Search This Blog

Friday, 25 January 2013

سری لنکا

سری لنکا

محمد جاوید بروہی
بحر ہند کا موتی کہلانے ولاا ملک سری لنکا براعظم ایشیا میں واقع ہے اس کے مشرق میں خلیج بنگال مغرب میں خلیج منار شمال میں آ بنائے پالک اور جنوب میں بحر ہند ہے انگریزوں کے دور حکومت میں اسے ’’مشرق کا موتی‘‘ کہا جاتا تھا اس کا رقبہ 65610 مربع کلو میٹر ہے۔ موجودہ دارالحکومت سری جے وردنا پورا کوٹ ہے۔ کولمبو کو دارالحکومت کا درجہ اٹھارہویں صدی میں برطانوی قبضے کے بعد ملا 1978ء میں کولمبو کو کمرشل دارالحکومت قرار دیا گیا سری لنکا کا سرکاری نام ڈیمو کریٹک شوسلسٹ جمہوریہ سری لنکا ہے۔ یہاں نظام حکومت جمہوری ہے۔ یہاں سربراہ مملکت صدر اور سربراہ حکومت وزیر اعظم کہلاتا ہے سری لنکا کی وزیراعظم مسز بندرانائکے جن کا اصل نام Mayosri تھا دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم تھیں سری لنکا کے پرانے نام پتروبانی، سالائیو، سرالزیپ اور سیلون تھے کولمبو سری لنکا کا سب سے بڑا شہر ہے اس کی آبادی 2 ملین سے زیادہ ہے اس کا شمار جنوب ایشیائی ممالک میں سیاحت کے لحاظ سے تین بڑے شہروں میں ہوتا ہے یہ سری لنکا کے موجودہ دارالحکومت سے متصل ہے سری لنکا کا شہر کینڈی ہاتھی دانت کے مندروں کے لیے مشہور ہے سری لنکا نے 1948ء میں برطانیہ سے آزادی حاصل کی 1950ء کے اجد اس کا نام سری لنکا رکھا گیا یہاں اکثریت کا مذہب بدھ مت ہے سنہالی یہاں کی سرکاری زبان ہے اس کے علاوہ تامل اور انگریزی بھی بولی جاتی ہے یہاں شرح خواندگی 92 فی صد ہے جو دیگر جنوبی ایشیائی ممالک کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کی آبادی تقریباً دو کروڑ نفوس پر مشتمل ہے۔ یہاں کی کرنسی سری لنکن روپیہ کہلاتی ہے۔ شہر یہاں کا قومی جانور ہے سری لنکا دنیا کا پہلا ملک ہے جہاں جنگلی ہاتھیوں کا وسعی سروے کیا گیا ہے سری لنکا کا سب سے قدیم عجائب گھر کولمبو میں ہے جس کا نام نیشنل میوزیم ہے جو 1877ء میں قائم ہوا تھا۔
سری لنکا میں قومی دن 22 مئی کو منایا جاتا ہے

KIRNEIN


کرنیں

عبدالرحمن نعیم
شیخ سعدیؒ کا نام و شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں ہے وہ بہت بڑے بزرگ تھے۔ انہوں نے زندگی کا بڑا حصہ علم کے حوصل اور دنیا کی سیاحت میں گزارا اور ان کی باتوں میں حکمت و دانائی کے گوہر بھرے پڑے ہیں جس میں سے چند قیمتی اور سنہرے اقوال ہم سب کے لیے مشعلِ راہ ہیں۔
(1) آہستہ مگر… مسلسل چلنا کامیابی کی ضمانت ہے۔
(2) اگر چڑیاں بھی اتحاد کر لیں تو شیر کی کھال اتار سکتی ہیں۔
(3) عقلمند اس وقت تک نہیں بولتا جب تک خاموشی نہیں ہو جاتی۔
(4) رزق کی کمی اور زیادتی دونوں برائی کی طرف لے جاتی ہیں۔
(5) دوست وہ ہے جو دوست کا ہاتھ پریشانی اور تنگی میں پکڑتا ہے۔
(6) جو کوئی اپنی محنت سے روٹی کھاتا ہے اسے حاتم طائی کا احسان نہیں اٹھانا پڑتا۔
(7) جو بچپن میں ادب نہیں سیکھتا بڑی عمر میں اس سے بھلائی کی کوئی امید نہیں ہے۔
(8) دشمن سے ہمیشہ بچو اور اس دوست سے بھی جو منہ پر تمہاری تعریف کرے۔
(9) زندگی کی درازی کا راز صبر میں ہے۔

MILADUNNABI AUR HAMARI ZINDAGI - Munsif Editorial


JASHNE MILADUNNABI S.A.W. - Etemaad Editorial


KI MOHMMED S.A.W. SE WAFA TU NE TO HUM TEREY HAIN - Monisa Bushra Abidi