جوش و استقلال ہوتا ہے اور ہمارے کام ان خوبیوں سے خالی ہوتے ہیں۔(بحوالہ: ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ ،حصہ اول،از ثروت صولت) اسلامی خلافت کا مدینے کے بعد دوسرا دارالخلافہ دمشق تھا، صلیبی حملہ آوروں کے خلاف مدافعت کا مرکز یہی خطہ تھا،اسلامی دنیا میں دارالحدیث کے نام سے پہلی عمارت بھی شام میں تعمیر کی گئی۔شام کی خاک میں کئی جلیل القدر صحابہ دفن ہیں ۔جن میں حضرت بلالؓ، حضرت ابوعبیدہ بن الجراحؓ اور سیف الاسلام حضرت خالد بن ولیدؓ اور دیگر اصحاب شامل ہیں۔حضرت سیدہ زینبؓ کا مزار بھی یہیں ہے۔تاریخی اہمیت کی حامل جامع مسجد اموی آج بھی اموی دور کی یاد دلاتی ہے۔ جامع مسجد اموی کے نزدیک ہی عظیم جرنیل سلطا ن صلاح الدین ایوبی مدفون ہیں۔۲۰ویں صدی میں ملت اسلامیہ کی رہنمانی کرنے والی چند عظیم شخصیات جیسے علامہ رشید رضا اور مصطفی سباعی کا تعلق بھی شام سے ہی تھا۔ علامہ شکیب ارسلان بھی شام سے عثمانی پارلیمنٹ کے رکن رہے۔ دمشق ہمیشہ ہی سے مسلمانان عالم کیلیے ایک خاص کشش رکھتا آیا ہے۔معروف نومسلم اور عظیم اسکالر محمد اسد اپنی کتاب ’’روڈ ٹو مکہ‘‘ میں دمشق کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :اہل دمشق کی زندگی میں مجھے ایک روحانی سکون نظر آیا،باہم ایک دوسرے کے ساتھ ان کا جو رویہ اور معاملہ کرنے کا طریقہ تھااس میں یہ روحانی سکون اور باطنی طمانیت بخوبی دیکھی جاسکتی تھی۔جماعت اسلامی کے بانی سیدابواعلیٰ مودودیؒ جب پاکستا ن میں زیر عتاب تھے تو ۱۹۵۶ میں اخوانی رہنما سعید رمضان کی دعوت پر ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے لیے دمشق پہنچے تو ایئرپورٹ پر استقبال کے لیے شام کے وزیراعظم ہبری العلی بذات خود تشریف لائے۔ معروف عالم دین مولانا ابوالحسن علی ندویؒ اپنے سفرنامے دریائے کابل سے دریائے یرموک تک میں دمشق کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ :حرمین شریفین کے بعد اگر کسی شہر کو اپنا محبوب ترین شہر کہہ سکتاہوں تو وہ دمشق ہی ہے، میں اس کے بہت سے محلوں،سڑکوں اور باغات و مناظر سے واقف ہوں،دمشق میں میرے عزیزترین دوست و احباب تھے جن سے خاص فکری اتحاداور مناسبت تھی،اور دمشق کا قیام ہمیشہ میر ے لیے خوشگوار اور مسرت بخش ثابت ہوا،دل کو سکوں اور روح کو راحت نصیب ہوئی ،میں جب شوقی کا یہ شعر پڑھتا تو اس میں کوئی مبالغہ نظر نہ آتا:اللہ تعالیٰ پر میرا ایمان ہے،میں اس کی جنت کو مستثنٰی قرار دے کر کہتا ہوں کہ دمشق سراپا باغ وبہار اور روح وریحان ہے۔تاہم بعث پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے بعد آپ دوربارہ ۷۰کی دہائی میں شام گئے تو منظر کافی حد تک تبدیل ہوچکا تھا۔ آپ لکھتے ہیں کہ :ہم کو دو نئی تبدیلیوں کا احساس ہوا، ایک تویہ کہ لوگوں کی گفتگو میں رازداری اور بڑھی ہوئی احتیاط محسوس ہوئی جیسے ہر آدمی کو یقین ہو کہ اس پر پہرہ ہے اور اس کی ہربات ریکارڈکی جارہی ہے۔دوسری تبدیلی تھی، بے محابا بے پردگی، وسیع پیمانے پرعجیب و غریب قسم کا جنسی اختلاط، راستوں اور سڑکوں پر ہرطرف فحش تصاویراور جنسی جذبات کو برانگیختہ کرنے والے اشتہارات چسپاں اور آویزاں تھے،ہم کو اندازہ ہواکہ جو شہر اپنی قدامت پسندی اور وضع داری کے لییمشہور تھا، آزادی، بے راہ روی اور اخلاقی انحطاط میںبہت آگے جاچکا ہے۔ شام میں بعث پارٹی کی بنیاد ایک عیسائی مائیکل عفلق نے ۱۹۴۰میںڈالی اور نصیر ی اور دروزی حامیوں کے ذریعے شامی فوج کے اندر اپنے خفیہ حلقے قائم کرلیے ۔عیسائیوں میں بھی اسکے نظریات کو پسند کیا گیا۔اس طرح بعث پارٹی نصیریوں ، دروزیوں اورعیسائیوں اور فوج کی مدد سے جس میں فرانسیسی دور سے ان فرقوں کی اکثریت چلی آرہی تھی ۱۹۶۳میں شام پر اپنا اقتدار قائم کرنے میں کامیاب ہوگئی۔شام پر ۱۹۴۴ تک فرانس اور برطانیہ کا فوجی قبضہ رہا ۔دسمبر ۱۹۴۱ میں شام کو آزادی دینے کا اعلان کردیا گیا تھا لیکن اس اعلان کو عملی جامہ پہنانے میں فرانس نے ۳سال تک لیت و لعل سے کام لیا ،بالآخر یکم جنوری ۱۹۴۴ کو جمہوریہ شام کو مکمل اختیارات منتقل ہوگئے اور اپریل ۱۹۴۶ میں فرانسیسی فوجوں نے ملک چھوڑدیا۔شام کی جدوجہد آزادی میں جن رہنماؤں نے غیر معمولی کردار ادا کیا ان میں ملک کے پہلے صدر شکری القوتلی کا نام سرفہرست ہے ۔ مارچ ۱۹۴۹ء میں شامی فوج نے شکری القوتلی کی جمہوری حکومت کا خاتمہ کرکے شام میں فوجی آمریت قائم کردی اور یہی شام کی بدقسمتی کا آغاز تھا۔تاہم عوامی تحریک کے نتیجے میں ایک بار پھر۱۹۵۵ء شام میں جمہوری اور آئینی حکومت قائم ہوئی اور شکری القوتلی ایک بار پھر ملک کے صدر بنے۔شام اس وقت نہایت پرآشوب اور نازک حالات سے گزر رہا تھا ،ایک طرف تو شکری القوتلی داخلی حالات پر قابوپانے کی کوشش کررہے تھے تو دوسری طرف فو ج پر حصول اقتدار کا جنون سوار تھا،اورسوشلسٹ نظریات کی حامی بعث پارٹی فوج کے ان عناصر کو غلط راہ پر ڈال چکی تھی جو نصیر ی اور دروزی فرقوں سے تعلق رکھتے تھے اورشام کو خالص سوشلسٹ ریاست میں تبدیل کرنا چاہتے تھے ۔ان حالات میں اشتراکیت مخالف حلقوں نے مناسب سمجھا کہ شام کا مصر سے الحاق کرلیا جائے اوریکم فروری ۱۹۵۸ء میں شام اور مصر میں اتحاد قائم ہوگیالیکن مصر اس اتحاد سے فائدہ نہ اٹھاسکا، اس لیے کے روس کی گود میں بیٹھے جمال ناصر پر خود عرب قوم پرستی کا بھوت سوار تھااور کچھ ہی عرصے بعد اس نے اُن فوجی عناصر کی پشت پناہی شروع کردی جن سے نجات پانے کے لیے شامی عوام نے یہ اتحادقائم کیا تھایوں مصر اور شام کا اتحاد تین سال سات ماہ کے اندر ختم ہوگیا۔ شام کی مصر سے علیحدگی کے بعد شامی پارلیمنٹ کا قیام عمل میں آیا۔انتخابات میں غیر اشتراکی عناصر زبردست اکثریت سے کامیاب ہوئے ۔بعث پارٹی کو بری طرح شکست کا سامنا کرناپڑا۔انتخابی نتائج بعث پارٹی اور سوشلسٹ عناصر کیلیے مایوس کن ثابت ہوئے، اس لیے فوج نے پھر سازش شروع کردی اور مارچ ۱۹۶۲ء میں ایک فوجی دستے نے دمشق پر قبضہ کرلیا۔ملک کی کشتی پھر بھنور میں دیکھ کر سابقہ پارلیمنٹ کے ارکان نے ہمت سے کام لیا اور نئی حکومت تشکیل دے دی اور نئے دستور پر وقت ضائع کرنے کے بجائے ۱۹۵۰ء کا دستور بحال کردیا اور ملک کو آمریت سے بچانے کے لیے ایک نیشنل چارٹر وضع کیا جس میں تمام طبقات کی نمائندگی تھی ۔۸مارچ ۱۹۶۳ء کو شامی ریڈیو سے اس چارٹر کا اعلان ہونے والا تھا کہ اس دن ایک اور فوجی انقلاب آگیا، یہ بعث پارٹی کا انقلاب تھا جو ناصر کی مدد سے اسلامی عناصر کی کوکمزور کرنے کی کوششوں کی غرض سے لایاگیا۔ابتدا میں ناصر کے حامیوں کو بھی حکومت میں شامل کیا گیامگر رفتہ رفتہ انہیں بھی حکومت سے بے دخل کردیا گیا ( بحوالہ:ملت اسلامیہ کی مختصر تاریخ حصہ سوم از ثروت صولت)۔ یوںبعث پارٹی کے نام پر نصیری اور دروزی عناصر پر مشتمل اقلیتی فرقے کی حکومت شام میں قائم ہوگئی ،کچھ ہی عرصے بعد نصیریوں نے دروزیوں کو بھی بے دخل کردیا۔ بعث پارٹی دراصل عرب قومی پرستی اورسوشلزم کی داعی تھی یہ لوگ مذہب دشمن یا سادہ الفاظ میں اسلام دشمن تھے۔ بظاہر اسرائیل کی مخالفت کرنے والی بعث پارٹی صہیونیت نواز ملک روس کی مسلم دنیا میں سب سے چہیتی جماعت ہے۔حالات و واقعات پر اگر غور کیا جائے تو صاف نظر آتا ہے کہ فلسطین پر اسرائیلی قبضے کے بعد جب مصر میں حقیقی خطرے اخوان المسلمون کو بری طر ح کچل ڈالا گیا تو پھر عرب قوم پرستی اور سوشلزم کا جھانسہ دے کر بعث پارٹی کو عرب ممالک میں عربوں کا حقیقی نمائندہ کے روپ میں پیش کیا گیا۔یہ جماعت کسی عوامی انقلاب کے بجائے فوجی طاقت کے ذریعے برسر اقتدار آئیں اور زبردستی اپنے نظریات عوام پر تھونپے۔عرب ممالک میں آباد عیسائی اس جماعت کے بڑے کرتا دھرتا تھے۔صدام کا وزیر خارجہ طارق عزیز بھی عیسائی ہے اور آج تک اسی لیے زندہ ہے۔شام کی بعث پارٹی بھی نصیری اور عیسائیوں پر مشتمل ہے ۔ بعث پارٹی دراصل سنی اکثریتی خطے پر اقلیتی فرقوں اور لادین یا آزاد خیال سنی مسلمانوں کی حکومت ہے۔۶۰ ء کی دہائی میں شام میں اسلامی عناصر کو چن چن کر نشانہ بنایا گیا۔مئی ۱۹۶۷ء میں جب ایک سرکاری ہفت روزہ نے اسلام پر کھلم کھلا حملے شروع کیے تو مسلمانوںنے سخت احتجاج کیا،جواب میں حکومت نے مظالم کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع کردیااور اس انتقامی کارروائی کے دوران مساجد کی حرمت کا بھی خیال نہ کیا۔دمشق کی جامع مسجد پر گولہ باری کی اور عین حالت نماز میں نمازیوں کو شہید کیاگیا،لوگوں کی داڑھیاں نوچی گئیں اور ناخن اکھاڑے گئے۔جون ۱۹۶۷ء میں اسرائیل نے حملہ کردیا،ایسی صورت میں اسرائیل کا کس طرح مقابلہ کیا جاسکتا تھا ۔شامی فوجیں تو اپنے عوام سے لڑائی میں مصروف تھیں ۔نتیجہیہ ہوا کہ مصر اور اردن کی فوجوں کو شکست دینے کے بعداسرائیل نے شام کا رخ کیا اور جبل جولان کے علاقے میں کئی سو مربع میل کے رقبہ پر قبضہ کرلیا۔یوں اسلامی تحریکوں کے دشمن ، عرب قوم پرستی کے دعویدار ، مسلمانوں کے ازلی دشمن اور صہیونیت نواز ملک روس کے چہیتے جمال ناصر اور بعث پارٹی نے عرب اسرائیل جنگ میں بیت المقدس پر بھی صہیونی قبضہ کرادیا۔شام کے سابق صدر شکری القوتلی جنہیںدل کھول کر شام و مصر کے لادین عناصر نے بدنام کیا بیت المقدس پر اسرائیلی قبضے سے بہت دل گرفتہ تھے ۔کہا جاتا ہے کہ انہوں نے جب ٹیلیویژن کھولا تو ایک عرب مغنی مرثیہ گارہا تھا :ہائے پرانا بیت المقدس، اس گیت کو سن کر ان کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوگئے اور اپنی اہلیہ سے کہاکہ سنا تم نے بیت المقدس اب ایک مرثیہ بن گیا ہے،آپ پر رنج و غم کا ایسا غلبہ ہوا کہ دل کا دورہ پڑا جو جان لیوا ثابت ہوا۔ نومبر ۱۹۷۰میںحافظ الاسد ملک کا صدر بنا۔۱۹۷۴میں اسرائیل کے ساتھ ایک تصفیہ ہوا جس کے تحت گولان کے علاقے سے شام اور اسرائیل دونوں نے اپنی فوجیں بلالیں۔ ساری دنیا ہی اس حقیقت سے واقف ہے کہ اسرائیل کے دو ہی پشتیبان ہیں ایک امریکہ اور دوسراروس۔ایک عظیم ترک رہنما کے الفاظ میںاشتراکیت اور سرمایہ دارانہ نظام صہیونیت کے دو بازو ہیں۔اور ان ہی میں سے ایک بازو یعنی روس آج ظالم بشارالاسدکا ایران کے بعد سب سے بڑا ہمنوا بنا بیٹھا ہے۔ شامی افواج کو جدید ترین ہتھیاروں سے لیس کرنے میں بھی روس کا اہم کردارہے،اور شام کی نصیری حکومت یہ اسلحہ یقینا اسرائیل کے بجائے شامی کے سنی مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتی آئی ہے اورکررہی ہے۔ یہ جماعت جس کی حکومت اب صر ف شام تک محدود ہے ہمیشہ ہی سے اسلامی تحریکوں کو اپنی مقاصد کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ سمجھتی آئی ہے۔۱۹۸۰ء کی دہائی کے آغاز میں جب شام کے سنی مسلمانوں نے بعث پارٹی کے مظالم سے تنگ آکر اس کے ناجائز اقتدار کے خلاف بغاوت کی تو شامی افواج نے طاقت کا اس قدر وحشیانہ استعمال کیا کہ اس کی مثال جدید مشرقی وسطٰی کی تاریخ میں نہیں ملتی۔سابق امیر جماعت اسلامی ،میاں طفیل محمد کے الفاظ میں :۱۹۸۴میںجب اخوان المسلمون کے نوجوانوں نے اسد کی بعث پارٹی کے ذلت آمیز طر حکومت کے خلاف احتجاج کے لیے آواز بلند کی تو اس کے بھائی رفعت اسد کی نگرانی میں آپریشن شروع ہواجس میں شام کے شہروں حلب، جسر اور انطاکیہ وغیرہ کو نشانہ بنایا گیا۔جبکہ حماہ شہرکو ،جواخوان المسلمون کے عابدوں اور زاہدوں کا مرکز تھا، فوج نے محاصرہ کیا،اور پھر ہوائی جہازوں ،توپوںاور میزائلوں سے گولہ باری کرکے پورے شہر کو ،شہریوں کے ساتھ کھنڈرات او ر قبروں کا ڈھیر بنادیا گیا۔ہزاروں نوجوانوں کو سنگینوں سے چھلنی اور گولیوں سے بھون ڈالا گیا۔ عفت ما ب اخوانی بہنوں کی عصمت دری کی گئی اور انہیں جیلوں میں سڑنے کے لیے پھینک دیا گیا۔جیلوں میں ان پاکباز خواتین پر ہولناک مظالم ڈھائے گئے۔ (مشاہدات از میاں طفیل محمد ،مرتب سلیم منصور خالد) سن ۲۰۰۰ ء میں ہزاروں مسلمانوں کا قاتل حافظ الاسد اپنے انجام کو پہنچاتو اقتدار اس کے بیٹے نے سنبھالا۔امریکا میں بارک اوبامہ برسراقتدار آیا تو اس کی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن نے ظالم اور ہزاروں معصوم مسلمانوں کے قاتل بشارالاسد کو مین آف ریفارمز قرار دیا، امریکی سینیٹ کی خارجہ کمیٹی کے چیئرمین جان کیری نے ظالم باپ کے قاتل بیٹے کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں اس کیلیے مثبت جملے استعمال کیے ۔۲۰۱۱ء میں جب تیونس سے بیداری کی لہر کا آغاز ہوا تو شام کے غیور مسلمانوں نے ایک بار پھر ظالم حکومت کے خلاف پرامن مظاہرے شروع کردیے۔یہ مظاہرے اور احتجاج پہلی بار شروع نہیں ہوئے تھے بلکہ اسلام اور مسلمان دشمن بعث پارٹی کے خلاف شام کے مسلمان کئی دہائیوں سے مسلسل جدوجہد کرتے آرہے ہیں ۔ ان مظاہروں کا آغاز ہونا تھا کہ ایک بار پھر شام کی ظالم افواج حرکت میں آئیں اور قتل عام کا نہ رکنے والا سلسلہ شروع کیا جو آج تک جاری ہے۔اب تک شامی افواج کے ہاتھوں ہزاروں مسلمان شہید ہوچکے ہیں اور اب صورتحال یہ ہے کہ شام کی مساجد میتوں کے شناختی مرکز میں تبدیل ہوچکی ہیں اور ہزروں افراد ترکی ہجرت کرچکے ہیں۔ شام میں بشارالاسد کے خلاف مسلح جدوجہد اب زوروں پر ہے اور گزشتہ ہفتے ایک خودکش حملے میں بشارالاسد کو اپنی کئی قیمتی اور شیطان صفت ساتھیوں سے ہاتھ دھونا پڑا ہے ۔شامی حکومت کے مطابق مزاحمت کاروں کو قطر اور سعودی عر ب کی حمایت حاصل ہے ، ۔ترکی شام میں بشار الاسد مخالف عناصر کی میزبانی کررہا ہے۔ ہم یہاں آئندہ سطروں میں مسئلے میں بالواسطہ اور بلاواسطہ شریک ممالک اور تنظیموں کا کردار اور موقف پیش کررہے ہیں۔ ترکی اور شام گزشتہ عشرے میں اے کے پارٹی کی جانب سے ترکی کی حکومت سنبھالنے کے بعد ترکی اور شام کے تعلقات میں غیرمعمولی بہتری آئی۔ اور دونوں ممالک کے درمیان تجارتی حجم ۲۲۷۰ ملین ڈالر تک جاپہنچا۔ ترک سرمایہ کاروں نے بڑے پیمانے پر شام میں سرمایہ کاری کی۔ بشار الاسد اور رجب طیب اردوگان کے درمیان خاصے خوشگوار تعلقات قائم ہوئے اور دونوں ممالک کے خفیہ اداروں کے سربراہوں کے درمیان باقاعدہ ملاقاتیں معمول بن گئیں۔یہی وجہ تھی کہ جب عرب ممالک میں عوام آمروں کے خلاف سڑکوں پر نکل آئے تو ترکی نے جہاں حسنی مبارک اور معمرقذافی سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا وہیں شام میں بشار الاسد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرنے کے بجائے اس سے ملک میں اصلاحات اور عوام کے مطالبات پر کان دھرنے کیلیے دباؤڈالا۔ ترک وزیر خارجہ نے اس کی وجہ یہ بیان کی کہ شام کے حالات مصر اور لیبیا سے مختلف اور عراق سے مشابہہ ہیں لہٰذا صورتحال سنگین ہونے کی صورت میں فرقہ ورانہ کشیدگی کا خطرہ ہے اور ترکی کی شام کے ساتھ نوسو کلومیٹر طویل سرحد ہے۔ مسئلے کے بات چیت کے ذریعے حل کے لیے ترک وزیر اعظم نے شامی صدر سے کئی مرتبہ اور بسا اوقات کافی طویل گفتگو بھی کی۔ مگر شامی حکام نے ملک میں اصلاحات کا آغاز کرنے کے بجائے روایتی جبرو تشدد کا رویہ اختیار کیے رکھا، جس کے نتیجے میں ترکی اور شام کے خوشگوار تعلقات بتدریج تلخ ہونا شروع ہوگئے۔ ہزاروں شامی مسلمان ترکی میں پناہ حاصل کرنے پر مجبور ہوئے تو یہ عمل بھی شامی حکا م کو ایک آنکھ نہ بھایا اور پھر وہ وقت بھی آیا کہ جب شام نے بلا کسی عذر کے ترکی کا طیارہ مار گرایا جس کے بعد اب دونوں حکومتوں کے تعلقات تلخی کی حدوں کو چھورہے ہیں۔ ترکی بشار الاسد حکومت کا سب سے بڑا ناقد ہے اور اس کی ظالمانہ کارروائیوں کی کھلے الفاظ میں مذمت اور اپوزیشن گروپوں کی حمایت کررہا ہے ۔اس وقت ترکی میں چالیس ہزار سے زائد شامی باشندے پناہ لیے ہوئے ہیں ۔ حماس اور شام فلسطینی تنظیم حماس اور دمشق کے درمیان خوشگوار تعلقات کا کسے علم نہیں ۔شامی حکومت نے حماس کی قیادت کو ایک عرصے تک اپنے ملک میں نہ صرف پناہ دیے رکھی بلکہ حماس رہنماؤں کو شام میں خصوصی مراعات بھی حاصل تھیں۔مگر شام میں جیسے ہی حکومت مخالف تحریک کا آغاز ہوا تو حماس کے رہنماؤں کے لیے دمشق میں مزید قیام ناممکن ہوگیا اور انہوںنے دمشق سے نکل کر مصر اور قطر منتقل ہونے کافیصلہ کیا۔حماس نے موقف اختیار کیا کہ شام کی داخلی صورتحال کے پیش نظر حماس کے لیے مؤثر طریقے سے کام کرنا ممکن نہیں رہا تھا۔اسماعیل ہنیہ نے اپنے ایک خطاب میںکہا کہ ’’وہ آزادی ، جمہوریت اور اصلاحات کے لیے جدوجہد کرنے والے شامی عوام کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں‘‘۔حماس کے اس موقف کے نتیجے میں اس کے ایران کیساتھ تعلقات میں بھی پہلے والی گرم جوشی نہیںرہی ہے ۔ حماس کے رہنما موسیٰ ابومرزوق نے ایک انٹرویو میں اعتراف کیا کہ ’’ایران ہمارے مؤقف پر خوش نہیں ہے تاہم ہم ایران کے ساتھ تعلقات رکھنا چاہتے ہیں ‘‘۔ ایران اور حزب اللہ عرب دنیامیں شام کی موجود ہ حکومت کے خلاف نفرت کسی سے پوشید ہ نہیں ہے ، مگرایران اور لبنانی تنظیم حزب اللہ اس وقت بھی بشارالاسد کے ساتھ کھڑے ہوئے ہیں اور اس کی کھلی حمایت کررہے ہیں۔حزب اللہ جسے اسرائیل کے خلاف مزاحمت کے بعد عرب دنیا میں خاصی پذیرائی ملی تھی اب سنی آبادی میں اپنی مقبولیت تیزی سے کھورہی ہے اور لوگ کھلے عام یہ سوال کرتے ہیں کہ حزب اللہ اور ایران کن بنیادوں پر ایک ظالم اور قابض ٹولے کی اندھی حمایت کررہے ہیں ۔ اخوان المسلمون ،شام کا مؤقف اخوان المسلمون شام اس وقت ملک میں جاری تحریک میں اہم کردار ادا کررہی ہے ۔ یہ جماعت طویل عرصے تک شام میں زیر عتاب رہی ہے اور اس سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کو شہید کیا گیا ہے ۔اخوان المسلمون شام بھی ایران کے کردار سے ناخوش ہے ۔حال ہی میں شامی اخوان المسلمون نے ایک سیاسی جماعت کی تشکیل کا فیصلہ بھی کیا ہے ۔ان کا کہنا ہے کہ ملک میں شفاف انتخابات کی صورت میں وہ پچیس فیصد سے زائد نشستیں حاصل کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں۔ اخوان المسلمون ،مصر کا مؤقف مصر میں اخوان المسلمون اول روز سے ہی شامی عوام کی جدوجہد کی حمایت کرتی آرہی ہے ۔حال ہی میں تیونس کے صدر کے دورہ مصر کے دوران مصری صدر محمدمرسی نے شامی عوام کی جدوجہد کی کھلے الفاظ میں حمایت کی تاہم کسی غیر ملکی مداخلت کے امکان کو رد کیا ۔اخوان المسلمون مصر بھی ایران اور حزب اللہ کے کردار پر حیر ت کا اظہار کرچکی ہے ۔اخوان المسلمون کی ویب سائٹ اخوان ویب ڈاٹ کام پر ایک اداریے میں حزب اللہ اور ایران کے کردار پر تفصیلی گفتگو کی گئی ہے ۔ اداریہ نویس خالد حمزہ ایرانی حکام سے سوال کرتے ہیں کہ آخر عراق کی بعث پارٹی اور شام کی بعث پارٹی میںکیا فرق ہے ؟کیا بشار الاسد دوسرا صدام حسین نہیں ہے ؟کیا شامی حکومت کبھی بھی حزب اللہ کے ساتھ اسرائیل کے خلاف کسی کارروائی کاواقعتا خود حصہ بنی؟اورکیا شامی حکومت نے کبھی بھی اسلامی نظریات اختیار کرنے کی کوشش کی یا یہ ہمیشہ ہی بعث پارٹی کے نظریات پر عمل پیرا رہی؟ روس اور چین کا کردار روس اور چین اقوام متحدہ میں شام کے سب سے بڑے حامی کے طور پر سامنے آئے ہیں اور شام کے خلاف سلامتی کونسل میں پیش ہونے والی قراردادوں کو ویٹو کرچکے ہیں ۔ جیسا کہ ابتدا میں لکھا گیا کہ صہیونیت نواز ملک روس شامی حکومت کا سب سے بڑا حامی ہے اور شام کو حاصل بیشتر اسلحہ بھی روس کی جانب سے ہی فراہم کیا گیا ہے ۔ امریکہ ، نیٹو اور اقوام متحدہ امریکہ اور نیٹو نے افغانستان ،عراق اور لیبیا کو تباہ وبرباد کرنے میں بڑی پھرتیاں دکھائی تھیں ۔فی الوقت یہ دیکھو او ر انتظار کرو کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں ۔منٹوں اور سیکنڈوں میں افغانستا ن ، لیبیا اور عراق کو تاراج کرنے والے ان عناصر کو شام کے معاملے بہت زیادہ جلدی نہیں ہے ۔دراصل اوباما انتظامیہ شام میں اپوزیشن گروپوں کی حمایت تو کررہی ہے تاہم اسرائیل کی طرح یہ بھی اس پہلو پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ بشار الاسد کے بعد شام میں بھی کہیں فلسطین اور مصر کی طرح اسلام پسند حکومت میں نہ آجائیں ۔کوفی عنان نے شام کے مسئلے کے حل کے لیے امن منصوبہ ضرور پیش کیا ہے تاہم یہ مکمل ناکا می سے دوچار ہوا ہے۔ اس وقت شام میں اقوام متحدہ کے غیر مسلح مبصرین شام میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور ان کے وہاں قیام میں مزید توسیع کردی گئی ہے۔ 

Wednesday, 25 July 2012

بے حمیتی اور بے حسی

بے حمیتی اور بے حسی  
کیا یہ سچ ہے کہ سماج میں جو بے حمیتی اور بے حسی مشاہدہ میں آرہی ہےاسکا سبب غذائی اجناس میں خنزیر کی چربی اور دیگر اجزاء کی ملاوٹ ہے یا ٹی وی اور انٹرنٹ پر فحش منا ظر دیکھ دیکھ کر آنکھ کا پانی دلوں کا سوز و حرارت بھی لے اڑا ؟  علماء کا خیال ہے کہ خنزیر ایک بے غیرت جانور ہے۔  اخلاق کے میزان  میں  اگر ماضی کے چور، ڈاکو، اور ظالم  لوگوں کو ایک طرف اور آج کے شرفاء کو دوسری جانب رکھیں تو  ماضی  کا پلڑا بھاری  ہوگا۔ اسلامی تاریخ  کا ظالم گورنر حجاج بن یوسف کا تقابل آج کے عزب مآب ، جلالت مآب  اور انسانیت  نواز حکمرانوں سے کریں تو ان تمام کے مجموعی اخلاق اور حمیت ایک اکیلے حجاج بن یوسف کی حمیت اور غیرت کی دھول کو بھی نہیں پہنچ سکتے جس نے ایک مسلم لڑکی کے سر سے چادر اترنے پر سندھ کے خلاف اعلانِ جنگ کر دیا تھا۔ فلسطین، بوسنیا، گجرات، اور اب برما جہاں اسلام اور انسانیت سسک رہی ہے اور ہم افطار کی دعوتوں، کھیل کود اور مشاعروں میں مصروف ہیں۔
میری رسائی  سیاست و سیادت  اور میڈیا  کےاربابِ حل و عقد تک نہیں ہے۔   اگر آپ میں سے کوئی برما کے مظلومین کی آواز کو ان ایوانوں تک پہنچانے کی اہلیت رکھتا ہو تو وہ یہ کام کر گزرے تاکہ مظلوم کی آواز سنی جائے اور ان کی راحت  اور باز آبادکاری کا 
کوئی تو کام شروع ہو۔

کچھ تو علاج سرخئِ حالات کیجئے                       چہرہ حیاتِ نو کا بہت دن سے زرد ہے

سید منصور شاہ
-- 

تو اسرائیل اور شام میں کیا فرق ہے؟ Then what's the difference between Isrtael and Syria?


---تو اسرائیل اور شام میں کیا فرق ہے؟
M Wadood Sajid

دنیا پر مقدس ترین مہینہ سایہ فگن ہے لیکن کرہ ارض پر دو ممالک کے بے قصور مسلمان ‘ظالموں اور جابروں کے نرغہ میں ہیں۔وہ طاقتیں جنہوں نے پہلے افغانستان کو اور پھر عراق کو برباد کیا ‘شام کے حالات کو سنبھالنے کیلئے وقفہ وقفہ سے کچھ کوششیں کرتی ہیں لیکن سپرپاور کے خواب کوشرمندہ تعبیرکرنے میں ناکام دو ممالک‘ چین اور روس ان کوششوں کو تہہ وبالا کردیتے ہیں۔برماکے بے کس مسلمانوں کی توخیر کون سنے گا؟کیا آپ نے وہ تصویریں دیکھی ہیں جن میں برما کے خستہ حال انسانوں کوپہلے برہنہ کیا گیا ‘پھر ان کو مختلف ہتھیاروں سے ہلاک کیا گیا اور اس کے بعد بجلی کے بڑے بڑے تووں پر ان کی لاشوں کو ڈال کربھون دیا گیا۔فرقہ وارانہ ظلم کی اتنی کریہہ اورناقابل بیان شکل شاید مہذب دنیا نے کہیں اور نہ دیکھی ہو۔برما کے صدر کی درندگی دیکھئے کہ وہ اپنے مسلمان شہریوں کی حفاظت سے تو دستبردار ہوہی گیا ہے ‘ان کی لاشوں کے ساتھ ہونے والے اس سلوک کی تصویریں ساری دنیا کے سامنے پیش بھی کر رہا ہے۔
برما کا صدر انسانوں کے بنائے ہوئے اس مذہب کا پیروکار ہے جس کی بنیاد ہی اخوت ومحبت پر رکھی گئی تھی۔لیکن برمی مسلمانوں کے تعلق سے اس کے خیالات سننے کے بعد اسے انسان توکیا بلکہ آدم خور درندوں کا سرغنہ کہنے سے بھی دل کو سکون نہیں ملتا۔روئے زمین پر کون سا ملک ایسا ہے کہ جس کے شہریوں میں دوسرے مقامات پر پیدا ہونے والے انسان بھی شامل نہ ہوں۔امریکہ‘برطانیہ‘جرمنی‘اٹلی’جاپان‘انڈونیشیااورملیشیا جیسے ممالک میں بھی خالص انہی ملکوں کی آبادی نہیں ملے گی۔خود ہندوستان میں تو نیپال کے شہری آج بھی اس طرح آکرآبادہوجاتے ہیں کہ جیسے یہ انہی کا ملک ہو اور ان کے آباواجدا دنے اس کی تعمیر میں حصہ لیا ہو۔کون سے ملک میں اپنے شہریوں کے ساتھ یہ سلوک کیا جاتا ہے جیسا برما کے مسلمانوں کے ساتھ کیا جارہا ہے۔مذکورہ بالا تمام ممالک میں ایک دوسرے کے شہری بھی آباد ہوگئے ہیں اور کسی کے ساتھ ایسی زیادتی روا نہیں رکھی جاتی۔پھر دنیا برما کے ان انسانوں پرظلم کے خلاف کیوں آواز نہیں اٹھاتی؟ایک سوال جو ابھی تک کسی عالمی طاقت یا بین الاقوامی پلیٹ فارم نے برمی حکومت سے نہیں کیا ہے ‘یہ ہے کہ آخر ا ن برباد حال انسانوں سے خطا کیاسرزد ہوئی ۔چند سو یا چند ہزار لوگوں سے غلطی ہونے اور انہیں سزا دینے کی بات کو تسلیم کربھی لیں تب بھی لاکھوں لوگوں سے آخر کیا غلطی ہوئی ہوگی؟برما کے معاملہ میں شاید عالمی طاقتیں اس لئے دلچسپی نہیں لے رہی ہیں کہ بہ حیثیت ملک خود برما بھی عالمی نقشہ پرپسماندہ اور قلاش ملک ہے۔ظاہر ہے وہاں کے مسلمانوں کا حال تو اور بھی برا ہوگا۔ایسے میں کون ان غریب اور مفلوک الحال انسانوں کیلئے ایسے ملک میں مداخلت کرے گا جہاں حاصل کرنے کیلئے ’کچھ‘بھی نہیں ہے۔برما کے مسلمانوں کی بدقسمتی کی انتہایہ ہے کہ دو دہائی قبل انہوں نے جس ’خاتون جمہوریت‘کو اپنا سمجھ کر ووٹ دیا تھا آج وہ بھی انہیں اپنا کہتے ہوئے جھجک رہی ہے۔
تاریخی عرب ملک ’شام ‘کا معاملہ تو اور بھی عجیب وغریب ہے۔اظہار رائے اور انتخاب کی آزادی کا جمہوری اور شرعی حق مانگنے کی جرات کرنے والے شامی شہریوں کو جس شدت کے ساتھ بددین آمرحافظ الاسدنے کچلا تھا اس سے بھی زیادہ شدت کے ساتھ آج اس کا بیٹاان بے گناہ نفوس تک کو کچل رہا ہے جن کا جمہوری مطالبہ میں کوئی عمل دخل بھی نہیں۔بھلا دواور تین سال کے معصوم بچوں نے بشارالاسد سے کیا مانگ لیا تھا؟ان نقاب پوش بچیوں نے آخر کیا مطالبہ کردیا تھا جنہوں نے اپنے گاؤں اور قصبات سے کبھی باہر نکل کر نہیں دیکھا۔ان لرزتے کانپتے بوڑھوں نے کیسی بغاوت کردی تھی جن کے اندر اب مسجد اور گھرکے سواکہیں اور آنے جانے کی ہمت بھی نہیں ہے۔بشار الاسد کے جابر باپ نے تو دس ہزار ’اخوان‘ کو بلڈوزروں سے کچل دیا تھا لیکن خوداس نے اب تک 30ہزار شہریوں کو ہلاک کردیا ہے جن میں بڑی تعداد انہی بچوں‘ بوڑھوں اور نوجوان عورتوں کی ہے۔عراق پر چڑھائی کا فیصلہ کرنے میں اقوام عالم کو کیا اتنا ہی وقت لگا تھا؟اور کیا عراق کے سابق صدر صدام حسین نے اپنا اقتدار باقی رکھنے اور مخالفین کو خاموش کرنے کیلئے اتنی ہی تعداد میں اپنے شہریوں کو ہلاک کروایا تھا؟عراق پر چڑھائی اور اس کی بربادی کے واحد جوازکے طورپر’عوامی تباہی والے ہتھیار‘کے قصے پیش کئے گئے تھے۔ لیکن حیرت ہے کہ آج تک ایسا ایک بھی ہتھیار نمودار نہیں ہوسکا ہے۔جبکہ شام میں نہتے اور امن پسند شہریوں کا خون بہاکر دجلہ وفرات کے بہتے پانی کو شرمندہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ایک سوال اور نمودار ہوا ہے کہ ایسے میں جب بشارالاسد کی فوج دوردراز کے قصبات میں جاکر گھروں میں لوگوں پربمباری کررہی ہے ‘کیسے کابینہ کے اجلاس میں باغی گھس کر وزیر دفاع اور دوسرے اعلی حکام کو ہلاک کردیتے ہیں؟
روس اور چین انہی ممالک میں شامل ہیں جو فلسطینیوں پراسرائیل کے مظالم کے خلاف پیش ہونے والی ہر قرارداد کو مسترد کردیتے ہیں۔اب وہ بشار الاسد کے خلاف پیش ہونے والی تجویز کو ویٹو کر رہے ہیں۔آخر اسرائیل اور شام میں ہونے والے ان مظالم میں روس اور چین کیلئے کیا قدر مشترک ہے؟روس کا شیوہ ہمیشہ ’بلیک میلنگ ‘کا رہا ہے۔ایران کے ساتھ امریکی چشمک کے معاملہ میں وہ بظاہر ایران کا ساتھ دیتا ہے لیکن واقعہ یہ ہے کہ وہ ’میز کے نیچے سے‘اس کی قیمت بھی وصول کرتا ہے۔اس کو یوں سمجھئے کہ ۱۹۹۸میں جب میں عراق کے دورہ پر تھا تو روس کا وزیر خارجہ صدام حسین سے ملنے کی خاطر ایک ہفتہ سے بغداد کے ایک ہوٹل میں ٹھہراہوا تھا۔میں نے ایک اعلی افسر سے پوچھا کہ روس تو عراق کا ساتھی ہے ‘پھر اس کے وزیر خارجہ کو اتنا انتظار کیوں کرایا جارہا ہے؟تو اس نے بتایا تھا کہ وزیر خارجہ روسی حمایت کی قیمت وصول کرنے آیا ہے۔صدام حسین کا عراق ‘ امام خمینی کے ایران سے نظریاتی اور سیاسی طورپربالکل مختلف تھالیکن روس نے بیک وقت دونوں سے دوستی ’گانٹھ ‘رکھی تھی۔یہ دونوں مسلم ممالک ایک دوسرے کے دشمن تھے لیکن روس دونوں کا دوست تھا۔آج اگر شام میں محض ۱۲فیصد علویوں کی جابر حکومت ۷۴فیصد سنیوں پر مظالم ڈھارہی ہے تو روس وہاں ظالم حکمراں کا ساتھ دے رہا ہے۔چین اور روس ‘بشارالاسد کا ساتھ اس لئے بھی دے رہے ہیں کہ موخرالذکر کا اسلامی شعائرسے کوئی لینا دینا نہیں اور وہ کمیونزم کے زیادہ قریب ہے۔عزت سادات کو تمام ممکنہ خطرات مول لے کر یہ کہنے میں مجھے کوئی تکلف نہیں کہ اتنا ظلم تو نہتے فلسطینیوں پر اسرائیل نے بھی نہیں ڈھایا ہے لیکن فلسطینیوں کی خاطراسرائیل سے نفرت کا دعوی کرنے والا ایران ‘شام کے ان بے کس وبے بس مسلمانوں کی خبر گیری کی بجائے اس بشارالاسد کا ساتھ دے رہا ہے جس کو وہاں کی اکثریت ‘جھوٹا‘مکار‘فریبی‘قاتل اور قصاب تک کہہ کر پکار رہی ہے۔
اس موقع پر ایک اور فطری سوال ذہن کو مہمیزلگاتاہے۔آخراتنے سارے عرب ممالک ‘شام کے مسلمانوں کو مرتا کٹتا کیسے دیکھے جارہے ہیں؟کیوں وہ ان کی مددکو نہیں آتے؟کیوں عرب لیگ کو اقوام عالم کا انتظار ہے؟اور کیوں وہ اپنے طور پر بشارالاسد کے خلاف مشترکہ کارروائی نہیں کرتی؟شاید اس کا بڑا سبب یہ ہے کہ اکثر عرب ممالک میں آمریت ہے۔وہاں جمہوری طورپرمنتخب حکمراں بہت کم ہیں۔جمہوریت جہاں ہے بھی وہاں تماشا زیادہ ہے حقیقت بہت کم ہے۔ایسے میں خود انہیں بھی آج نہیں تو کل ایسی ہی عوامی بے چینی کے اٹھنے کا خوف ہے۔اس لئے وہ ظالم بشارکے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرنا چاہتے۔لیکن وہ بھولے ہوئے ہیں کہ مظلوموں کی آہ براہ راست عرش تک جاتی ہے۔خالق کائنات اپنی سنت کے مطابق ظالموں کو ڈھیل دے کر تماشائیوں کا امتحان لیتا ہے۔اور جب اس کی پکڑ آتی ہے تو پھرکوئی طاقت اس سے نہیں بچ سکتی


-- 
M Wadood Sajid
Editor-in-chief
Inquilab

مذہبیت، ادبیت اور ندا فاضلیت

مذہبیت، ادبیت اور ندا فاضلیت

مصنف : اشعر نجمی                                              سہ ماہی اثبات، شمارہ ۹


اردو برصغیر کے سب مسلمانوں کی زبان تھی نہ ہے۔ بنگالی مسلمان بنگالی بولتا ہے۔ گجراتی، گجراتی زبان بولتا ہے۔ مدراس کا مسلمان تمل کو ہی شیرینی اور لطافت سے بھرا ہوا مانتا ہے۔ پاکستان میں بنگلہ دیش کا وجود اسی لسانی اختلاف کا ثبوت ہے۔ اردو بھلے ہی دو قومی نظریہ میں شامل کردی گئی ہو لیکن اس حقیقت سے شاید انکار ممکن نہیں کہ ہندوستان میں اردو کا بھی وہی علاقہ ہے جو ہندی سے ہم رشتہ ہے۔ اس کے آگے پیچھے بہت سی اور زبانیں بھی ہیں جن میں ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سب کی حصہ داری ہے۔ اردو کو کسی ایک مذہب کی میراث سمجھنا پھر سے اس لسانی تعصب کو ہوا دینے کے مترادف ہے جو وقت کے ساتھ بتدریج کم ہوتا جارہا ہے۔
(ندا فاضلی،ماہنامہ "تحریر نو" ، ممبئی، شمارہ: 16، صفحہ 62)
ادب دراصل ادب کے پڑھنے یا لکھنے والے کو مذہب سے نہیں مذہبیت سے دور کرتا ہے۔ کیوں کہ ادب انسانی برادری کو فرقوں کے تفرقوں میں نہیں بانٹتا۔۔۔
۔۔۔انسانی دردمندی ہی ہر مذہب کی روح ہے۔ یہی مذہب جب رسمیات کے پنجرے میں قید ہوجاتا ہے تو وہ مذہب سے مذہبیت میں منتقل ہوجاتا ہے۔ میر کے ہم عصر شاعر قائم چاند پوری نے اپنے ایک شعر میں مذہب اور مذہبیت کے فرق کو یوں ظاہر کیا ہے:
ٹوٹا جو کعبہ کون سی یہ جائے غم ہے شیخ
کچھ قصر دل نہیں کہ بنایا نہ جائے گا
ندافاضلی پڑھے لکھے شاعر ہیں ، لہٰذا ان کے غور و فکر کا دائرہ وسیع ہے لیکن اس کے باوجود وہ بہرحال ایک شاعر ہی ہیں۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کی نثر میں بھی ان کی شاعرانہ شخصیت منعکس ہوتی نظر آتی ہے جس کا خالص تنقیدی یا تجزیاتی اسالیب سے بظاہر کوئی رشتہ بھی نظر نہیں آتا۔ لیکن ایسی تخلیقی نثر کی سب سے بڑی خرابی یہ ہوتی ہے کہ وہ سنجیدہ مکالمہ قائم کرنے میں ہمارا ساتھ زیادہ دور تک نہیں دے پاتی بلکہ یہ خود کو نظری اور تعبیری محاکمے میں بھی تاثراتی فضا بندی تک محدود رکھتی ہے۔اگرچہ ندافاضلی اختلاف رائے کے جمہوری حق پر پابندی لگانے کے خلاف ہیں لیکن وہ دوسری جانب مدیروںکو "ناقدین کے اختلاف کے اکھاڑے " سے دور رہنے کی تلقین بھی کرتے ہیں۔ لیکن تنقیدی کشتی اور مراسلے کی ہاتھا پائی کے درمیان وہی فرق ہے جو باکسنگ اور محلے کی عورتوں کی "تُو تُو میں میں" کے بیچ ہے۔ اب چونکہ خاکسار زور قلم سے کم اور زور بازو سے زیادہ لکھتا رہا ہے ، لہٰذا زیر جامہ ہمیشہ لنگوٹ کسے رہنا عادت سی بن گئی ہے، کیا پتہ کب اکھاڑے سے بلاوا آجائے۔ یوں بھی اپنی حریص طبیعت "دھوبی پچھاڑ" سے کم پر سیر نہیں ہوتی۔ اپنے محبوب ترین شاعر ندا فاضلی پر یہ تحریر رقم کرتے ہوئے مجھے قطعی کوئی افسوس نہیں کیوں کہ بقول وارث علوی، تنقید اسی پر وار کرتی ہے جسے وہ پسند کرتی ہے اور جنھیں وہ پسند نہیں کرتی، انھیں اپنے منھ نہیں لگاتی۔
معاصر ماہنامہ "تحریر نو" (پنویل، ممبئی )کے شمارہ نمبر 15 کے اداریے میں مدیر (ظہیر انصاری) نے اردو کا رشتہ مذہب سے جوڑتے ہوئے اسے دوسری قوموں کے مقابلے مسلمانوں سے زیادہ قریب بتایا تھا کیوں کہ بقول مدیر، اس زبان سے مسلمانوں کی" عقیدت کی حد تک چاہت کی وجہ اس کا رسم الخط ہے جو عربی کے مماثل ہے" اور یہ کہ ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ان کا مذہبی اثاثہ اسی زبان میں سب سے زیادہ دستیاب ہے ۔ ظہیر انصاری نے اپنے اسی اداریے میں ایک اورسوال اٹھایا تھا کہ ہمارے بیشتر ادیب مذہب بیزار پائے جاتے ہیں تو "کہیں ادب اور مذہب میں تضاد تو نہیں بالخصوص برصغیر کے مسلمانوں میں؟"۔ اگرچہ مکمل اداریے سے میں بھی متفق نہیں (جس کا اظہار میں براہ راست مدیر سے کرچکا ہوں) لیکن محولہ بالا دونوں سوال خود میرے لیے غور وفکر کے محرک رہ چکے ہیں بلکہ ثانی الذکر مسئلے پر تومیں سہ ماہی "اثبات" کا ایک اداریہ بھی رقم کرچکا ہوں۔
ظاہر ہے کہ ظہیر انصاری کے اس دو ٹوک اور راست بیانی پر مختلف ردعمل ہونے تھے، سو ہوئے۔ سب سے دلچسپ مکتوب ندافاضلی کا تھا جو صرف اپنے مکتوب نگار کی ہی فکری نمائندگی نہیں کرتا بلکہ دانشوروں کے اس طبقے کی بھی نیابت کرتا ہے جس کی جانب فاضل مدیر نے اشارہ کیا تھا۔ لہٰذا اس مضمون کا محرک بلاشبہ ندافاضلی ہی کا وہ مختصر مکتوب ہے لیکن میراروئے سخن صرف ان کی طرف نہیں بلکہ ان تمام دانشوروں اور ادیبوں کی جانب بھی ہے جو مذہب کی خودساختہ ادبی تعبیر پر ہمیشہ مصر رہتے ہیں۔
لیکن اس سے قبل میں اردو اور برصغیر کے مسلمانوں کے رشتے پر بھی کچھ خامہ فرسائی کرنے کی اجازت چاہتا ہوں۔ ندافاضلی کا یہ کہنا کہ اردو برصغیر کے تمام مسلمانوں کی زبان تھی نہ ہے، درست ہے۔ لیکن ان کا یہ اصرارکہ ہندوستان میں اردو کا بھی وہی علاقہ ہے جو ہندی سے ہم رشتہ ہے ، مجھے اسے تسلیم کرنے میں تامل ہے کیوں کہ اعداد و شمار کچھ اور کہتے ہیں۔ گذشتہ دنوں حیدرآباد کے رہنے والے اور پیشے کے اعتبار سے Architect عمر خالدی کا، جو مشہور زمانہ ادارے میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹکنالوجی (M.I.T)میں پروفیسر تھے، انتقال ہوگیا۔ انھوں نے تن تنہا ہندوستان میں اردو کی حالت کا جائزہ لیا تھا ۔ یہ کام ایسا تھا کہ پورے پورے ادارے بھی انجام نہیں دے سکے ہیں۔ عمر خالدی کی رپورٹ کو سامنے رکھا جائے تو درج ذیل نقشے سے علم ہوگا کہ ان پانچ ریاستوںمیں اردو پڑھنے والوں کی تعداد کیا ہے جہاں مسلم آبادی سب سے زیادہ ہے۔
ریاست = اردو بولنے والے = ابتدائی اور ثانوی اسکولوں میں بچوں کی تعداد
مہاراشٹر = انہتر لاکھ = نو لاکھ تریپن ہزار اٹھائیس
بہار = پچانوے لاکھ = آٹھ لاکھ چوہتر ہزار پانچ سو انتیس
کرناٹک = پچپن لاکھ = چار لاکھ تہتر ہزار تین سو چوراسی
آندھرا پردیش = چھیاسٹھ لاکھ = تین لاکھ گیارہ ہزار سترہ
اترپردیش = ایک کروڑ تینتیس لاکھ = ایک لاکھ اٹھائیس ہزار بانوے
ان اعداد سے صاف ظاہر ہے کہ اردو خواندگی کا حال مہاراشٹر میں سب سے بہتر ہے جب کہ اترپردیش کا حال سب سے بدتر ہے۔ ندافاضلی کے دعوے کے اعتبار سے اترپردیش کو اول اور بہار کو دوم ہونا چاہیے تھا جب کہ مہاراشٹر اردو خواندگی کے معاملے میں اول ہے ، حالاں کہ اردو بولنے والوں کی تعداد کے اعتبار سے یہ تیسرے نمبر پر ہے۔ پھر کرناٹک اور آندھرا پردیش بھی اردو خواندگی کے معاملے میں اترپردیش سے اوپر ہیں جو بقول ندافاضلی اردو کے علاقوں میں شمار نہیں ہوتے کیوں کہ یہ ہندی سے ہم رشتہ نہیں ہیں۔
بالفرض محال یہ تسلیم کر بھی لیا جائے کہ اردو تمام ہندوستانی مسلمانوں کی زبان نہیں ہے تو سوال اٹھتا ہے کہ کیا ان علاقوں میں غیر مسلم اردو سے ویسی ہی عقیدت رکھتے ہیں جس کی جانب مدیر نے اپنے اداریے میں کیا ہے؟ 'عقیدت' بہت بڑا لفظ ہے، میں اسے 'دلچسپی' جیسے بے ضرر لفظ سے بدل دیتا ہوں لیکن تب بھی مایوسی ہی ہاتھ لگتی ہے۔ مجھے اردو کی عظیم گنگا جمنی روایت یاد دلانے کی ضرورت نہیں کیوں کہ میں موجودہ صورت حال کی بات کررہا ہوں اور اس کا نظارہ ان علاقوں میں بخوبی کیا جاسکتا ہے جن کی نشاندہی اوپر کردی گئی ہے۔ مثلاً آپ کسی صبح ان علاقوں کے کسی اخبار کے اسٹال پر خاموشی سے کھڑے ہوکر یہ دیکھیں کہ کتنے غیر مسلم حضرات اردو اخبارخریدتے ہیںتو یقینا اس کے نتیجے سے ندافاضلی کو بھی مایوسی ہوگی اور شاید یہی سبب ہے کہ اردو اخباروں نے بھی اپنی توجہ صرف اپنے Target Readers یعنی مسلمانوں تک محدود کردی ہے جو ظاہر ہے تجارتی اور اخلاقی اعتبار سے درست بھی ہے۔ اگر آپ اپنی مزید ایک اور صبح خراب کرنے کو تیار ہوں تو پھر کسی اردو اسکول کا چکر لگا آئیے۔ اس اسکول کے غیر مسلم طلبا کے اعدادوشمار کا جائزہ لیجیے اور خود سے ایک سوال کیجیے کہ ان اردو اسکولوں میں جو مخدوش علاقوں کی طرح ہوتے جارہے ہیں، وہاں کس فرقے کے لوگوں نے اب تک اپنے جگر گوشوں کو بھیجنا بند نہیں کیا ہے؟ بقول وارث علوی ، تہذیب و تمدن کی برکتوں سے محروم، فلاکت کا مارا ہوا، فرقہ وارانہ نفرت کا ہدف، فسادات کا صید زبوں ، تعصبات و تنگ نظری کا شکار، سیاسی پارٹیوں کا ووٹ بینک، سیاسی و مذہبی دباؤ تلے جینے والے غریب و متوسط طبقے کے وہ مسلم بچے ہی آپ کو ملیں گے جو اردو اسکولوں میں روزانہ قتل ہونے کے لیے جاتے ہیں۔ہمیں کافی دنوں تک اس بات کا گمان رہا (اور شاید ندافاضلی اور ان کے ہم خیالوں کو اب بھی ہے) کہ اردو ہندوستان کی مشترکہ میراث ہے لیکن ہم یہ نوٹس کرنا بھول گئے کہ اس ورثے سے دوسرے کب کا دستبردار ہوچکے ہیں۔جو تھوڑے بہت بچے ہیں، ان کے بعد تو بس اللہ ہی اللہ ہے۔ لیکن اس کے برخلاف آج بھی مسلمانوں کا ایک خاص طبقہ اپنی اپنی استعداد کے مطابق اس کی حفاظت اپنی جان اور ایمان کی طرح کررہا ہے۔ ندافاضلی یقینا اسلامی مدرسوں کے وجود سے بہت زیادہ خوش نہیں ہوں گے لیکن کیا وہ اس بات کے بھی منکر ہیں کہ ان مدرسوں نے اردو کے تحفظ میں فعال کردار ادا کیا ہے اور کررہے ہیں۔ میرے خیال میں اس کا سب سے اچھا تجربہ تو خود ندا کو ہی ہونا چاہیے کیوں کہ وہ یقینا ہندوستان کے بہت سے ایسے علاقوں میں بھی مشاعرے پڑھتے ہوں گے جہاں اردو کے چند بوڑھے پرستاروں اور تفریح کے شوقین چند نوجوانوں کے علاوہ ایک بڑی تعداد ان مدرسوں کے طالب علموں کی ہی ہوتی ہے۔ اردو کو مذہبی حوالوں سے علیحدہ کرکے دیکھنا جذباتی عمل تو ہوسکتا ہے جس پر سامعین اور قارئین سے تالیاں پٹوائی جاسکتی ہیں لیکن حقیقت یہی ہے کہ اس کی آبیاری جس عقیدت سے مسلمان کررہا ہے ، وہ دراصل صرف ایک جذباتی انسلاک کے سبب نہیں ہے بلکہ اس کے پس پشت تاریخی عوامل بھی کارفرما ہیں۔
ہندوستان میں اردو صرف ایک زبان نہیں بلکہ لسانی اعتبار سے اسے مسلمانوں کی شناخت تسلیم کرلیا گیا ہے۔ جرمن اسکالرMarc Gaborieau نے ہندوستان ہی نہیں بلکہ اسے برصغیر کی اسلامی زبان سے تعبیر کیا ہے۔ دوسرے اسکالرز مثلا Troll ، Pearson اور Lelyveld بھی یہی کہتے ہیں۔ اتنا ہی نہیں بلکہ مولوی عبدالحق نے اس زبان کی ارتقا میں صوفیوں کے رول کو کافی اہم قرار دیا ہے، جب کہ ایوب قادری نے اردو نثر کے فروغ میں مسلم علما کے کارناموں کو سراہا ہے۔ بلاشبہ عربی کے برعکس اور فارسی کی طرح اردو کوئی مقدس زبان نہیں لیکن یہ ہندوستان میں اسلامی تہذیب کی نمائندہ رہ چکی ہے جس پر گفتگو کے لیے علیحدہ مضمون کی ضرورت ہے ۔ یہاں یہ جاننا کافی ہوگا کہ ہندوستان میں اردو کے تاریخی نشیب و فراز میں مسلمانوں نے اسے "اسلامی زبان" کے طور پر ہی استعمال کیا، لہٰذا مسلمانوں کے اجتماعی لاشعور میں اس زبان کی محبت، عقیدت کی سطح پر موجود ہے جس کی جانب مذکورہ ماہنامہ کے فاضل مدیرنے اشارہ کیا تھا۔ اب اگر بنگالی مسلمان بنگلہ بولتا ہے یا گجراتی مسلمان گجراتی میں بات کرتا ہے تب بھی اردو کے لیے اس کے دل میں ایک نرم گوشہ ضرور موجود ہے۔ اس سلسلے میں ایک مزے دار واقعہ یاد آگیا۔ ایک پاکستانی مسلمان جب حج کے لیے بیت اللہ پہنچا تو اس نے دیکھا کہ بیت الخلا کی دیوار پر عربی میں کچھ ہدایات درج ہیں۔ اس نے یہ جاننے کی کوشش نہیں کی کہ کیا لکھا ہے بلکہ اس کے غم وغصے کے لیے یہی کافی تھا کہ عربی جیسی" مقدس زبان" بیت الخلا میں کیسے لکھی جاسکتی ہے۔ یہی حال ہندوستانی مسلمانوں کا ہے۔ وہ اردو سے واقف ہوں یا نہ ہوں، اس کے لیے ان کے دل میں عقیدت و احترام ہمیشہ موجود رہتے ہیں۔ پھر ہمیں یہ بھی نہیں بھولنا چاہیے کہ جس طرح زبانیں "مذہبیائی" جاتی ہیں، اسی طرح زبانوں کو سیکولرائز بھی کیا جاسکتا ہے، آخرترقی پسندی اور جدیدیت کی تحریکات کے زیر اثر اردو بھی تو سیکولرائز ہوئی ہے۔شاہنواز فاروقی نے اس ضمن میں کتنے اہم نکتے کی جانب ہماری توجہ مبذول کرائی کہ یہ جو اردو کا رسم الخط بدلنے کی تحریک وقتاً فوقتاً سر اٹھاتی رہی ہے، اس کا پس منظر بھی یہی ہے۔ اس تحریک کی پشت پر موجود عناصر اچھی طرح جانتے ہیں کہ اردو کا اسکرپٹ بدل کر وہ اس کا مذہبی حوالہ کمزور کردیں گے،بالکل اسی طرح جس طرح ترکی زبان کو رومن رسم الخط میں لایا گیا تو کمال اتاترک کے سیکولرازم کو جڑیں پکڑنے اور توانا ہونے میں بڑی مدد ملی۔ عیسائیت کی تاریخ پر اس کے عبرانی سے کٹ کر رہ جانے کا جو اثر ہوا ہے وہ سامنے کی بات ہے۔ یہاں تک کہ لاطینی سے دور ہو کر عیسائیت کی مذہبیت کا بڑا حصہ زائل ہوگیا۔ انگریزی میں بائبل پڑھنا ترجمے کا ترجمہ پڑھنے کے مترادف ہے اور اس کے معنی اور مضمرات عیاں ہیں۔ اردو زبان کے تین بڑے چشمے ہیں: عربی، فارسی اور ہندی۔ اردو ان میں سے کسی سرچشمہ سے بے نیاز نہیں لیکن جو لوگ اردو کو ہندی سے زیادہ قریب اور عربی و فارسی سے قدرے دور کرنا چاہتے ہیں، وہ بھی اردو کے مذہبی حوالے کو کمزور کرنے کے سوا کچھ نہیں کرنا چاہتے۔ دیکھیے بات کہاں سے چلی تھی اور کہاں پہنچ گئی لیکن ایسے موضوعات کو ندا فاضلی صرف قائم چاند پوری کے شعر سے نپٹانا چاہتے ہیں جو ممکن نہیں ہے اور نہ ہی ان کی تخلیقی نثر اس سلسلے میں ہماری کچھ زیادہ مدد کرسکتی ہے۔فی الحال اس موضوع کو یہیں تشنہ چھوڑ کر ہم ندافاضلی کے دوسرے بیان پر آتے ہیں جس میں انھوں نے مذہب اور مذہبیت کی تفریق سمجھانے کی کوشش کی ہے۔
اس ضمن میں سب سے پہلی بات تو یہ کہ ندا فاضلی اب تک اسی نوالے کو چبا رہے ہیں جو ایک مدت سے ہمارے ترقی پسند احباب اگلتے رہے ہیں۔ صرف ندا فاضلی ہی نہیں بلکہ آج بھی ہمارے پڑھے لکھے ادیبوں کا ایک بڑا حلقہ ایسا ہے جن میں مذہب سے بیگانگی کا رویہ عام ہے اور اسے روشن خیالی کی دلیل سمجھا جاتا ہے۔'روشن خیال' کہلانے کا یہ چسکا اتنا بڑا ہے کہ اسے ہمارا نام نہاد دانشوروں کا ایک مخصوص طبقہ گنوانا نہیں چاہتا، چنانچہ گاہے گاہے وہ اس پر اپنی تاویلات پیش کرتا رہتا ہے۔ ندافاضلی نے بھی مذہب اور مذہبیت کو ایک دوسرے سے علیحدہ کرکے جو پیش کرنے کی کوشش کی ہے ، اسے بھی اگر "حیلۂ شرعی" کی ذیل میں رکھا جائے تو کچھ اتنا غلط نہ ہوگا ۔ ظاہر ہے کہ وہ مذہبیت سے مراد رسومیات سے لے رہے ہیں اور مذہب کو وہ صرف روحانیت سے تعبیر کرتے ہیں۔ ایک ندافاضلی کیا ، اکثر مسلم معاشروں میں ایک طبقہ تصوف کا ذاتی تصور رکھتا ہے۔ اس طبقے کا خیال ہے کہ مذہب کو رسومات سے کیا کام؟ مذہب تو ایک باطنی احساس ہے اور اصل چیز یہی ہے اور اسے عقائد و عبادات اور اخلاقیات کے کسی نظام سے وابستہ کرنا درست نہیں۔ چنانچہ اس تصور کے حامل اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ نماز روزہ کے بغیر بھی ان کی زندگی میں کوئی کمی واقع نہیں ہوتی۔ اس سلسلے میں وہ بعض غیر مستند صوفیوں کے احوال اور ان کے افکار کی مثالیں بھی پیش کرتے ہیں۔ لیکن یہ تصور سرتاپا گمراہی ہے اور اس کا تصوف کی اصل روایت سے کوئی علاقہ نہیں۔ حضرت مجدد الف ثانی ؒ صوفیوں کے صوفی ہیں مگر ان کی زندگی میں شریعت کی اتنی سخت پابندی ہے کہ بعض علما کے یہاں بھی یہ اہتمام نہیں ملتا۔ امام غزالی ؒ اور شاہ ولی اللہ ؒ کی فکر اور زندگی کا غالب عنصر بھی تصوف ہے لیکن یہ ہستیاں عقائد وعبادات، اخلاق و کردار اور اعمال و افعال میں حسن کاری یا احسان کے بلند ترین مرتبے پر فائز ہیں ۔ یہ مثالیں تو خیر بڑی ہیں لیکن اوسط اور نچلے درجے پر بھی صورت حال ان سے مختلف نہیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تصوف کے دائرے میں جو بے عملی کے نام سے سیکولر روش تلاش کی جاتی ہے، حقیقت میں اس کا کوئی وجود نہیں۔ پھر یہ بھی یاد رکھیے کہ دنیا کے مختلف معاشروں میں مذہبیت کے اظہار کے مختلف اسالیب موجود ہیں اور ان اسالیب کے وہاں کے معروضی حالات سے گہرا تعلق ہے۔ اس سلسلے میں تاریخی تجربوں اور ثقافتی اوضاع کا کردار بھی اہم ہے۔
ندا فاضلی ہوں یا کوئی اور ، دراصل یہ طبقہ مذہب اور روحانیت یا Religion اور Spirituality میں فرق کرتا ہے لیکن یہ فرق کیا ہے؟ اس کی وضاحت دشوار ہے۔ آسانی کے لیے اتنا سمجھ لیجیے کہ مذہب ان کے نزدیک ایک منظم روحانیت Organised Spirituality اور روحانیت ان کے لیے ایک بے چہرہ، ڈھیلا ڈھالا، غیر منظم، بے ضابطہ یا Unorganised Religion ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے کچھ دانشور حضرات ہندو ازم اور بدھ ازم میں پناہ ڈھونڈتے ہیں کیوں کہ انھیں اسلام بہت عملی (Practical) نظر آتا ہے لہٰذا اس کا یہ مطلب نکالا گیا کہ اس مذہب میں بھلا روحانیت کیسے ہوسکتی ہے، اس میں یا تو روحانیت ہے ہی نہیں اور ہے بھی تو بہت کم۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ اسلام سے زیادہ منظم اور مربوط مذہب روئے زمین پر موجود نہیں۔ الٰہیات سے لے کر سونے جاگنے تک کے معاملات میں یہ ایک مکمل کائنات ہے۔ اس میں کمی وبیشی کا امکان بھی نہیں۔ لہٰذا ہمارے دانشوروں کو بھلا اسلام میں کیا کشش ہوسکتی تھی۔ اس کے برعکس ہندوازم اور بدھ ازم منظم ہونے کے باوجود اپنی تنظیم پر اصرار نہیں کرتے۔ یہاں گیان دھیان، ایک طرح کے مراقبے اور جاپ سے کام چل جاتا ہے۔ چنانچہ یہ اتفاق نہیں کہ مغرب میں ہپیوں کی تحریک چلی تو وہ چرس اور گانجے کے نشے میں ہرے کرشنا اور ہرے راما کا جاپ کرتے نظر آئے۔ یہ ایک طرح کا جعلی روحانی معاشقہ یا Spiritual Flirt تھا جسے ناکام ہونا ہی تھا۔
اس کے علی الرغم منظم مذہب ایک مکمل طرز فکر اور کامل طرز حیات ہے۔ اس کے عقائد ہیں، عبادت اور اخلاقیات کا نظام ہے اور اس میں وہ چیز ہے جسے ہمارے کچھ دانشور آج بھی حقارت سے "مذہبیت" کہتے ہیں جب کہ اس میں غضب کی ضابطہ بندی ہے۔ مثلاً اس دائرے میں خیر وشر کے طے شدہ تصورات ہیں۔ حلال و حرام کا واضح تصور ہے جس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں۔ مذہب کا یہ تصور آج بھی بیشتر اہل دانش کو بار لگتا ہے اور وہ اسے ظاہر پسندی کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ مگر یہ ظاہر پسندی اسلامی روحانیت کا خارج ہے جو باطن کو متعین کرتا ہے۔ چنانچہ اس کے مقابلے پر ہمارے نام نہاد دانشوروں کو روحانیت پر کشش محسوس ہوتی ہے کیوں کہ اس میں کوئی ذمہ داری نہیں، اور ہے بھی تو برائے نام۔ چنانچہ آپ اس روحانیت کے ساتھ بڑی حد تک اپنی "پسند" کی زندگی گذار سکتے ہیں اور اس سے روحانیت پر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہ نام نہاد روحانیت دنیا کو بدلے بغیر اس کے ساتھ چلنے کا ایک فن ہے۔
یہ جو ندافاضلی اپنے مراسلے میں مذہب اور مذہبیت کی تفریق کی بنیاد پر انسان دوستی کی عمارت کھڑی کرنی کی کوشش کر رہے ہیں، اس کے پس منظر میں بھی اسی نام نہاد روحانیت کا "چکر" موجود ہے۔ مجھے شک ہے کہ ندافاضلی کے نزدیک بھی روحانیت کا وہی رول ماڈل ہے جو مغرب میں چل رہا ہے اور مقبول ہے۔ لیکن انھیں سمجھنا چاہیے کہ ہمارے روحانی تجربات اور ان کی تاریخ، مغرب کے روحانی تجربات اور ان کی تاریخ سے الگ ہے۔ ہم نے ان کی طرح مذہب کو کبھی مسترد نہیں کیا۔ ہماری مذہبی روایت کو ضعف کی شکایت ہو سکتی ہے لیکن یہ ان کی طرح کبھی انقطاع یا Discontinuity کے ہولناک تجربے سے دوچار نہیں ہوئی کیوں کہ ہمارا مزاج ایک Organised Religion کا مزاج ہے ، لہٰذا ہمیں کسی روحانی معاشقے یا Spiritual Flirt کی کوئی ضرورت نہیں۔ انسانی دردمندی کا ڈرامہ تو ویسے بھی کھیلا جاسکتا ہے اور کھیلا جارہا ہے۔ آخر امریکہ نے بھی عراق پر حملہ انسانی دردمندی کے ناطے ہی تو کیا تھا۔ یہاں میرا ایک سوال یہ بھی ہے کہ کیا ندافاضلی یا ان کے ہم خیال یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو لوگ "مذہبیت " سے وابستہ ہوتے ہیں، ان میں انسانی دردمندی نہیں ہوتی؟ یا اسی سوال کو الٹ دیں کہ کیا جن لوگوں کا "مذہبیت" سے واسطہ نہیں ہوتا، وہ سارے کے سارے انسان دوست ہوتے ہیں؟ کیا پیغمبر اسلام کی انسانی درمندی پر کسی کو شک ہے؟ انھیں توبلا تفریق مذہب و ملت" محسن انسانیت "کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے لیکن کیا (نعوذباللہ) وہ ان چیزوں سے آزاد تھے جنھیں ندا فاضلی "رسمیات" یا "مذہبیت" سے تعبیر کررہے ہیں؟ کیا صحابہ کرام، خلفائے راشدین، محدثین، علماو فقہا کی "مذہبیت" نے" انسانی برادری کو فرقوں کے تفرقوں میں بانٹا یااس کے برعکس دنیا کے سامنے ایک مثالی اور غیر جانب دار فلاحی معاشرے کا رول ماڈل پیش کیا؟ یہ سب کے سب بھی مذہب اور مذہبیت دونوں سے وابستہ تھے۔ ندافاضلی کو انسانی درمندی کا حوالہ دیتے ہوئے سکھوں کی مقدس کتاب گروگرنتھ صاحب ،انجیل مقدس کی عبارتیںحتیٰ کہ قائم چاند پوری کا شعر تو یاد رہتا ہے لیکن انھیں نہ تو قرآن کریم کی وہ بے شمار آیتیں یاد آتی ہیں جو حقوق العباد سے عبارت ہیں اور نہ ہی اسلامی تاریخ کے وہ ذریں واقعات انھیں یاد رہتے ہیں جن میں انسان دوستی اور انسانی دردمندی کے بے شمار واقعات بھرے پڑے ہیں جنھیں دوسری قوموں نے اپنا وظیفۂ حیات بنا لیا۔ یہاں مجھے سکندر احمد کی یہ بات درست لگتی ہے کہ Politically Correct لوگ بوتل میں اُگے منی پلانٹ ہوتے ہیں جن کا اپنی زمین سے کوئی تعلق نہیں ہوتا"۔
اب ندافاضلی کی یہ بات کہ ادب انسان کو مذہب سے نہیں مذہبیت سے دور کرتا ہے، تاریخی اور منطقی دونوں اعتبار سے غلط ہے۔ کیا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ جو ادیب مذہبیت سے دور نہیں ہوتا ، وہ ادیب ہی نہیں؟ لیکن الیٹ نے تولوگوں کو عیسائی ادب پڑھنے کی تلقین کی کیوں کہ اس کے قریب وہی عظیم ترین ادب ہے۔ اور پھر صرف الیٹ ہی کیوں، کئی مغربی ادیب اور شاعر عیسائی ادب کے ترجمان رہ چکے ہیں لیکن ذہنی قلاشی کی انتہا یہ ہے کہ انھیں تو آرٹ اور فنون کا بیش بہا نمونہ سمجھ کر قبول کرلیا جاتا ہے لیکن کسی اداریہ میں اسلام کا ذکر سنتے ہی شموئل احمد جیسے حضرات اس میں تضحیک کا پہلو تلاش کرلیتے ہیں۔ سوال اٹھتا ہے کہ یہ دوہرا معیار کیوں؟ پھر مغربی ادب ہی کیوں، مشرقی ادب میں بھی مذہب کا دخل کافی رہا ہے۔ کالی داس کی تصانیف میں "کمار سمبھو" اور "رگھوونش" اہمیت کی حامل ہیں۔ "کمار سمبھو" کا قصہ پرانوں سے مستعار ہے جس میں یہ بیان کیا گیا ہے کہ شیو اور ہمالیہ کی بیٹی پاروتی کا بیاہ کس طرح ہوا۔ دراصل خوبی کالی داس کے اعجاز اسلوب کی ہے جو اس تصنیف کو اعلیٰ معیار بخشتا ہے تو کیا ہم اسے "مذہبیت " کا طعنہ دے کر رد کردیں؟ اسی طرح"رگھوونش" میں کالی داس نے رام چندر جی کے خاندان کی تاریخ بیان کی ہے جس میں تاریخ کے ساتھ ساتھ اس عہد کے تمام تر تہذیبی و ثقافتی عناصر ابھر کر سامنے آگئے ہیں۔ ویدوں اور پرانوں کے قصے بیان کیے گئے ہیں جن کے ساتھ اس عہد کا طرز معاشرت بھی سامنے آگیا ہے۔اس کے علاوہ "میگھ دوت" جو کالی داس کی اہم ترین تصنیف ہے اس میں 112 چوپائیاں ہیںجن میں اس عہد کے دیوی دیوتاؤں کی عظمت و عقیدت اور غلام اور آقا کا تصور ابھر کر سامنے آتا ہے۔ عہد قدیم کی غزل نما شاعری میں سب سے اہم نام بھرتری ہری اور امرو کا ہے۔ بھرتری ہری کی چوپائیوں کے مطالعہ سے شیو پوجا اور اس کے عہد (17 ویں صدی عیسوی) کے تہذیبی، ثقافتی اور مذہبی پہلوؤں پر روشنی پڑتی ہے۔ لہٰذا میں نہیں مانتا کہ ادب انسان کو مذہبیت سے دور کرتا ہے۔ ادبیت ہو یا مذہبیت ، ان کا تعلق ایک شخص کی اس ایمان دارنہ وابستگی سے ہے جو وہ متعلقہ نظام سے رکھتا ہے۔کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی شخص ادیب تو ہو لیکن اس میں ادبیت نہ ہو؟ تو پھر ندافاضلی یا ان کے ہم خیال مذہب کے تعلق سے یہ پیمانہ کیوں مقرر کررہے ہیں کہ ایک شخص مذہبی تو ہو لیکن اس میں مذہبیت نہ ہو۔
جس طرح مذہب کے لیے مذہبیت اور ادب کے لیے ادبیت لازمی ہے، اسی طرح ندافاضلی کی ندافاضلیت ان کے متعدد اشعار کی نمائندگی کرتی ہے جو مذہب سے لاتعلقی کے پیداوار ہیں(جن کی تعداد بھی اچھی خاصی ہے)۔ان اشعار میں انسان دوستی کی نمائش زیادہ اور حقیقی انسانی دردمندی کی بو باس کم ہے۔ دراصل وہ انسان دوستی وغیرہ کو محض مذہبی رویے کی تضحیک کی خاطر استعمال کرتے ہیں جس کا صوفیانہ شاعری کی تاریخ سے بھی دور دور کا واسطہ نہیں کیوں کہ ہمیں رابعہ بصری، فریدالدین گنج شکر، حافظ شیرازی، ابن عربی، جامی، جنید شیرازی، امیر خسرو، مرزا مظہر جان جاناں، رومی اور سعدی وغیرہ جیسے معتبر صوفی شاعروں کی تخلیقات میں مذہبی شعائر سے علیحدگی کا پہلو نظر نہیں آتا بلکہ اس طرح کی شاعری حق الیقین کی ٹھوس بنیادوں پر ہی قائم ہوتی ہے۔ اس کے برخلاف ندافاضلی کے یہاں پورا زور صرف شعائر مذاہب کے ردّ پر مبنی ہے اور یہ ردّ بھی بے جواز اور غیر منطقی ہے۔مثلاً ان کا ایک معروف شعر ہے ؎
گھر سے مسجد ہے بہت دور چلو یوں کرلیں
کسی روتے ہوئے بچے کو ہنسایا جائے
ندافاضلی کے اس شعر کو انسان دوستی کا مظہر کہا جاتا ہے جس پروہ کافی داد پاچکے ہیں۔ لیکن میرے نوجوان شاعر دوست شکیل اعظمی (جو اپنے تازہ شعری مجموعے پر میرے تبصرے کے بعد مجھ سے شدید ناراض ہیں) نے میری توجہ سب سے پہلے اس جا نب منعطف کی کہ یہ شعر انسان دوستی کا استعارہ نہیں بلکہ محض ایک اہم اور بنیادی مذہبی فریضے سے انکار کی حیلہ تراشی ہے۔ سب سے پہلی بات تو یہ کہ دوسرے مصرعے کا پہلا لفظ"کسی" غور طلب ہے یعنی ایسا نہیں ہے کہ متکلم مسجد کے لیے نکلا ہو اور راستے میں اسے ایک روتا ہوا بچہ مل گیا ہو جسے ہنسانے کو وہ نماز پر ترجیح دے رہا ہو بلکہ یہاں یہ معمولی سا لفظ بتا رہا ہے کہ فی الحال کوئی روتا ہوا بچہ وہاں موجود ہی نہیں ہے لیکن چونکہ متکلم نماز پڑھنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہیں ہے، لہٰذا وہ کسی روتے ہوئے بچے کی تلاش میں ہے۔اب اگر کوئی یہ کہے کہ کسی شعر کو پرکھنے کے لیے مذہبی معیار نہیں بلکہ ادبی معیار کی ضرورت ہوتی ہے تو پھر میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ اگر شاعر نے اپنا شعر مذہبی بنیادوں پر ایستادہ کیا ہے تو پھر اس کے استعاراتی یا فنی نظام سے پہلے اس کا محاکمہ بھی انھیں مذہبی نظام کی بنیادوں پر کیا جائے گا۔ چونکہ شعر مذکور کا متکلم بچے کے ہنسانے کو مسجد جانے پر ترجیح دے رہا ہے تو پھر اس کی نیت کا محاسبہ بھی ضرور ی ہوجاتا ہے کہ وہ واقعی مسجد جانا چاہتا ہے یا اس کی دوری کے بہانے اس کا نعم البدل پیش کرکے محض اپنی انسان دوستی کا ڈھنڈورا پیٹنا چاہتا ہے۔ دیکھا آپ نے انسان دوستی جیسی اصطلاحیں اپنے مخصوص افکار کی تشہیر کے لیے اور اپنے مقابل افکار کو زیر کرنے کے لیے کیسے استعمال میں لائی جاتی ہیں۔ اب ان کا یہ شعر دیکھیں ؎
بچہ بولا دیکھ کر مسجد عالی شان
اللہ تیرے ایک کو اتنا بڑا مکان
کبیر نے جب یہ کہا تھا کہ ؎
کنکر پتھر جوڑ کے مسجد لئی بنائے
وا چڑھ ملّا بانگ دے کا بہرو بھیو کھدائے
توممکن ہے کہ اسے یہ معلوم نہ ہو کہ موذن (ملّا) کی اذان (بانگ) خد ا کے لیے نہیں بلکہ اس کے بندوں کے لیے ہوتی ہے جو محض عبادت کے وقت کا اعلان ہے۔ لیکن یہ کیسے مان لیا جائے کہ ندافاضلی کو مسجد کے متعلق یہ علم نہیں کہ لغوی معنی میں یہ اللہ کا مکان نہیں بلکہ عبادت گاہ ہے اور مسجد کو اللہ کا گھر کنایتہ بولا جاتا ہے ۔ اس کے باوجود اگر ندافاضلی اللہ میاں کو one room kitchen میں ہی محصور کرنے کے خواہش مند ہیں تو انھیں اس کا جواز بھی پیش کرنا چاہیے تھا۔ انھیں یہ بتانا چاہیے تھا کہ آخر وہ مسجد پر مفلوک الحالی برستا کیوں دیکھنا چاہتے ہیں۔اقبال نے اسی موضوع کو جب چھوا تو وہاں تشکیک کا پہلو بالکل نہ تھا بلکہ انھوں نے مذہبی منافقت پر کاری ضرب لگائی ۔
مسجد تو بنا لی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
من اپنا پرانا پاپی ہے برسوں میں نمازی بن نہ سکا
اقبال کے اس شعر میں تضحیک نہیں طنز ہے جس میں اصلاح معاشرہ کی واضح جھلک موجود ہے۔ انھوں نے مسجد کے وجود پر سوالیہ نشان لگانے کے بجائے ضعف ایمان کو نشان زد کیا۔ اس کے برخلاف ندافاضلی مسجد کو ہی شک بھری نگاہ سے دیکھنا شروع کردیتے ہیں اور بچے کی زبان سے اپنے من کی بات کہہ جاتے ہیں۔ میں نے 'شک' اور 'تشکیک' جیسے الفاظ کا استعمال اس لیے کیا ہے کیوں کہ ندافاضلی اپنے ایک دوسرے شعر میںخود ہی مسجد کے وجود کی وضاحت بھی کردیتے ہیں۔
مسجدیں ہیں نمازیوں کے لیے
اپنے گھر میں کہیں خدا رکھنا
لیجیے صاحب! اللہ میاں کا وہ عالی شان مکان اب نمازیوں کے لیے مخصوص ہوگیا۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ندافاضلی شعری تقاضوں کی بنیاد پر مذہبی نشانیوں کے استعمال میں اپنی ترجیحات کو اولیت دیتے ہیں اور اس کے لیے وہ تضاد بیانی بھی روا سمجھتے ہیں۔ اسی ضمن میں ان کا ایک اور شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
کیسی مسجد کہاں کا بت خانہ ہے
ہرجگہ اس کا آستانہ ہے
ایک بار پھر ندافاضلی نے قلابازی کھائی اور دوبارہ اپنے سابقہ موقف پر ڈٹ گئے۔لیکن انھوں نے اس بار ذرا نرم روی اختیار کرتے ہوئے خدا کو مسجد اور بت خانے سے آزاد کردیا۔ سوال اٹھتا ہے کہ انھوں نے کون سی اچھوتی بات کہہ دی۔ تقریباًتمام مذاہب میں خدا کے وجود کا تصور لا محدود اور لامتناہی ہے لیکن عملی زندگی میں جس طرح ہم نے ہر شعبۂ حیات کے لیے اس کی جگہ مخصوص کردی ہے، مثلاً کھانا بنانے کے لیے باورچی خانہ ، سونے کے لیے خواب گاہ ، نہانے کے لیے غسل خانہ اور رفع حاجت کے لیے بیت الخلا، حتیٰ کہ ندافاضلی جب مشاعرے پڑھنے جاتے ہیں تو ان کے لیے بھی مشاعرہ گاہوں کا استعمال ہوتا ہے ۔ تو پھر ندافاضلی صرف عبادت گاہوں سے اتنے ناراض کیوں نظر آتے ہیں جو سکون قلب کے لیے بنائے گئے ہیں جہاں انسان اپنی اپنی پسند اور اپنے اپنے اسالیب کی بنیاد پر اپنے خالق کے سامنے سجدہ ریز ہوکر اپنی احسان شناسی کا اظہار کرتا ہے۔ ندافاضلی کے یہاں مذہب کا صوفیانہ تصور نہیں ہے بلکہ سیاسی اور کسی قدر بچکانہ ہے۔ ان کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں ؎
کسی گھر کے کسی بجھتے ہوئے چولھے میں ڈھونڈ اس کو
جو چوٹی اور داڑھی تک رہے وہ دین داری کیا
اس شعر میں چوٹی اور داڑھی کی متوقع تضحیک سے قطع نظر ایک بار پھر دین داری کی خود ساختہ تعبیر پیش کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ گویا ندا فاضلی یہ کہنا چاہتے ہیں کہ تمام دین دار اپنے معاشرتی فرائض ادا کرنے میں غیر ذمہ دار واقع ہوئے ہیںیا پھر وہ شاید یہ کہنا چاہتے ہیں کہ معاشرتی فرائض ادا کرنے کی ذمہ داری صرف دین داروں کے لیے مخصوص ہے۔ کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ تمام مذاہب میں "دان" اور "خیرات" کا تصور موجود ہے۔ پھر یہ بھی غور طلب ہے کہ اگر کوئی شخص اس ضمن میں غیر ذمہ داری کا ثبوت دیتا بھی ہے تو اس میں دین داراور غیر دین دار کی تخصیص کیوں کر قائم کی جاسکتی ہے۔ اس طرح کے اشعار سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ انسانی دردمندی اور انسان دوستی کا مکمل ٹھیکہ غیر دین داروں کے ہاتھ لگ گیا ہے جس کی تشہیر کرکے وہ دین داروں کو ہدف ملامت بنا نے کا کوئی موقع گنوانا نہیں چاہتے۔ ایک اور شعر میں دیکھیے ندا کیا کہتے ہیں ؎
مندروں میں بھجن، مسجدوں میں اذاں ، آدمی ہے کہاں
آدمی کے لیے ایک تازہ غزل جو ہوا سو ہوا
چلیے صاحب قصہ ہی ختم ہوا۔ شاعر نے اس شعر میں صاف کردیاکہ جو مندروں میں بھجن گا رہے ہیں اور مسجدوں میں اذاں دے رہے ہیں ، ان کا شمار آدمیوں میں نہیں ہوتا۔ کیوں کہ مذہب(یا پھر مذہبیت) سے وابستہ ہو کر آدمی، آدمی نہیں رہتا۔ آدمی تو ندافاضلی کی تازہ غزل میں موجود ہے۔ یعنی انھوں نے اس شعر میں اس تکلف سے بھی کام نہیں لیا جو وہ محولہ بالا دوسرے اشعار میں لیتے رہے ہیں۔ یہاں تو ایک طرح کی قطعیت ہے کہ مذہبی لوگ آدمی ہوتے ہی نہیں ۔ اس سے زیادہ سفاکی اور شقاوت میں نے چوٹی اور داڑھی والوں میں بھی نہیں دیکھی کہ یہ "صفاچٹ" لوگوں کو ہی شاید زیب دیتی ہے۔ لیکن یہ بے رحمی اور شقی القلبی یہیں تک محدود نہیں رہتی بلکہ جب یہ اپنے اوج کمال پر پہنچتی ہے تو ایساشعر ظہور میں آتا ہے ؎
اٹھ اٹھ کے مسجدوں سے نمازی چلے گئے
دہشت گروں کے ہاتھ میں اسلام رہ گیا
میں اس شعر پر ندافاضلی کو مبارک باد دینا چاہوں گا کہ آج تک جو بات اتنا کھل کر بالا صاحب ٹھاکرے، پروین توگڑیا، نریندر مودی اور جارج بش بھی نہ کہہ پائے، انھوں نے کہہ کر اس میں اولیت حاصل کر لی ہے۔ لیکن یہاں میں ان سے صرف اتنا دریافت کرنا چاہوں گا کہ حیدرآباد، مالیگاؤں، عراق، افغانستان ، فلسطین وغیرہ کے متعلق ان کا کیا موقف ہے؟ یہ جو ہرروز نئے نئے انکشافات ہورہے ہیں کہ فلاں دہشت گری کے معاملے میں مسلمانوں کے بجائے کسی اور قوم کے مذہبی اور سیاسی رہنماؤں کے ہاتھ تھے، یا پھر وہ معصوم مسلم نوجوان جنھیں دہشت گربنا کر جیلوں میں سڑایا جارہا ہے، یا پھر وہ بابو بجرنگی جو عدالت سے ضمانت پا کر کھلے عام گجرات کی نسل کشی پر فخر یہ بیان دے رہا ہے، یا وہ شری کرشنا کمیشن جس کی رپورٹ پر دھول کی ایک موٹی تہہ جم چکی ہے لیکن اب تک نہ تو اس پر کوئی کاروائی ہوئی اور نہ اس کی کوئی امید ہے، یا پھر توہین رسالت کی گلوبلائزیشن، عراق میں 17 لاکھ عام شہریوں کا قتل عام، فلسطین میں اسرائیلی فوجوں کا قہر ، افغانستان میں امن اور انسان دوستی کے نام پر عورتوں، بوڑھوں اور بچوں کا قتل عام وغیرہ وغیرہ سے کیا ندافاضلی واقعی بالکل بے خبر ہیں ؟ مجھے نہیں پتہ کہ وہ روزانہ کون سا اخبار پڑھتے ہیں یا کون سا نیوز چینل دیکھتے ہیں ، اس سے کوئی فرق بھی نہیں پڑتا کیوں کہ ایک عام شخص بھی ان حقائق سے واقف ہے۔ میرے خیال میں ندافاضلی ہی بتاسکتے ہیں کہ ان دہشت گروں میں کتنوں کا تعلق اسلام سے ہے اور کتنوں کی داڑھیاں ہیں۔ مجھے نہایت افسوس کے ساتھ یہ کہنا پڑرہا ہے کہ ندافاضلی کے محولہ بالا افکار نہ صرف حقائق سے مکمل بے خبری کا ثبوت ہیں بلکہ دانشورانہ بددیانتی سے بھی عبارت ہیں جنھیں وہ محض زور بیان کے بل پر اپنے قارئین و سامعین سے داد وصول کرنے کے لیے پیش کرتے رہے ہیں۔ اس مقام پر اگر کوئی شخص یہ نتیجہ نکالتا ہے تو شاید غلط نہ ہوگا کہ انسان دوستی اور انسانی دردمندی ندافاضلی اور ان کے ہم خیالوں کا ایمان نہیں بلکہ ان کے لیے یہ صرف ایسے ادبی تقاضے ہیں جن کی بنیاد پر وہ محض ان کا تاثر پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ، جب کہ وہ دانستہ یا غیر دانستہ طور پر لوگوں کی مقدس وابستگیوں ،ان کے عقائد اور ان کے مذہبی جذبات وغیرہ جیسی چیزوں کا مذاق اڑاتے رہے ہیںجو بقول وارث علوی، یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ انسانی دردمندی کا چشمہ اگر سوکھ جائے تو آدرش اور اخلاق سفاکیوں کی نقاب بن جاتے ہیں ۔ کلچر جس میں مذہب کا کردار خواہ کتنا ہی چھوٹا اور معمولی کیوں نہ ہو، قابل احترام ہے کہ وہ لوگوں کو حیات کا قرینہ بخشتا ہے ، اور اتنا تو خیر ندافاضلی تسلیم کرتے ہی ہوں گے کہ کسی بھی کلچر کو گزند پہنچانے اور تباہ کرنے کی کوشش انسانیت کے خلاف ہولناک جرم ہے۔

Sunday, 22 July 2012

نسلی امتیاز۔۔۔ایک عالمی بیماری

نسلی امتیاز۔۔۔ایک عالمی بیماری


بنی نوع انسان کو ترقی کی اونچی منزلوں کے حصول کے بعد بھی جہاں کرہ ارض سے گذر کر اب کائنات کے دوسرے سیاروں کی دریافت کامرحلہ در پیش ہے ،نسلی امتیاز کی اُلجھنوں میں پھنسا ہوا نظر آتا ہے، حالانکہ مختلف ممالک کے قوانین اساسی میں نسلی امتیاز کو ایک سماجی جرم اور ایک نا پسندیدہ عمل قرار دیا گیا ہے لیکن سچ تو یہ ہے کہ قانونی بندشوں کے باوجود نسلی امتیاز کی عیاں جھلکیاں دنیا بھر میں دیکھنے کو ملتی ہیں۔چاہے وہ امریکہ کی کالی نسل ہو یا بھارت دیش میںسماج کا نچلاطبقہ جسے مہاتما گاندھی نے ہریجن یعنی بھگوان کا جنا ہوا طبقہ مانا ۔ اور تو اور بھارت میں ہندوتوا کے پجاری مسلمانوں کو بھی ملیچھ (پلیدہ۔گندگی سے پُر) مانتے ہیں بلکہ بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی، مسلمین کو بدیشی ہزار ایک سال سودیشی ہونے کے باوجود مانا جاتا ہے حالانکہ مسلمین ہند میں اکثریت ہندوستانیوں کی ہی ہے جو مسلمان بنے۔ ہاں کچھ باہر کے دیشوں سے ضرور آئے لیکن ہزار ایک سال سے یہی کے ہولئے۔بھارت میں نسلی امتیاز کے مطالعے سے پہلے ہمیں آج کی دنیا کے پیش رفتہ ترین ملک امریکہ پر نظر ڈالنی ہو گی جہاں ماضی میں نسلی امتیاز کی بد ترین روایات قائم ہوئیں جو آج بھی کسی نہ کسی صورت میں پائی جاتی ہیں اِس حقیقت کے باجود کہ امریکی صدر ایک سیاہ فام شخص ہے۔
نسلِ انسانی کے جبر و استبداد کی بد ترین داستان یورپی اقوام کی امریکی بر اعظم میں منتقلی کے بعدسننے کو ملتی ہے۔یورپ سے منتقلی کا یہ سلسلہ  کو لمبس کی 1492؁ء میںامریکہ کی دریافت کے بعد وقوع پذیر ہوا۔ ایک نیا بر اعظم جہاں کی زمیں پر کھیتی کرہ ارض کے وجود میں آنے کے بعد کبھی نہیں ہوئی تھی ،ظاہر ہے پہلی دفعہ ہل جوتنے پریہ زمین سونا اگلنے لگی۔ کم آبادی و وسیع زمین !سفید فام یورپی اقوام ،جو اِس لہلاتے ہوئے بر اعظم کو اپنا وطن بناتے گئے،نے افریقی منڈیوں سے سیاہ فام غلاموںکو خرید نے کاسلسلہ شروع کیا۔غلاموں کی یہ تجارت بنی نوع انسان پر ایک تاریخی دھبہ ہے جو ماضی میں ایک قابل قبول تجارت کا درجہ رکھتا تھا۔سیاہ فام افریقی غلاموں پرڈھائے مظالم سے امریکہ کی500 سالہ کوتاہ مدت کی تاریخ کے اوراق سیاہ ہوتے گئے لیکن مظالم کم نہیں ہوئے۔افریقی سیاہ فام غلاموں کے مختلف قبیلوں و فرقوں کے مابین جنسی تعلقات قائم کروا کے نسل سازی کے تجربات صرف اَس خاطر کروا ئے جاتے تھے تاکہ جسمانی اعتبار سے طاقتور ترین افرادکی ساخت کو ممکن بنایا جا سکے جواُنکے کھیت کھلیانوں میں تھکن کا نام لئے بغیرحل جوت کر اُن کے غلے کے گداموں کو بھرے کا بھرا رکھ سکیں۔ 1776میں امریکہ کی جنگ آزادی کا کامیابی سے ہمکنار ہوناصرف و صرف سفید فام امریکائی نسل کی اپنی ہم نسل برطانوی حکومت سے خلاصی تھی جس میں چانکیہ نیتی اَپناتے ہوئے جہاں دشمن کے دشمن کو دوست سمجھا و مانا جاتا ہے، فرانس نے امریکہ کا ساتھ دیا۔1860میں ابراہیم لنکن کو جنوبی ریاستوں سے یہ بات منوانے کیلئے جنگ چھیڑنی پڑی کہ سیاہ فام نسل کو بھی انسانوں کی مانند جینے کا حق ہے جبکہ جنوبی ریاستیں مراعات کے خلاف تھیں۔ 1860 میں اگر چہ سیاہ فاموں کو کچھ بنیادی حقوق حاصل ہوئے لیکن اُن کو قانونی طور پر برابری کیلئے ایک سو سال جدوجہد کرنی پڑی، تب جا کے کہیں 1960کے دَہے میں مارٹن لیوتھر کنگ کی قیادت میں اُنہیں قانونی مراعات حاصل تو ہوئیں گر چہ آج بھی سیاہ فاموں کو بہت سے سفید فام اپنے برابرکا نہیں سمجھتے بلکہ اُسی طرح جیسے ہندوستان میں کچھ اونچی ذات والے مانو وادی فلسفے کو لکشمن ریکھا مانتے ہوئے نئے قومی تقاضو ں کی روشنی میں بنے ہوئے قانون اساسی کی افادیت کے قائل نہیں ہو پاتے اور نسلی امتیاز کی خبروں سے مطبوعاتی پرچے بھرے پڑے رہتے ہیں بلکہ پرنٹ میڈیا کے علاوہ الکٹر انک میڈیا میں بھی نسلی امتیاز کی خبریں اکثر موضوع بحث بنی رہتیں ہیں۔
 نسلی امتیاز کے ڈسے ہوئے ہندوستان میں نسل پرستی کازہر مٹ جانا چاہیے تھا کیونکہ دو سو سال سفید فاموں نے بلالحاظ مذہب و بین الُمذہبی فرقے، صرف وصرف رنگ و نسل کی بنیاد پربرصغیر میں بسنے والے کو اپنے برابر کا نہیں سمجھااور مٹھی بھر انگریزوں کیلئے حکومت کرنایہاں کی فرقہ پرستی سے آساں ہوا۔ پنڈت نہرو نے اپنی تحریروں میں یہ بات واضح کی ہے کہ تقسیم و حکومت کے اصول پر عمل کرتے ہوئے       ابتدائی دنوں میں مسلمانوں کی سیاسی و فوجی طاقت توڑنے کا تھاتو مدد ہندؤں سے لی گئی لیکن جوں ہی اکثریتی فرقے نے سیاسی حقوق کا مطالبہ شروع کیا تو مسلمانوں کے خدشات کو ہوا دی گئی ۔ کہا جا سکتا ہے کہ در اصل یہاں کی سیاسی زمین اجنبی حکومت کے لئے زرخیز بنا دی گئی تھی اور اُس کی وجہ تاریخی محرکات تھے۔تاریخی جائزے میں ہندوستان زمانہ ْقدیم سے ہی سودیشی فلسفے پر رواں و دواںقومی زندگی کی تشکیل میں مصروف نظر آتا ہے اور اِس ساخت میں مذہبی تعلیمات حاوی رہیں۔ ویدک فلسفہ زندگی کے ہر گوشے کو سموئے ہوئے ایک عمیق و جاندار نظریہ حیا ت ہے جس نے اِس بھارت کی قدیم دھرتی کو صدیوں بنائے و سجائے رکھا لیکن زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ مذہبی اطالیقوںکے اُبھرنے اورفلسفے کو اپنے مقام کی افزائش کے لئے حقیقت سے مختلف دلیلیں دینے سے درونی ضعف کے لئے جگہ بنتی گئی ۔منو سمرتی ایک ایسی ہی قانونی دلیل ثابت ہوئی جس سے سماجی طبقہ بندی وجود میں آئی۔ زمانہ قدیم سے ہی اِس کی افادیت میں تجزیہ نگاروں نے صفحوں کے صفحے سیاہ کئے اور آج تک یہ سیاہی خشک نہیں ہوئی حتَی کہ پنڈت نہرو جیسے مصنف بھی، جو سیکولرازم کو اپنا ایمان مانتے تھے ،محتاط انداز اپناتے ہوئے رقمطراز ہیں کہ شایدزمانے کی ضرورت کے سبب قدیم ہندکے سماجی ڈھانچے میں طبقہ بندی وجود میں آئی۔ بہر حال سب سے اونچے طبقے کے برہمنوں کو وہ مراعات حاصل ہوئیں جس کی تمنا و کاوش حرم و دیرمیں پیشواؤں کے منصوبوںمیں ہمیشہ ہی رہی ہے بلکہ آج بھی ہے۔
برہمن کو آسمانوں کو چھوتا ہوا اونچا مقا م عطاکرنے کے بارے میں جہاں اور بھی کئی دلیلیں دی جاتی ہیں ،وہیں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ایسا    کھشتریوں کی سیاسی و فوجی طاقت کے بیجا استعمال پراخلاقی و روحانی روک لگانے کے لئے کیا گیا۔ بہت حد تک یہ سچ بھی ہے کہ راجہ کسی بھی بڑے اقدام سے پہلے برہمنوں سے مشورہ کرنا اپنا منصبی فرض سمجھتے تھے البتہ اِس حقیقت کو بھی نہیں جھٹلایا جا سکتا کہ برہمنوںنے طبقہ بندی کو ایک سماجی ادارتی شکل دے کے ہزاروں سال جمع غفیر کو عزت نفس سے محروم کر کے اُن مسائل کوجنم دیا جو آج بھی اکثر سماجی ہیجان برپاکر کے سیاسی رسہ کشی کا سبب بنتے ہیں بلکہ دیکھا جائے تو پچھلے تیس ایک سال سے احزاب سیاسی اِسی مسئلے کو لے کر جنم لیتی ہیںاور چونکہ سماجی ڈھانچے کے ہر جز سے جڑا ہوا ہے اسلئے جو بھی اِس مسئلہ کولیکر سیاسی میداں میں کودتاہے ،اُسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑتی ،بہت جلدسیاسی دکان سجتی ہے اور کاروبارکو سرعت سے فروغ بھی حاصل ہوتا ہے ،چاہے وہ ملائم سنگھ یادو کی سیاسی دوکان ہو یا مایا وتی کی ،یہ سب سماجی طبقہ بندی کانتیجہ ہے اور آج کی بھارتی سیاست اِسی میں جوجھ رہی ہے۔
 برہمن ازم کی زیادتیوں کی فہرست طویل ہے۔اِس حقیقت کے باوجود کہ نچلی ذات کے لوگوں نے بھارتی سماج کو بہت کچھ دیا ہے۔ اونچی ذات کے افراد کے گھروں و مندروں میں پڑھی جانی والی رامائن کا لیکھک ایک نیچی ذات والا والمیکی تھا البتہ ستم ظریفی یہ کہ اُسی کی ذات کے لوگوں کو اُن مندروں میں جانے کی اجازت نہیںجہاں اُن کی سنسکرت میں لکھی ہوئی رامائن شب و روز پڑھی جاتی ہے ۔اب تو خیر سنسکرت یاد ماضی بن چکی ہے اور آج زیادہ تر تلسی داس کی ہندی میں لکھی ہوئی رامائن پڑھی جاتی ہے لیکن رامائن والمیکی کی پڑھی جارہی ہو یا تلسی داس کی ،اب بھی قانونی تحفظات کے باوجود مذہبی پیشوا نچلی ذات کے لوگوں کے مساویانہ مذہبی حقوق کے قائل نہیں ہو پاتے۔1947 میں آزادی ہند کے بعد جب ہندوستان کو قانون اساسی کی ضرورت پڑی تو بابا صاحب امبیدکر کو بروئے کار لایا گیا ۔یہ کام انجام دینے اور قانون اساسی ہند میں سماجی برابری کی شقوں کے باوجود جب کوئی قابل محسوس فرق نہیں پڑا تو بابا صاحب امبیدکر نے کہا کہ ہندو برادری کو رامائن کی ضرورت پڑی تو والمیکی کو بلایا گا اور قانون اساسی کی ضرورت پڑی تو مجھے بلایا گیا ۔سماجی نا برابری سے عاجز ہو کر بابا صاحب کو بدھ مت قبول کرنا پڑا جس بدھ مت کو ہزاروں سال پہلے برہمن ازم نے دیس نکالا دیا تھا جسے علامہ اقبال ؒ نے ایک جاذب پیرائے میں باندھا ہے:
قوم نے پیغا م گوتم کی پرواہ نہ کی     
قدر نہ جانی اپنے گوہر یک دانہ کی!
 اگر چہ اشوکا و کنشک کے دور حکومت میںبدھ مت کو سرکاری مذہب کی حیثیت اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہوئی، اِس مناسبت سے سماجی اصلاح کی یہ کوششیں کچھ حد تک بار آور ثابت ہوئیںلیکن مانو وادیت کی جڑیں گہری ہونے کے سبب بدھ مت کو بقول ایک تاریخ داں کے بر آمد(ایکسپورٹ) کیا گیا اور برہمنوں کا دینی، سماجی و سیاسی تسلط پھر سے قائم ہوا۔ اِس تاریخی حادثے کو علامہ اقبال ؒنے یوں باندھا ہے:
برہمن سرشار ہے اب تک مئے پندار میں
شمع گوتم جل رہی ہے محفل اغیار میں!
گوتم بدھ ایک شاہی خاندان میں پیدا ہوئے اور اُنکا نام سدھارتھ رکھا گیا لیکن ہنگام جوانی ہی جو سرور و نشاط کا دور ہوتا ہے ،دنیا کی بے ثباتی اُن پہ ظاہر ہو گئی۔ محلوں کا عیش و آرام تیاگ کے گیان کے حصول کی راہ لی ۔انجام کار گیا کے مقام ایک پیڑ کی چھاؤں میں اُنہیں منزل مقصود حاصل ہو گئی ۔سچ تو یہی ہے کہ کچھ دیر شمع گوتم ہندوستان کو روشن و فروزاں کئے ہوئے غیروں کی محفل کی زینت بن گئی اور آج اپنی جنم بھومی میں بدھ مت کے نام لیواؤں کی ایک قلیل تعداد ہی باقی رہ گئی ہے جبکہ ہند سے متصل خطے جنوب مشرقی ایشیاکی اکثریت مطلق گوتم بدھ کے پیرو کاروں میں شمار ہوتی ہے۔ گوتم بدھ کی اصلاحی تحریک کے علاوہ جین ازم کا تاثر بھی مختصر ہی رہا ۔
 ہندو برادراں کی منو سمرتی کا شکار بھارتی سماج کی نچلی جاتیاں ہی نہیں بلکہ مسلمین ہند بھی ہیں۔نسلی امتیازاکثر ٹھوس تاریخی دلیلوں پر استوار نہیں ہوتاجیسے کہ ہندوستان میںکچھ انتہا پسند حلقے یہاں صرف ایک خاص فرقے کو تمام انسانی حقوق کی اساس پر رہنے کا حق دیناچاہتے ہیں، صر ف نظر از اینکہ تاریخی حقیقتوں پہ پرکھا جائے تو اُن کی اکثریت نسلی اعتبار سے ہندی ہے ہی نہیں اور بر صغیر میں یہ امتیاز وسط و شمال میں رہنے والی کچھ بستیوں کو حاصل ہے ا ور باقی بر صغیر کی اکثریت مطلق آگے پیچھے یہاں آکے سلسلہ کوہ ہمالیہ کی گود میںو بحر ہندکے کنارے اِس لہلہاتی ہوئی دھرتی کواپنی پناہ گاہ بناتی گئی۔ آنے والوں میںسب سے پہلے دراوڑ شمال مغربی دروں سے آئے جو آج جنوب ہند کے بسکین ہیں اور پھر آریائی نسل کے لوگ آئے۔شمالی برصغیر کی واضح اکثریت کے اجداد کے آنے کے سماں کو علامہ اقبالؒ نے اِس جذباتی پیرائے میں باندھا ہے:
اے آبرود گنگا  ! وہ دن ہیں یاد تجھ کو
ا ترا کنارے جب کارواں ہمارا!
تاریخ ہند نے آریاؤں کی آمد کے بعدسب سے بڑی کروٹ مسلمانوں کے آنے سے لی۔دیکھا جائے تودونوں کی حیثیت چند ہزار سالہ   وقفے کے باوجودمہاجرین کی تھی۔ آریاؤں کونئے وطن و نئی چراگاہوں کی تلاش تھی جبکہ آمد مسلمین کے اغراض و مقاصد میں کئی عنصر کار فرما تھے کچھ تو یہاں خالص تبلیغ دین کے لئے آئے اور کئی ایک کوسیاسی و فوجی مہم جوئی یہاں لائی۔ اقتصادی فوائد کی کشش بھی سبب بنی لیکن محمود غزنوی کے بعد سب اِس ملک کو وطن بنانے کی سعی میں مصروف رہے حالانکہ کچھ حضرات مثلاََ تاجدار اول سلطنت مغلیہ ظہیرالدین بابرکابل کے باغات و ہاں کی خنک اور تربوزے نہیں بھول پائے پھر بھی حصول سلطنت کے بعدہند کے ہی ہو لئے کیونکہ جھلسا دینے والی گرمی کے باوجود یہاں برکھارُت بھی ہے اور ساون کے گیت ،ملہار بھی جو امڈتے ہوئے جذباتی ہیجان پہ ٹھنڈی پھوار کی مانند گر تے ہوئے خنکی وجودکا باعث بنتے ہیں۔مسلمانوں کی آمد کے بعد ظاہر ہے سب کچھ پہلے جیسا نہیں رہا بلکہ سچ تو یہ ہے یہاں کا سماج تغیرات کا متلاشی تھا ۔ جو کام بدھ مت و جین مت جیسی دینی و سماجی تحریکیں وسیع پیمانے پہ نہیںکر سکیں وہ اگر چہ کاملاََ نہیں تو کچھ حد تک دین اسلام نے پورا کیا ۔۔راجاؤں کی جگہ سلطانوں نے لے لی جو اُنہی کی طرح مطلق العنان ہوتے ہوئے بھی برہمنی اثر و نفوذ سے آزاد تھے اگر چہ یہ بھی سچ ہے کہ سیاسی سطح پہ ہندوستان کے نئے حکمران ہند کے قدیم مذہب کے داخلی معاملات سے دور رہے۔ ظاہر ہے ملک کے اعلی ایوانوں میں نہ سہی لیکن عوامی سطح پہ سماج کے پُر اثر طبقات میں برہمنوں کا ا ثر و رسوخ قائم تھا اور اُس کو کسی دباؤ میںلاناسیاسی طور پہ سود مندثابت نہیں ہوتاوہ بھی ایسی حالت میں جبکہ ایرانی کاہنوں یا صلیبی جنگوں کے یورپی پادریوں کی طرح ہند کے برہمنوںنے اکا دکا واقعات کو چھوڑ کے مسلمانوں کے خلاف کسی منظم تحریک کی پشت پناہی نہیں کی اور مسلمین نے بھی ہندی سماجی ڈھانچے کو بدلنے کی بھر پور کوشش نہیں کی ۔انجام کا ہندوستان کی نچلی جاتیوں کی مانندمسلمین بھی سیاسی طاقت کھونے کے بعد اُسی نسلی امتیاز کا شکار ہوئے جس میں ہندو سماج کی نچلی جاتیاں ہزار ہا سال سے پسی جا رہی تھیں او ر قانونی ضمانتوں کے باوجود یہ سلسلہ ختم ہونے کا نام نہیں لیتا۔اللہ نگہباں!
یار زندہ صحبت باقی۔
Feedback on:Iqbal.javid46@gmail.com

رمضان‘ مسجد اور بچے

رمضان‘ مسجد اور بچے

- ڈاکٹر خالد مشتاق

’’سر میرے شوہر کی طبیعت خراب ہے۔ انہیں ڈر لگتا ہے‘ گھبرا جاتے ہیں‘ میں تو حیران ہوں کہ یہ اتنے بہادر آدمی ہیں… لیکن…‘‘ لڑکی کا نام صائمہ اور شوہر کا نام شاہین تھا۔ یہ ایک صحتمند نوجوان تھا۔ عمر28 سال ‘ کمپیوٹر ڈپلومہ کیا ہوا تھا۔ کمپنی میں نیٹ ورکنگ کی نوکری کرتا تھا۔ شادی کو چند ماہ ہی ہوئے تھے۔ مریض کی نبض‘ بلڈ پریشن نارمل تھا۔ کوئی جسمانی تکلیف بھی نہیں تھی۔ یہ رمضان کا پانچواں دن تھا۔ خاتون نے بتایا کہ میرے شوہر شادی کے بعد دو ہفتے تک یہاں رہے پھر ان کی پوسٹنگ کچھ ماہ کے لیے کراچی سے باہر ہوئی‘ ڈیڑھ ماہ پہلے واپس آئے ہیں۔ یہ بہت ہی حوصلے والے انسان ہیں‘ ہم کہیں جارہے تھے راستے میں ایک حادثہ دیکھا۔ میرے شوہر نے گاڑی روکی‘ زخمیوں کو نکالا اور پھر ہم اسپتال گئے۔ ہم جس تقریب میں جارہے تھے‘ اُس میں نہ جاسکے۔ ان افراد کو جو زخمی ہوئے تھے ہم جانتے بھی نہ تھے۔ باقی سب لوگ سڑک پر تماشا دیکھ رہے تھے لیکن میرے شوہر نے 2 زخمیوں کو اپنی گاڑی میں ڈالا۔ جو زیادہ زخمی تھے‘ ایک ایمبولینس آگئی تھی‘ ان کو اُس میں ڈالا اور جناح اسپتال چلے گئے۔ میرے شوہر ہی نے ایمرجنسی میں اُن افراد کو دوائیں‘ پلاسٹر‘ اورجس جس چیز کی ضرورت تھی لاکر دی۔ ہم اُس وقت تک ٹھیرے‘ جب تک ان کے خاندان والے نہ آگئے۔ مجھے بھی ایک زخمی خاتون کے ساتھ کھڑا رکھا۔ خاندان میں میرے شوہر اس حوالے سے مشہور ہیں کہ وہ دوسروں کی مشکل میں کام آتے ہیں۔ میَں نے اپنے شوہر کو دیکھا کہ وہ گھر پر ہی نماز ادا کرتے ہیں۔ شادی کے شروع کے دنوں میں مَیں نے اشارتاً انہیں مسجد کی طرف توجہ دلائی‘ لیکن اُن کا رویہ میری سمجھ میں نہ آیا۔ وہ نماز ادا کرتے‘ شب معراج کی رات‘ ساری رات عبادت کی ‘روزہ بھی رکھا لیکن فجر اور عشاء کی نماز گھر پر پڑی۔ اسی طرح شب برأت کی رات ساری رات عبادت کی‘ روزہ رکھا‘ قبرستان بھی گئے لیکن نماز کے لیے مسجد میں نہیں گئے۔ میں نے کہا لیکن وہ ٹال گئے۔ رمضان شروع ہوا تو دیگر افراد مسجد گئے یہ نہیں گئے۔ میں نے انہیں پوچھا تو ٹال گئے۔ پہلا روزہ گزر گیا۔ یہ تراویح پڑھنے بھی نہیں گئے‘گھر پر تلاوت کررہے تھے۔ نماز کی باقاعدگی کے علاوہ انہوں نے تہجد بھی پڑھی۔ دوسرے دن جمعہ تھا۔ یہ پہلی مرتبہ جمعہ کے دن گھر پر تھے۔ میں نے ان کے کپڑے استری کیے اور کہا کہ آپ مسجد جائیں‘ انہوں نے صاف انکار کردیا کہ میں جمعہ کی نماز ادا کرنے مسجد نہیں جائوں گا۔ میں نے اُن سے کہا کہ آپ کا روزہ ہے‘ سب جارہے ہیں۔ کہنے لگے میں نے تم سے کہہ دیا ہے کہ میں مسجد میں نہیں جائوں گا‘ اُن کا لہجہ سخت تھا۔ میں حیران رہ گئی کہ یہ رویہ میں نے پہلی مرتبہ دیکھا تھا‘ یہ اُس دن جمعہ کی نماز کے لیے نہیں گئے۔ میں نے ان کی امی سے کہا ’’امی یہ جمعہ کے لیے نہیں گئے‘‘۔ والدہ نے کہا‘ شاید طبیعت خراب ہو۔ جمعہ کے بعد میں نے اُن سے پوچھا کہ وجہ بتائیں آپ کیوں نہیں گئے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو 20 ‘22 سال سے مسجد کی شکل بھی نہیں دیکھی۔ میں نے حیران ہوکر پوچھا۔ کہنے لگے ہاں جمعہ کی نماز کبھی کبھار سڑک پر ہورہی ہو تو ادا کرلیتا ہوں۔ عید کی نماز عیدگاہ میں پڑھتا ہوں۔ لیکن مسجد نہیں جاسکتا۔ میں نے پوچھا کہ آپ کے والدین … کہنے لگے کہ میَں بچپن میں تو جمعہ کے وقت باہر چلا جاتا تھا۔ ہمارے محلے کی مسجد میں مختلف اوقات میںجمعہ کی نماز ہوتی ہے۔ گھر والے یہی سمجھتے تھے کہ میں نماز پڑھ آیا ہوں۔ کچھ بڑے ہوئے تو جمعہ کے دن باہر ہوتے یا نوکری پر ہوتے‘ کسی کو پتا نہ چلتا۔ عید کی نماز عید گاہ میں پڑھ لیتے۔ کبھی رمضان آیا‘ جمعہ میں زبردستی لے جاتے تو اتنی دیرسے جاتے کہ مسجد میں جگہ نہ ہوتی‘ سڑک پر صفیں بچھی ہوتیں۔ دو رکعت پڑھ کر واپس آجاتے۔ میں نے اپنے شوہر سے وجہ پوچھی کہ ایک طرف تو آپ نماز ادا کرتے ہیں۔ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں‘ روزہ رکھتے ہیں‘ دوسروں کی مدد کرتے ہیں لیکن مسجد کیوں نہیں جاتے؟ وہ خاموش ہوگئے پھر بولے بس چھوڑ دو مجھے تکلیف ہوتی ہے۔ یہ بتاتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے‘ میں صورتحال دیکھ کر خاموش ہوگئی۔ شام کو ہماری امی کے گھر افطار پارٹی تھی ۔ کھجور اور پانی پینے کے بعد سب نماز کے لیے گئے۔ ہمارا گھر مسجد کے برابر میں ہے۔ میرے شوہر نے رُکنے کی کوشش کی لیکن سُسر اور چند سسرالی رشتے دار انہیں زبردستی مسجد لے گئے۔ مسجد میں داخل ہوتے ہی میرے شوہر۔ کہنے لگی کہ نماز کے فوراً بعد میرا بھائی آیا اور بولا چلو شاہین بھائی کو اسپتال لے گئے ہیں۔ میں اسپتال پہنچی ڈاکٹر نے ڈرپ لگائی۔ سب یہی سمجھ رہے تھے کہ روزہ سے کمزوری ہوئی ہے۔ چند رشتہ داروں نے کہا نیا داماد ہے صحیح طرح افطاری نہیں کی۔ بھوک سے طبعیت خراب ہوگئی لیکن میں نہیں مان سکتی تھی۔ جو فرد نفل روزہ تھوڑی سی سحری کے بعد رکھ سکتا ہے وہ سحری کے ساتھ روزہ رکھے اور افطار کے بعد طبیعت خراب … افطار سے پہلے تو سمجھ میں آتا ہے کہ کمزوری‘ لیکن افطار کے بعد۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ ان کا بلڈ پریشر ابھی بھی کم ہے‘ انہیں کوئی صدمہ پہنچا ہے۔ گھر آئے تو ہنگامہ ہوگیا ہر فرد تبصرے کررہا تھا۔ کسی نے کہا سسرال میں فوڈ پوائزننگ(ہیضہ) ہوگیا کوئی بولا کم افطاری کی ہوگی۔ ایک رشتہ دار نے کہا ایسی بھی کیا جلدی تھی۔ پورا افطار کراتے پھر مسجد لے جاتے۔ میں پریشان تھی۔ رات تک شوہر کی طبیعت سنبھل گئی۔ میں نے پوچھا کیا ہوا۔ وہ بتانے لگے کہ وہ لوگ مجھے زبردستی مسجد لے گئے۔ میں نے بہت سمجھایا کوئی نہ مانا۔ مسجد میں داخل ہوئے‘ جماعت کھڑی ہوئی تھی۔ سب اس میں شامل ہوگئے‘ میَں جیسے ہی کھڑا ہوا میرا دل زور زور سے دھڑکنے لگا‘ گھبراہٹ طاری ہوگئی۔ میں نے اچانک پیچھے دیکھ لیا ایک نمازی دیر سے آیا اس نے کہا نماز میں کیوں اِدھر اُدھر …۔ مجھے بس اتنا یاد ہے کہ پسینے آگئے اور … ہوش آیا تو لوگ اسپتال لے جارہے تھے۔ صائمہ نے بتایا کہ میں نے وجہ پوچھی تو انہوں نے کہا کہ بچپن میں واقعہ ہوا تھا… اس کے بعد سے مسجد جانے سے خوف آتا ہے۔ صائمہ بتانے لگی کہ میں نے سائیکالوجی مضمون کے طور پر پڑھی ہے۔ میں نے اپنی ایک کلاس فیلو سے جو سائیکالوجسٹ ہے مشورہ کیا‘ اس نے مشہورہ دیا اور یہاں لے آئی۔ یہ آج سے 20 برس پہلے کا واقعہ ہے ۔ میں ایک معروف سائیکٹری اسپتال میں میڈیکل آفیسر تھا۔ یہ مریض رات 2 بجے آئے تھے۔ شاہین نے بتایا کہ بچپن میں ہمارے محلے میں مسجد تھی‘ جس میں ہم قرآن پڑھنے جاتے‘ نعتیں پڑھتے‘ کھیلتے بھی تھے۔ پھر ہم نے گھر دوسرے محلے میں تبدیل کیا۔ یہاں کے امام صاحب بہت سخت تھے۔ نمازی بھی بچوں پر بہت سختی کرتے تھے‘ میَں اور میرا بھائی اپنے محلے کی مسجد کے عادی تھے۔ رمضان آیا تو ہم خوشی خوشی فجر کی نماز سے ہی مسجد میں پہنچے۔ امام صاحب نے اعلان کیا بچوں کو پیچھے کردیا جائے۔ ہم پہلے آئے تھے اس لیے آگے کی صفوں میں تھے۔ ہم نے غور نہیں کیا۔ امام صاحب نے زور سے ڈانٹا اور ایک نمازی نے کہا سُن نہیں رہے‘ پیچھے جائو۔ مجھے بہت بُرا لگا۔ اسی دن تراویح میں ایک لڑکے کی ہنسنے پر پٹائی ہوگئی۔ اس مسجد میں ایک صاحب مسلسل پیچھے کھڑے رہتے اور بچوں کو ڈراتے رہتے‘ بات نہ کرو‘ ادھر نہ دیکھو‘ وغیرہ وغیرہ۔ چند دن بعد بہت ہی کم بچے مسجد میں رہ گئے۔ میں ایک دن مغرب میں افطار کے بعد جلدی چلا گیا۔ میں بڑوں کی صف کے پیچھے کھڑا ہوگیا۔ لوگ دیر سے آئے انہوں نے پیچھے کردیا‘ پھر رکوع میں تھا کہ پانچویں صف سے پیچھے کردیا۔ اس طرح تیسری رکعت تک میں پیچھے کیا جاتا رہا ۔ ایک صاحب نے تو مجھے صف سے نکال کر دھکیلنے کی کوشش کی۔ مجھے غصہ آگیا میں نے نماز میں ہی کہہ دیا دھکا کیوں دے رہے ہیں۔وہ بولے نماز میں بولتے ہو۔ میں نے کہا کہ نماز میں مَیں چوتھی سے دسویں صف تک 6مرتبہ چل چکا ہوں اور یہ سب بڑوں نے کیا ہے۔ انہوں نے کہا گستاخ اور چانٹا ماردیا۔ میرے آنسو رُکنے کا نام نہیں لیتے تھے۔ چانٹا ناک پر بھی لگا۔ نکسیر پھوٹ گئی۔ میں گر پڑا۔ وہ صاحب تو جماعت میں شریک ہوگئے‘ مجھے ہوش نہ رہا۔ اُس مسجد میں رمضان کے ابتدائی دِنوں کے تجربے کے بعد مسجد میں جانے کا دل نہیں چاہتا تھا۔ لیکن اس واقعے کے بعد تو مجھے مسجد کے نام سے بھی خوف آنے لگا۔ ایک دو مرتبہ میں مسجد گیا‘ لیکن مجھ پر ایسا خوف طاری ہوجاتا‘ دل زور سے دھڑکنے لگتا۔ چہرہ پیلا پڑ جاتا۔ اس لیے میں نے یہ طے کرلیا تھا کہ کبھی مسجد نہیں جائوں گا۔ عید کی نماز عیدگاہ میں اور جمعہ الوِداع کی عام طور پرسڑک پر ملتی ہے۔ اس لیے یہ پڑھتا ہوں۔ ہمارے خاندان کے ایک فرد نے مجھے کہا کہ مرگئے تو جنازہ کے لیے تو جانا پڑے گا۔ میں تو اتنا ڈرا ہوا ہوں کہ … میں نے کہا جنازہ توباہر ہوتا ہے ‘ اس لیے میرے باپ کی توبہ۔ میں مرکر بھی مسجد نہیں جائوں گا۔ اس مریض کو سائیکالوجسٹ ڈاکٹر صدیق صاحب کے پاس بھیجا۔ انہوں نے اس کی سائیکوتھراپی کی۔ اس کا ڈر نکالنے کی کوشش کی ۔ مریض کی بیوی نے بھی ڈاکٹر صاحب کی ہدایات کے مطابق بہت تعاون کیا۔ کسی بھی بچپن کے واقعہ سے دل میں ڈر بیٹھ جاتا ہے اور یہ ڈر ساری عمر انسان کو پریشان کرتا رہتا ہے۔ ہمارے ایک شناسا کوّے سے ڈرتے ہیں ۔ وہ کوّا دیکھ لیں تو راستہ بدل دیتے ہیں۔ ہماری ایک مریضہ خاتون بھینس سے ڈرتی ہیں۔ اگر راستے میں بھینس نظر آجائے تو ان کا رنگ تبدیل ہونے لگتا ہے۔ دل کی دھڑکن تیز ہوجاتی ہے۔ بھینس نے انہیں بچپن میں ٹکر ماری تھی۔ بعض مریض ایسے آتے ہیں جو بھائو سے ڈرتے ہیں۔ کچھ ’’فقیر بابا‘‘ سے۔ یہ سب والدین بچے کو ڈرانے کے لیے کرتے ہیں‘ جو ساری عمر کے لیے مریض کو پریشان رکھتے ہیں۔ بچوں کے ساتھ بچپن کی یادیں اگر اچھی ہوں تو وہ بڑے ہوکر بہت اچھی اور پرسکون زندگی گزارنے میں مدد دیتی ہیں۔ دنیا کے سب سے بڑا سائیکالوجسٹ حضرت مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ آپؐ نے بچوں کے ساتھ بچپن میں جس اعلیٰ اخلاق کا نمونہ پیش کیا ہے دنیا میں اس کی مثال نہیں۔ ٭ نبی ؐ کے ساتھ انس بن مالکؓ بہت عرصہ رہے وہ بتاتے ہیں کہ نبیؐ نے مجھے کبھی نہیں ڈانٹا۔ ٭ آپؐ کسی کام سے بھیجتے‘ میں راستے میں کھیل میں لگ جاتا۔ کام بعد میں یاد آتا۔ لیکن آپؐ نے کبھی دیر ہونے پر سرزنش نہیں کی۔ ٭ نبیؐ کے دور میں بچے مسجد نبویؐ میں آتے۔ چھوٹے بچے اپنی ماں کے ساتھ آتے۔ ٭ آپؐ اگر نماز میں بچے کے رونے کی آواز سنتے تو نماز مختصر کردیتے۔ بچے کی ماں کو اور بچے کی تکلیف کم کرنے کے لیے مسجد نبویؐ میں آپؐ فرض نماز جلدی ختم کرادیتے۔ ٭ ماں اور بچے کی اس عزت و قدر کی دنیا میں مثال نہیں ملتی۔ ٭ نبیؐ نماز ادا کررہے ہوتے اور آپؐ کی گود میں بچے ہوتے۔ گود میں بچہ ہے اور فرض نماز ادا ہورہی ہے‘پیچھے مقتدی ہیں۔ مسجد نبویؐ کی یہ نمازیں آپؐ کی بچوں سے محبت کے اظہار کی انتہا ہیں۔ ایک مرتبہ نبیؐ نماز ادا کررہے تھے ۔ سجدہ بہت لمبا ہوگیا۔ ایک صحابیؓ سے صبر نہ ہوا‘ انہوں نے سجدہ سے سر اُٹھایا اور دیکھا تو نبیؐ کے اوپر آپؐ کے نواسے سوار تھے۔ جب وہ گردن سے اُتر گئے توآپؐ سجدہ سے اُٹھے۔ رمضان کی آمد آمد ہے۔ لاکھوں بچے مسجدوں میں ذوق شوق سے آئیں گے‘ اگر ہم ان کے ساتھ نبیؐ کی تعلیمات کے مطابق اچھا سلوک کریں‘ مسجد نبویؐ کا ماحول بنائیں اور بچوں کو مساجد میں پیار و محبت دیں تو مستقبل میں شاہین جیسے افراد نہیں بنیں گے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں مدینہ جیسا ماحول اپنی مساجد میں بنانے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین

رمضان المبارک کی اہمیت و فرضیت

رمضان المبارک کی اہمیت و فرضیت

- مولانا عبدالرحمن سلفی

’’ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن مجید (اول اول) اُتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کے درمیان تمیز کی نشانیاں ہیں‘ تم میں سے جو شخص اس مہینے کو پائے اسے روزے رکھنا چاہیے البتہ جو بیمار ہو یا مسافر ہو اسے دوسرے دنوں میں یہ گنتی پوری کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ کا ارادہ تمہارے ساتھ آسانی کا ہے سختی کا نہیں‘ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پورے کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائیاں بیان کرو اور اس کا شکر ادا کرو۔‘‘ (سورۃ البقرہ آیت 185 پارہ 2) رمضان المبارک کا مہینہ اسلامی شریعت میں انتہائی قدر ومنزلت کا حامل ہے۔ یہ ماہ مقدس متعدد وجوہ کی بنا پر ہمارے لیے نہایت درجہ اہمیت و فرضیت رکھتا ہے۔ لغوی اعتبار سے رمضان ’’رمض‘‘ سے مشتق ہے۔ جس کے معنی جھلسا دینے‘ بھسم کردینے یا گرم ریت پر جلادینے کے ہیں۔ شرعی اعتبار سے رمضان کے معنی یہ ہوں گے کہ اس میں اہل ایمان کے گناہوں اور معصیات کو رب تعالیٰ ایسے ختم کردیتے ہیں جیسے آگ میں کسی چیز کو ڈالا جائے تو وہ اسے بھسم کرکے کھ دیتی ہے۔ بعینہ اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو رمضان کی آزمائشی بھٹی میں ڈال کر کندن بنا دیتا ہے۔ گویا رمضان المبارک میں بندۂ مومن مختلف عبادتیں اور ریاضتیں کرکے اپنے مالک حقیقی کو اس طرح راضی کرلیتا ہے کہ وہ گناہوں سے پاک ہوکر اپنے رب کی رضا حاصل کرتے ہوئے جنت کا حقدار ٹھیر جاتا ہے۔ رمضان المبارک نزول قرآن کا مہینہ ہونے کی وجہ سے کائنات انسانی کے لیے رب تعالیٰ کی طرف سے آخری پیغام ہدایت نازل ہونے اور اتمام حجت کا واضح اعلان ہے۔ جیسا کہ درج بالا آیت میں واضح طور پر ہے کہ یہ وہ مہینہ ہے جس میں قرآن مجید نازل ہوا‘ جو بنی نوع انسان کے لیے سامان رشد و ہدایت ہے اور اس کتاب میں کامیاب دنیاوی و اُخروی زندگی کے تمام سربستہ راز بیان کردیے گئے ہیں اور چونکہ یہ کتاب تاقیامت رہنمائی کے لیے اُتاری گئی ہے لہٰذا اس میں واضح کردیا گیا ہے کہ کیا حق ہے اور کیا باطل ہے۔ فرقان کہتے ہی اس کو ہیں جو مکمل طور پر حق و باطل میں فرق واضح کردے اور اس میں ذرہ برابر بھی شائبہ نہ ہو کہ شاید یہ صحیح ہوگا وہ صحیح ہوگا۔ نہیں بلکہ دونوں صورتیں مکمل طور پر واضح کردی گئیں کہ یہ اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا راستہ ہی اور یہ غیر اللہ اور من چاہی راہ اب انسان پر منحصر ہے کہ وہ اپنے لیے کس راستے کا انتخاب کرتا ہے۔ آیا وہ قرآن مجید و سنت رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر چل کر دنیا و آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنا چاہتا ہے یا اپنے آبائو اجداد اور من پسند افکار و نظریات اختیار کرکے اپنے خالق و مالک کی ناراضگی کا وبال اپنے سر لینا چاہتا ہے‘ تو معلوم ہوا کہ رمضان المبارک کی اہم ترین فضلیت نزول قرآن کی بدولت ہے۔ اس ماہ مقدس میں قرآنی احکامات کے تحت متعدد عبادات بجالائی جاتی ہیں جو اس کے فضائل ومناقب اور فرضیت و اہمیت کو چار چاند لگاتی ہیں۔ مثلاً رمضان کا مہینہ روزوں کا مہینہ بھی جو اللہ نے امت مسلمہ پر فرض کیے ہیں یعنی سال کے گیارہ مہینے ہم ہمہ وقت کھاتے پیتے ہیں لیکن رمضان المبارک کے مخصوص اوقات میں روزہ رکھ کر ہمیں حلال و پاکیزہ چیزوں سے اجتناب کا حکم دے دیا گیا اور بھوک و پیاس کی شدت کو برداشت کرنے اور اس دوران ہر قسم کی لہو و لعب‘ فسق و فجور اور اللہ‘ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانیوں سے بچنے کی تلقین کی گئی اور ان امور کو روزہ کی مقبولیت کا ذریعہ قرار دیا گیا۔ روزہ کی فرضیت اس لیے عائد کی گئی تاکہ ہمارے اندر تقویٰ و پرہیز گاری پیدا ہوجائے۔ نیز بھوکا پیاسا رہ کر اللہ تعالیٰ کی کئی مرضیات و حکمتیں حاصل ہوتی ہیں۔ (1) تقویٰ حاصل ہوجاتا ہے کہ روزہ دار گھر میں سب کچھ موجود ہونے کے باوجود قبل از وقت تنہائی کے عالم میں بھی محض رب کی رضا کی خاطر حلال و پاکیزہ چیزیں بھی اپنے اوپر حرام کرلیتا ہے اور وہ کچھ نہیں کھاتا پیتا۔ حالانکہ اگر چپکے سے کچھ کھاپی لے تو اسے کوئی دیکھنے والا نہیں ہوتا‘ مگر اس کے دل میں یہ احساس موجود ہوتا ہے کہ میرا رب دیکھ رہا ہے اور وہ اپنے روزے کو ضائع ہونے نہیں دیتا۔ (2) اسی طرح روزہ دار کے دل میں دیگر مفلوک الحال مسلمان بھائیوں کی بھوک پیاس کا احساس پیدا ہوتا ہے کہ جن لوگوں کو انواع و اقسام کی نعمتیں میسر نہیں‘ انہیں اپنے عیش و عشرت کے سامان میں شریک کرلیں اور ان کی غربت و افلاس کو اپنی بھوک پیاس کی شدت سے تقابل کرنے کی توفیق حاصل ہوسکتی ہے اور ایک طرف اپنے اوپر کی گئی فیوض و برکات پر اللہ کا شکر ادا کرنے کا جذبہ بیدار ہوتا ہے تو دوسری طرف اللہ کے مجبور بندوں کے ساتھ حسن سلوک کا خیال بھی نیکی پر آمادہ کرتا ہے۔ (3) روزے کے ذریعہ تربیت نفس بھی ہوتی ہے کہ اگر خدانخواستہ انسان کسی ابتلاو آزمائش میں مبتلا ہوجائے تو ہر طرح کے حالات کا سامنا کرنے کے قابل رہے۔ جیسا کہ ابتدائے اسلام کی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ امام کائنات علیہ الصلوٰۃ و السلام اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین نے انتہائی نامساعد حالات میں دین کی شمع فروزاں رکھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مکی زندگی اور مدنی زندگی دونوں انتہائی نامساعد حالات کا شکار رہی اور سیرت کی کتابوں میں موجود ہے کہ آقا علیہ السلام نے زندگی بھر کبھی میدے کی نرم روٹی تناول نہیں فرمائی۔ اسی طرح خلافت راشدہ کے دور میں بھی کم و بیش یہی صورتحال رہی تاہم جب فتوحات بڑھتی رہیں تو اہل اسلام بھی معاشی اعتبار سے مستحکم ہونے لگے۔ البتہ یہ پُرمشقت زندگی اور اللہ‘ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت و فرمانبرداری کا نتیجہ تھا کہ اسلام چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔ لہٰذا روزے کی ایک حکمت یہ بھی ہے جو صرف ماہ رمضان میں فرض کیے گئے اسی لیے ارشاد باری تعالیٰ ہے کہ: ترجمہ: ’’اے ایمان والو تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں جیسا کہ تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے تاکہ تمہارے اندر تقویٰ پیدا ہوجائے۔‘‘ (البقرہ آیت 183 پارہ 2) گویا روزہ کے ذریعہ اہل ایمان رب کی خشیت حاصل کرتے ہیں۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ اللہ فرماتا ہے کہ روزہ میرے لیے ہے اور میں ہی اس کی جزا دوں گا۔ (بخاری) رمضان المبارک کی اہمیت و فرضیت اس لحاظ سے بھی معروف ہے کہ اس ماہ مبارک میں انفاق فی سبیل اللہ کا جذبہ بہت بڑھ جاتا ہے۔ حدیث مبارکہ ہے کہ رمضان المبارک میں ایک نفل کا ثواب فرض کے برابر اور ایک فرض کی ادائیگی 70 فرضوں کے برابر ہے۔ (بیہقی) اس لیے عام طور پر لوگ زکواۃ‘ صدقات‘ خیرات اس ماہ مبارک میں بہت زیادہ کرتے ہیں اور اللہ کی رحمتوں کے حصول میں سرگرداں رہتے ہیں۔ گرچہ زکواۃ سال ہونے پر ہی دی جاتی ہے تاہم حصول ثواب کے لیے ماہ رمضان کا انتخاب کیا جاتا ہے تاکہ 70 فرضوں بلکہ قرآن کے مطابق سات سو گنا تک بھی اللہ تعالیٰ اجر و ثواب عطا فرماتا ہے۔ اسی طرح اس ماہ مبارک میں عام صدقات و خیرات کے علاوہ صدقۃ الفطر بھی دیا جاتا ہے جو روزہ میں ہونے والی کوتاہیوں کا کفارہ بن جاتا ہے اور مفلوک الحال مسلمان کی اشک شوئی کا ذریعہ بھی ثابت ہوتا ہے۔ قارئین کرام! جیسا کہ عرض کیا گیا کہ رمضان المبارک نزول قرآن کا مبینہ ہے۔ اس ماہ مقدس کے آخری عشرے کی جس رات میں یہ قرآن نازل کیا گیا اللہ تعالیٰ نے نزول قرآن کی برکت سے اس ایک رات کی عبادت کو بھی ہزار مہینوں سے افضل قرار دے دیا جیسا کہ ارشاد ربانی ہے۔ ترجمہ: ’’تحقیق ہم نے اسے (قرآن مجید کو) قدر والی رات میں نازل کیا۔ آپ کیا سمجھتے ہیں کہ شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ایک ہزار مہینوں سے افضل ہے۔ اس میں (ہرکام) کے سرانجام دینے کو اپنے رب کے حکم سے فرشتے اور روح (الامین) (جبرائیل) اُترتے ہیں۔ یہ رات سراسر سلامتی کی ہوتی ہے اور فجر کے طلوع ہونے تک (رہتی ہے)۔ (سورۃ القدر آیت 5 پارہ 30) گویا اس میں ایک رات (جو رمضان کے آخری عشرے کی طاق راتوں میں سے کوئی ایک رات ہے) کی عبادت ایک ہزار مہینوں کی عبادت سے افضل و برتر ہے۔ یہ امت مسلمہ پر رب تعالیٰ کا احسان عظیم ہے کہ مختصر عبادتوں پر بے انتہا اجر و ثواب عطا فرما دیتا ہے تاکہ کل قیامت والے دن اہل ایمان کے اعمال میں نیکیوں کے انبار ہوں اور وہ کسی صورت جنت کے حقدار بن جائیں۔ رمضان المبارک میں ادا کی گئی نیکیاں مثلاً روزہ‘ نماز‘ تراویح (زکواۃ ‘ جو شرعی اعتبار سے امیر کے پاس بیت المال میں جمع کرانی چاہیے) صدقات‘ خیرات‘ تلاوت‘ سماعت قرآن مجید جیسی عبادتوں سے خالق کائنات اپنے بندوں پر خوش ہوتا ہے۔ اسی طرح رمضان المبارک میں ادائیگی عمرہ کی بڑی فضیلت ہے۔ احادیث مبارکہ میں ہے کہ رمضان المبارک کا عمرہ اجر و ثواب کے لحاظ سے حج کے برابر ہے یا میرے ساتھ حج کرنے کے برابر ہے۔ (صحیح بخاری‘ مسلم) اسی طرح نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف فرماتے اور رات دن مسجد کے ایک گوشے میں دنیاوی معمولات اور تعلقات کو خیرباد کہہ کر یکسوئی سے یاد الٰہی میں مصروف ہوجاتے اور اس عبادت کی اتنی پابندی فرماتے کہ ایک مرتبہ اعتکاف نہ بیٹھ سکے تو شوال کے آخری دس دن اعتکاف فرمایا (بخاری) اور جس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان المبارک میں دس دن کے بجائے بیس دن کا اعتکاف فرمایا (بخاری) اس عبادت کا مقصد جہاں شب قدر کا حصول ہے وہاں اعتکاف کے معنی ہی ’’جھک کر یکسوئی سے بیٹھ رہنا‘‘ اس عبادت میں انسان صحیح معنوں میں سب سے کٹ کر اللہ کے گھر میں یکسو ہوکر بیٹھ جاتا ہے۔ اس کی ساری توجہ اس امر پر مرکوز رہتی ہے کہ میرا رب مجھ سے راضی ہوجائے۔ چنانچہ وہ اس گوشہ خلوت میں بیٹھ کر توبہ و استغفار کرتا ہے‘ نوافل بکثرت ادا کرتا ہے‘ ذکر و تلاوت کرتا ہے‘ دعائیں و التجائیں کرتا ہے اور یہ سارے ہی کام عبادت ہیں۔ اس اعتبار سے اعتکاف گویا مجموعہ عبادات ہے۔ رمضان المبارک اپنی رعنائیوں کے ساتھ جلوہ گر ہورہا ہے اور یہ نیکیوں کا موسم بہار ہے۔ ترجمہ: یعنی رسول اللہ صلی علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب رمضان المبارک کی اول رات ہوتی ہے تو بڑے بڑے سرکش جن اور شیطان قید کرلیے جاتے ہیں اور دوزخ کے دروازے بند کردیے جاتے ہیں پھر ان میں سے کوئی دروازہ نہیں کھلتا اور جنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں پھر ان میں سے کوئی دروازہ بند نہیں کیا جاتا اور اللہ کی طرف سے پکارنے والا پکارتا ہے کہ اے بھلائی کے چاہنے والے آگے بڑھ یعنی اب وقت ہے جو کچھ نیکی کرنا ہے کرلے، اور اے گناہ کرنے والے اب پیچھے ہٹ جا یعنی اس خیر و برکت کے مہینے میں شرم کر اور گناہوں سے باز آجا۔ اللہ تعالیٰ بہت سے لوگوں کو جہنم سے آزاد کردیتا ہے جو آزادی کے مستحق ہیں اور یہ معاملہ ہر رات ہوتا ہے۔ (ترغیب و ترہیب‘ حاکم) اسی طرح رمضان المبارک کو صبر کا مہینہ قرار دیا گیا کہ جس طرح انسان روزے کی حالت میں بھوک پیاس کی شدت کو صبر و استقامت کے ساتھ برداشت کرتا ہے۔ اسی طرح دیگر معاملات میں بھی صبر کا مظاہرہ کرے۔ چنانچہ فرمایا کہ جب کوئی روزے سے ہو تو لغو اور بے ہودہ بات نہ کرے اگر کوئی جھگڑے یا گالی گلوچ پر اتر آئے تو کہہ دے کہ میں روزے سے ہوں (بخاری) اسی طرح سحر و افطار کو بھی خیر و برکت کا سبب قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ فرمایا کہ سحری کھانے والوں پر اللہ تعالیٰ رحم فرماتا ہے اور فرشتے ان کے حق میں دعا کرتے ہیں (طبرانی‘ ترغیب) سحری تاخیر اور افطار جلدی کرنا چاہیے۔ حدیث مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ترجمہ: ’’دین ہمیشہ غالب رہے گا جب تک کہ لوگ افطار میںجلدی کریں گے کیونکہ یہود و نصاریٰ افطار میں دیر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا مجھے وہ بندے زیادہ محبوب ہیں جو افطار کرنے میں جلدی کرتے ہیں۔‘‘ (ترمذی) کسی روزہ دار کا روزہ کھلانا بھی باعث اجر و ثواب ہے بلکہ روزہ کھلانے والے کو روزہ دار کے برابر ثواب ملتا ہے اور روزہ دار کے اجر میں کوئی کمی نہیں ہوتی۔ چنانچہ ارشاد خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔ ترجمہ: ’’جو حلال کمائی سے کسی مسلمان کو کھلا پلا کر روزہ افطار کرائے تو رمضان بھر فرشتے اس کے لیے مغفرت کی دعا کرتے ہیں اور شب قدر میں جبرائیل اس کے حق میں دعا کرتے ہیں۔‘‘ (طبرانی‘ ترغیب) کھجور سے روزہ افطا رکرنا افضل ہے ورنہ پانی سے بھی کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اگر کوئی بے روزہ شخص کسی مجبوری کی وجہ سے روزہ دار کے سامنے کھائے پیے تو اس مجاہدہ کی وجہ سے روزہ دار کے گناہ معاف ہوجاتے ہیں اور فرشتے اس کے حق میں دعا مغفرت کرتے ہیں جب تک کہ اس کے سامنے کھانا کھایا جائے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ ترجمہ: ’’روزہ دار کے حق میں فرشتے استغفار کرتے ہیں جب تک اس کے سامنے کھایا جاتا ہے یہاں تک کہ اس سے فارغ ہوجائے۔‘‘ (ترمذی) اللہ تبارک و تعالیٰ سے دعا ہے کہ ہم سب مسلمانوں کو صحیح معنوں میں رمضان المبارک کے مقدس نیکیوں کے موسم بہار سے مستفید ہونے کی توفیق مرحمت فرمائے اور ہماری نماز‘ روزہ‘ تراویح‘ زکواۃ‘ صدقات‘ خیرات‘ عمرہ‘ اعتکاف اور ذکر و تلاوت جیسی عبادتوں کو اپنی بارگاہ میں منظور مقبول فرما کر بخشش کا ذریعہ بنائے۔ آمین یا رب العالمین