Search This Blog

Tuesday, 13 August 2013

IJAZAT NAHIN DI JAYEGI - A funny but important article

اجازت نہیں دی جائے گی

پروفیسر عنایت علی خان
یہ میرے ایک شریکِ کار کی دی ہوئی ردیف تھی جس کے تحت کہی گئی غزل کو خاص پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ دو ایک شعر دیکھیے:
اس سے اندیشۂ فردا کی جوئیں جھڑتی ہیں
سر کھجانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
آپ کے باپ کی جاگیر نہیں فکرِ وطن
سر کھپانے کی اجازت نہیں دی جائے گی
اب مشکل یہ ہے کہ ہر قسم کے جرائم کے ارتکاب کے اجازت نامے تو امراء و عمالِ حکومت اور صاحبانِ اقتدار میں بٹ کر ختم ہوجاتے  ہیں، عوام کو ہر جرم کا ارتکاب بلا اجازت ہی کرنا پڑتا ہے، چنانچہ حکام کو پورا پورا حق ہوتا ہے کہ وہ ارتکابِ جرم پر مجرمین کی گرفت کریں۔ یہ گرفت اگر ڈھیلی ہوسکتی ہے تو صرف اور صرف قائداعظم کی سفارش سے۔ اکثر اوقات تو سرکاری حکام و کارکنان ارتکابِ جرم کی اجازت خود عطا فرمادیتے ہیں کہ
تو مشقِ ناز کر خونِ دو عالم میری گردن پر
مثلاً واپڈا کے لائن مینوں کو ان کے باس سے ویسا ہی حکم ملتا ہے جیسا اللہ تعالیٰ نے علامہ اقبال کے الفاظ میں فرشتوں کو دیا تھا کہ
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگادو
اس فرمان کی چند ہدایات ملاحظہ فرمایئے:
جب واپڈا والوں سے کہا جا کے کسی نے
یہ کس نے کہا ہے ہمیں راتوں کو سزا دو
بولے ہمیں اقبال کا پیغام ملا تھا
اٹھو مری دنیا کے غریبوں کو جگا دو
اور اٹھتے ہوئے باس نے یہ اور کہا تھا
کاخِ امراء کے در و دیوار سجا دو
کاخِ امرا کے کہیں فانوس نہ بجھ جائیں
بہتر ہے چراغِ حرم و دیر بجھا دو
جس زون سے ورکر کو میسر نہ ہو روزی
اس زون میں کنڈوں کا چلن اور بڑھا دو
جو بندۂ مومن نہ ہو سیٹنگ پہ راضی
دو لاکھ کا بل ہاتھ میں تم اس کے تھما دو
اور اس طرح باقاعدہ حکومتی اداروں کے اجازت ناموں کی جگہ قائداعظم کی سفارش سے سیٹنگ سے ہر ناجائز کام دھڑلے سے ہورہا ہے، اور جائز کام کے راستے میں ’’اجازت نہیں دی جائے گی‘‘ کا سنہرے چمکدار الفاظ کا حامل بورڈ آویزاں ہے۔ یہاں وہ لطیفہ بھی دوہرا لیجیے کہ جب ایک ضرورت مند نے بڑے صاحب کے چپراسی سے ان کے کمرے میں جانے کی اجازت مانگی تو اس نے پورے وثوق سے کہا: ’’اجازت نہیں ہے۔‘‘ اس شخص نے کہا: ’’یہ اتنے لوگ جو میرے سامنے کمرے میں گئے ہیں!‘‘ چپراسی کا جواب تھا: ’’انہوں نے اجازت کب مانگی تھی‘‘، یعنی
بے اجازت جو مچائو تو بصدِ شوق مچائو
غل مچانے کی اجازت نہیں دی جائے گی

Wednesday, 7 August 2013

A month of fasting or fun?

A month of fasting or fun?

Afifa Jabeen Quraishi

IT’S curtains for the month-long annual “gala festival.” In other words, Ramadan.
Before the festival commenced, we went on a grocery shopping rampage, filling our trolleys to the brim with flour packs, oil, sugar, meats, cheeses, syrupy drinks, so that there is a good flow of food through the evenings until dawn. Then we ensured that our mothers and maids spent all their afternoons and evenings in the kitchen dishing out elaborate five-course meals.
And why not, it’s a festival that comes once a year. There was some talk about performing maximum ibadah during this time, and letting the womenfolk do the same, but that can come later, of course. After all, we can’t just sit watching our favorite “Ramadan special” TV series without a bowl of harira or a platter of kebabs. We just can’t!
The tele-series are broadcast just once a year and we should not miss them. After all, what other entertainment options do we have during this festival! But what about maximum ibadah, you say? Ah, we can always pray year round but these tele-soaps...
And so is the case with the dozens of cooking shows that have suddenly popped up on every channel, as though the only purpose of existence of every person in this month is to prepare and eat sambusas with 10 different stuffings. Each of these shows claims to teach you how to make the perfect futoor appetizers, which of course are good for your health, or the chicken kabsah with a twist, which is “light” yet satiating for suhoor. Simple eating can happen some other time, of course.
This is also a time when we get invited to extravagant futoor and suhoor parties, where everyone is competing with one another to present a dining table that can qualify for the Guinness’s longest table of the world — complete with as many as 10 starters, 11 soups, 12 rice and curry dishes and 13 desserts.
But during the days of our pious predecessors, didn’t people eat less during this month and gave more time for worship because worship means prayers that require physical activity? And didn’t they say the worst container a person can fill is his stomach? Yes, but we cannot afford to miss the mouth-licking, once-in-a-year futoor and suhoor special menus that restaurants come out with year after year, can we?
The underlying message of this festival, they say, is self-discipline and eating simple. They even say fasting allows a person to experience the pangs of hunger and thirst and thereby develop sympathy for those starving and dying of thirst in the world. But let alone sympathy, many of us are in need of a month’s gym sessions to lose the kilos we gained during this time.
With all the festivities minus any religious contemplation, our night becomes the day and the day becomes the night. So we party in the night and sleep in the day, hardly doing any work. But then who works during festival time, you say? Perhaps all that talk about fasting making one efficient and increasing productivity does not apply to us.
We also embark on our non-stop 10 p.m. to 3 a.m. shopping missions, in which we buy clothes, shoes, perfumes, abayas, curtains and dishes as if there is no tomorrow. After all, the extended family is invited for a meal at home at the end of this mega festival and they should know that we got the best gold-rimmed cutlery and the Italian designer rugs. Wonder why then some say this festival is meant to evoke virtues of self-control and humbleness in oneself. Things people say!

Monday, 5 August 2013

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

جماعت اسلامی بنگلہ دیش پر پابندی

بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے الیکشن کمیشن میں جماعت اسلامی کی رجسٹریشن کو غیر قانونی قرار دے کر انتخابات میں حصہ لینے پر پابندی عائد کردی ہے۔ بنگلہ دیش کی ہائی کورٹ نے یہ فیصلہ دو درخواستوں کی بنا پر سنایا ہے جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ جماعت اسلامی کا منشور بنگلہ دیش کے سیکولر آئین سے متصادم ہے۔ بنگلہ دیش کے متنازع اور جعلی جنگی جرائم کی عدالتوں سے جماعت اسلامی کے قائدین کو موت اور عمر قید کی سزائوں کے بعد دوسرا اہم فیصلہ آیا ہے۔ اس فیصلے سے بنگلہ دیش کے نظام عدل کی ساکھ بھی مجروح ہوگئی ہے۔ ایک طرف دنیابھر میں انسانی حقوق اور اظہار رائے کی آزادی پر قدغن عائد کرنے والے تمام قوانین کو ختم کرایا جاتا ہے اور اس سلسلے میں مذہبی اور سماجی اقتدار کا لحاظ بھی نہیں رکھا جاتا، لیکن اس حق سے مسلمانوں اور اسلامی تحریکوں کو محروم رکھا جارہا ہے۔ جب سے بنگلہ دیش کی نام نہاد جنگی جرائم کی عدالتوں نے امریکی، مغربی،    ایما پر حسینہ واجد کی عوامی غیر مقبولیت کے نتائج سے بچنے کے لیے جماعت اسلامی کے قائدین کے خلاف ظالمانہ اور استبدای فیصلے کرنے شروع کیے ہیں تب سے بنگلہ دیش میں ان اقدامات کے خلاف سیاسی ردعمل بھی تیز ہورہا ہے۔ بنگلہ دیش میں جماعت اسلامی کے حق میں احتجاج میں تیزی آرہی ہے۔ یہ بات بنگلہ دیش کے سیاسی حالات پر نظر رکھنے والے ہر مبصر کو نظر آرہی تھی کہ آئندہ انتخابات میں حسینہ واجد اور اس کی عوامی لیگ بری طرح شکست کھائے گی، اس لیے ایک متنازع درخواست کو بنیاد بنا کر بنگلہ دیش کی حکمراں سیکولر قوم پرست اقلیت نے کنگرو کورٹ کے ذریعے جماعت اسلامی کا جمہوری راستہ روکنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ بنگلہ دیش میں ریاستی دہشت گردی کی پشت پر جس طرح وہاں کی عدلیہ عدل وانصاف کا قتل عام کررہی ہے اس نے سیکولر جمہوریت اور انسانی حقوق کے مغرب زدہ علم برداروں کے چہروں پر سے نقاب الٹ دی ہے۔ اس وقت مختلف مسلم ملکوں کے حالات مختلف ہیں، لیکن تمام ممالک میں ایک بات مشترک ہے اور وہ یہ ہے کہ اسلامی تحریکوں کا عوام سے رابطہ اور تعلق کمزور کیا جائے۔ مسلمانوں کا طویل سیاسی سفر یہ سبق دے چکا ہے کہ قوم پرستی اور وطن پرستی چاہے وہ کسی بھی شکل میں ہو امت کے کام نہیں آتی اور اسے کسی نہ کسی عالمی یا علاقائی یا مقامی طاقت کا غلام بننا پڑتا ہے۔ بنگلہ دیش تمام عالم اسلام کے لیے ایک مثال اور نمونہ بن چکا ہے جس کا سبق یہ ہے ہر قوم پرست تحریک اپنی ہی قوم کے لیے عذاب بن جاتی ہے۔ امت واحدہ کا تصور ہی عالمی انسانی برادری کے خواب کو تعبیر عطا کرسکتا ہے اور پروفیسر غلام اعظم جیسی صاحب عزیمت ہستی اور ان کے ساتھی روشن چراغ بن گئے ہیں اور پھونکوں سے ان چراغوں کو نہیں بجھایا جاسکتا۔
crtsy: Jasarat

Friday, 2 August 2013

قدس۔۔ دشمن کون؟ QUDS .... DUSHMAN KAUN??

 قدس۔۔  دشمن کون؟
عالم نقوی

مسجد اقصیٰ کی بازیابی اور بیت المقدس کو صہیونی قبضے سے چھڑانے کے لئے امت مسلمہ اورمسلم ممالک کیا کر رہے ہیں ؟'کچھ نہیں 'کے مایوسانہ فقرے کے سوا اس سوال کے جواب میں اور کیا کہا جاسکتاہے ؟مسلم ممالک کی کوئی متحدہ کوشش کہیں نظر نہیں آتی۔حماس اورحزب اللہ کے سوا'امت کا کوئی دوسرا گروہ ایسا نہیں جو اس وقت بھی آزادی فلسطین کی راہ میں آزادانہ طور پر سرگرم ہو۔ مرحوم یاسر عرفات کی ''الفتح'' تواسی روز مردہ ہو گئی تھی جب اس نے غاصب اسرائیل کو تسلیم کرنے کے معاہدے پردستخط کردئیے تھے۔کیمپ ڈیوڈ اور اوسلو امن معاہدوں نے انتفاضہ کے خاتمے کے صہیونی منصوبے پرعمل درآمد کو ممکن بنانے کے سوا اورکچھ نہیں کیا۔ یاسر عرفات میں چونکہ حمیت وغیرت کی کچھ رمق باقی تھی اس لئے انہیں پہلے پی ایل او کے ہیڈ کوارٹر راملہ میں خانہ قید کردیاگیا اورپھر موقع ملتے ہی ہمیشہ کے لئے راستے سے ہٹا دیاگیا۔فتح کی موجودہ قیادت سے صہیونیت کو کوئی خطرہ نہیں۔ان حالات میں فلسطین کی سپریم اسلامک کونسل کے چیرمین اورمسجد اقصیٰ کے خطیب وامام شیخ عکرمہ صبری کا شکوہ حق بجانب ہے کہ امت مسلمہ اور بالخصوص عرب اورمسلم ممالک نے فلسطین کو تنہا چھوڑ دیا ہے۔ شیخ عکرمہ صبری نے گذشتہ ہفتے الجزیرہ ٹی وی چینل سے گفتگو کرتے ہوئے القدس کی حفاظت کے لئے دی جانے والی قربانیوں کو یاد کیا اوربالکل صحیح کہا کہ القدس شہر اسیر مغموم اور یتیم ہو کر رہ گیا ہے اور پورا عالم اسلام اس سے متعلق اپنی ذمہ داریوں سے راہ فرار اختیار کر کئے ہوئے ہے۔ رہا امریکہ توایک طرف دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لئے نام نہاداسرائیل مخالف بیان دیتا ہے اوردوسری طرف وہ یروشلم (بیت المقدس شہر)میں فلسطینیوں سے جبراً خالی کرائی گئی زمینوں پرغاصبانہ یہودی آبادکاری کو قانونی حیثیت دینے کی راہ ہموار کر رہا ہے۔ انہوںنے غلط نہیںکہا کہ امریکہ کا نام نہاد نیا امن منصوبہ فی الواقع مسئلہ فلسطین کو سرد خانے میں ڈالے رکھنے کی ایک سازش ہے۔ رہے مذاکرات توغاصب اسرائیل سے مذاکرات کا کوئی فائدہ نہیں کیونکہ وہ محض وقت گزاری کے لئے مذاکرات کی رٹ لگاتا ہے۔ فلسطینی عربوں کے مسائل حل کرنے کی کوئی سنجیدہ کوشش اس کی طرف سے کبھی دکھائی نہیں دی۔مسجد اقصیٰ کی بازیابی اوربیت المقدس کی آزادی صرف اس لیے ممکن نہیں ہو پارہی ہے کہ عرب اورمسلم ممالک متحد نہیں ہیں۔ صہیونی مقتدرہ نہیں چاہتا کہ عرب کبھی متحد ہوں لہٰذا اگر ایک طرف عربی وعجمی عصبیت کو ہوا دی جاتی رہتی ہے تو دوسری طرف مذہبی ومسلکی عصبیت کا استحصال بہت بڑے پیمانے پرجاری رہتا ہے۔ صہیونی مقتدرہ کے سب سے بڑے عمیل اسرائیل اورامریکہ آج عرب ممالک ،ایران ،افغانستان، عراق ،پاکستان اورہندوستان وغیرہ میںجوکام سب سے زیادہ شدومد کے ساتھ کر رہے ہیں وہ یہی کہ مسلمانوں کو کسی قیمت پر متحد نہ ہونے دیں۔ہم پچھلے کئی برسوں سے یہ دیکھ رہے ہیں کہ مسلمانوںکے داخلی اورمسلکی اختلافات کو اچھالنے کی کوششوںمیں اچانک اضافہ ہوگیا ہے۔سنی شیعہ اختلاف ہی کیا کم تھا کہ اب مْقلّد غیر مْقلد حنفی ،شافعی اور بریلوی ،دیوبندی اختلافات کو بھی نئے سرے سے اٹھایا اوربڑھایا جا رہا ہے اور خطہ عرب میں اس پروپیگنڈے کو ہوادی جا رہی ہے کہ ایران کا ایٹمی پروگرام اسرائیل سے زیادہ عرب ممالک کے لئے خطرناک ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ صہیونی پروپیگنڈہ اپنی نوعیت کے اعتبار سے خالص ابلیسی ہے۔عربوں کو ایران کے خلاف بھڑکانا اورمسلمانوں کے داخلی اختلافات کو ہوادینا ایک ہی سازش کا حصہ ہیں۔ جس کے پیچھے صہیونیت کا یہ خوف ہے کہ مسلمانوں کا اتحاد ہی اس کی موت ہے۔دنیا کے ڈیڑھ پونے دوارب مسلمان اور پچاس پچپن مسلم ممالک آج متحد ہو کر کلمة اللہ ھ العلیائ کے پرچم کے نیچے متحد ہو جائیں تودوسرا لمحہ مسجد اقصیٰ اور بیت المقدس (یروشلم ) کی آزادی پرمنتج ہوگا۔جھوٹ کے پاؤں نہیں ہوتے اور جھوٹے کا حافظہ کمزور ہوتا ہے۔ جو لوگ مسلمانوںکے باہمی انتشار کو ہوا دیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ شیعہ سنی،بریلوی ،دیوبندی مقلد غیر مقلداتحاد ممکن نہیں وہی وطن عزیز میں برادران وطن کی اکثریت سے اتحاد کے پرچم اٹھائے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس حقیقت کو فراموش کردیتے ہیں کہ اگر اس ملک میںہندومسلم اتحادممکن ہے اورمغرب میں یہودی،مسلم اورعیسائی مسلم اتحاد ممکن ہے توآخر جنوبی وسطی اورمغربی ایشیائ میں مسلم۔مسلم اتحادکیوں ممکن نہیں؟بیت المقدس کی آزادی اتحاد امت کے ساتھ مشروط ہے اورآج جو شخص بھی خواہ وہ بظاہر کتنا ہی ''بڑا اورمقدس ''کیوں نہ ہو اتحاد بین المسلمین کے خلاف ہے وہ صہیونیت کا دوست اورمسلمانوں کادشمن ہے۔ فہل من مدکر؟(عالم نقوی)

This Ramadan....

This Ramadan....
 Asma Anjum Khan, ummid.com

Take your pick

Choose carefully

Whatever you choose is red indeed

Scarlet Syrian fields are sizzling embers

Each sparkle sending the Ummah party sour

Would thou say cheers to Tayyip?

Or join the Sickulars for an iftar?

All this while, amid the groans of the drones

The poor Afghans mumble little prayers

The one who said Anaa Ibn e Firoun

Came back riding within a year

Mursi or Mubarak, the choice is bloodied.

Whatever you choose is red indeed.

The Iraqi cheeks have tears as thick as their oil

We hear an eternal moaning saga on Palestinian soil

The Bay of Guantanamo has special Tube iftars

55 plus days of fasting, unbroken remains their fast

The Rohingyas spark but a little anger

Compare it only to the sitting Somalian hunger

In Pak you have Shia dates and Sunni dates

Your pick will decide your fate

Indies are unique, no ear to their commotion

In a demo- crazy way they make the forty percent of Prison Population

We kill and they kill

The blood remains red still

This Ramadan,

Spare a thought

For all the red

Pause, think and reflect

Whatever you choose should NOT be red indeed

Asma Anum Khan teaches at a Maharashtra college as lecturer.
- See more at: http://www.ummid.com/news/2013/August/01.08.2013/this-ramadan.html#.Ufp7kQH0D1Y.gmail

Thursday, 1 August 2013

بابا پیر بخش مبارک ہو۔۔۔BABA PEER BAKSH MUBARAK HO

قیادت

عبدالرحمن متوکل
’’بابا پیر بخش مبارک ہو! پورے گاؤں نے آپ کو مسجد کا پیش امام بنایا ہے۔‘‘
’’بس جی، آپ کو بھی مبارک ہو۔‘‘
’’بابا پیر بخش یہ خوشی کا موقع ہے، اس موقع پر آپ چپ ہیں!آپ کے چہرے پر دوردور تک خوشی نظر نہیں آرہی۔‘‘
’’نہیں جی! ایسی کوئی گل نئیں۔‘‘
’’بابا جی آپ بتائیں گے کہ گاؤں کے سب لوگوں نے آپ کو مسجد کا امام بنانا کیوں پسند کیا؟‘‘
’’او جی اللہ بھلا کرے،گاؤں کے بڑوں سے تو اپنا عرصے سے میل ملاپ ہے۔ رہے گاؤں والے، تو جی گاؤں کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے، پر مجھے مسیت کا امام بنادیا… یہ بات تو جی میری وی سمجھ میں نئیں آرہی ہے‘‘۔
’’بابا پیر بخش، اس کی وجہ آپ کا تقویٰ تو نہیں؟‘‘
’’تقویٰ… یہ کیا ہوتا اے جی؟پہلی واری سنا اے‘‘۔
’’مطلب آپ بہت نمازی پرہیزگار ہو۔‘‘
’’نئیں جی! ایہہ وی گل نئیں اے۔ اللہ کو منہ دکھانا ہے، میں نے تو آج تک عید کی نماز بھی نہیں پڑھی‘‘۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’ہاں جی، مجھے تو وضو کرنا بھی نہیں آتا‘‘۔
’’لگتا ہے آپ انکسار سے کام لے رہے ہیں یا پھر آپ ان اللہ والوں میں سے ہیں جو اپنے آپ کو خلق خدا سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔‘‘
’’پتا نئیں جی!آپ کیا کہہ رہے او۔ میں نے تو جو سچی گل تھی آپ کو بتادی۔ پہلے کی بات اور تھی اب بندہ مسیت کا پیش امام بن کر جھوٹ تو نہیں بول سکتا ناں‘‘۔
’’اچھا یہ بتائیے کہ آپ پہلے کیا کرتے تھے؟آپ نے زندگی کا آغاز کس کام سے کیا؟‘‘
’’دیکھو جی، بات بتانے کی تو نہیں ہے لیکن اللہ کے گھر میں بیٹھے ہیں۔ کوئی مارے یا چھوڑے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ بچپن میں مَیں اور اکبر نکّا مل کر مسیت سے جوتیاں چرایا کرتے تھے‘‘۔
’’جی…ی…ی…ی‘‘
’’ہاں جی! میرا پیو بچپن میں مرگیا تھا۔ ماں نے دوسرا ویاہ کرلیا۔ سوتیلا پیو مجھے بہت مارتا تھا۔ ماں کو خرچہ وی نئیں دیتا تھا۔ ایک دن میں روتا روتا مسیت چلاگیا۔ نمازیوں نے جھڑک کر مجھے پیچھے کھڑا کردیا۔ پیچھے کھڑے کھڑے میں نے دیکھا تو مسیت کے در پہ نئی جوتی رکھی تھی۔ میں نے سوچا، بیچوں گا کچھ روپے تو مل جائیں گے۔ پھر میں نے مسیت سے جوتیاں چرانا شروع کردیں۔اکبر نکّا جاکر انہیں دوسرے گاؤں میں بیچ آتا۔ پَر جی یہ دھندا چنگا نئیں تھا۔ بدنامگی زیادہ تھی آمدن کم تھی۔ پکڑا جاتا تو شور مچ جاتا۔ نمازیوں کے ساتھ ساتھ راہ چلتے بھی مل کر مارتے۔ اکبر نکّا وی بیچ میں پیسے مارنے لگا تھا۔ میں نے یہ دھندا چھوڑ کر چھوٹی موٹی چوری چکاری شروع کردی۔ ایسے ای بچپن گزر گیا پتا وی نئیں چلا‘‘۔
’’پھر بڑے ہوکر تم نے کیا کیا؟‘‘
’’بڑے ہوکر کیا کرنا تھا جی۔ ایک دن میں چوری کے ارادے سے اللہ وسایا کے گھر میں گھس گیا۔ اللہ وسایا چوہدری کا کرندہ ہے جی۔ اس نے پکڑ کر شور مچادیا۔ پورا محلہ جاگ گیا۔ سب نے مل کر بہت مارا۔ پھر چوہدری کے پاس لے گئے۔ چوہدری نے اپنی جیل میں ڈال دیا۔ وہاں جی مردوں اور عورتوں کی علیحدہ علیحدہ جیل تھی۔ قیدیوں کو جوار کی روٹی کے ساتھ ساگ دیا جاتا تھا۔ گندم کی روٹی ہفتے میں ایک بار دی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ پتلی دال ہوتی تھی۔ مگر اس کھانے پر جو خرچ ہوتا وہ قیدیوں کے رشتے داروں سے لیا جاتا۔ اپنا تو کوئی رشتہ دار تھا نہیں، اس لئے زیادہ تر فاقے کرنے پڑتے تھے۔ مرنے جیسی حالت ہوگئی تھی۔ چوہدری کے کچھ بندے رسّا گیری کرتے تھے۔ انہوں نے چوہدری سے میری سفارش کردی۔ پھر جی میں وی ان کے ساتھ مل کر رسّا گیری کرنے لگا۔ رسّا گیری میں وڈا نام کمایا۔ جس گائے بیل پر ہاتھ رکھ دیا ساتھ ساتھ چلی آتی تھی۔ ایک دو دفعہ جی اونٹھ وی چوری کیا۔ چوہدری میرے کام سے بہت خوش تھا۔ پَر جی چوہدری کا اس کام سے دل بھر گیا تھا۔ وہ کوئی وڈا کام کرنا چاہتا تھا۔ فیر چوہدری لہور چلا گیا۔ وہاں اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا۔ وڈا وزیر بن گیا۔ لہور میں چوہدری کی بہت وڈی کوٹھی ہے لیکن میں گاؤں کی حویلی میں ہی رہا۔ اس مرتبہ چوہدری الیکشن لڑنے گاؤں آیا ہوا تھا کہ مسیت کا پیش امام مرگیا۔ بابا دینو نام تھا جی اس کا۔ ہر ویلے اسلام اسلام کرتا رہتا تھا۔ چوہدری کو اس پہ بہت غصہ آتا تھا۔ چوہدری نے اس کی جگہ مجھے امام بنادیا۔ میں نے کہا چوہدری صاحب ’’میں اور مسجد کا پیش امام…‘‘ چوہدری ہنس کر بولا: ’’موج کر پیر بخش۔ اب تُو نے کچھ نہیں کرنا۔ بس ٹُکڑ توڑنے ہیں۔ مسیت میں جھاڑو دینا، پانچ وقت اذان دینا… لیکن دیکھ گلے میں موٹی سی مالا ضرور ڈال لینا اور ہر وقت منہ میں بڑبڑ کرتے رہنا۔ سال بھر کے دانے حویلی سے مل جائیں گے، لیکن دیکھ عصر مغرب کے بیچ مسجد میں رہنا، لوگ مرنے والوں کی فاتحہ درود کرتے ہیں تو سب سے پہلے مولوی کو روٹی بھیجتے ہیں۔ کچھ نماز، کلمے، دم درود بھی سیکھ لینا‘‘۔ بس جی اس کے بعد چوہدری نے گاؤں والوں کے سامنے اعلان کردیا۔ گاؤں والوں نے پہلے تو منہ بنایا پھر چوہدری کے کرندوں نے انہیں سمجھایا کہ گاؤں کا پرانا آدمی ہے۔ بڈھا ہوگیا اے لیکن اب بھی اس پر چوری چکاری کا شبہ رہتا ہے، مسیت کا امام بن جائے گا تو اس شک شبہ سے بھی جان چُھٹے گی۔ یوں جی گاؤں والے بھی راضی ہوگئے، سب نے خوشی خوشی مجھے مسیت کا امام بنادیا‘‘۔
’’پھر بابا پیر بخش تم اتنے پریشان اور فکرمند کیوں ہو؟‘‘
’’فکر کی بات تو ہے نا جی! اپنے ہی گناہ کیا کم ہیں کہ اب مجھے چوہدریوں، سرداروں، ان کی اولادوں، رشتہ داروں کی بدمعاشیاں، بدکاریاں اور ظلم و ستم بھی معاف کرانا پڑیں گے‘‘۔