Search This Blog

Friday, 2 August 2013

This Ramadan....

This Ramadan....
 Asma Anjum Khan, ummid.com

Take your pick

Choose carefully

Whatever you choose is red indeed

Scarlet Syrian fields are sizzling embers

Each sparkle sending the Ummah party sour

Would thou say cheers to Tayyip?

Or join the Sickulars for an iftar?

All this while, amid the groans of the drones

The poor Afghans mumble little prayers

The one who said Anaa Ibn e Firoun

Came back riding within a year

Mursi or Mubarak, the choice is bloodied.

Whatever you choose is red indeed.

The Iraqi cheeks have tears as thick as their oil

We hear an eternal moaning saga on Palestinian soil

The Bay of Guantanamo has special Tube iftars

55 plus days of fasting, unbroken remains their fast

The Rohingyas spark but a little anger

Compare it only to the sitting Somalian hunger

In Pak you have Shia dates and Sunni dates

Your pick will decide your fate

Indies are unique, no ear to their commotion

In a demo- crazy way they make the forty percent of Prison Population

We kill and they kill

The blood remains red still

This Ramadan,

Spare a thought

For all the red

Pause, think and reflect

Whatever you choose should NOT be red indeed

Asma Anum Khan teaches at a Maharashtra college as lecturer.
- See more at: http://www.ummid.com/news/2013/August/01.08.2013/this-ramadan.html#.Ufp7kQH0D1Y.gmail

Thursday, 1 August 2013

بابا پیر بخش مبارک ہو۔۔۔BABA PEER BAKSH MUBARAK HO

قیادت

عبدالرحمن متوکل
’’بابا پیر بخش مبارک ہو! پورے گاؤں نے آپ کو مسجد کا پیش امام بنایا ہے۔‘‘
’’بس جی، آپ کو بھی مبارک ہو۔‘‘
’’بابا پیر بخش یہ خوشی کا موقع ہے، اس موقع پر آپ چپ ہیں!آپ کے چہرے پر دوردور تک خوشی نظر نہیں آرہی۔‘‘
’’نہیں جی! ایسی کوئی گل نئیں۔‘‘
’’بابا جی آپ بتائیں گے کہ گاؤں کے سب لوگوں نے آپ کو مسجد کا امام بنانا کیوں پسند کیا؟‘‘
’’او جی اللہ بھلا کرے،گاؤں کے بڑوں سے تو اپنا عرصے سے میل ملاپ ہے۔ رہے گاؤں والے، تو جی گاؤں کا بچہ بچہ مجھے جانتا ہے، پر مجھے مسیت کا امام بنادیا… یہ بات تو جی میری وی سمجھ میں نئیں آرہی ہے‘‘۔
’’بابا پیر بخش، اس کی وجہ آپ کا تقویٰ تو نہیں؟‘‘
’’تقویٰ… یہ کیا ہوتا اے جی؟پہلی واری سنا اے‘‘۔
’’مطلب آپ بہت نمازی پرہیزگار ہو۔‘‘
’’نئیں جی! ایہہ وی گل نئیں اے۔ اللہ کو منہ دکھانا ہے، میں نے تو آج تک عید کی نماز بھی نہیں پڑھی‘‘۔
’’یہ آپ کیا کہہ رہے ہیں؟‘‘
’’ہاں جی، مجھے تو وضو کرنا بھی نہیں آتا‘‘۔
’’لگتا ہے آپ انکسار سے کام لے رہے ہیں یا پھر آپ ان اللہ والوں میں سے ہیں جو اپنے آپ کو خلق خدا سے پوشیدہ رکھتے ہیں۔‘‘
’’پتا نئیں جی!آپ کیا کہہ رہے او۔ میں نے تو جو سچی گل تھی آپ کو بتادی۔ پہلے کی بات اور تھی اب بندہ مسیت کا پیش امام بن کر جھوٹ تو نہیں بول سکتا ناں‘‘۔
’’اچھا یہ بتائیے کہ آپ پہلے کیا کرتے تھے؟آپ نے زندگی کا آغاز کس کام سے کیا؟‘‘
’’دیکھو جی، بات بتانے کی تو نہیں ہے لیکن اللہ کے گھر میں بیٹھے ہیں۔ کوئی مارے یا چھوڑے جھوٹ نہیں بولوں گا۔ بچپن میں مَیں اور اکبر نکّا مل کر مسیت سے جوتیاں چرایا کرتے تھے‘‘۔
’’جی…ی…ی…ی‘‘
’’ہاں جی! میرا پیو بچپن میں مرگیا تھا۔ ماں نے دوسرا ویاہ کرلیا۔ سوتیلا پیو مجھے بہت مارتا تھا۔ ماں کو خرچہ وی نئیں دیتا تھا۔ ایک دن میں روتا روتا مسیت چلاگیا۔ نمازیوں نے جھڑک کر مجھے پیچھے کھڑا کردیا۔ پیچھے کھڑے کھڑے میں نے دیکھا تو مسیت کے در پہ نئی جوتی رکھی تھی۔ میں نے سوچا، بیچوں گا کچھ روپے تو مل جائیں گے۔ پھر میں نے مسیت سے جوتیاں چرانا شروع کردیں۔اکبر نکّا جاکر انہیں دوسرے گاؤں میں بیچ آتا۔ پَر جی یہ دھندا چنگا نئیں تھا۔ بدنامگی زیادہ تھی آمدن کم تھی۔ پکڑا جاتا تو شور مچ جاتا۔ نمازیوں کے ساتھ ساتھ راہ چلتے بھی مل کر مارتے۔ اکبر نکّا وی بیچ میں پیسے مارنے لگا تھا۔ میں نے یہ دھندا چھوڑ کر چھوٹی موٹی چوری چکاری شروع کردی۔ ایسے ای بچپن گزر گیا پتا وی نئیں چلا‘‘۔
’’پھر بڑے ہوکر تم نے کیا کیا؟‘‘
’’بڑے ہوکر کیا کرنا تھا جی۔ ایک دن میں چوری کے ارادے سے اللہ وسایا کے گھر میں گھس گیا۔ اللہ وسایا چوہدری کا کرندہ ہے جی۔ اس نے پکڑ کر شور مچادیا۔ پورا محلہ جاگ گیا۔ سب نے مل کر بہت مارا۔ پھر چوہدری کے پاس لے گئے۔ چوہدری نے اپنی جیل میں ڈال دیا۔ وہاں جی مردوں اور عورتوں کی علیحدہ علیحدہ جیل تھی۔ قیدیوں کو جوار کی روٹی کے ساتھ ساگ دیا جاتا تھا۔ گندم کی روٹی ہفتے میں ایک بار دی جاتی تھی۔ اس کے ساتھ پتلی دال ہوتی تھی۔ مگر اس کھانے پر جو خرچ ہوتا وہ قیدیوں کے رشتے داروں سے لیا جاتا۔ اپنا تو کوئی رشتہ دار تھا نہیں، اس لئے زیادہ تر فاقے کرنے پڑتے تھے۔ مرنے جیسی حالت ہوگئی تھی۔ چوہدری کے کچھ بندے رسّا گیری کرتے تھے۔ انہوں نے چوہدری سے میری سفارش کردی۔ پھر جی میں وی ان کے ساتھ مل کر رسّا گیری کرنے لگا۔ رسّا گیری میں وڈا نام کمایا۔ جس گائے بیل پر ہاتھ رکھ دیا ساتھ ساتھ چلی آتی تھی۔ ایک دو دفعہ جی اونٹھ وی چوری کیا۔ چوہدری میرے کام سے بہت خوش تھا۔ پَر جی چوہدری کا اس کام سے دل بھر گیا تھا۔ وہ کوئی وڈا کام کرنا چاہتا تھا۔ فیر چوہدری لہور چلا گیا۔ وہاں اس نے سیاست میں حصہ لینا شروع کردیا۔ وڈا وزیر بن گیا۔ لہور میں چوہدری کی بہت وڈی کوٹھی ہے لیکن میں گاؤں کی حویلی میں ہی رہا۔ اس مرتبہ چوہدری الیکشن لڑنے گاؤں آیا ہوا تھا کہ مسیت کا پیش امام مرگیا۔ بابا دینو نام تھا جی اس کا۔ ہر ویلے اسلام اسلام کرتا رہتا تھا۔ چوہدری کو اس پہ بہت غصہ آتا تھا۔ چوہدری نے اس کی جگہ مجھے امام بنادیا۔ میں نے کہا چوہدری صاحب ’’میں اور مسجد کا پیش امام…‘‘ چوہدری ہنس کر بولا: ’’موج کر پیر بخش۔ اب تُو نے کچھ نہیں کرنا۔ بس ٹُکڑ توڑنے ہیں۔ مسیت میں جھاڑو دینا، پانچ وقت اذان دینا… لیکن دیکھ گلے میں موٹی سی مالا ضرور ڈال لینا اور ہر وقت منہ میں بڑبڑ کرتے رہنا۔ سال بھر کے دانے حویلی سے مل جائیں گے، لیکن دیکھ عصر مغرب کے بیچ مسجد میں رہنا، لوگ مرنے والوں کی فاتحہ درود کرتے ہیں تو سب سے پہلے مولوی کو روٹی بھیجتے ہیں۔ کچھ نماز، کلمے، دم درود بھی سیکھ لینا‘‘۔ بس جی اس کے بعد چوہدری نے گاؤں والوں کے سامنے اعلان کردیا۔ گاؤں والوں نے پہلے تو منہ بنایا پھر چوہدری کے کرندوں نے انہیں سمجھایا کہ گاؤں کا پرانا آدمی ہے۔ بڈھا ہوگیا اے لیکن اب بھی اس پر چوری چکاری کا شبہ رہتا ہے، مسیت کا امام بن جائے گا تو اس شک شبہ سے بھی جان چُھٹے گی۔ یوں جی گاؤں والے بھی راضی ہوگئے، سب نے خوشی خوشی مجھے مسیت کا امام بنادیا‘‘۔
’’پھر بابا پیر بخش تم اتنے پریشان اور فکرمند کیوں ہو؟‘‘
’’فکر کی بات تو ہے نا جی! اپنے ہی گناہ کیا کم ہیں کہ اب مجھے چوہدریوں، سرداروں، ان کی اولادوں، رشتہ داروں کی بدمعاشیاں، بدکاریاں اور ظلم و ستم بھی معاف کرانا پڑیں گے‘‘۔

Saturday, 27 July 2013

مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشیں

مصر میں فوجی مداخلت کے پس پردہ سازشیں

جنرل (ر) مرزا اسلم بیگ

٭امریکی صدر باراک اوبامہ نے مصر میں فوجی کارروائی کو ”سازش نہیں بلکہ انقلاب“ قرار دیا ہے جبکہ جنرل فتح نے فوجی مداخلت کو ” عوامی خواہشات کے احترام میں ملکی مستقبل کیلئے کامیاب سیاسی و نظریاتی جدوجہد“ کے نام سے موسوم کیا ہے۔ ( اس کا موازنہ پاکستان کی مسلح افواج کے اٹھائے جانیوالے عہد نامے سے بآسانی کیا جاسکتا ہے جس میں درج ہے کہ: ”آئین پاکستان کو ہر حال میں مقدم رکھوں گا جو عوام کی خواہشوںکا ترجمان ہے۔“ اس فرض کی ادائیگی کیلئے آرمی چیف کاغیر سیاسی ہونا ضروری ہے لیکن آرمی چیف اگر غیرسیاسی ہوگاتو وہ آئین کی پاسداری کس طرح کریگا؟ یہی سبب ہے کہ آئین کی پاسداری میںجنرل فتح سیاسی بن گیا اور سیاسی بساط الٹ کے رکھ دی۔
٭مصر میں رونما ہونیوالے حالات نے تمام عرب دنیا کے اسلام پسند عناصر کو مصر کی جانب راغب کیا ہے کیونکہ الاخوان کا تعلق اسلام کے مکتب فکر‘ سلسلہءقادریہ سے ہے جو سوڈان‘ لیبیا‘ صومالیہ‘ تیونس‘ الجیریا‘ عراق‘ اردن‘ شام‘ یمن‘ پاکستان‘ بنگلہ دیش اور انڈونیشیا تک پھیلا ہوا ہے۔
٭آرمی نے اس امید پریہ جوا کھیلا تھاکہ وہ جلد ملک کی صورتحال پر قابو پا لے گی لیکن تیس (30)سیاسی جماعتوں کی صدر مرسی کے ساتھ یکجہتی اور مکمل تائید نے حالات کو گمبھیر بنا دیا ہے اس طرح ”مصر ایک تاریخی جال میں پھنس چکاہے۔اسکی مثال نوآبادیاتی دور کی پہیلی کی طرح ہے جس نے مصر سے پاکستان تک کے ممالک کیلئے سیاسی اسلام کے خواب کی امیدوں کو روشن کردیا ہے۔“ پیٹر پروفام (Peter Profam, The Independent)
٭صدر مرسی کے حامیوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ”ہم مزاحمت جاری رکھیں گے۔ ہم آزاد انقلابی ہیں اور ہم اپنا سفر جاری رکھیں گے۔“
انکے مد مقابل اب فوج ہے جو ملک کی حکمران ہے۔یہ وہی فوج ہے جو حسنی مبارک کی رخصتی کے بعد اقتدار میں آئی تھی اوراٹھارہ ماہ تک اپنے ہی شہریوں کو قتل کرتی رہی۔اقتدار کی کشمکش اب شروع ہو چکی ہے۔
فوجی مداخلت نے خطرناک شکل اختیار کر لی ہے جس کے سبب مصر سے لے کر ترکی‘ پاکستان اور بنگلہ دیش تک اسلام پسند اور آزاد/سیکولر طبقات کے مابین سیاسی و نظریاتی تصادم کی راہ ہموار ہو چکی ہے۔ پاکستان میں عوام نے ایسے تصادم کو ووٹ کی طاقت سے ناکام بنایا اور اب وہی طاقتیں ’ یعنی عدلیہ ‘ آرمی اور روشن خیال‘ سیکولر اور اسلام پسند ‘ملک میں سیاسی توازن قائم کرنے کیلئے کوشاں ہیں جو ماضی میں حالات کی خرابی کا باعث بنتی رہی ہیں ۔
مغربی میڈیا اس بات کو سچ ثابت کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا ہے کہ مصر میں ”سیاسی اسلام“ کا تجربہ ناکام ہو چکا ہے حالانکہ اس نظام کو اپنی افادیت منوانے کیلئے مناسب وقت ہی نہیں دیا گیا۔اور اگر مصر میں یہ تجربہ ناکام ہو گیا تو اس کا الزام مصر میں فوجی مداخلت کی ذمہ دار قوتوں یعنی امریکہ‘ یورپی یونین اور مشرق وسطی میں طاقت کا کھیل کھیلنے والی قوتوں کے سرہے ‘ جنہوں نے ”عوامی خواہشات کے آئینہ دارآئین کو مقدم رکھنے“ کے بجائے فوج کو مداخلت پر اکسایا ہے۔
الاخوان کی محاذ آرائی کی ایک طویل داستان ہے جو1954 ءمیں صدر ناصر کے دور میں شروع ہوئی اور 1970 ءتک رہی ۔اسکے بعد تین دہائیوں تک صدر حسنی مبارک کے مظالم کا شکار رہنے کے بعد2012 ءکے انتخابات میں اسے کامیابی نصیب ہوئی۔اب انہیں جنرل فتح کا سامنا ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ ”جہاں جمال ناصر جیسی طلسماتی شخصیت کامیاب نہیں ہو سکی وہاں جنرل فتح کیسے کامیاب ہو سکتے ہیں؟
 مصری عوام عرصہ دراز سے سیاسی اسلام کا خواب دیکھ رہے ہیں جسے ختم کرنا جنرل فتح کے بس کی بات نہیں“۔ وقت الاخوان کے ساتھ ہے اور افغانی طالبان کی طرح وہ بھی پرسکون ہیں اور اپنے مقصدسے مخلص ہیں کیونکہ انہیں یقین ہے کہ غیر ملکی آقاﺅں کے مفادات کی نگران فوج کیخلاف انکی پرامن مزاحمت ضرور کامیاب ہوگی اور وہ دن رات اس ورد میں مصروف ہیں ۔ ”حسبی اللہ و نعم الوکیل“ ....

چچا سام اور دنیاءے اسلام Uncle sam and Islamic World


 چچا سام اور دنیائے اسلام



فتح ملک 
چا سام کو دنیائے اسلام میں جمہوری عمل کا تسلسل اور استحکام سخت ناپسند ہے۔ چنانچہ وہ ہمیشہ عوام کی اجتماعی رائے سے منتخب ہو کر اقتدار میں آنے والی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر، اپنی لے پالک اور فرمانبردار آمریت کو مسندِ اقتدار پر لا بٹھاتا ہے۔ دُور کیوں جائیں، خود پاکستان میں پہلے وزیراعظم کی شہادت کے بعد اقتدار کی باگ ڈور برطانوی ہند کی تربیت یافتہ افسر شاہی کو تھما دی گئی تھی۔ اسی پر بس نہیں، ساتھ ہی عوام و خواص کی سیاسی اور فکری تربیت کی خاطر یہ نظریہ بھی ایجاد کر دیا گیا تھا کہ ترقی پذیر ممالک میں عوامی جمہوریت کی بجائے ”مہربان آمریت“ کو رواج دینے کی ضرورت ہے۔ کچھ ایسی ہی سناونی آج کے مصر میں سلطانی¿ جمہور کے فروغ و استحکام کی خاطر سرگرم عمل عوام کو سنائی گئی ہے۔ مصر عرب دنیا کا اہم ترین تہذیبی اور سیاسی مرکز ہے۔ یہ گویا عرب دنیا کا زندہ و بیدار دل ہے۔ یہاں سلطانی¿ جمہور کی اجتماعی تمناﺅں کی سرسبزی و شادابی سے گرد و پیش کے تمام عرب ممالک میں عوام کی بیداری کے زیر لب نغمات کی لے بلند ہونے لگتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب جنرل ابو الفتح اسیسی نے امریکی تائید و حمایت سے مصر کے پہلے منتخب صدر محمد مُرسی کی جمہوری حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار پر قبضہ جمایا تو سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ نے باغی فوجی جرنیل کو بذاتِ خود مبارکباد دی، اردن کے شاہ عبداللہ ثانی نے بنفسِ نفیس مصر آ کر فوجی بغاوت کی حمایت فرمائی اور متحدہ امارات نے سعودی عرب کی مانند دل کھول کر مالی امداد کی پیشکش کی۔ متحدہ عرب امارات نے تو ساتھ ہی ساتھ 69 اسلام پسندوں کی گرفتاری کی نوید بھی سُنائی۔
امریکی صدر اوباما اور اس کی تابع فرمان مصری افسر شاہی کے دباﺅ میں آ کر بھی صدر محمد مُرسی کی نظریاتی استقامت منزلزل نہ ہوئی۔ فوجی بغاوت سے فقط چند ماہ پیشتر امریکی صدر نے اپنے اوول آفس میں صدر مُرسی کے امور خارجہ کے مشیر ایسام الحداد سے ملاقات کے دوران سابق صدر حسنی مبارک کے وزیر خارجہ امر موسیٰ اور اقوام متحدہ کے سابق سفارتکار محمد البرادی کو کابینہ میں شامل کرنے پر زور دیا تھا مگر صدر مُرسی نے صدر اوباما کا یہ مشور سُنا اَن سُنا کر دیا۔ ہرچند مُرسی نے نام نہاد وسیع البنیاد حکومت کے اس تصور کو اپنانے سے انکار کر دیا تھا مگر اس کے ردعمل میں جنرل اسیسی نے امریکی تابعداری کا حق ادا کرتے ہوئے صدر مُرسی کو مستعفی ہونے کا ”مشورہ“ دے ڈالا جسے مُرسی نے ماننے سے صاف انکار کر دیا ”نہیں! میں اپنا گلا کٹوا سکتا ہوں، استعفیٰ نہیں دے سکتا!“ محمد مُرسی کے اس حرفِ انکار (اقبال : نعرہ¿ لا پیشِ نمروداں بِزَن) نے مصر میں ایک ایسے سیاسی بحران کو جنم دیا ہے جس کا جلد یا بدیر سارے عالم عرب کو اپنی لپیٹ میں لے لینا ناگزیر ہے۔ اس حرفِ انکار کی گونج سُنتے ہی مصر کی سلفی جماعت النور بھی اپنے چھوٹے موٹے اختلاف کو بالائے طاق رکھ کر صدر مُرسی کی حمایت میں میدان میں نکل آئی ہے۔ امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے اسلامی جمہوریت پر فوجی آمریت کی ترجیح کا راز ہی یہ ہے۔
مغربی دنیا اسلامی جمہوریت (پولیٹیکل اسلام) کی راہیں مسدود کر دینے کی اس بار بار دہرائی گئی حکمتِ عملی کی کامیابی پر بے شک خوشی کے شادیانے بجائے اور اسرائیل کی در پردہ حلیف ہمسایہ ریاستیں اس جشن مسرت میں بے شک شریک ہوں مگر یہ ہرگز نہ بھولیں کہ یہ خوشی انتہائی عارضی خوشی ہے۔ بات یہ ہے کہ محمد مُرسی دنیائے اسلام میں امر موسیٰ اور محمد البرادی کے سے طالع آزما اور ابن الوقت سیاستدانوں کے قبیلے سے تعلق نہیں رکھتے۔ وہ اخوان المسلمون کی آفاقی مگر عہد در عہد نیا رنگ و آہنگ اختیار کرتی ہوئی آئیڈیالوجی کے عصری ترجمان ہیں۔ آج سے پچاسی سال پہلے، 1928ءمیں مصر کے شہر اسماعیلیہ میں حسن البنا نے اخوان المسلمون کی بنیاد رکھی تھی۔ اوّل اوّل یہ اسلامی تنظیم آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر کام کرتی رہی مگر بعد ازاں اپنی پُرامن حکمتِ عملی پر نظرثانی پر مجبور کر دی گئی۔
اندازِ نظر اور طرزِ عمل میں یہ تبدیلی اس وقت کے صدر سادات کی اسرائیل نواز پالیسی کا ردعمل تھی۔ کیمپ ڈیوڈ کے خفیہ معاہدے کے نتیجے میں جب صدر سادات نے 1977ءمیں اسرائیل کے ساتھ امن کا معاہدہ کیا تو اس اصلاحی سیاسی تنظیم نے بھی اپنی حکمت عملی میں تبدیلی لازم سمجھی۔ اس تبدیلی نے ہی ایمن الظواہری کے سے رہنماﺅں کو جنم دیا تھا۔ صدر مُرسی، اُن کے رفقائے کار اور پیروکار اخوان المسلمون کے اُس گروہ سے تعلق رکھتے ہیں جو خود کو اُمت الوسط قرار دیکر پُرامن جمہوری جدوجہد سے اسلامی جمہوریت کا قیام اور استحکام چاہتے ہیں۔ افسوس کہ آج پھر باغی جرنیل نے پُرامن اسلامی جمہوریت کی راہیں بند کر کے عوام کو ایک بار پھر اس سوال کا سامنا کرنے پر مجبور کر دیا ہے کہ Can Egypt have democracy? انگریزی کا یہ جملہ میرا نہیں نیویارک ٹائمز کے عملہ¿ ادارت کے ایک رُکن Carol Giacomo کا ہے۔ موصوف نے اس عنوان کے ساتھ اپنے مختصر مضمون میں درست لکھا ہے کہ :
"The Obama administration has used tortuous rhetoric to avoid calling a coup a coup, or even condemning it. So have many lawmakers and analysts who say the surest way to protect American interests in the Egypt- Isreal peace treaty, the Suze Canal and Egypt's coopertion in countering terrorism is to work with the army, Egypt's most powerful institution." (July 15, 2013)
 سچ ہے کہ امریکہ جمہوریت پر اس شبِ خون کو فوجی بغاوت کہنے اور اس کی مذمت کرنے سے گریزاں ہے۔ یہ بھی سچ ہے کہ اس باب میں امریکہ کا سب سے قومی محرکِ عمل عرب دنیا میں اسرائیل کی بقا اور بالادستی کی تمنا ہے۔ چنانچہ امریکہ اس فوجی بغاوت کو جمہوریت کا خوشنما لباس پہنانے میں مصروف ہے (یاد کیجئے اقبال : دیوِ استبداد جمہوری قبا میں پائے کوب/ تُو سمجھتا ہے کہ آزادی کی ہے نیلم پری) ۔ مجھے یقین ہے کہ آج کی عرب دنیا اسرائیل کے دیوِ استبداد کو ہر رنگ اور ہر لباس میں پہچاننے لگی ہے اور اسے اخوان المسلمون کے محمد مُرسی اور خیرات الشاطر کے سے رہنما بھی میسر آ گئے ہیں۔ خیرات الشاطر نے 1966ءمیں سیّد قطب کی مصر کے زنداں میں سزائے موت کا حوالہ دیتے ہوئے صدر مُرسی کے اس عہد کو برحق قرار دیا ہے کہ وہ اپنے اور اسلامی جمہوریت کے حامیوں کے ساتھ کھلے میدان میں جدوجہد کرتے ہوئے جام شہادت نوش کریں گے۔ یہ بات بہت معنی خیز ہے کہ آج اگر ایک طرف مصر کے مسلمان لاکھوں کی تعداد میں فوجی بغاوت کی مذمت میں نعرہ زن ہیں تو دوسری جانب مصر میں سرگرم عمل انسانی حقوق کی تنظیمیں اور مصر کی ”سول سوسائٹی“ خاموش ہے۔ کیا اسلام کے نام لیوا سیاستدانوں کے کوئی انسانی حقوق نہیں ہیں؟ اس سوال کے جواب میں نکلتا ہوں تو مجھے الاہرام ریسرچ سنٹر کی ایک پرانی رپورٹ یاد آتی ہے جس میں امریکہ اور سرائیل کی اُس مشترکہ منصوبہ بندی کو بے نقاب کیا گیا ہے جس میں عربوں میں سائنس و حکمت کا تمام تر سرمایہ برباد کر دینے کی مساعی پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق عراق کے خلاف مسلح امریکی جارحیت کے آغاز میں ہی 70 عراقی سائنسدانوں کو اغوا کر لیا گیا تھا۔ آج عراق کی مانند شام کی دانش گاہوں اور علمی ترقی کے آثار و امکانات کو مٹایا جا رہا ہے۔ ان عصری حقائق پر غور کرتا ہوں تو لگتا ہے کہ مسلمانوں کی دشمن طاقتیں اسلام پسندی اور ترقی پسندی ہر دو کے خلاف صف آرا ہیں۔ صدام حسین کے عراق میں بعث پارٹی کی حکومت تھی اور بشار الاسد کے شام میں بعث پارٹی کی حکومت ہے۔ بعث پارٹی ایک سوشلسٹ پارٹی ہے جو 1940ءمیں قائم کی گئی تھی۔ کاش ہم اس حقیقت پر غور کرنے کیلئے وقت نکال سکیں کہ امریکہ اور اس کے اتحادی مغربی ممالک کو دنیائے اسلام میں نہ تو اسلامی جمہوریت کا فروغ و استحکام گوارا ہے اور نہ ہی سوشلسٹ آمریت کا!

Fazaye Badr paida kar فضائے بدر پیدا کر


Friday, 26 July 2013

مصر میں جمہوریت پر شب خون

مصر میں جمہوریت پر شب خون

…عالمگیر آفریدی…
مصر میں تاریخ نے ایک بار پھر اپنے آپ کو دہرایاہے ۔ عوام کے نام نہاد مطالبے پر مصر ی مسلح افواج کے سربراہ جنرل عبد الفتاح السیسی نے لبرل اور سیکولر طبقات کے مغربی پرودہ راہنما محمد البرادی کو اپنے دائیں جانب اور مصر کے مذہبی عناصر کی نمائندگی کے دعوے دار جامعہ الازہر کے شیخ ڈاکٹر احمد الطیب کو اپنے بائیں پہلو میں بٹھا کر ایک مختصر پریس کانفرنس میں نہ صرف مصر کے منتخب صدر محمد مرسی کی برطرفی کااعلامیہ پڑھ کر سنایا بلکہ مصری آئین کو معطل کرکے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس عدلی منصور کی سربراہی میں عبوری حکومت کے قیام کا اعلان بھی کیا ۔ فوج نے محمد مرسی حکومت کے خاتمے کا ارادہ تو بہت پہلے کرلیا تھا لیکن وہ کسی ایسے موقع کی تاک میں تھی جب اقتدار پر قبضے کے لیے اس کے پاس مناسب جواز دستیاب ہو اور حکومت پر قابض ہونے کے بعد اس کے خلاف اندرونی اور بیرونی دنیا میں کم سے کم انگلیاں اٹھائی جا سکیں۔ فوج کا اسلام پسندوں پر مشتمل مصری حکومت کے خلاف پیمانہ صبر چند دن پہلے اس وقت لبریز ہوگیاتھا جب محمد البرادی جیسے سیکولر اور مغرب نواز امریکی ایجنٹوں کی سرپرستی میں دو ڈھائی لاکھ لبرل اور سیکولر عناصر نے التحریر اسکوائر میں جمع ہو کر صدر مرسی کی حکومت کے خلاف احتجاج شروع کیا ۔ یہ احتجاج چونکہ مصری حکومت کے خاتمے کی غرض سے ایک منظم منصوبے اور ساز ش کے تحت شروع کیا گیا تھا اس لیے مظاہرین نے حکومت کی صبر اور برداشت پر مبنی پالیسی کو حکومت کی کمزوری پر محلول کر کے جہاں جاری احتجاج میں تشدد کا پہلو شامل کیا وہاں بعض ،ظاہرین نے اخوان المسلمین کے ہیڈ کوارٹر پر حملے اوروہاں جلائو گھیرائو سمیت اخوان سے و ابستہ راہنما ئوں اور کارکنان پر قاتلانہ حملے بھی کیے گئے ۔ ان حملوں میں اخوان کے دو درجن سے زائد راہنما اور کارکنان جاں بحق کیے جا چکے ہیں۔ ان ہی حالات کو جواز بنا کر اقتدار پر قبضے سے محض 24گھنٹے قبل مصری افواج کے سربراہ جنرل الفتاح السیسی نے اپنے ایک نشری بیان میں حکومت کو جاری احتجاج ختم کرانے اور مظاہرین کے مطالبات ماننے کے لیے 48گھنٹے کا الٹی میٹم دیا تھا جس پر صدر مرسی نے سخت رد عمل ظاہر کرتے ہوئے فوج کے اس بیان اور الٹی میٹم کو غیرآئینی اور غیر قانونی قرار دیتے ہوئے نہ صرف مسترد کر دیا تھا بلکہ فوج کے حکومت کے خلاف کسی بھی ممکنہ اقدام کی سخت مزاحمت کا اعلان بھی کیا تھا ۔ صدر مرسی حکومت کے خلاف عوامی احتجاج کا لب و لہجہ اور احتجاج کا طریقہ واردات دیکھ کر یہ بات واضح نظر آرہی تھی کہ نہ صرف دال میں کچھ کالا ہے بلکہ ان اندیشوں کو بھی واضح طور پر محسوس کیا جا رہا تھا کہ یہ احتجاج آگے جا کر کسی بڑے حادثے کا پیش خیمہ بھی بن سکتا ہے ۔ ایسے میں جب فوج کے سربراہ نے حکومت کو 48گھنٹے کا الٹی میٹم دے ڈالا تھا تو تب پھر ہر کسی کی سمجھ میں یہ بات آگئی تھی کہ مرسی حکومت اب دنوں نہیں بلکہ گھنٹوں کی مہمان ہے ۔بعد میں وہی ہوا کہ فوج نے اپنے 48گھنٹوں کے الٹی میٹم کی لاج رکھنا بھی ضروری نہیں سمجھا اور اگلے ہی دن یعنی 24گھنٹے بعد فوج کے چند پیادوں نے سرکاری ٹی وی اور ایوان صدر کا گھیرائو کرتے ہوئے بھاری مینڈیٹ کی حامل ایک جمہوری حکومت کو اسی طرح چلتا کر دیا جس طرح کہ عموماً تیسری دنیا بالخصوص مصر اور پاکستا ن جیسے ممالک میں ہوتا آیا ہے ۔مرسی حکومت پر فوج کے سربراہ نے وہی گھسے پٹے روایتی الزامات لگائے ہیں جو اس طرح کے آئین شکن اور جمہوریت کش اقدامات کے بعد فوجی ڈکٹیٹر ز منتخب جمہوری حکومتوں کے خلاف لگاتے آئے ہیں ۔ گو مصری افواج کے پاس صدر مرسی جیسے دیانتدار ، اہل ، باصلاحیت اور باہمت قائد کے خلاف چارج شیٹ بنانے کے لیے کوئی قابل ذکر مواد دستیاب نہیں تھا لیکن مرسی حکومت کی معزولی کے لیے کیا صدر مرسی کا یہ ایک قصورکم تھا کہ وہ اسلام کے اصولوں یعنی سماجی انصاف اور جمہوریت پر مبنی معاشرے کے قیام کے علمبردار تھے ۔ وہ فلسطینیوں کو ان کے جائز بنیادی حقوق دینے اور ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام کے پشتیبان اور خواہشمند تھے ۔ وہ مصری معاشرے کو زنا ، شراب خوری او ر سودجیسی غیر اسلامی قباحتوں سے پاک کر کے ایک فلاحی اسلامی معاشرے کے قیام کے راستے پر گامزن تھے ۔ حیرت ہے کہ پاکستان کے بعض نام نہاد جمہوریت پسند دانشور مصر میں جمہوریت کے خلاف فوج کشی پر دکھلاوے کے ٹسوے تو بہا رہے ہیں لیکن یہی دانشور ایک ہی سانس میں مصر میں جمہوریت لپیٹے جانے کی ذمہ داری اقتدار کے بھوکے فوجی جرنیلوں اور ان سے بھی بڑھ کر عالمی صیہونی اور یہودی سازشوں کے سرخیلوں پر عائد کرنے کی بجائے اس جمہوریت کشی کاملبہ نوزائیدہ مرسی حکومت اور ان کے خلاف نام نہاد اور بے بنیاد الزامامت کو قرار دے کر اپنی دورنگی اور منافقت کا کھلا اظہار کررہے ہیں ۔ دانشوروں کایہ مفاد پرست اور مغرب سے مرعوب طبقہ ایک جانب صدر مرسی پر بے حکمتی اور غیر لچکداری کی بھپتی کستے ہوئے، کہتے ہیں کہ فوجی الٹی میٹم کے بعد جمہوریت بچانے کے لیے صدر مرسی کو اپنے اقتدار کی قربانی دے کرمستعفی ہوجانا چاہیے تھا ۔دوسری جانب یہ ٹولہ میاں نواز شریف پر جنرل مشرف کے خلاف نہ ڈٹنے اور جان کی امان کا معاہدہ کرنے کی بھپتیاں کسنے سے بھی دریغ نہیں کرتا جب کہ تیسری جانب یہی ٹولہ ذوالفقار علی بھٹو کی فوجی آمر کے خلاف نہ جھکنے اور جمہوریت کی خاطر پھانسی چڑھنے پر نہ صرف واہ واہ کرتا ہوا نظر آتا ہے بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کے بعد ان کے جانشینوں اور سیاسی وارثوںنے اپنے کرتوتوں سے جمہوریت کی مٹی جس طرح پلید کی ہے لبرل فاشسٹوں کا یہ دانشور طبقہ ان وارداتو ںکو بھی بالعموم اگر مگر اور چونکہ چنانچہ کے مہمل الفاظ کے گورکھ دھندے میں گول کر جاتا ہے ۔ صدر مرسی کے پاس اپنی منتخب جمہوری و آئینی حکومت بچانے کے لیے سوائے مزاحمت کے اور کوئی آپشن تھا ہی نہیں ۔ ہاں ایک آپشن ان کے پاس ضرور موجود تھا کہ وہ امریکی اور اسرائیلی گٹھ جوڑ کے خلاف ہتھیار ڈال کر اپنی آئینی حکومت سے دستبردار ہوجاتے جس کا سیدھا سادھا مطلب یہی اخذ کیا جاتا کہ وہ لڑے بغیر ہی دشمن کی قید میں چلے گئے کسی جنرل یحی ٰ خان جیسے ” سپوت” کے لیے تو ایسے کسی راستے کا انتخاب یقیناآسان ہوتا لیکن قربانیوں اور شجاعتوں کی امین اخوان المسلمون کے کسی تربیت یافتہ راہنما کے لیے ایسے تاریک راستے کا چنائو نا ممکن تھا۔در اصل صدر مرسی اور اخوان سے بہتر یہ بات اور کون جان سکتا ہے کہ اگر بالفرض وہ ملک وقوم اور جمہوریت کے وسیع تر مفاد میں اقتدار سے علیحدہ ہو بھی جاتے تو تب بھی بین الاقوامی ایجنڈے کے تحت مرسی حکومت کے جانے اور اخوان کے گھیرائو کا فیصلہ وہیں ہو چکا تھا جہاں بالعموم ایسے فیصلے ہوتے ہیں ۔ محمد مرسی جس واضح ایجنڈے اور رفتار کے ساتھ ترکی ، ایران اور فلسطین کے ساتھ اپنے دو طرفہ تعلقات استوار اور مستحکم کر رہے تھے اور غزہ پر حالیہ اسرائیلی حملے کے خلاف مصر نے تاریخ میں پہلی دفعہ جس طرح کھل کر اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر کے فلسطینیوں کو باب الفتح کے سرحدی راستے کے ذریعے جس بڑے پیمانے پر غذائی امداد بہم پہنچائی دراصل یہی وہ جرائم تھے جو صدر مرسی اور ان کی حکومت کے خاتمے کا اصل سبب ہیں باقی محض باتیں اور فسانے یا پھر یکطرفہ اور من گھڑت الزمات ہیں۔ اس بغاوت میں فوج کے پیچھے امریکی ہاتھ کا اندازہ جہاں عبور ی حکومت کے سیٹ اپ اور فوج کی جانب سے جمہوریت کی بحالی کا کوئی ٹائم فریم نہ دینے کے اقدامات سے لگایا جا سکتا ہے وہاں آئین میںمن مانی ترامیم جیسے اعلانات بھی اس جانب واضح اشارہ کرتے ہیں۔ حرف آخر یہ کہ فوج کا اقتدار پر قبضہ اگر ایک جانب مصری معاشرے اور بالخصوص اخوان المسلمون کے لیے ایک بہت بڑی آزمائش کا پیش خیمہ بن سکتا ہے تو دوسری طرف اس شب خون اور بغاوت کے بحیثیت مجموعی مشرق وسطیٰ خاص کر فلسطین اور شام کی صورتحال پر بھی انتہائی گہرے اور منفی اثرات مرتب ہونے کے امکانات کو رد کرنا ممکن نہیں ہوگا ۔

ہلاکو کا رحم Halakum ka Rahem

ہلاکو کا رحم

…غزالہ عزیز …
ٹامس پنگ ایک امریکی فوجی ہیں۔ 9-11 کے وقت وہ بائیس سال کے تھے۔ جب انہوں نے اس واقعہ کو ٹی وی پر دیکھا اس کی وڈیو رپورٹ کے ذریعے جو اس دن کے خوفناک مناظر کی منظر کشی کررہی تھی۔ انہوں نے جارج بش جونیر کو ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے ملبے کے اوپر کھڑے ہو کر اعلان کرتے سنا کہ وہ اس حملے میں ملوث افراد کو کیفر کردار تک پہنچائیں گے۔ انہوں نے جذبات کی شدت محسوس کی اور جارج بش کی معاونت کا فیصلہ کرتے ہوئے امریکی فوج میں بھرتی ہوگئے۔ یوں وہ 2004ء میں تربیت کے بعد عراق بھیج دیے گئے۔
عراق میں تعیناتی کے پانچویں روز ہی انہیں بغداد میں باقاعدہ حملے کا سامنا کرنا پڑا۔ اس حملے میں ان کی ریڑھ کی ہڈی میں گولی لگی اور وہ معذور ہوگئے۔ عراق واپس آکر انہوں نے وہیل چیئر پر عراق جنگ کے خلاف مہم میں حصہ لیا انہوں نے عراق میں زخمی ہونے والے فوجیوں اور ہلاک ہونے والوں کے لواحقین کی طرف سے جارج بش اور اس کے نائب صدر ڈک چینی کو خط لکھے جس میں ان دونوں کو مخاطب کرتے ہوئے اس نے لکھا کہ ’’عراق جنگ اخلاقی طور پر دفاعی نقطہ نظر سے اور معیشت کے اعتبار سے ایک ناکام جنگ تھی اور یہ جنگ آپ دونوں نے شروع کی تھی۔ اب آپ دونوں کو اس کا خمیازہ بھگتنا چاہیے۔ میرا وقت آگیا ہے اور یقینا آپ کا بھی آئے گا۔ مجھے امید ہے کہ آپ کو بھی جواب دہی کرنی ہوگی لیکن اس سے کہیں زیادہ میں چاہتا ہوں کہ آپ لوگوں میں اتنی اخلاقی جرأت آئے کہ آپ خود اس بات کا احساس کریں کہ آپ نے میرے ساتھ اور ان تمام لوگوں کے ساتھ جو ہلاک اور زخمی ہوئے کیا کیا‘‘؟

دونوں ٹانگوں سے محروم ٹامس کا اب کیا حال ہے؟ اس کا جواب ٹامس نہیں دے سکتے کیونکہ انہیں بولنے میں مشکل پیش آرہی ہے۔ ٹامس کی بیوی کہتی ہیں کہ دماغ کو کم آکسیجن ملنے کے باعث زبان اور ہاتھ وغیرہ ہلانے کی صلاحیت پر بھی بڑا برا اثر پڑا ہے۔ ٹامس کھانا بھی نہیں کھا سکتے انہیں ٹیوب کے ذریعہ غذا دی جاتی ہے اور ان کی جلد اُتر رہی ہے اور گوشت اور ہڈیاں نظر آرہی ہیں۔ اس کی بیوی کا کہنا ہے کہ ٹامس زندہ نہیں رہنا چاہتا۔ خود اس کے لیے یہ سب دیکھنا ایک انتہائی مشکل کام ہے۔ دو ماہ پہلے ٹامس نے کہہ دیا تھا کہ اپریل کے آخر میں وہ ٹیوب سے غذا نہ لے کر اپنی زندگی کا خاتمہ کردے گا۔
ٹامس کے ساتھ کیا ہوا مغربی میڈیا نے اس کی کوئی خبر نہیں دی۔ کیونکہ اس کی باتیں ان کے لیے باعث شرم تھیں کہ اس کے شرمناک کرتوت سامنے لاتی ہیں لیکن یہ صرف ایک ٹامس کی کہانی ہے اور نہ ہی کسی ایک ٹامس کے خیالات ہیں۔ ٹامس کی کوشیش ایک لحاظ سے کامیابی سے ہمکنار ہوئیں عراق پر حملہ غلطی تسلیم کرلیا گیا لیکن کیا اس غلطی کا ازالہ محض اعتراف کرنے سے ہوسکے گا جب کہ عراق پر حملے کے پہلے ہفتے میں ہی عراق پر 6 ہزار سے زائد کروز میزائل اور بم برسا دیے گے تھے۔ کتنے بے گناہوں کے چیتھڑے اڑائے گے اور کتنوں کو زندگی بھر کے لیے معذور بنا دیا گیا۔
افغانستان میں انتہائی خطرناک بارود بارش کی طرح برسایا اور اسے کارپٹ بمباری کا نام دیا۔ جس سے افغانستان کی سرزمین تباہ وبرباد ہوئی۔ مقامی باشندوں کی صحت پر انتہائی مضر اور تباہ کن اثرات پڑے۔ ویسے ہی جیسے آج بھی جاپانی شہروں ہیرو شیما اور ناگاساکی میں پیدا ہونے والے بچوں پر ایٹمی حملوں کے مضر اثرات دکھائی دیتے ہیں۔ افغانستان پر برسائے جانے والے بموں میں یورینیم کی تابکاری موجود تھی جس سے پھیپڑوں اور خون کے کینسر کے علاوہ اپاہج بچوں کی پیدائش شروع ہوجاتی ہے۔ یہ ہی یورینیم امریکا نے یوگوسلاویہ میں استعمال کیا، ویت نام میں استعمال کیا۔ ویت نام کی جنگ کے دوران امریکا نے آزادی کے پروانوں کو آڑ فراہم کرنے والے جنگل کو تباہ کرنے کے لیے ’’ایجنٹ اورینج‘‘ نامی مضر صحت مادہ استعمال کیا۔ جس کے ہزاروں گیلن جنگلات پر اسپرے کیے۔ جس سے لاکھوں افراد متاثر ہوئے، ڈیڑھ لاکھ کے قریب بچے پیدائشی نقانص کا شکار ہوئے۔ اس کے تباہ کن اثرات اب تک متاثرہ علاقے میں موجود ہیں۔ یہ امریکی امداد کے طریقے ہیں۔ جس میں ایک طرف نسل انسانی کی تباہی اور ہنستی بستی بستیوں کی ویرانی ہے تو دوسری طرف US ایڈ کے غلغلے… ٹی وی پر اشتہارات کے علاوہ موبائیل پیغام کے ذریعے ہر ایک کو یاد دہانی کرائی جارہی ہے جی ہاں… امریکی حکومت کیسی رحیم وکریم اور غریب پرور ہے۔
ہلاکو خان سے کسی نے پوچھا تم کو کبھی کسی پر رحم بھی آیا ہے؟ کافی دیر سوچ کر بولا ہاں ایک عورت پر آیا تھا؟ کب اور کیسے؟ پوچھنے والے نے حیرانی کے عالم میں پوچھا۔
وہ عورت مدد کے لیے آواز دے رہی تھی اس کا بچہ پانی کے تالاب میں غوطے کھا رہا تھا۔ میں فوراً مدد کے لیے پہنچ گیا اپنا نیزہ جھکا کر بچے کو پرو لیا اور عورت کی گود میں ڈال دیا۔ بچہ تو مرگیا ہوگا یہ کیا رحم؟؟
’’بچہ تو نیزہ لگتے ہی مرگیا تھا لیکن مجھے خوشی تھی کہ ماںکو بچے کی نعش تو مل گئی‘‘
لیکن آج کا ہلاکو ماں کو بچوں کے ساتھ ہی ڈورن مارتا ہے کہ یہ اس کے رحم کا اندا زہے۔