Search This Blog

Friday, 2 December 2016

کرنسی پر پابندی سے عوام دہشت زدہ - نہال صغیر

کرنسی پر پابندی سے عوام دہشت زدہ 

نہال صغیر موبائل:9987309013

ملک میں کرنسی کی منسوخی پر اپوزیشن کے احتجاج سے پارلیمنٹ تعطل کا شکار بناہوا ہے ۔اسی ہنگامے کے بیچ انکم ٹیکس ترمیمی بل پاس بھی ہوگیا۔اس بل سے سامنے آنے والے نئے حدود و قیود سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہم کسی جمہوری ملک میں نہیں بلکہ کسی آمرانہ حکمراں کے زیر سایہ زندگی گذارنے کے لئے مجبور کر دیئے گئے ہیں۔حزب اختلاف کا مطالبہ ہے کہ وزیر اعظم پارلیمنٹ میں آکر بیان دیں ۔ لیکن بے چارے وزیر اعظم خود میں اتنی اخلاقی جرات نہیں پاتے کہ وہ اپوزیشن کے تیز و تند زبانی حملوں سے اپنی حکومت کے فیصلوں کا دفاع کر پائیں ۔یہی سبب ہے کہ وہ پارلیمنٹ کے باہر اپنی پیٹھ تھپتھپاتے پھررہے ہیں لیکن وہ پارلیمنٹ میں ملک کے سوالوں کے جواب کی ہمت نہیں جٹا پارہے ہیں۔صرف یہ دعویٰ کردینا کہ ان کا یہ قدم بدعنوانی اور دہشت گردی پر ایک سخت چوٹ ہے سے کام نہیں چلے گا ۔آپ جو کچھ کہتے ہیں وہ نظر بھی آنی چاہئے اور اسے ثابت بھی کیا جانا چاہئے ۔ ملک ہی نہیں دنیا کی نامی گرامی ہستیاں یہ کہہ چکی ہیں کہ کرنسی پر پابندی سے بدعنوانی پر قابو پانا ناممکن ہے ۔اس سے قبل نوے کی دہائی میں روس نے بھی اپنے یہاں ایسے ہی فرمان جاری کئے تھے اور اس کے بعد روس دنیا کے نقشہ پر متحدہ روس سے محض ایک ملک بن کر رہ گیا اور اس کی دنیا میں سوپر پاور کی حیثیت ختم ہو گئی ۔مودی کے بھکتوں نے نوٹ پابندی کو بدعنوانی اور دہشت گردی پر کراری چوٹ سے تعبیر کرنا شروع کیا تھا ۔حکومتی پیمانے پر اب سب جگہ وہ اشتہار نظر آرہا ہے جس میں یہ دعویٰ کیا گیا ہے کہ دہشت گردی اور بدعنوانی کی اس جنگ میں عام آدمی کا پیسہ محفوظ ہے ۔ مسئلہ یہ ہے کہ وہ پیسہ محفوظ ہو کر ہی کیا کرے گا جب بروقت اس کی ضرورتیں پوری نہ کر سکے ۔
کولکاتا ہائی کورٹ کے جج نے ٹھیک ہی کہا ہے کہ حکومت نے ہوم ورک کے بغیر ہی اتنا سخت اور اہم فیصلہ نافذ کردیا ۔کچھ لوگ کہہ رہے ہیں اب حالات قابو میں آرہے ہیں لیکن اب بھی جبکہ چوبیس دن گذر چکے ہیں بینکوں کے باہر قطار میں کوئی کمی نہیں آئی ہے ۔یہ اس عجلت کا ہی انجام تھا کہ اب تک ملک میں اقتصادی ایمرجنسی جیسی صورتحال ہے ۔بازار ویران ہیں اور بینکوں میں قطار ہے ۔جن لوگوں کو حالات قابو میں نظر آرہے ہیں شاید ان کے گھروں میں حکومت نے سہولیات فراہم کرادی ہوں گی تاکہ وہ بھکتوں کی طرح مودی مودی کی رٹ لگاتے رہیں ۔حکومت کے اشتہاروں میں دو دعوے نظر آرہے ہیں ایک تو بدعنوانی اور سیاہ دولت پر کنٹرول اور دوسرے دہشت گردی کا خاتمہ ۔لیکن پچھلے پندرہ دنوں میں ایک دو واقعات کے علاوہ کچھ ایسا نظر آیا ہے کہ لوگوں نے نوٹوں کے بنڈل کوڑوں پر پھینک دیئے ہوں۔جن واقعات میں نوٹوں کو ضبط کیا گیا یا بسوں سے باہر پھینکا گیا یا کوڑے میں ڈالا گیا ان کی تعداد کتنی ہے ۔ممکن ہے کہ یہ خود حکومتی کارندوں نے اپنے فیصلوں کو صحیح ثابت کرنے کے لئے ہی کیا ہو۔عام طور پر جو خبریں آئی ہیں اور جو ہم نے بھی دیکھی اور محسوس کی ہیں اس میں جن لوگوں کے پاس کالی کمائی ہو سکتی تھی وہ پوری طرح مطمئن نظر آئے انہیں گھبراہٹ یا پریشانی نہیں ہے ۔کیجریوال نے بھی الزامات عائد کئے ہیں کہ ایسے سارے لوگوں اور خصوصاً بی جے پی اور ان کے قریبی لوگوں کی سیاہ دولت کو پہلے ہی جھٹکے میں سفید کردی گئی ہیں ۔کیجریوال کے ان الزامات میں سچائی بھی نظر آتی ہے کیوں کہ نئے نوٹوں کے بنڈل کی تصاویر دو روز قبل سے ہی سوشل میڈیا پر نظر آرہے تھے اور بھی ایسے کئی شواہد ہیں جیسے کہ کسی بی جے پی لیڈر کی بیٹی کا نوٹوں ہاتھ میں لے کر فوٹو کھنچوانا اور مغربی بنگال کے بی جے صدر کا پارٹی اکاؤنٹ میں کروڑوں روپئے جمع کرانا ۔پریشان و تباہ حال تو وہ عام آدمی ہے جس کو اس ملک میں صرف ووٹ دینے اور اپنے ہاتھوں سے اپنے قاتل کے انتخاب تک کی سہولیات دستیاب ہے ۔اس کے بعد کوئی اس کی خیر خبر لینے والا نہیں ۔حکومت کے اچانک احمقانہ فیصلوں سے اسے کئی دنوں تک بھوکوں رہنا پڑا ۔اس کے بچے ہسپتال میں بغیر علاج کے مرتے رہے ۔وہ لائین میں لگا مایوسی کی حالت میں دل کی حرکت کو کنٹرول نہیں کرپایا اور اپنی زندگی ہارتا گیا لیکن غریبوں کی حمایت کے دم بھرنے والے نتیش بابو بھی مودی کی حمایت کر رہے ہیں۔شاید نتیش بابو کو وزارت عظمیٰ کی کرسی بہت قریب نظر آرہی ہے اس لئے وہ عوام کی فلاح اور ان کی بہتری کے بجائے کچھ لوگوں کی ہمدردی حاصل کرنا زیادہ ٹھیک سمجھتے ہیں ۔انہیں وہ بوڑھا نظر نہیں آتا جس کو یکم دسمبر پرائم ٹائم پر این ڈی ٹی وی کے رویش کمار نے دکھایا تھا۔چار گھنٹے بعد جب اس کا نمبر آیا تو بینک سے کیش ختم ہو چکا تھا۔اس بوڑھے سے معلوم ہواکہ اس کی بیوی کی لاش گھر میں پڑی ہوئی ہے ۔ایسی ہزاروں درد کی سچی داستانیں ہیں جو موجودہ حکومت کے نام نہاد دیش ہِت میں جنم لے چکی ہیں۔ایسی کہانیاں ،ایسے درد جس سے آپ کا سینہ پھٹ جائے اگر آپ انسان ہیں تب۔ورنہ مودی بھکت سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر ان مجبور اور مایوس عوام کے عزت وقار اور ان کی مظلومانہ موت کا مذاق اڑاتے ہوئے مل جائیں گے۔
یہ بات صاف ہو گئی کہ کرنسی پر پابندی سے کسی بدعنوان کی پیشانیوں پر کوئی بل نہیں آئے ۔اس کا مطلب یہ کہ انہیں اس فیصلہ سے کوئی فرق نہیں پڑا ویسے بھی امریکہ کے سابق وزیر اور ملکی ماہر معاشیات بھی کہہ چکے ہیں کہ سیاہ کمائی نقد کی صورت میں انتہائی کم ہوا کرتی ہے وہ فوراً لوگ غیر ملکی کرنسی سونا یا زمینات وغیرہ میں تبدیل کردیتے ہیں ۔مودی حکومت بھی سوئس بینک سے کالی کمائی واپس لانے کے وعدے پر آئی تھی اور اس دعوے کے ساتھ آئی تھی کہ صرف سو دن میں وہ اگر اسے واپس نہیں لائے تو انہیں پھانسی پر لٹکادینا ۔اب تو آٹھ سو دن سے بھی زیادہ بیت گئے ۔کیا کریں ،ملک کو ایسے حالات کے حوالے کردیا جائے کہ کوئی اس پر سوال نہیں کرپائے ۔اب وہی حالات ہیں کہ کوئی سوئس بینک کی بات نہیں کررہا ہے ۔ملک میں افراتفری کا ماحول ہے ۔حزب اقتدار سے تعلق رکھنے والے اتنے بے حس ہو گئے ہیں کہ جب بیس پچیس افراد ہی بینکوں کی لائنوں میں مرے تھے توایک صاحب کا کہنا تھا کہ لوگ تو راشن کی لائن میں بھی مرا کرتے ہیں ۔یعنی انہیں عوام کی موت پر کوئی افسوس نہیں ہے ۔
کرنسی بین پر اشتہارات میں جو دوسری اہم بات کہی گئی ہے اور جو آجکل ہاٹ کیک کی حیثیت اختیار کرگیا ہے کہ اس سے دہشت گردی کی جنگ میں کامیابی حاصل ہو گی ۔یہ دہشت گردی اس بلا کا نام ہے جس کی وجہ سے دو نوں وقت فاقہ کرنے والا بھی پیٹ کی آگ اور اپنی ضرورتوں کو بھول کر حکومت کے پرفریب نعروں کا شکار ہو جاتا ہے ۔لیکن کیا کرنسی بین سے واقعی دہشت گردی پر قابو پایا جاسکتا ہے ؟یہ بہت اہم سوال ہے لیکن اس کو عملی طور پر دیکھا جانا چاہئے ۔اس کی عملی شکل یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں ایک مزاحمت پسند کی سلامتی دستوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد سے اس کے پاس سے دو ہزار کے نوٹ ملے ۔اس کے بعد کشمیر میں واقع نرگوٹہ فوجی کیمپ پر مزاحمت پسندوں کا حملہ جس دو فوجی افسران سمیت کئی فوجیوں کو موت کے منھ میں پہنچادیا ۔ہے نا حیرت انگیز بات ۔مودی حکومت اور ان کے بھکت تو اس طرح کادعویٰ کررہے تھے کہ نیا نوٹ گویا دہشت گردوں کی شناخت کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے کہ جیسے ہی کوئی دہشت گرد اس نوٹ کو ہاتھوں میں لے گا وہ رڈار میں آجائے گا اور اس کی ساری پلاننگ ناکام ہو جائے گی اور حکومتی اہلکار یا خفیہ محکمہ کا کوئی فرد سدرشن چکر ہلاتا ہوا اس تک پہنچ جائے گا اور اس طرح بغیر کسی خون خرابے کے وہ جیل میں ہوگا ۔اسی لئے دوسرے دن ہی اکھلیش یادو نے اس نوٹ کو لہراتے ہوئے کہا تھا کہ کیا اسکی نقل چھاپنا مشکل ہے ؟بے شک ایسا نہیں ہے اس کے دو دن میں ہی نقلی نوٹ بازار میں آنے کی بھی خبر ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ آخر وہ کون سے حالات ہیں جس کی وجہ سے یہ نوٹ دہشت گردوں کی پہنچ سے دور رہے گا ۔ کل ملا کر حکومت کے اس احمقانہ فیصلہ اور اس کے طریقہ کار کی ایک لچر توضیح کے سوا اور کچھ نہیں۔یعنی کرنسی بین سے دہشت گردی میں کمی آئے یا نہ آئے لیکن عوام اس فیصلہ سے دہشت زدہ ضرور ہیں۔کہ پتہ نہیں کب سونا کو بھی پیتل سمجھنے کا فرمان جاری ہو جائے ۔

نہال صغیر موبائل:9987309013

Thursday, 1 December 2016

روم میں مہاجرین کی ابتر صورتحال، اقوام متحدہ کی تنقید

مہاجرین کا بحران

روم میں مہاجرین کی ابتر صورتحال، اقوام متحدہ کی تنقید

اقوام متحدہ نے اطالوی دارالحکومت روم میں مہاجرین کی ابتر صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موسم سرما کے باوجود ہزاروں مہاجرین کے پاس مناسب سہولیات نہیں اور وہ کسمپرسی کی زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے حوالے سے بتایا ہے کہ روم میں سینکڑوں مہاجرین اپنی راتیں سڑکوں پر بسر کرنے پر مجبور ہیں جبکہ دیگر ہزاروں بے گھر افراد بھی تنگ دستی کی زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس ایجنسی نے روم کے میئر کو ایک خط ارسال کیا ہے، جس میں ان تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے۔

اس خط کے متن کے مطابق، ’’ہم کئی مہینوں سے اس مسئلے کی طرف توجہ مبذول کرانے کی کوشش میں ہیں لیکن روم میں موجود مہاجرین کی صورتحال مزید ابتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔‘‘ اٹلی میں یو این ایچ سی آر کے نمائندے کارلوٹا سامی نے کہا ہے کہ روم میں موجود مہاجرین اور تارکین وطن کی صورتحال کو بہتر بنانے کی فوری ضرورت ہے۔
روم کی نو منتخب میئر ورجینیا راجی پر تنقید کا یہ سلسلہ ایک ایسے وقت میں شروع ہوا ہے، جب روم کے نزدیک واقع مہاجرین کے سب سے بڑے غیر رسمی استقبالیہ سنٹر کو بند کیا جا چکا ہے۔ گزشتہ برس اس سنٹر کی بندش کے بعد ایسے مہاجرین کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے، جو سڑکوں پر زندگی بسر کر رہے ہیں اور جن کے پاس بنیادی امدادی سامان کی بھی قلت ہے۔
یو این ایچ سی آر نے کہا ہے کہ روم کو میلان کی مثال کو اپنانا چاہیے، جہاں شہری انتظامیہ نے مہاجرین کے لیے ایک بڑا سنٹر قائم کر رکھا ہے۔ اس عالمی ایجنسی کے مطابق اطالوی شہر میلان میں اس سنٹر کی وجہ سے مہاجرین سڑکوں پر دربدر ہونے سے بچ گئے ہیں۔

عوامیت پسند پارٹی ’فائیو اسٹار موومنٹ‘ کی رکن ورجینیا راجی نے روم کے میئر کا عہدہ سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے کہ وہ روم میں مہاجرین کی آمد کا سلسلہ روک دیں۔ انہوں نے اس تناظر میں دلیل دیتے ہوئے کہا تھا، ’’اگر ہم مہاجرین کے لیے سو خیمے دو دن میں ہی لگا دیں گے تو پھر ہمیں سو خمیوں کا مزید انتظام بھی کرنا پڑے گا۔‘‘

تاہم اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ روم حکومت کو مہاجرین کے بحران اور ایسے افراد کی ابتر صورتحال کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ یہ امر اہم ہے کہ اٹلی میں بحیرہ روم کے ذریعے آنے والے مہاجرین کی تعداد ایک لاکھ اکہتر ہزار بنتی ہے، جو دیگر یورپی ممالک میں آنے والے مہاجرین کی تعداد کے حوالے سے سب سے زیادہ ہے۔ ہمسایہ ممالک کی طرف سے سرحدوں کی بندش کے باعث مہاجرین کی ایک بڑی تعداد اٹلی میں ہی محصور ہو کر رہ گئی ہے۔

بہ شکریہ
http://www.dw.com/ur/%D8%B1%D9%88%D9%85-%D9%85%DB%8C%DA%BA-%D9%85%DB%81%D8%A7%D8%AC%D8%B1%DB%8C%D9%86-%DA%A9%DB%8C-%D8%A7%D8%A8%D8%AA%D8%B1-%D8%B5%D9%88%D8%B1%D8%AA%D8%AD%D8%A7%D9%84-%D8%A7%D9%82%D9%88%D8%A7%D9%85-%D9%85%D8%AA%D8%AD%D8%AF%DB%81-%DA%A9%DB%8C-%D8%AA%D9%86%D9%82%DB%8C%D8%AF/a-36583169

مرض ایڈز سے پاک دنیا کے بڑھتے قدم!

مرض ایڈز سے پاک دنیا کے بڑھتے قدم!

ڈاکٹر محمد اسلم فاروقی

عالمی یوم ایڈز کے موقع پر خصوصی تحریر

کم دسمبر کو عالمی سطح پر یوم ایڈس منایا جاتا ہے۔ اس دن صحت کی تنظیمیں ، کالج اور اسکول کے طلباء ریلیاں نکالتے ہیں۔ جلسے کئے جاتے ہیں۔ حکومت کے پیغام کو عوام تک پہنچایا جاتا ہے۔ ایڈس کے مریضوں سے ہمدردی کا اظہار کیا جاتا ہے۔ اور پھر دنیا اپنی ڈگر پر چلنے لگتی ہے۔ 1995ء میں امریکی صدر نے یکم ڈسمبر کو عالمی یوم ایڈس قرار دیا تھا اور اس سے قبل اقوام متحدہ کے ادارہ عالمی ادارہ صحت WHOکے ایڈس مشن میں کام کرنے والے دو صحافیوں بن اور نیٹر نے 1988ء میں پہلی مرتبہ عالمی یوم ایڈس منانے کی تجویز رکھی تھی جسے اقوام متحدہ نے قبول کیا اور امریکی صدر کے اعلان کے بعد باضابطہ طور پر ہر سال یکم ڈسمبر کو عالمی یوم ایڈس کی تقاریب کا ساری دنیا کے ممالک میں اہتمام کیا جا رہا ہے۔ایڈز کے خلاف عالمی یوم کے موقع پر ایچ آئی وی اور اس موذی مرض کے خلاف بر سرپیکار ایک اہم گروپ نے کہا ہے کہ دنیا بالآخر ایڈز کے خاتمے کے آغاز تک پہنچ گئی ہے۔ گزشتہ برس پہلی مرتبہ ایسا ہوا کہ ایچ آئی وی سے نئے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد ایسے ایچ آئی وی پوزیٹیو افراد کے مقابلے میں کم تھی جن کی رسائی ان ادویات تک ممکن بنائی گئی جو ایڈز سے بچنے کیلئے اب انہیں زندگی بھر استعمال کرنا ہوں گی۔ اقوام متحدہ کی ایڈز ایجنسی (UNAIDS) کے مطابق اس خطرناک وائرس سے بچاؤ کیلئے آگاہی پیدا کرنے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی ایڈز سے بچاو کی ادویات تک رسائی بڑھانے اور دیگر اقدامات کی بدولت یہ ممکن ہو سکتا ہے کہ سال 2030ء تک دنیا سے اس جان لیوا بیماری کا خاتمہ ہو سکے۔ اس مہم کو ’کلوز دی گیپ‘ کا نام دیا گیا ہے۔ کہا جارہا ہے کہ فی الوقت پوری دنیا میں لگ بھگ 4کروڑ افراد ایچ آئی وی وائرس کے ساتھ جیسے تیسے جی رہے ہیں۔ایک نئی تحقیق کے مطابق تجرباتی ایچ آئی وی ویکسین کی مدد سے پہلی بار انفیکشن کے خطرے کو کم کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی ہے، یہ ویکسین پہلے سے موجود تجرباتی ویکسین کو ملا کر تیار کی گئی ہے جسے تھائی لینڈ میں 16ہزار افراد پر آزمایا گیا ہے، ویکسین ٹرائل کا یہ اب تک کا سب سے بڑا تجربہ ہے ان 16ہزار افراد کا رضاکارانہ طور پر اپنی خدمات ویکسین بنانے والے ماہرین کو پیش کرنا ایک نہایت ہی قابل تعریف و تحسین اقدام ہے کہ اس ویکسین نے ایڈز جیسی بیماری کو پھیلانے والے ایچ آئی وی وائرس کے انفیکشن کے خطرے کو ایک تہائی تک کم کردیا ہے۔ اس تحقیق و ریسرچ کو اس سمت میں اب تک کی جانے والی بڑی کامیابی مانا جارہا ہے جس پر امریکی فوج کے ڈاکٹر اور تھائی حکومت کی مدد سے سات برس کام کیا گیا ہے اور اس میں اٹھارہ سے تیس برس کی عمر کے نوجوان لڑکے لڑکیوں نے خود کو تجربے کیلئے پیش کیا جن میں ایچ آئی وی وائرس موجود نہ تھا۔

امید کی جارہی ہے کہ شعور بیدار اور بہتر علاج کی سہولتوں کے ساتھ اس مرض پر بہت حد تک قابو پایا جاسکے گا اور ہماری آنے والی نسلیں اس موذی مرض سے پاک دنیا میں جی سکیں گی۔
مرض ایڈس HIV وائرس سے پھیلتا ہے۔ HIV یعنی (Human Immuno Deficiency Virus ) انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو نا کارہ بنا دیتے ہیں۔ یعنی انسانی جسم میں جراثیم سے لڑنے کی طاقت ختم ہو جاتی ہے۔ وہ طرح طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جاتا ہے۔ HIV کی انتہائی حالت (AIDS) ( Immuno Deficiency Syndrome Acquired )کہلاتی ہے۔ یعنی اگر کوئی انسان HIV سے متاثر ہو جائے تو وہ فوری نہیں مر جاتا اگر وہ مخصوص دوائیں لے طاقت ور غذائیں استعمال کرے اور صحت مند زندگی گذارے تو آٹھ تا دس سال کے بعد HIV ایڈس کی حالت کو پہنچتا ہے۔ HIV کا وائرس انسانی جسم کے درجہ حرارت میں زندہ پہنچتا ہے۔ HIV کا وائرس انسانی جسم کے درجہ حرارت میں زندہ رہتا ہے۔ یعنی اسی گرمی کے مائعات خون و غیرہ میں زندہ رہتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ ایڈس کی ابتداء براعظم آفریقہ سے ہوئی اس کو پہلی مرتبہ 1981ء میں دریافت کیا گیا۔ اس کے بعد سے اب تک ساری دنیا میں اس مرض سے 40ملین سے زائد افراد لقمہ اجل بن گئے ہیں۔ اور 35ملین سے ذائد افراد جن میں بچوں کی بھی ایک بڑی تعداد ہے دنیا بھر کے بیشتر ممالک میں اس مرض سے متاثرہ ہیں۔

عالمی یوم ایڈز کے موقع پر UNO کے عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایک رپورٹ شائع کی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق سہارا سے ملحق افریقی علاقوں میں جہاں ایڈز موت کی سب سے بڑی وجہ بن گیا ہے وہاں عالمی سطح پر یہ بیماری دنیا کی چوتھی بڑی بیماری ہے ایک تہائی لوگ 14 سے 24 برس کی عمر کے ہیں جن میں سے بیشتر کو یہ بھی معلوم نہیں کہ وہ اس موذی مرض کی پکڑ میں آچکے ہیں۔ آج ساری دنیا میں اس مرض سے متاثرہ افراد میں بر اعظم افریقہ کا نمبر سر فہرست ہے جہاں کی 70%آبادی اس مہلک اور لا علاج مرض میں مبتلا ہے۔ افریقہ میں لوگ بوڑھے ہوتے ہی نہیں ہے اور اس مرض میں مبتلا ہونے کے بعد 3040سال کی عمر میں وفات پا جاتے ہیں۔ نائجیریا :ہندوستان اور جنوبی ایشیائی ممالک کا نمبر افریقہ کے بعد ہے جہاں اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے۔دنیا میں کروڑوں لوگ ایسے ہیں جنہیں ایڈز کے بارے میں ’’معمولی معلومات‘‘ بھی نہیں ہیں۔ لاطینی امریکہ میں ایڈز سے متاثرہ لوگوں کی تعداد 15لاکھ بتائی جاتی ہے۔ مشرقی یورپ ، وسطیٰ افریقہ، مشرقی ایشیا میں ایسے لوگوں کی گنتی ایک اندازے کے مطابق 13لاکھ سے زائد ہے۔ شمالی امریکہ میں 7لاکھ ، مغربی یورپ میں 6لاکھ ، شمالی افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں 5لاکھ اور کریبین علاقوں میں چھ لاکھ سے زائد افراد اس مہلک بیماری میں مبتلا ہیں۔ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ایڈز کے مریضوں کی تعداد سب سے کم ہے۔
عالمی سطح پر ادارہ صحت اور دیگر فلاحی اداروں کی جانب سے اس مرض کی روک تھام اور عوامی شعور کی بیداری کے لئے لاکھوں ڈالر خرچ کئے جا رہے ہیں لیکن اس مرض سے متاثرہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہوتا ہی جا رہا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ اس مرض پر قابو پانے کے اقدامات غیر فطری ہیں۔ اور مرض پر قابو پانے کے بجائے اس کے مزید اضافے کا باعث بن رہے ہیں۔ HIV وائرس آفریقہ کے بندروں میں پایا گیا تھا۔ اور وہ وہیں سے انسانی جسم میں منتقل ہوا۔ HIV وائرس کس طرح بندروں سے انسانی جسم میں داخل ہوا یہ معلوم نہیں ہوسکا لیکن یہ قیاس کیا جاتا ہے کہ انسان نے جنسی خواہشات کی تکمیل کیلئے غیر فطری طریقہ اختیار کیا اور ان بندروں سے خواہش کی تکمیل کی اور HIV ان میں داخل ہو گیا اور دیگر انسانوں میں پھیلتا گیا۔ ایڈز (AIDS) موجودہ دور کی ایک لاعلاج بیماری ہے۔ گویا یہ ایک قدرتی عذاب ہے جو شادی سے پہلے یا شادی کے بعد زنا میں مبتلا ہونے والوں پر نازل ہوتا ہے۔ اس بیماری سے سارے عالم میں لاکھوں اموات واقع ہو رہی ہیں۔ اس میں مرد، عورت، نوجوان، لڑکے اور لڑکیاں سبھی شامل ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر دنیا کو ایڈز کا تحفہ کس نے دیا؟ غور کرنے سے پتہ چلتا ہے کہ مغربی اقوام کے فحش کلچر نے دنیا بھر میں ایڈز کو فروغ دیا ہے۔ مغربی ممالک کے فحش ذہن رکھنے والے افراد (جن کا مخصوص گروپ ہے ) نے انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹ، فحش لٹریچر، عریاں فیشن شو، مختلف انگریزی و فحش بلو فلمیں ، سیریلز، نائٹ کلب شوز، فلموں میں ہیجان انگیز فحش مناظر، بوائے فرینڈ کلچر، گرل فرینڈ کلچر، آزادانہ جدید ثقافت کے نام پر غیر قانونی ناجائز تعلقات، ہم جنس پرستی کو دنیا کے کونے کونے میں مختلف منصوبہ بند طریقوں سے عام کرتے ہوئے دنیا کی مختلف اقوام کو ایڈز جیسی مہلک اور خبیث بیماری میں مبتلا کر دیا۔ دنیا کو فحش سماج میں تبدیل کرتے ہوئے مختلف مغربی ممالک سے تعلق رکھنے والے فحش گروپ نے عریانیت کو Pornographic Industry کے ذریعہ سارے عالم میں فروغ دیتے ہوئے کروڑہا روپے کمانے کا ذریعہ بنایا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں طوائفوں کا جال بچھا دیا۔ دنیا کے مختلف علاقوں میں طوائفوں کو پناہ دیتے ہوئے Red Light Areas قائم کرتے ہوئے جسم فروشی کو قانونی ذریعہ معاش بنا دیا۔ مغربی ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی طور پر جائز قرار دیتے ہوئے ’ہم جنس پرستی، کی شادیوں کو عام کر دیا۔ ہم جنس پرستی ایک ایسا عمل ہے جسے جانور بھی پسند نہیں کرتے۔ لیکن مغربی کلچر نے ہم جنس پرستی کو اشرف المخلوقات میں عام کر دیا۔ ہم جنس پرستی کی وجہ سے قومِ لوط پر پتھروں کی بارش کی شکل میں قدرتی عذاب نازل ہوا لیکن موجودہ دور میں ہم اپنے اعمال کی وجہ سے قومِ لوط پر نازل ہونے والے عذاب سے بھی خطرناک قدرتی عذاب ’ایڈز، کی شکل میں دیکھ رہے ہیں۔ یہاں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ دنیاتیسری جنگ عظیم کی شکل میں ایڈز کی وجہہ سے تباہ ہو رہی ہے۔
موجودہ دور میں مغربی عریاں کلچر نے دنیا کے تمام ممالک میں کم سن نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو ناجائز جنسی تعلقات میں مبتلا کر دیا، مغربی ممالک میں کم سن لڑکیوں کے حاملہ ہو جانے کے واقعات میں تیز رفتار اضافہ کر دیا۔ عریانیت کے سیلاب نے مقدس رشتوں کو بھی پامال کر دیا۔دور جدید کی حیرت انگیز ایجاد انٹرنیٹ، عریانیت اور شہوانیت کو فروغ دینے میں ایک اہم ترین ذریعہ بن گیا ہے۔ انٹرنیٹ پر فحش ویب سائٹ، فحش چیٹنگ نے دنیا بھر میں شادی سے پہلے شادی کے بعد غیر قانونی ناجائز تعلقات کو تیز رفتار ی سے عام کر دیا۔ حالانکہ انٹرنیٹ انتہائی مفید ایجاد ہے لیکن موجودہ دور میں اس کا غلط استعمال زیادہ ہو رہا ہے۔ اب تو سیل فون پر بھی فحش فلمیں ، فحش تصاویر ڈاؤن لوڈ کئے جا رہے ہیں۔ اس سے ہر گھر میں تباہی کا خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔ موجودہ حالات میں عریانیت اور شہوانیت کو فروغ دینے والے عوامل سے محفوظ رہتے ہوئے زنا سے بچنا بھی جہاد کے مماثل ہے۔
بنیادی طور پر HIV چار طریقوں سے پھیلتا ہے۔

1 }HIV سے متاثرہ عورت یا مرد سے غیر محفوظ جنسی تعلقات کے نتیجہ میں
}HIV2 سے متاثرہ مریض کا خون کسی صحت مند انسان کو چڑھانے سے
3 }ایڈس کے متاثرہ مریض کیلئے استعمال کی گئی سوئی یا بلیڈ دوسرا استعمال کرنے سے
4 }ایڈس سے متاثر حاملہ عورت سے پیدا ہونے والے بچے کو

ایڈس ایک متعدی مرض نہیں ہے یہ ہوا، پانی، غذا، مکھی، مچھر سے نہیں پھیلتا، متاثرہ شخص کے استعمال کردہ حمام، بیت الخلاء اور تولیہ سے نہیں پھیلتا۔ ایڈس کے مریض کیساتھ اْٹھنے بیٹھنے کھانے پینے اور رہنے سہنے سے نہیں پھیلتا۔ دنیا میں 90 فیصد ایڈس غیر محفوظ جنسی تعلقات سے پھیل رہا ہے۔ باقی 10% دیگر تین ذرائع سے پھیل رہا ہے۔ ہندوستان میں بھی ایڈس کا مرض تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اور ریاست آندھرا پردیش ایڈس سے متاثرہ مریضوں میں ہندوستان سب میں سر فہرست ہے۔

اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے یو این ایڈز کے مطابق عالمی سطح پر اس مرض سے ہونے والی ہلاکتوں میں بھی واضح کمی کو ریکارڈ کیا گیا ہے۔ رپورٹ میں بیان کیا گیا کہ ایڈز کے حوالے سے ہونے والی مثبت پیش رفت کی وجہ دواؤں کے ساتھ ساتھ احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا ہونا بھی ہے۔ اس سالانہ رپورٹ میں تازہ ترین اعداد و شمار بھی شامل کیے گئے ہیں۔ جس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ایڈز سے سب سے زیادہ ہلاکتیں 2005 میں ہوئی تھیں اور یہ تعداد 23 لاکھ تھی، جو اب کم ہو کر 2011 کے اختتام تک 17 لاکھ رہ گئی ہے۔ 2010 میں ایڈز سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد اٹھارہ لاکھ تھی۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں 34 ملین افراد ایڈز جیسے مرض میں مبتلا ہیں۔ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں عالمی برادری کی ایڈز کے خلاف اجتماعی کوششوں کو انتہائی مناسب اور شاندار خیال کیا گیا۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا کہ دنیا بھر میں آ پس کے تعلقات یا انتقال خون سے پھیلنے والے انتہائی خطرناک مرض میں بھی کمی سامنے آئی ہے۔ 2011 میں ایڈز میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد 25 لاکھ ریکارڈ کی گئی جو 2001 کے مقابلے میں بیس فیصد کم تھی۔ ادارے نے اس کمی کا کریڈٹ عالمی برادری اور ان حکومتوں کو پیش کیا، جن کی خصوصیت کی وجہ سے اس مرض کے بارے میں مختلف النوع معلوماتی اور حوصلہ افزا سرگرمیوں کا انعقاد کیا گیا۔ اس کے علاوہ اس کمی کا سہرا مختلف دوا ساز اداروں کو باندھا گیا، جن کی ریسرچ سے ایسی شافی دوائیں تیار کی گئیں ، جن کی وجہ سے اس مرض میں مبتلا افراد کی قوت مدافعت کو بہتر کرنے میں کامیابی حاصل ہوئی۔ رپورٹ میں گلوبل کمیونٹی کی صحت کو درپیش سب سے بڑا خطرہ بدستور ایڈز کے مرض کو قرار دیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق گزشتہ دہائی کے دوران مدافعتی دواؤں اور معلوماتی سرگرمیوں سے اس مرض میں مبتلا ہونے والے افراد کی تعداد میں جو بیس فیصد کمی پیدا ہوئی ہے ، اس کو ایک شاندار اجتماعی کوشش قرار دیا۔

دنیا کی اقوام میں مرض ایڈس کا جائزہ لیا جائے تو یہ حیرت انگیز انکشاف سامنے آتا ہے کہ مسلمان قوم میں مرض ایڈس کم پایا جاتا ہے۔ اس لئے یہ نعرہ دیا جا رہا ہے کہ ’’اسلامی زندگی اپناؤ ایڈز سے بچو‘‘ کیونکہ خوفِ خدا نہ ہونے ، صفائی کا خیال نہ رکھنے ، شراب نوشی کے بعد نشہ کی حالت میں جنسی بے راہ روی کا شکار ہونے کے سبب ایڈس آسانی سے فاحشہ عورتوں سے مردوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اور ان مردوں سے ان کی بیویوں میں اور بیویوں سے اْن کے بچوں میں منتقل ہو رہا ہے۔ اس لئے کہا جا رہا ہے کہ مرد اپنی بیوی سے وفاداری نبھائیں۔ لیکن نعروں سے کوئی نتیجہ نہیں نکل رہا ہے۔ ہندوستان میں ٹرک ڈرائیور ان پڑھ دیہاتی، گھروں سے لمبے عرصہتک دور رہنے والے فوجی اور اس قسم کے لوگ جنسی بے راہ روی کا شکار ہو کر ایڈس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اسلئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ایڈس کے بارے میں مکمل جانکاری ہو تب ہی ایڈس سے بچاؤ ممکن ہے۔ نوجوان نسل میں اخلاقی تعلیمات خوف خدا اور صحت مندی کے اصولوں کی تعلیم دی جائے تو ایڈس کو بڑھنے سے روکا جا سکتا ہے۔ اسلام ایک دین فطرت ہے اس نے حضور اکرم ﷺ کی تعلیمات کے ذریعے واضح کر دیا کہ جب بچہ شادی کی عمر کو پہنچے تو اس کی شادی کر دینا چاہئے اگر کوئی شادی کی قدرت نہ رکھے تو اسے مسلسل روزے رکھنے چاہئیں تاکہ اس کی نفسانی خواہشات پر قابو پایا جا سکے۔ انسان کی نفسانی خواہشات ہوتی ہیں جن کی تکمیل کے لئے اگر اسے شادی جیسے جائز راستے نہ ملے تو وہ غیر محفوظ اور غیر اخلاقی جنسی تعلقات کی تلاش میں رہتا ہے۔ اور وہیں سے اس کی بربادی کا راستہ کھل جاتا ہے۔ ہندوستان میں ہندوسماج میں خوف خدا نہ ہونے اور شادی کے لئے جہیز اور کٹنم کے نام پر اور ذات پات اور برادری کے نام پر شادی کو موخر کیا جا رہا ہے اس لئے ان کے بچے بے راہ روی کا شکار ہو کر ایڈس سے متاثر ہو رہے ہیں۔ اس لئے سماجی سطح پر ضرورت اس بات کی ہے کہ ہندوستان میں شادی کی عمر کو کم کیا جائے اور لڑکی کی شادی 18تا21سال میں اور لڑکے کی شادی 21تا 25سال میں کی جائے اور سماج سے کٹنم کی لعنت کو دور کرنے کے لئے سماجی اور مذہبی ادارے آگے آئیں۔ مسلمانوں میں بھی جہیز کی لعنت کے سبب شادی میں تاخیر ہو رہی ہے۔تاہم مسلمانوں میں بچپن میں لڑکوں کی ختنہ کی سنت سے بھی ایڈس سے بچاؤ میں 99%تک کامیابی مل رہی ہے۔ ختنہ کی سنت سے بہت سے بیماریوں سے بچا جاتا ہے اس لئے آج غیر مسلموں خاص طور سے راجپوتوں اور دیگر اقوام میں ختنہ کی سنت کو عام کیا جا رہا ہے۔ اور دیگر ممالک میں بھی اس کے طبی فوائد دیکھ کر اسے اختیار کیا جا رہا ہے۔ مسلمانوں کی بھی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ ایڈس کے موقع پر جہاں کہیں سمینار جلسے اور معلوماتی پروگرام منعقد ہوں اس بات پر زور دیں کہ اسلامی تعلیمات خاص طور سے شادی کو آسان بنانا اور ناجائز رشتوں کو غلط قرار دے کر مجرموں کو سخت سزا دینا اور خوف خدا کے ساتھ پاک صاف زندگی گذارنا ہی ایڈس کے مرض کا موثر علاج ہے۔ مرض ایڈس کا ابھی تک علاج دریافت نہیں ہوا اور ہو گا بھی نہیں کیونکہ سچی خبر دینے والے مخبر صادق پیغمبر اسلام حضرت محمد مصطفیﷺ کے ارشادات میں ہمیں یہ بات ملتی ہے کہ اگر کسی قوم میں زنا کاری اور بد کاری عام ہو تو اس قوم میں ایسی بیماریاں پیدا ہوں گی جن کا کوئی علاج نہیں ہو گا۔ اور آج ہم یہ نتیجہ دیکھ رہے ہیں۔ اور دین اسلام پر چلنے والے مسلمانوں میں یہ مرض نہیں کہ برابر ہے۔ اس لئے ہرسال یوم ایڈس کے موقع پر ہم واضح طور پر یہ اعلان کریں کہ ’’اسلامی تعلیمات اختیار کرو ایڈس سے بچو‘‘۔ ہماری نوجوان نسل کو ایڈس سے بچانا اسلئے ضروری ہے کہ کل کے ذمہ دار شہری بننے والے ہیں۔ انہیں ملک کی ترقی کے مختلف کام کرنے ہیں۔ اگر یہ نسل ایڈس سے متاثر ہو جائے تو ملک کیلئے کام کرنے والے لوگوں کی کمی ہو جائے گی۔ اچھے افراد کی قلت ہو جائے گی۔ آج ٹیلی ویڑن اور انٹر نیٹ کے مضر اثرات سے بھی ہمارے نوجوان بے راہ روی کا شکار ہو رہے ہیں۔ ان میں دینی تعلیمات کو عام کرنے اور ان میں خوف خدا کا جذبہ پیدا کرنا بھی وقت کا اہم تقاضہ ہے۔ نوجوانوں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ ایڈس کے بارے میں صحیح معلومات رکھیں۔ اور ان معلومات کو گاؤں گاؤں میں عام کریں۔ اسطرح دیہاتیوں کو ایڈس کے بارے میں جانکاری حاصل ہو گی۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ ایڈس کے خلاف مہم کو اخلاقیات کے دائرے میں رکھ کر چلائے۔ ایسی کوئی بات اور کام نہ کریں جس سے نوجوانوں کے جذبات مشتعل ہو جائیں اور وہ غلط راستے پر چلنے لگیں۔ NACOاور دیگر ادارے اگر ان باتوں کو اپنی مخالف ایڈس مہم میں شامل کریں تو امید ہے کہ اگلے چند سال میں ایڈس کی روک تھام میں اچھے نتائج برآمد ہو سکیں گے۔ بہر حال ایڈس جنگل کی آگ کی طرح پھیل رہا ہے اور اس آگ کو آگے بڑھ کر بجھانا سب کی ذمہ داری ہے۔ اور اس مرض سے بچنے کا واحد حل اسلامی تعلیمات کو اختیار کرنا ہے۔

مضمون نگار سینیئر صحافی اور صدر شعبہ اردو گری راج کالج نظام آباد ہیں ۔اس سے پہلے روزنامہ سیاست حیدرآباد میں بحیثیت سب ایڈیٹر اپنی خدمات دے چکے ہیں۔

Cong losing out to BJP - Kuldip Nayar

Cong losing out to BJP

Kuldip Nayar, 

I wish I could agree with Congress president Sonia Gandhi that compassion was the distinctive character of her mother-in-law, Indira Gandhi. A person without an iota of consideration for individual freedom would not have detained 1,00,000 people without trial as she did during Emergency in 1975. Not only that, she also gagged the press and moulded the society in such a way that it had no hesitation to cross the thin line between right and wrong, moral and immoral.

True, Indira Gandhi did help the people of then East Pakistan in their struggle to free themselves from the distant Rawalpindi and the atrocities which the army committed against the Bangla-deshis. Sonia Gandhi tells in a television interview with Rajdeep Sardesai that the then prime minister would tell them at the dining table how the Punjabi army was killing the people in Bangladesh intentionally, without remorse.

Probably, the liberation of Bangladesh was her finest hour and the then opposition leader A B Vajpayee hailed her as Goddess Durga for having divided Pakistan. This obviated the danger of attack on India from the eastern side. However, the fact remains that the Partition form-ula which recognised the two parts of Pa-kistan, East and West, was not followed. 

Pakistan never forgave India for the separation although the Hamoodar Rahman Commission report on the Bangladesh war blames people in West Pakistan for treating the Bangladeshis as second class citizens. This may be the real reason why the Bangladeshis rose against Rawalpindi and freed themselves from its clutches.
During the birth centenary of Indira Gandhi, which is being currently celebrated, two things will be remembered, one commendable and another condemnable. The first relates to the liberation of Bangladesh and the second is connected with the Emergency. 

As was probably agreed to before the interview, Rajdeep does not ask Sonia Gandhi any question about Emergency. Once he tries to bring in Sanjay Gandhi but she corrects him that the interview was on Indira. Sonia Gandhi refuses to compare Prime Minister Narendra Modi with Indira Gandhi. She merely says that they were two different people. She refuses to elucidate even though the question was repeated.

At one time, I too was on personal terms with Indira Gandhi. I met her when the then home minister Lal Bahadur Shastri was a member of the Citizens Committee which Jawaharlal Nehru had constituted under her to reinvigorate the people who felt dejected after the debacle against China in 1962. 

Although I was a mere information officer, she had no qualms about treating people on a par. Despite our good relations, she had no compunction in detaining me during Emergency. We never met after the detention although there were feelers from her side expressing her desire to meet me. I was too bitter to entertain the idea.

It was said about her that she was the only ‘man’ in the cabinet. She was assertive and clear in the orders she gave. The Emergency, however, was thrust upon her by Sanjay Gandhi and his cohort Siddhartha Shankar Ray, then West Bengal chief minister. Probably, she too realised that it was her only chance to wriggle herself out of the Allahabad High Court verdict which had unseated her. Indeed, it was a hard punishment for a poll indiscretion.

But it was a judgment which had to be respected. She not only suspended the constitution to do away with the judgment but also introduced authoritarianism which was not a part of the democratic governance. Entire Parliament caved in and the members, because of fear, endorsed Emergency without a whimper. They, otherwise, would criticise in private what she did.

Most pathetic was the role of the media. I recall that when Emergency was imposed, there was anger and more than a hundred journalists assembled at the Press Club at my bidding to condemn her act. But when I tried to pick up the thread after my detention for three months, there was hardly anyone to support me. Indira Gandhi had created so much of fear in the minds of journalists that they were more worried about their jobs than not the concept of the freedom of the press, which they otherwise cherished.

Dynastic dependence
The problem with the Congress today is that it has not gone beyond the dynastic dependence. And, somehow, the people are not enamoured of the dynasty anymore. Rahul Gandhi doesn’t sell although he passionately and honestly pursues the Congress principles laid down by his great grandfather Nehru. 

Priyanka, Sonia Gandhi’s daughter, goes down well with the masses. This is probably because she reminds them of Indira Gandhi, who still enjoys pre-eminence in their thoughts. 

All this is true, yet the Congress has lost its relevance and the party has to work hard to make people believe that it can provide an alternative. Modi is still acceptable in spite of steps like demonetisation. People believe that it was all for their good even though they have to face inconvenience.

It is a long haul for the Congress to push the BJP out of power. The biggest problem is that secularism is not a concept as attractive as it used to be once. The people themselves have been influenced by Hindutva thoughts. In fact, there is a soft-Hindutva in the country today. 

How to resell the idea of India, that is democratic and secular polity, is the arduous task which the Congress is facing today. That was probably the reason 
why Sonia Gandhi talked in terms of compassion. In a way, she has chalked out the programme of the Congress on the eve of elections in UP. Much will depend on how the various parties fare in the state polls.

That may influence the parliamentary election in 2019 and give direction to the country, including the Congress. The party’s problem is that it has not won any election so far since the advent of Modi. Even in the Maharashtra civic polls, the BJP is ahead of the Congress. Gujarat has gone completely to the BJP. This should worry the secular, liberal forces. The BJP is entrenching itself and the Congress is going down.

Courtesy: Deccan Herald

Destructive computer virus strikes computers in Saudi Arabia again

Destructive computer virus strikes computers in Saudi Arabia again

REUTERS

A version of Shamoon was used two weeks ago to attack computers in Saudi Arabia, according to U.S. security firms.

A version of Shamoon, the destructive computer virus that four years ago crippled tens of thousands of computers at Middle Eastern energy companies, was used two weeks ago to attack computers in Saudi Arabia, according to U.S. security firms.

CrowdStrike, Palo Alto Networks Inc and Symantec Corp. warned of the new attacks on Wednesday. They did not name any victims of the new version of Shamoon, which cripples computers by wiping their master boot records that they use to start up. They also did not say how much damage had been caused or identify the hackers.

The reappearance of Shamoon is significant as there have only been a handful of other high-profile attacks involving disk-wiping malware, including ones in 2014 on Sheldon Adelson's Las Vegas Sands Corp. and Sony Corp's Hollywood studio. Governments and businesses pay close attention to such cases because it can be time-consuming and extremely expensive to restore infected systems.

The original Shamoon hackers left images of a burning U.S. flag on machines at Saudi Aramco and RasGas Co Ltd in 2012. Researchers said the Shamoon 2 hackers also left a calling card: a disturbing image of the body of three year-old Syrian refugee Alan Kurdi, who drowned in the Mediterranean last year.

The 2012 Shamoon attacks were likely conducted by hackers working on behalf of the Iranian government, said CrowdStrike Chief Technology Office Dmitri Alperovitch. It is too early to say whether the same group was behind Shamoon 2, he said.

The motive of the recent attacks was also not immediately clear.

"Why Shamoon has suddenly returned again after four years is unknown," the Symantec Security Response team said on its blog. "However, with its highly destructive payload, it is clear that the attackers want their targets to sit up and take notice."

The malware triggered the disk-wiping to begin at 8:45pm local time on Thursday, November 17, according to the security firms.

The Saudi business week ends on Thursday, so it appears to have been timed to begin after staff left for the weekend to reduce the chance of discovery and allow maximum damage.

"The malware had potentially the entire weekend to spread," Palo Alto researcher Robert Falcone said in a blog post.

Courtesy: Deccan Chronicle

Dev 360: For a less-cash India, a few things on to-do list

Dev 360: For a less-cash India, a few things on to-do list

PATRALEKHA CHATTERJEE

Patralekha Chatterjee focuses on development issues in India and emerging economies.

Is becoming cashless a greater priority than becoming fully literate?

Imagine you are in Sweden,” said the man behind me in the queue. We were both waiting to withdraw some cash from the bank. And like others before, and after us, we found ourselves talking about our headline-grabbing race towards being a cashless or less-cash state. Like Sweden. I have never been to Sweden. Nor had he. At a certain age and stage, some of us may have imagined Sweden by crooning Money, money, money/must be funny/in the rich man’s world, a song immortalised by Swedish pop group ABBA.

That was then. Today, Sweden, the first European country to print banknotes (1661), wants to be the first to do away with it totally. If Sweden and so many others can hurtle towards a cashless Nirvana, why can’t India — so goes an argument one hears more and more. Nothing stops us from fantasising that we are almost there — in the almost-Sweden state — and we are done with standing in queues for paper money. An interesting question, however, is also why we don’t emulate Sweden with such ferocious intensity in other areas. Sweden is one of the world’s 10 richest nations, has a generous welfare state and 99 per cent literacy. Most people in the developed world, where less-cash is the norm, are literate.

What about India? The latest census reveals that literacy has jumped from 65 per cent to 74 per cent in 2011. But that still leaves us with the largest population of illiterate adults in the world — more than 287 million. This is 37 per cent of the global total. That’s not to say India can’t take a leap forward. It can. But it can’t afford to ignore ground realities and limitations. There were 417 billion cashless payments in 60 countries worldwide in 2014, according to one study. But these are increasing at only a slightly faster rate than the number of ATM cash withdrawals. This means cash is still favoured as a means of payment for a significant proportion of the global population.

In India, where cash has been the economy’s prime driver, there are other complications. Millions in India still don’t have electricity. Nor everyone has mobile phones or a reliable Internet connection. The other very valid concern is around security. Digital payments can pose major security risks unless specific processes are in place. And while technology can empower the poorest in remote parts of India, illiteracy and lack of tech-savviness can also be disempowering.

The campaign to make India a cashless economy is on mission-mode. But where’s the missionary zeal to wipe out illiteracy or even improve pathetic learning outcomes, which study after study, year after year, demonstrate? How do people become digitally literate without first becoming literate? Can you run before you walk? In a recent, impassioned newspaper article, senior Union minister M. Venkaiah Naidu, in charge of information and broadcasting and urban development, told us what we are seeing is tantamount to a “cultural revolution”, involving a “behavioural modification”.

“The demonetisation of high-value currency notes announced on November 8 by Prime Minister Narendra Modi has several dimensions. Cutting off money channels to terrorists and extremist elements, weeding out counterfeit currency and driving out black money are the visible, short-term objectives. But the long-term consequences and gains include ushering in a behavioural change at all levels of society. It is a part of the grand ‘cultural revolution’ the PM is working on. The entrenched old order needs to make way for a new normal,” wrote Mr Naidu.

To many of us who have a nodding acquaintance with history, the words “cultural revolution” evokes images of one of the bloodiest periods of Chinese history — the Great Proletarian Cultural Revolution (1966-1976), a period of political and social chaos caused by Chinese leader Mao Zedong’s bid to use the Chinese masses to reassert his control over the Communist Party. But let us ignore Mr Naidu’s slightly curious turn of phrase, and zoom back to India’s attempts at getting the masses and classes to go cashless at breathtaking speed. The issue is not why India is moving towards a less-cash state. It is about the sequence in which things are happening or not happening. What are India’s priorities as a country with aspirations and a sense of destiny? Is becoming cashless a greater priority than, say, becoming fully literate? What are we doing on cyber security? What is the level of understanding of cyber security issues among the average Indian?

My part-time domestic helper is an elderly widow who dropped out of school after Class 2. She can just about sign her name. How will someone like her fare in a cashless world? Then there are technological illiterates. Even in New Delhi, India’s capital, in recent days I have seen many elderly men and women asking others to help them withdraw money from ATMs and freely sharing their PIN numbers. You can’t always coerce people into changing exactly when you want them to. Trust is critical to sustainable behaviour change. For an example, look no further than the eradication of polio, one of India’s great achievements in recent times.

What truly helped overcome the pools of resistance in the last lap of the battle against polio were concerted efforts at different levels at building trust. Families that had earlier resisted polio drops being given to their children as they were suspicious of the government’s motives came around. It took time. But the efforts paid off.

So with this race to become a cashless or less-cash state, it is legitimate to ask why many things that need to exist before a cashless system becomes truly empowering are not talked about as loudly as the cashless vision? And the protection every citizen will have in the envisioned digital paradise. As with everything else, building trust will be critical. Because though Times They Are A-Changin’ as Prime Minister Narendra Modi may say, quoting Bob Dylan, it’s not changing at the same pace for everyone in this nation.

The writer focuses on development issues in India and emerging economies. She can be reached at patralekha.chatterjee@gmail.com

Courtesy: Deccan Chronicle

Cash is pro-people, only rich love digital

Cash is pro-people, only rich love digital

VANDANA SHIVA

Vandana Shiva trained as a physicist prior to dedicating her life to the protection of India's biodiversity and food security. She is the author of numerous books and the recipient of numerous awards.

The purest currency in people’s economies is life, love, communion and trust.


Ever since the corporate form was “invented” — in its earliest avatar as the collective East India Companies — those who have ruled via corporation have found innovative “means” new to extract wealth from the earth and people, leaving both poorer in a zero-sum “game”. During the Raj — Company Raj — extraction was carried out through lagaan (taxation on land and agriculture). Between 1765 and 1815, the Company is recorded to have pirated £18 million annually from India. Fifty per cent of the produce was taken as lagaan, creating famines like the Great Bengal Famine. The Company destroyed the people’s circular, sustainable and just economies — in which 70 per cent of the value of what rural areas produced circulated in the village economy — and replaced them with linear, extractive economies, where most wealth produced in India went to enrich England.

In recent years, the corporate empire has found new instruments of extraction, with patents and “capitalisation”, being two prominent ones. The chemical/biotech/seed industry “innovated” and “invented” patents on life and patents on seeds, as a means to extract profits from farmers. The second instrument — capitalisation — the financialisation of the economy is equally perverse. It has punished real people, marginalised the real wealth that people produce in real economies, and rewarded only the capitalists. The capital economy has become 70 times bigger than the real economy. The Wall Street crash of 2008 was a result of the creation of this global casino. We were protected, insulated in India because our economy was still real. The concentration of the world’s wealth in the hands of the one per cent is a consequence of patentisation, capitalisation, and the digitisation of our lives. The latest bait and switch being used by globalised corporate power — to worm its way into Indian households — is the demonising or “demonetisation” of Indian currency.

The “demonetisation” of India’s economy of more that one billion people on November 8 is the next gamble of the corporate empire to steal people’s wealth, lock it away behind an encryption key and shut down people’s economies overnight, leaving only the parts of the economy willing to indulge the payment-gateway-keeper. Naspers Group is that gatekeeper for Digital India. More than 90 per cent of India functions on cash to sustain the people’s economy. Cash is a neutral form of money, one person’s hard-earned money is as potent as another’s; there are no “AMEX Black” Rs 1,000 notes yet. Eighty-six per cent of the currency was made illegal overnight, but that is a dehumanised number. If a chaiwallah accumulates the change he earns, exchanging for Rs 100, then Rs 500, working his way up to a collection of Rs 1,000 notes as his savings. He prefers Rs 1,000 because they are easier to carry and secure, specially since he does not have a bank account — because he has no address — because he can’t afford to rent an address and has not inherited one. At the stroke of midnight on November 8, this chai-but-no-house-wallah disappeared from the economy. A Nescafé machine will replace him.

The purest currency in people’s economies is life, it is love, it is community and communion, and it is trust. That is why most civilised societies, when measured in terms of humanity, happiness and well being, are societies based on barter. When cash becomes the currency of exchange, it can still build community through face-to-face transactions. People’s economies are based on solidarity. Just as patents on seeds were an illegitimate attempt to criminalise farmers by making seed savings illegal, “demonetisation” is an illegitimate attempt to criminalise the people’s economy, which is 80 per cent of India’s real economy. That this is the aim is clear from the statement of the man who became the richest in the world through patents and the digital economy — Bill Gates. As he stated in his speech for the “Niti-Lectures series: Transforming India” in the presence of Prime Minister Narendra Modi and his Cabinet colleagues, “the government’s bold move to demonetise high-value denominations and replace them with new notes with high-security features was an important step to move away from the shadow economy to a more transparent economy.”

Mr Gates said digital transactions would rise dramatically, and, in the next several years, India would become one of the most digitised economies not just by size, but percentage as well. The “Pirate of Silicon Valley” has just declared the vibrant community-based swadeshi economy of the people of India a “shadow” economy, just because it is beyond the reach of his digital monopoly. We are not shadows of your empire, Mr Gates. We are hard-working, honest people who still know how to trust and share, who have community and real creativity to run and sustain our economy. Transparency as defined by you as the asymmetric power of the financial and digital world over people, to take control of our wealth, our well being, our lives and our freedoms. It is the end of being in a relationship of trust with a person you know in your local economy, and see face to face. It is the end of people being transparent to each other as human beings. It is not financial transparency either that is supposed to end “black money”.

You and Microsoft are part of the “black economy”. A 2012 report from the US Senate found that Microsoft’s use of offshore subsidiaries enabled it to avoid taxes of $4.5 billion, a sum greater than the Bill and Melinda Gates Foundation annual grant-making ($3.6 billion in 2014). You want to teach us transparency? In 1857, we drove out the first corporation that ruled the world, the East India Company. In 1947, we drove out the British who controlled 80 per cent of the territories of the world. Our determination to defend our economic freedoms, economic democracy and economic sovereignty through swadeshi is stronger than ever. The need for swadeshi has never been greater. We will defend and sustain our people’s economies — by the people, of the people, for the people, against the assault of the corporate economy run by the corporations, for the corporations.

Courtesy: Deccan Chronicle