Search This Blog

Wednesday, 6 June 2012

ان کا حصہ


ان کا حصہ

عبدالرحمان مخلص

انسان کی فطرت یہ ہے کہ وہ اپنی خوشیوں اور مسرتوں سے زیادہ اپنے دکھ درد کو دوسروں پر ظاہر کر کے اُن کی ہمدردیاں حاصل کرنے کامتمنی رہتا ہے۔(غم و اندوہ اور دکھ درد کی آگ اور دھویں کو اپنے وجود میں جذب کر کے جینے والے  لوگ بہت کم ہوتے ہیں) انسان کو معلوم ہونا چاہئے کہ دوسروں کو اس کے دکھ درد میں شامل ہونے سے کوئی غرض نہیں ہوتی۔ پرائے تو خیر! اپنے عزیز و اقارب بھی بسا اوقات دوسروں کے غم کی کہانی کو ہنسی مذاق کا سامان بناتے ہیں اور متاثر ہونے کے بجائے محظوظ ہو جاتے ہیں۔ رہی عورتوں کے مختلف مواقع پر دوسروں کے لئے رونے اور بین کرنے کی بات(بین کرنا اسلام میں حرام ہے) سو وہ بے چاریاں اپنے ہی کسی دُکھ کو یاد کر کے دھاروں دھار روتی اور آنسو بہاتی ہیں۔ یعنی   ؎

کون روتا ہے کسی کے حال پہ اے دوست

سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا

ایک صاحب ستر برس کی عمر تک ’’آگ‘‘ تھے لیکن جب اس سرحد کے آگے قدم رکھا تو ’’راکھ‘‘ بن چکے تھے۔آگ اور راکھ میں جو فرق ہوتا ہے، اُسے بیان کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ ہر کوئی اپنی زندگی میں کسی نہ کسی پڑائو پر اس کھیل تماشے کا خود نہ صرف احساس کرتا ہے بلکہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ بھی لیتا ہے۔بڑھاپے اور بیماری میں چونکہ بہت ہی قریبی رشتے داری ہوتی ہے، اس لئے وہ صاحب بھی ایک دن ’’صاحب فراش‘‘ ہو گئے۔ کئی دن دو انتہائوں(Two Extremes)کو دیدے پھاڑ پھاڑ کے دیکھا اورپھر پنے بڑے بیٹے کو بے اختیار آواز دی جو کچن میں اپنے بیٹے ’’منا‘‘ کو گود میں لے کر بڑے پیار دُلار سے اُس کے منہ میںLactogen_II چاندی کے چمچے سے ٹپکا رہا تھا۔ منا قلقاریاں مارتے ہوئے اسے نگل رہا تھا اور مسکراتی آنکھوں سے اپنے ’’پاپا‘‘ کو دیکھ رہا تھا۔’’پاپا‘‘ خوشی سے باغ باغ ہورہے تھے۔(گارڈن،گارڈن لکھنا زیادہ مناسب رہتا!)باپ کی آواز اس کے کانوں میں پڑی تو اُس نے اَن سنی کر دی۔ آوازدوسری بار آئی تو اس کے چہرے کے خطوط کشیدہ ہوگئے۔ تیسری آواز ذرا کرخت تھی جیسے پہاڑ کے اُس طرف کہیں بجلی گری ہو۔ بیٹا طوعاً و کرہاًاُٹھا اور ’’بابا‘‘ کے کمرے میں چلاگیا جہاں وہ بوڑھا تمتماتے ہوئے چہرے کے ساتھ بستر پر چِت لیٹا تھا۔ اُسے دیکھ کر ایسا لگتا تھا کہ شام کی شفق پھولی ہو جس کے دُنبال میں گپ اندھیرا ہوتا ہے۔ اس نے زور سے کہا:

’’اتنی دیر سے چِلّا رہا ہوں اور تم ٹس سے مس نہیں ہوتے!‘‘

’’بس اب تو آگیا نا؟! …خاموش ہو جائو!کیا بات ہے؟!‘‘

’’میری ٹانگوں میں سخت درد ہورہا ہے!‘‘

’’بابا! بڑھاپے میں ایسا ہی ہوتا ہے!‘‘

’’ْمیری کمر بھی دُکھ رہی ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپے کااثر ہے!‘‘

’’سانس پھول رہی ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘

’’سر چکرا رہا ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘

’’نظر میں دھندلاہٹ ہے!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘

’’کوئی بھی چیز ڈھنگ سے ہضم نہیں ہوتی!‘‘

’’یہ بھی بڑھاپا ہے!‘‘……

اپنے ہر سوال کے جواب میں ’’بڑھاپا‘‘ کی گرداش سن کر بڑے میاں کو غصہ آگیا اور اس نے بیٹے کو ایک لطیف سی ’’پدرانہ‘‘ گالی دی اورکہا:

’’اُلو کے پٹھے…یہ کیا’’بُڑھاپا بُڑھاپا‘‘ کی رٹ لگا دی؟!

اس پر بیٹے نے فرمایا ’’بابا! غصہ ہونا بھی بڑھاپا ہی ہے!!‘‘ اور بڑے میاں خاموش ہو گئے۔Ella Wheeler Wilcoxنے اپنی نظم ’’Solitude‘‘ میں کیا ہی خوب بات کہی ہے:

Rejoice, and men will seek you,

Grieve, and they will turn and go.

They want full measure of your pleasure

But they do not need your woe.

Be glad, and your friends are many,

Be Sad, and you will lose them all.

(ترجمہ: خوش رہو اور لوگ تمہیں تلاش کریں گے۔ غمگین رہو تو لوگ تمہیں پیٹھ دکھائیں گے، وہ تمہاری خوشی سے بھرپور حصہ چاہتے ہیں۔ اُنہیں تمہارے دکھوں کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ خوش رہو تو تمہارے بے شمار دوست ہیں۔ غمگین ہو جائو تو تمہارا کوئی بھی نہیں ہے) کیونکہ    ؎

درا نجمن جائے مدہ ہمچو منے را

افسردہ دل افسردہ کُند انجمنے را

(ایک افسردہ دل ساری انجمن کو افسردہ بنا لیتا ہے اس لئے مجھ افسردہ دل کو اپنی انجمن میں جگہ مت دو)

رابطہ:-سیر جاگیر سوپور (کشمیر)

 ای میل : armukhlis1@gmail.com ؛  

موبائل: 9797219497

فضو لیا ت سے پرہیزلازم

فضو لیا ت سے پرہیزلازم

آج کل شہراور قصبہ جا ت میں شادی خا نہ آ بادیوں، منگنیو ں اور اس نوع کی دوسری سماجی تقریبات کا سیزن اپنی جوبن پر ہے۔عموماً اپریل کے وسط سے لے کر نو مبر تک پوری وادی میں ایسے فنکشنو ں کی دھوم مچی رہتی ہے ۔ یہ بات کہنے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے یہا ں نو دولتیو ں کے ایک مخصو ص طبقے میں پیسہ کی ریل پیل ہے ۔اس وجہ سے معاشرے میں شادی بیاہ کے نام پر ایسی ایسی بدعتیں اور نازیبا کلچر درآ یا ہے جس کے زیر اثر حیات ِاجتما عی کے رواں رواں میں مختلف مو ذی بیماریاں پیدا ہو چکی ہیں۔ حتیٰ کہ اب شادی بیاہ جیسے مقدس فر یضے کی اصل شکل اس حد تک بگڑ کر رہ گئی ہے کہ قلم کو یارا نہیں کہ اس کے ہمہ گیر برُے اثرا ت کا احا طہ کرے۔ بے شک شادی بیا ہ کے مو قع پر اخلا قی بندشوں کے اندر اندر خوشیا ں منا نا اور جا ئز حدود میں احباب و اقربا کی ضیا فت کر نا کو ئی ممنو عہ شئے نہیںہے ،مگر ہم نے اس کام کو اوّل تا آ خر گھر پھو نک تما شے کا ہم معنیٰ بنا کے رکھ دیا ہے۔ کشمیر ی سماج میں اکثر و بیشتر شادی بیاہ کے حوالے سے ہر چیز کی تا ن صرف کا م و دہن کی لذ ت یا بیو ں ، رسو ماتِ بد، فضولیات اورجہیز کے لین دین پر ٹو ٹتی ہے۔اس عنوان سے شادی خانہ آبادی غریب طبقات کے لئے انتہا ئی نحو ست اور تعذ یب کا دوسرا نام بن چکاہے۔ شادی کا مطلب دو انسانو ں کولا فانی پیار محبت والے رشتے میں با ہم دگر پیو ست کرکے انہیں ازدواجی زندگی کی گاڑی میںبٹھا کر شاہراہِ حیات کی منزل کی طرف گا مزن کر نا ہے ۔ اس عظیم رشتے کی اُٹھا ن نیک نیتی، خلوص اور با ہمی عزت واکرام کے اینٹ گا رے پر ہو تی ہے کیونکہ اس کے طفیل دو اجنبی ایک دوسرے کے واسطے شریکِ حیا ت بننے کا شرف پاتے ہیں ۔ بالفاظ دیگر شادی کے جو ڑ میں میاں بیوی کے لئے مذ ہبی ، روحا نی ، معاشرتی، نفسیا تی اور خا نگی زندگی کی ایک کثیرالجہت دنیا بسی ہوئی ہے۔ بدقسمتی سے ہما ر ے یہا ں ایک چھوٹے سے استثنیٰ کو چھو ڑ کر شادی کے ان اعلیٰ وارفع مقا صدکو ثانوی اہمیت دی جا رہی ہے جب کہ اوّ لیت بے ہودہ رسو مات اور ضرر رساں روا جات کو مل رہی ہے ۔اس سے شادی کے مذ ہبی اور تمدنی پہلو ؤ ں کا مفہوم اول تا آخر رسوماتِ بد کے گر دو غبا ر میں بے چہرہ ہو چکا ہے۔ بگاڑ اس قدر آ چکا ہے کہ گو یا شادی اب صرف ہمسا یوں اور دوست احبا ب رشتہ داروں میں اپنی ناک اونچی رکھنے کا بہانہ ہے ۔ اسے اجتما عی جبر کا شاخسانہ ہی قرار دیا جا سکتا ہے کہ شادی بیاہ کے موقع پر ہرکس و ناکس دیکھا دیکھی میں تمام حدودپھلا نگنے کے لئے ذہنی طور آ ما دہ رہتا ہے۔ ممکن ہے کہ کوئی کو ئی مختلف اسباب کے تحت اس اجتما عی جبراور جنو ن کا حصہ بننے کو ٹھیک نہ بھی سمجھتا ہو لیکن عام مشاہدہ یہی ہے کہ ایسے لوگوں کو سما جی فیشن کے خلاف چلنے کی قیمت بھی ادا کرنا پڑتی ہے ۔ ستم ظریفی یہ کہ شادی غمی کے باب میں مروج رسوماتِ قبیحہ کی نامعقولیت اور بہ حیثیت مجمو عی ان سے گلو خلاصی حاصل کرنے کے نکتے پر فرداً فرداًہم میں کو ئی ا ختلا ف ِ رائے نہیںپا یا جا تا ہے۔ یہ کو ئی کندۂ ناتراش ہی ہو گا جوبلا چو ں و چرا ان کی تعمیل وپذیرا ئی پر ذہنی یکسوئی رکھتا ہو۔البتہ بہت ہی کم لو گ عملاً آزمائش کے ترازو میں کھرا اُ تر تے ہیں۔ قابل غور با ت یہ بھی ہے کہ آج تک ہمارے یہاں شادی بیا ہ کو نا جا ئز رسوما ت کی زنجیروں سے آزاد کر نے کے لئے بہت ساری اصلا حی مہمیں چلا ئیں گئیں مگر وہ سب یکے بعد دیگرے نا کا می کا منہ دیکھتی رہیں۔با یں ہمہ اس حو صلہ افزا ء حقیقت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا کہ موجودہ گھٹا ٹو پ اندھیرے میں بھی بعض لو گو ں کے یہاں سادہ شا دیوں کا متا ثر کن اور مثا لی اہتمام بدستو ر ہو رہا ہے ۔ اس سلسلے میں کچھ اصحا ب ِ خیر کی اصلاحی کا وشیں بھی واقعی قابل تعریف ہیں ۔ ان کے یہاں سادہ شادی کی خو ش کن تقاریب کی شان اتنی ہی نہیں کہ ان سے سنجیدگی اور وقار جھلکتا ہے بلکہ ان کو یہ چیز بھی منفرد بنا دیتی ہے کہ لذت ِ کام و دہن کے نا م پر فضو ل خرچی ، اصرا ف و تبذیر کا کھلا مظا ہرہ، گو شت پو لٹری سمیت اشیا ئے خو ردو نوش کا ہو ش ربا استعمال،وقت کابلا وجہ اور بے دریغ زیاں ،ریا کارانہ اور دکھا وے کی مہما ن نوازی اور سب سے بڑھ کر شا دی جیسے مقدس انفرادی،سماجی اور مذہبی فر یضے کو جہیز کے لین دین سے بے ہو دہ تجارت اور نرا کار و بار بنا نے کے نا قا بل ِ معا فی جر م کا ادنیٰ سا شائبہ بھی ان میں دیکھنے کو نہیں ملتا ۔ بلا شبہ ایسی سعید رو حو ں کی برکت سے ہی ابھی تک سو سا ئٹی میں ا خلاقِ حسنہ کاتھو ڑا بہت اُجا لا اور خدا خو فی کی ضیا پا شی کہیں کہیں دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ورنہ شادی بیاہ کی بے اعتدا لیو ں نے اس سما ج کو ہر اعتبار سے بے ہودگیوں کے دلدل میںجکڑ کر رکھ دیا ہے۔ اس میں دو را ئے نہیں کہ عمو ماً کشمیری سو سا ئٹی میں گزر بسر کر نے والے ایک عا م انسان کا خوا ب بلکہ اس کی پو ری زندگی کا ما حصل عا لی شا ن مکا ن کی تعمیر اور بعد ازا ں شادی بیاہ کی پُر شکو ہ تقریب پر دوست احباب کی پرُ تکلف ضیافت کے علا و ہ کچھ اور نہیں۔عا لی شان بنگلے کی تعمیر کے لئے دیا نت و امانت اور اخلا قی اُصولوں کو روند ڈالنااور ضیا فت کے نام پر بے شمار پکوانوںسے لو گو ں کی واہ واہ سننا،شادی کا جشن مناتے وقت مفت کی بجلی سے گھر کے درو دوار کا چرا غا ں کرنا ، رات کو ما ئک لگاکرناچ نغمے کے شورو غو غاسے عوام الناس کی نیند یں حرام کرنا، آتش بازی میں بے حساب مال وزر اُڑاناوغیرہ جیسی بے ہودہ حر کات سے ان غریب نوجوا نو ں اور مہندی کو ترس رہیں دوشیزاؤں کا مذاق اُڑایا جارہاہے ۔ان کے اہلِ خا نہ کی ذہنی کو فت اور احسا س ِ محرو می کو مد نظر رکھتے ہو ئے مذہبی سکالروں اور سماجی اصلا ح کاروں کو اپنی ذمہ دا ریا ں سنجیدگی سے نبھا نے اور ان فضولیات و بدعات کا قلع قمع کرنے کے لئے سنجیدہ کوششیں کرنے کی اشد ضرورت ہے تاکہ کسی دوشیزہ کی عمر فضولیات اوربدعات و رسومات کا پیٹ بھرنے کے انتظار میں اُس کے ہاتھ پیلے ہونے کا خواب دھرے کا دھرا نہ رہے ۔

Tuesday, 5 June 2012

اہلِ مصر کے لیے نیا امتحان

اہلِ مصر کے لیے نیا امتحان

حافظ محمد ادریس 
-سال 2011ء مصر کے لیے ایک اور یادگار اور خوشگوار تبدیلی لے کر آیا۔ مصری قوم نے ایک تاریخی جدوجہد اور عوامی تحریک کے ذریعے صدیوں کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ شاہ فاروق کی بادشاہت کے خاتمے کے بعد1953ء میں فوجی حکومت برسر اقتدار آئی۔ اس وقت سے لے کر گزشتہ سال 2011ء تک تین بدترین آمروں نے ملک کو ظلم و ستم کی آماجگاہ بنائے رکھا۔ عظیم فرزندانِ اسلام دارو رسن اور گولیوں کا نشانہ بنے، نیک سیرت نوجوانوں کی بے داغ جوانیاں زنداں خانوں کی نذر ہوئیں اور وہ بیس بیس سال جیلوں میں گزار کر باہر نکلے تو بوڑھے ہوچکے تھے۔ جمال عبد الناصر، انوار السادات اور حسنی مبارک کسی اخلاقی ضابطے اور انسانی اقدار کو نہیں جانتے تھے۔ وہ درندے تھے اور پوری درندگی کے ساتھ وادیٔ نیل پر پنجے گاڑے ،درندگی کا ارتکاب کرتے رہے۔ گزشتہ سال بے پناہ قربانیوں کے بعد کامیاب عوامی تحریک نے حسنی مبارک کا تختہ الٹا اور مصری عوام کو پہلی بار آزادانہ انتخابات کا موقع ملا تو انہوں نے اخوان المسلمون کے سیاسی ونگ حزب الحریت والعدالہ اور حزب النور، دو اسلامی جماعتوں پر اعتماد کیا۔ اخوان ساڑھے بیالیس فیصد ووٹوں کے ساتھ پہلے نمبر پر اور حزب النور ساڑھے پچیس فیصد کے ساتھ دوسرے نمبر پر آئے۔ گویا اسلامی قوتوں کے مقابلے پر مصری عوام نے سیکولر، لبرل، لیفٹ اور رائٹ اور سابق حکومتی اور مغرب نواز عناصر سبھی کو مسترد کر دیا۔ پارلیمنٹ اور سینٹ ہر دو ایوانوں میں اسلامی جماعتوں کو واضح اکثریت حاصل ہے۔ 23اور 24مئی کو ملک میں بالغ رائے دہندگی کی بنیاد پر پہلے صدارتی انتخابات ہوئے۔ ان میں کل 13 امیدوار میدان میں تھے۔ ووٹنگ کا تناسب قدرے کم یعنی 46 فیصد رہا تاہم پہلے اور دوسرے نمبر پر اخوان کے امیدوار ڈاکٹر محمد مرسی اور سابق حکومت کا نمائندہ و سابق وزیراعظم جنرل (ر) احمد شفیق آئے۔ اب انہی دو امیدواروں کے درمیان 15اور 16جون کو حتمی فیصلے کے لیے کانٹے دار مقابلہ ہوگا۔ کئی امیدواروں نے پہلے مرحلے کے دوران ہونے والی انتخابی بے ضابطگیوں کے خلاف پٹیشن دائر کی تھی مگر چیف الیکشن کمشنر فاروق سلطان نے تمام عذر داریاں مسترد کرتے ہوئے پریس کانفرنس میں بتایا کہ انتخابات میں کوئی گڑ بڑ نہیں ہوئی۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ کوئی بڑا اور نمایاں واقعہ ایسا سامنے نہیں آیا جس کی بنیاد پر نتائج تبدیل ہونے کا امکان ہوتا ہم آخری گنتی کے وقت کئی انتخابی مراکز پر مبصرین کو اور امیدواروں کے نمائندوں کو بھی کائونٹنگ ہال میں نہیں جانے دیا گیا۔ عبوری فوجی کونسل کے سربراہ، خود ساختہ فیلڈ مارشل، جنرل حسین طنطاوی انتقال اقتدار کے معاملے میں اب تک بالواسطہ ٹال مٹول کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ ان کی ہمدردیاں واضح طور پر سابقہ حکومتی کارپردازوں کے ساتھ ہیں۔ ظاہر ہے وہ سابقہ نظام اور اسٹیٹس کو کا حصہ ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ نے بھی ایک مضمون میں صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں دھاندلی کا ذکر کرتے ہوئے لکھا ہے کہ احمد شفیق کے حق میں سرکاری عملے نے بے ضابطگیاں کی ہیں۔ پارلیمان اور سینٹ کے انتخابات میں حسنی مبارک دور کے امیدوار جس طرح پٹے ہیں، اسے دیکھتے ہوئے یہ نتائج بالکل غیر حقیقی اور مضحکہ خیز نظر آتے ہیں۔ جنرل حسین طنطاوی انقلابی قوتوں کو اقتدار میں نہیں دیکھنا چاہتا۔ وہ مختلف حربوں سے اپنے مقاصد حاصل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔ احمد شفیق سے لوگوں کی نفرت کا یہ عالم ہے کہ کسی بھی صدارتی امیدوار کے خلاف کہیں بھی کوئی احتجاجی اور شدید رد عمل سامنے نہیںآیا البتہ موصوف جب ووٹ ڈالنے گئے تو عوام نے ان پر جوتے پھینکے۔ وہ انتظامیہ اور پولیس کی حفاظت میں وہاں سے واپس پلٹے۔ ان کا رنر اپ ہونا اہل مصر کے لیے باعثِ حیرت و صدمہ ہے۔ مصر میں مثبت تبدیلیوں کی وجہ سے دنیا بھر میں حریت پسند حلقوں میں خوشگوار تاثر پیدا ہوا ہے۔ عالمِ اسلام کی اسلامی تحریکوں نے اس تبدیلی پر خوشیاں منائی ہیں مگر ابھی تک معاملات کو خوش اسلوبی سے منطقی انجام تک پہنچنے میں کافی دشوار گزار گھاٹیوں سے گزرنا ہوگا۔ فوجی جرنیل جن ممالک میں اقتدار کے نشہ میں مبتلا ہوجاتے ہیں، ان کا یہ خمار مشکل ہی سے کافور ہوا کرتا ہے۔ ترکی میں البتہ بظاہر عوامی جمہوری حکومت نے مدتِ مدید کے بعد جرنیلوں کے پر کاٹنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ ڈیڑھ درجن جرنیل جو کبھی ہمہ مقتدر شمار ہوتے تھے، جیل کی ہوا کھا رہے ہیں۔ اب مصر میں بھی اللہ کرے یہ بہارِ جاں فزا اس مرحلے میں کامیابی حاصل کرسکے۔ اگر انتقال اقتدار پر امن اور جمہوری طریقے سے عمل میں آگیا تو قوی امید ہے کہ مصر جمہوریت کی پٹڑی پر چڑھ جائے گا۔ ناصری گروپ کے امیدوار حمدین صباحی نے پہلے تو اخوان کی دعوت کو مسترد کر دیا تھا مگر اب انہوں نے بھی احمد شفیق کے مقابلے پر ضرب المثل کے مطابق حب علی میں نے نہ سہی، بغضِ معاویہ ہی میں ڈاکٹر محمد مرسی کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔
اب دو بدو مقابلہ اخوان کے امیدوار مردِ درویش جناب ڈاکٹر محمد مرسی اور حسنی مبارک دور کے وزیراعظم اور کرپشن کلب کے ممبر، احمد شفیق کے درمیان کانٹے دار ثابت ہوگا۔ مصر کے 5کروڑ رجسٹر ووٹر جن میں سے تقریباً دو کروڑ تیس لاکھ نے پہلے مرحلے میں ووٹ ڈالے، اگر گھروں سے نکل کھڑے ہوئے تو سابقہ آمریت کی باقیات کا جنازہ نکلنے کا امکان ہے۔ اگر ٹرن آئوٹ کم ہوا تو جنرل طنطاوی کی فوجی انتظامیہ کو کھل کھیلنے کا موقع مل جائے گا۔ یہ اہلِ مصر کا بڑا امتحان ہے۔ اللہ کرے وہ اس میں سرخرو ہوسکیں اور اپنے شہدا کی قربانیوں کی لاج رکھ سکیں۔ عالم اسلام کے مقبول ترین عالم اور خطیب مفکر اسلام علامہ یوسف القرضاوی نے اہل مصر سے دردمندانہ اپیل کی ہے کہ وہ اس صدارتی انتخاب کو دو امیدواروں کے درمیان مقابلہ نہ سمجھیں بلکہ یہ دو نظاموں کے درمیان مقابلہ ہے۔ ایک جانب خوفِ خدا سے مالا مال، کرپشن سے پاک صاف، عدل و انصاف کے علمبردار اور انسانیت کے دکھوں کا مداوا کرنے والے نظریات کے حامل لوگ ہیں اور دوسری جانب آمریت و کرپشن کے نمائندے ، مصرکو انسانی خون میں نہلانے والے فساد زدہ نظام کے علمبردار ہیں۔ مصری عوام کو بڑی سوچ سمجھ اور شعور کے ساتھ فیصلہ کرنا ہوگا۔ قرضاوی صاحب کی پوری دنیا میں اور اپنے آبائی وطن مصر میں بے پناہ عزت اور احترام ہے۔ صدارتی انتخابات کے پہلے مرحلے کے اختتام پر حزب النور نے پہلی مرتبہ کھلے دل کے ساتھ اخوان کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔ معلوم ہوتا ہے کہ یہ نوزائیدہ سیاسی جماعت اور اس کے سلفی راہ نما سیاسی لحاظ سے خاصے پختہ، بالغ نظر اور باشعور ہیں۔ اس سے قبل انھیں اخوان اپنے حریف نظر آتے تھے کیوں کہ دونوں پہلی اور دوسری پوزیشن پر فائز تھے۔ اب انہوں نے محسوس کرلیا ہے کہ اگر ان دونوں اسلامی پارٹیوں کے درمیان اس معرکۂ انتخاب میں ہم آہنگی و یگانگت پیدا نہ ہوسکی تو انقلاب دشمن قوتیں فائدہ اٹھائیں گی جو سب کے لیے نقصان دہ ہوگا۔ اسی کو سیاسی پختگی کہا جاتا ہے۔ ان کی ویب سائٹ پر ان کی ہائی کمان کے اس فیصلے کا اعلان کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں حزب النور نے اخوان کے سابق رکن عبد المنعم ابو الفتوح کی حمایت کی تھی۔ انہوں نے اخوان کے فیصلے کے علی الرغم خود کو صدارتی امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا تھا، اس لیے اخوان سے ان کا اخراج ہوگیا تھا۔ وہ چوتھے نمبر پر رہے۔ ان کے کل ووٹ چالیس لاکھ پچاس ہزار تھے۔ صدارتی انتخاب کے پہلے مرحلے میں امیدواروں کے ووٹ ایک دوسرے سے کافی قریب رہے۔ اخوان کے ڈاکٹر محمد مرسی کے ووٹ 57لاکھ 65ہزار، احمد شفیق کے 55 لاکھ 5ہزار، ناصری پارٹی کے امیدوار حمدین صباحی کے اڑتالیس لاکھ ووٹ تھے۔ حزب النور کے حمایت یافتہ ابو الفتوح ساڑھے چالیس لاکھ ووٹوں کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔ عرب لیگ کے سابق جنرل سیکرٹری اور دور آمریت میں مصر کے وزیر خارجہ عمرو موسیٰ مغربی قوتوں اور لبرل عناصر کی حمایت سے پانچویں نمبر پر رہے۔ ان کے ووٹوں کی تعداد پچیس لاکھ اسی ہزار کے قریب تھی۔ پہلے اور دوسرے نمبر پر آنے والے امیدواروں کا ذاتی تعارف دلچسپ ہے۔ ڈاکٹر محمد مرسی مصر کی کامیاب سیاسی جماعت حزب العدالت و الحریت کے صدر ہیں۔ پیشے کے لحاظ سے انجینئر اور کیلیفورنیا یونیورسٹی (امریکا) سے پی ایچ ڈی ہیں۔ مصر کے منطقہ شرقیہ میں 1951ء میں پیدا ہوئے۔ قاہرہ یونیورسٹی سے انجینئرنگ میں ماسٹر ڈگری کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا چلے گئے۔ 1982ء میں ڈاکٹریٹ کی۔ کچھ عرصہ کیلیفورنیا یونیورسٹی میں تدریس کی۔ پھر وطن واپس آگئے اور انجینئرنگ یونیورسٹی زقازیق (مصر) میں صدر شعبہ اور پروفیسر کے طور پر خدمات سرانجام دیں۔ دور طالب علمی ہی سے اخوان سے متاثر تھے۔ طویل عرصے تک اخوان کی مجلس اعلیٰ ’’مکتب ارشاد‘‘ کے رکن رہے۔ جب حزب العدالت وجود میں آئی تو اخوان کی قیادت نے ان کو اس کا سربراہ بنانے کا فیصلہ کیا۔ اخوان کی طرف سے 2000 تا 2005ء کی پارلیمان کے رکن رہے اور عالمی پارلیمانی کمیٹی نے انھیں دنیا کا بہترین پارلیمانی رکن قرار دیا۔ صہیونیت کے خلاف قائم تنظیم میں بھی اہم خدمات سرانجام دیتے رہے ہیں اور اس تنظیم کے اساسی ارکان میں سے ہیں۔ مصر کا ہر شہری گواہی دیتا ہے کہ ڈاکٹر محمدمرسی کے دامن پہ کوئی دھبہ نہیں۔ ائیر مارشل احمد شفیق حسنی مبارک دور کا آخری وزیراعظم ہے، جسے عوامی تحریک کے دوران وزیراعظم احمد نظیف کی کابینہ کے استعفا کے بعد حکومت سازی کا حکم دیا گیا۔ اس نے کابینہ بنائی مگر یہ محض 29جنوری سے 3مارچ 2011ء تک صرف پانچ ہفتے چل سکی۔ پھر صدر حسنی مبارک اور وزیراعظم احمد شفیق کے ساتھ پورے نظام کا دھڑن تختہ ہوگیا۔ احمد شفیق 1941ء میں پیدا ہوئے۔ تعلیم کے بعد ائیرفورس میں بھرتی ہوگئے اور ترقی کرتے کرتے 1991ء میں ہوائی فوج کے اعلیٰ عہدے وائس ائیر مارشل پر فائز ہوگئے۔ ملازمت کے دوران اٹلی اور بعض دیگر ممالک میں مصری سفارت خانے کے ملٹری اتاشی بھی رہے۔ 1994ء میں ائیر مارشل بنائے گئے۔ وہ مصر کی ائیر فورس کے طویل ترین سربراہ رہے۔ حسنی مبارک کے منظور نظر تھے، توسیع ملتی رہی اور 6 سال اس منصب پر فائز رہنے کے بعد 2002ء میں ریٹائر ہوئے۔ ملازمت کے بعد انھیں کئی اہم مناصب عطا کیے گئے۔ وہ سول ایوی ایشن کے وزیر رہے۔ وزارت کے دوران نھوں نے سرکاری زمینوں میں سے ہزاروں ایکڑ زمین حسنی مبارک کے بیٹے محمد حسنی مبارک کو کوڑیوں کے بھائو بیچی۔ موصوف پر کرپشن کے کئی الزمات ہیں۔ آغاز میں الیکشن اتھارٹی نے ان کو صدارتی منصب کے لیے نااہل قرار دیا تھا مگر انہوں نے عذر داری پیش کی تو فوجی کونسل نے ان کو کلیئر کر دیا۔ اب معرکہ محض دو امیدواروں کے درمیان نہیں، ان دو کرداروں کے درمیان بلکہ انقلاب و آمریت کے علمبرداروں کے درمیان ہے۔

Wednesday, 30 May 2012

کچھ باتیں جاپان کی


کچھ باتیں جاپان کی


اطہر علی ہاشمی 

-عزیزم عامرخان چھ برس تک ٹوکیو یونیورسٹی میں جاپانیوںکو اردوپڑھاکر واپس آگئے ہیں۔ اب ان کو جاپانی زبان خوب آگئی ہے ۔ گزشتہ دنوں ڈاکٹرظفراقبال چھٹیوں میں الباحہ ‘ سعودی عرب سے کراچی آئے ہوئے تھے‘ انہیں ابھی چھ سال نہیں ہوئے اس لیے عربی میں رواں نہیں ہوئے ہیں تاہم اب تو سعودی بھی ’’شویاشویا‘‘ اردوسمجھنے لگے ہیں۔ جدہ میں ایک عرب ٹیکسی ڈرائیورنے پوچھا’’یمین اوسیدھا‘‘ یعنی دائیں طرف مڑوں یا سیدھا لے لوں۔ بہرحال ڈاکٹرظفراقبال سے استفادہ کرنے اور ان کی سرگزشت سننے کے لیے ان کے چاہنے والوں نے کراچی پریس کلب میں ایک عشائیہ رکھا۔یہیں پر عامرخان سے بھی نہ صرف ملاقات ہوئی بلکہ ان سے جستہ جستہ ’’جاپان گزشت ‘‘ بھی سنی۔ بٹ صاحب نے پریس کلب کے سیکرٹری موسیٰ کلیم کو اکسااکساکر ان کے باربارایران جانے اور وہاں کے تجربات سنوانے کا اہتمام کیا‘ ایران اس سرزمین پاک وہند پرہمیشہ سے مہربان رہاہے اور اس نے کئی تحفے برعظیم کو عطاکیے ہیں ان میں قزلباش‘ مہرالنساء عرف نورجہاں‘ محترمہ نصرت بھٹو اور فرح نازاصفہانی سے لے کر یوسف رضا گیلانی تک بہت سے نوادرات ہیں۔ گیلان ایران کا صوبہ بھی ہے اورشہربھی ۔ ایسے مہربان ملک کو تو باربارجاکردیکھنا چاہیے ۔ شاید اسی شوق میں موسیٰ کلیم وہاں جاتے رہے ہیں اور واپس بھی آجاتے ہیں‘اکیلے۔ اسی طرح یہ محفل قصہ تین درویش والی محفل بن گئی جس میں درویش تو اور بھی تھے مگر وہ لب بستہ رہے۔ عامرخان نے جاپان کے حوالے سے بڑی دلچسپ بات یہ بتائی کہ جاپانی زبان میں گالی نہیں ہوتی۔ بھلا یہ بھی کوئی زبان ہوئی۔ سیدمودودی نے کہیں لکھاہے کہ جب وہ لاہورمیں فروکش ہوئے توپنجابی گالیوں سے بھی آشنا ہوگئے۔ یہ اوربات کہ شاید کبھی تصورمیں بھی کسی کو گالی نہ دی ہو حالانکہ دلی سے نسبت تھی جہاں کے کرخندارمزنگ بازار لاہور کے خوش فکروں سے کسی طرح پیچھے نہیں۔ شورش کاشمیری مرحوم صحافت اورخطابت میں ایک بڑا نام ہے۔کئی باران کو سننے کا اتفاق ہوا۔ لکھنے اورتقریرکرنے میں یکساں روانی اوربے ساختگی جیسے الفاظ ہاتھ باندھے کھڑے ہوں۔ اس روانی اور زبان دانی کا دوسرا رخ اس وقت سامنے آیا جب الحمرامارکیٹ مال روڈ میںکوثر نیازی اور شورش کاشمیری کا آمنا سامنا ہوا۔ اس زمانے میںکوثر نیازی کے شہاب اورشورش کے چٹان میںقلمی معرکہ برپاتھا۔مارکیٹ میں بھی شورش نے کوثرنیازی کو لاجواب کردیا۔ ہمارا اسکول کا زمانہ تھا اور قریب ہی کمرشل بلڈنگ میں قیام پذیر ہماری خالہ نے کچھ خریدنے کے لیے الحمراء مارکیٹ بھیجا تھا۔ شورش مرحوم ہاتھاپائی میں بھی کسی سے کم نہ تھے۔ ہاتھ پائوں کے مضبوط ‘ قدآورشخص تھے۔ ہمیں یہ سوچ کر حیرت ہوتی ہے کہ جاپانی کسی سے لڑتے ہوں گے توکیا کہتے ہوں گے۔ عامرخان کا کہناہے کہ انہوں نے چھ برس کے قیام میں جاپانیوں کو آپس میں لڑتے ہی نہیں دیکھا۔ ممکن ہے کہ وہ یہ کام گھرجاکرکرتے ہوں۔ ان کی زبان میں سب سے بڑی اور واحدگالی ہے ’’باکا‘‘ ۔ہم یہ سن کر ذرا سنبھل کر بیٹھ گئے کہ اس کے معانی تو بہت ہی فحش ہوں گے۔ معلوم ہواکہ اس کا مطلب ہے ’’پاگل‘‘۔ بھلا بتائیے‘ یہ بھی کوئی گالی ہوئی۔ اردوشاعری میں تویہ لفظ بہت عام ہے مثلاً میں پاگل‘ میرا منواپاگل‘‘ ۔ شاعرخود اپنے آپ کو پاگل کہہ رہاہے اور ممکن ہے صحیح کہہ رہاہو۔ لوگ پیار‘ محبت میں بھی ایک دوسرے کوپاگل‘پگلاکہہ دیتے ہیں۔ اوراردو پنجابی کی گالیاں ‘بقول ابن صفی مرحوم کے تمام کوائف کھل کر سامنے آجاتے ہیں۔ ہمارے شاعرکا تو محبوب بھی گلیارا ہوتاہے۔ ممکن ہے کہ ہیروشیماوناگاساکی کی تباہی اور سامراجی طاقتوں کے سامنے ہتھیارڈالنے کے بعد سے مزاج میں تبدیلی آگئی ہو۔ شایدکوئی جاپانی غاصب اورقابض فوجیوں کو گالی دے بیٹھاہو اس کے بعد سے چپ لگ گئی ہو۔ اب تمام جاپانی چپ چاپ اپنے کام میں لگے رہتے ہیں۔ اورچلتے پھرتے سائے محسوس ہوئے ہیں۔ یہ بھی معلوم ہواکہ جاپانی زبان میں لطیفے بھی نہیں ہیں۔ خیرپاکستان کی وزیرخارجہ محترمہ حنا ربانی کھرجاپان کا دورہ کرآئی ہیںجاپانی اپنی ہی زبان میں تبادلہ خیال کرتے ہیں۔ جاپانی وزیرخارجہ صاحب سے ملاقات کی تصویرمیں حنا ربانی تورنگ لارہی ہیں۔ جانے مترجم نے کیا ترجمہ کیاہوگا۔ جاپانی زبان میں لطیفے بے شک نہ ہوں لیکن مذکورہ محفل میں یہ لطیفہ سننے کو ضرورملا۔ امریکا کے مونیکالیونسکی فیم صدر بل کلنٹن ٹوکیو آرہے تھے۔ جاپان کے وزیراعظم کو انگریزی کے چند خیرمقدمی جملے یاد کرائے گئے۔ جب بل کلنٹن سے ملاقات ہوئی توجاپانی وزیراعظم نے رٹا ہوا جملہ ادا کیا ’’ہائوآریو؟‘‘ بھلاہوجاپانی تلفظ کا کہ HOW کی ادائیگی WHO کی طرح ہوئی یعنی ہوآریو؟ بل کلنٹن کو شوخی یا مسخری سوجھی۔ امریکی اس میں ماہرہیں۔ انہوں نے ظرافت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کہا’’I am Husband OF Heleri‘‘ (میں ہیلری کا شوہرہوں)۔ جاپانی وزیراعظم نے دوسرا تیارجملہ اچھال دیا۔ ’’ME Too‘‘ ۔یعنی میں بھی۔ راوی اس پرخاموش ہے کہ بل کلنٹن کا اس پرکیا ردعمل تھا۔ شاید دل ہی دل میں کہاہو’’ You too۔‘‘ یہ جملہ ہیلری کے لیے بھی ہوسکتاہے۔ ہیلری کلنٹن وہی خاتون ہیں جنہوں نے پچھلے دنوں دعویٰ کیاہے کہ ایمن الظواہری‘ پاکستان میں ہیں۔ اس پر ایس ایم ایس چل رہے ہیں کہ یہ بات وہ کہہ رہی ہیں جنہیں اتنا نہیں معلوم تھا کہ ان کے بیڈروم میں مونالیونسکی ہیں۔ یہ ان لوگوں کی خوش گمانی ہوسکتی ہے جو امریکی کلچرسے پوری طرح واقف نہیں‘ ہیلری کلنٹن بڑی باخبرخاتون ہیں‘خاتون اول بنے رہنے کا شوق سمجھوتوں پر مجبورکردیتاہے۔کہیں کہیں ’’مرداول‘‘ بھی سمجھوتوں پرمجبورہوتے رہے ہیں۔ عامرخان نے بتایاکہ ایک ہوٹل میں دو پاکستانیوں میں سے ایک نے دوسرے کو ایک سخت گالی دے دی جس پر جھگڑا‘ شروع ہوگیا۔ پولیس آگئی۔ اس کو گالی کا مفہوم ہی سمجھ میں نہیں آیا ۔ پولیس افسرپوچھتے رہے کہ کیا اس شخص نے تمہاری والدہ کے ساتھ بدتمیزی کی ہے‘ والدہ اگرپاکستان میں ہے توکیا یہ شخص پاکستان گیاتھا؟ اگر ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تو جھگڑا کس بات پر؟آخرگالی کھانے والے نے ہاتھ جوڑدیے۔ ممکن ہے کہ اپنی زبان میں دوچارگالیاں بھی دی ہوں۔ جن کی زبان میں سرے سے گالیوں کا تصورہی نہ ہو وہ ان کی ’’چاشنی‘‘ کیا سمجھیں گے۔ عربی سے ناواقف پاکستانی بھی توسعودیوںکی تعریف کرتے رہے ہیں کہ شاباش ہے اس قوم کو‘گالی کے جواب میں بھی تلاوت ہی کرتے ہیں۔ گالیوںکے انتخاب میں عرب بھائی بھی کسی سے پیچھے نہیں ہیں‘کلّاب‘ حمار اوردجال تو زبان زدعام ہیں۔ سناہے کہ وہ پاکستانی جوبرطانیہ کے کارخانوں‘ خاص طور پرنیو کاسل وغیرہ میں مزدوری پرگئے تھے ان کا جب انگریز ساتھیوں سے جھگڑاہوتاتھا تو انگریزی کی گالیوں سے جی نہیں بھرتاتھا۔ جتنی یاد تھیں وہ دے کر’’And More Over‘‘ کہہ کرغبارنکالتے تھے۔ اب تو خوب رواں ہیں۔ جاپای زبان’’بے گالی‘‘ سہی لیکن جاپانیوں کی اپنی زبان توہے ہرقوم کی ہوتی ہے۔ گونگی توپاکستانی قوم ہے کہ اپنی کوئی زبان ہی نہیں۔ ان سے بھی انگریزی میں بات ہوتی ہے جو اپنی زبان بول رہے ہوتے ہیں۔ بحریہ کے سابق سربراہ اور موجودہ چیئرمین نیب فصیح بخاری نے توانگریزی کے سواکسی اورزبان میں بات کرنے ہی سے انکارکردیا تھا کہ مجھے اردونہیں آتی۔ اردونہ سہی‘ ان کی کوئی مادری زبان توہوگی‘ وہ زبان جس میں ماں نے لوریاں سنائی ہوں گی‘ باپ‘دادا سے جس زبان میں بات کرتے ہوں گے۔ کیا اپنے بزرگوں سے بھی انگریزی بولتے رہے؟ ہمارے وزیراعظم تو انگریزی میں انٹرویودیتے ہوئے سوال ہی نہ سمجھ پائے اورکچھ کا کچھ کہہ گئے۔ وہ بھی کوئی ترجمان کیوں نہیں رکھ لیتے۔ اب تک مذاق بن رہاہے۔ غنیمت ہے کہ انہوں نے جاپانی وزیراعظم کی طرح یہ نہیں کہا’’Me Too‘‘ ۔

Sunday, 27 May 2012

شوگر بیماری اور موٹاپا

شوگر بیماری اور موٹاپا


یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ’’ایک بار شوگر بیمار ہمیشہ کیلئے شوگر بیمار‘‘ ۔کسی بھی انسان کیلئے یہ خوش آئندبات نہیں اور نہ ہی کوئی اسے دل سے قبول کرنا چاہتا ہے کہ وہ ایک بار شوگر بیماری میں مبتلا ہوکر زندگی کے آخری لمحات تک اس کے ساتھ لڑتا رہے مگر کیا کیجئے یہ سچ ہے کہ 61ملین ہندوستانی لوگوں کو یہ حقیقت تسلیم کرنا پڑی ہے۔محققین شب وروز سرگردان ہیں کہ وہ کسی طرح شوگر بیماری پر قابو پاسکیں تاکہ دیر نہ ہوجائے۔ سائنسدان دن رات محنت کر رہے ہیں تاکہ وہ یہ پتہ لگانے میںکامیاب ہوں کہ شوگر بیماری کی پیچیدگیوں پر کس طرح کنٹرول کیا جاسکے۔ جہاں تک شوگر بیماری کا سوال ہے، ڈاکٹروں کو کئی سوالات پریشان کر رہے ہیں ،ان میں ایک اہم ترین سوال یہ ہے کہ شوگر بیماری اور موٹا پا میں کیا ربط ہے۔
موٹا پا ایک خطرناک بیماری ہے، یہ انسان کی ظاہری صورت بگاڑنے کے علاوہ کئی بیماریوں کو دعوت دیتا ہے،جن میں ہڈیوں کی بیماریاں اور کئی خاص قسم کی سرطانی بیماریاں قابل ذکر ہیں۔ موٹا پا یعنی انسان کے جسم میں حد سے زیادہ چربی کا جمع ہونا مقاومتِ انسولین پیدا کرکے، انسولین کے عمل کو ناکارہ بناکر خون میں شوگر کی سطح کو بڑھاوا دیتا ہے۔ لیکن موٹا پا کے بارے میں صرف یہ کہنا کہ جسم کی چربی میں اضافہ ہوناہے، صحیح نہیں ہے۔ اس سے پہلے کہ آپ چربی کو اپنا دشمن قرار دینے لگیں، چلئے ہم چربی سے متعلق کچھ حقائق سے پردہ اُٹھانے کی کوشش کریں گے۔ چربی انسانی جسم کی کارکردگی کیلئے اہم ترین رول ادا کرتی ہے۔ اگر کسی وجہ سے جسم میں چربی کی مقدار نارمل سے کم ہوجائے تو جسمانی اور نفسیاتی صحت پر زبردست منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ کتنی چربی ضروری ہے اور کتنی زیادہ ہے۔
جسم میں موجود چربی (جسے حیاتیاتی طور اور ڈاکٹری اصلاح میں ’’ایڈی پوزٹشو‘‘ کہا جاتا ہے) مخصوص قسم کے خلیات ،جن کو خلیات چربی کہا جاتا ہے ، سے بنتی ہے۔ چربی کے یہ خلیات قدرت نے اس لئے تخلیق کئے ہیں کہ یہ چربی سے حاصل شدہ توانائی کو ذخیرہ کرسکیں تاکہ وہ توانائی بوقت ضرورت کام آسکے۔ جب آپ کے جسم نے آپ کی لی ہوئی غذا سے حسب ضرورت حرارے حاصل کئے تو باقی ماندہ یا اضافی حرارے چربی میں تبدیل ہوکر چربی کے خلیات میں جمع ہوتے ہیں۔ یہ توانائی ذخیرہ کرنے کیلئے ایک قسم کا عارضی طریقہ ہے جو بعد میں توانائی کی کمی کے وقت استعمال کیا جاسکتا ہے۔ آپ کتنے بھی دبلے پتلے کیوں نہ ہوں، آپ کے جسم کا کچھ حصہ چربی تشکیل دیتا ہے۔ جسم کو صحت مند اور توانا رکھنے کیلئے جو کم از کم چربی ضرورت ہے، اُسے لازمی چربی کہا جاتا ہے۔ عمومی طور لازمی چربی عورتوں میں 12 فیصد اور مردوں میں تین فیصد سے پانچ فیصد ہوتی ہے۔ عورتوں کو چربی کی زیادہ ضرورت ہوتی ہے تاکہ وہ بچے جننے اور ہارمون اعتدال میں رکھنے کے چلینج کا مقابلہ کرسکیں۔ مسئلہ اُس وقت شروع ہوتا ہے جب چربی کی کل مقدار جسم کے نارمل وزن کے حساب سے زیادہ ہوجائے۔ علاوہ ازیں صرف یہ اہم نہیں ہے کہ آپ کے جسم میں کتنی چربی ہے بلکہ یہ زیادہ اہم ہے کہ یہ چربی جسم کے کن حصوں میں موجود ہے۔
جسمانی چربی کے اقسام: جسمانی چربی کو تین حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے
(1)  اندرونی یا پوشیدہ چربی
یہ وہ چربی ہے جو جسم کے اندرونی اعضاء مثلاً جگر ، معدہ، انتڑیوں اور گردوں کے ارد گرد ہوتی ہے۔ چوں کہ یہ اعضاء پیٹ یا اس کے نزدیک موجود ہیں۔ اس لئے ان میں حد سے زیادہ چربی مرکزی موٹا پا کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے یعنی پیٹ کی چربی کی صورت میں ذخیرہ ہوتا ہے، اسلئے اسے پیٹ کی چربی یا شکمی چربی کا نام دیا گیا ہے۔ مردوں میں شکم کی چربی زیادہ ہوتی ہے۔
قلبی چربی:۔
ایک خاص قسم کی چربی، جو دل کی بیرونی تہہ پر موجود ہوتی ہے، اسے ’’اچھی چربی‘‘ تصور کیا جاتا ہے کیوں کہ اس سے کئی فائدے ہیں ۔ اس چربی میں کئی اہم ہارمون ذخیرہ ہوتے ہیں جو خلیات کی کارکردگی اور التہاب کو کم کرنے کیلئے ضروری ہیں۔ اگر یہ چربی ضرورت سے زیادہ ہوتو کئی بیماریاں شروع ہوتی ہیں۔ اچھے اور بُرے کولسٹرول کے درمیان اعتدال رکھنا اسلئے ضروری ہے تاکہ چربی کی سطح نارمل رہے۔ چربی کا حد سے زیادہ جمع ہونا اور خون کی نالیوں میں رکاوٹ کا پیداہونا اُن لوگوں میں عام ہے جو موٹا پا (اور پھر اضافی وزنی) کے شکار ہوں۔ دل کی بیماریوں سے بچنے کیلئے موٹاپا کم کرنا ضروری ہے اور ایک منظم و مرتب اور پاکیزہ طرز زندگی اپنانے کی ضرورت ہے۔ روزانہ ورزش کرنے سے اچھے کولسٹرول کی سطح بڑھائی جاسکتی ہے اور پیٹ کی چربی اور پوشیدہ چربی کو گھٹانے سے بُرے کولسٹرول کی سطح کو کم کیا جاسکتا ہے۔ شوگر بیماری کا قبل از وقت پتہ لگاجاسکتا ہے اگر وقت وقت پر خون میں شوگر کی سطح کا پتہ لگایا جاسکے اور ہر تین ماہ بعد HbA,cٹیسٹ کیا جائے۔ اسکے علاوہ بلڈپریشر کو چک کرواکے اسے قابو میں رکھنا ضروری ہے۔ بعض لوگ یہ سوچتے ہیں کہ بہت زیادہ موٹے لوگوں کو ہی ہارٹ اٹیک ہوتا ہے، جی نہیں صرف چربی کی حد سے زیادہ مقدار اور ہارٹ اٹیک میں کوئی رابط نہیں ہے۔ چربی کی معمولی مقدار بھی ہارٹ اٹیک کی وجہ بن سکتا ہے۔ اسلئے خون میں چربی کی مقدار جانچنا ضروری ہے۔
زیر جلد چربی:۔
جسم کی جلدکی نیچے والی چربی عورتوں میں زیادہ ہوتی ہے۔ زیادہ تر چربی عورتوں میں کولہوں کے اطراف میں ہوتی ہے۔ مردوں ور عورتوں کے جسموں میں چربی کی تقسیم کیلئے مردانہ اور زنانہ ہارمون ذمہ دار ہیں۔
شوگر بیماری پر ایک حالیہ سمپوزیم میں یہ اشارہ دیا گیا ہے کہ اندرونی یا پوشیدہ چربی شوگر بیماری کی ایک اہم ترین وجہ ہے اور اگر شوگر بیمارکا وزن اور چربی نارمل حدود میں ہے تو انسولین کی حساسیت میں اضافہ ہوتا ہے اور خون میں شوگر کی سطح قابو کرنے میں کوئی مشکل درپیش نہیں آتی ہے۔
اُبھار کہاں ہے:۔ ہمارے سماج میں پھولے ہوئے پیٹ کو خوشحالی اور امیری سے تعبیر کیا جاتا تھا لیکن اب نظر یہ بدل گیا ہے۔ اب اکثر لوگ خاص کر نوجوان اپنی جسمانی ساخت کی طرف توجہ دینے لگے ہیں۔ لیکن پھر بھی بعض لوگ اپنے پیٹ کی طرف خصوصی توجہ نہیں دیتے ہیں۔ پھولے ہوئے پیٹ میں جو چربی ذخیرہ ہوتی ہے۔ وہ بڑی تیزی سے ہارمون ترشح کرتی ہے (جسے ایڈی پوکائینز کانام دیا گیا ہے) یہ ہارمون شوگر کے اتار چڑھائو میں اہم رول ادا کرتا ہے۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ شوگر بیماری اور موٹاپا میںخاص رابطہ ہے، یوں کہئے کہ موٹا پا اور شوگر لازم و ملزم ہیں۔
پیٹ کی چربی سے ترشح ہونے والے ہارمون انسولین کی تاثیر کو کم کرسکتے ہیں۔ اسکا مطلب یہ ہے کہ لبلبہ جسمانی ضرورتوں کے مطابق انسولین پیدا کر رہا ہے مگر جسم کے خلیات انسولین کو صحیح طریقے سے استعمال کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں اور جب انسولین صحیح ڈھنگ سے اپنا کام انجام نہیں دے سکتا ہے تو خلیات اپنی توانائی کے لئے شوگر کو مناسب طریقے سے استعمال نہیں کرسکتے ہیں۔ اس طرح غذاسے حاصل شدہ شوگر (گلوکوز) خون میں جمع ہوتا ہے اور آپ کا معالج آپ کا ٹیسٹ کرنے کے بعد آپ کو یہ خبر سناتا ہے کہ آپ کا خون بہت زیادہ شیرین ہوا ہے یعنی آپ کا بلڈ شوگر بڑھ گیا ہے اور آپ زیا بیطس کی دہلیز پر قدم رکھ چکے ہیں اور یہ ایک گھمبیر صورتحال ہے۔
اب جسم میں شوگر نارمل رکھنے کیلئے دوائیوں یا انسولین کی ضرورت ہے۔ اگرچہ لبلبہ انسولین برابر پیدا کررہا ہے لیکن وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ لبلبہ پر مسلسل دبائو اس پر منفی اثرات مرتب کرے گا اور یہ ہر وقت حسب ضرورت یا بااندازہ کافی انسولین پیدا نہیں کرتا رہے گا۔ اب آپ کی سمجھ میں آیا ہوگا کہ وقت گذرنے کے ساتھ ساتھ مسئلہ سنگین سے سنگین تر ہوجائے گا، اسلئے ایسا ہونے سے پہلے آپ جاگ جائیں اور اپنے پیٹ کی طرف دیکھیں کہ کہیں اس میں چربی زیادہ جمع تو نہیں ہوگئی ہے۔
جسم کی چربی کو کس طرح ناپا جاسکتا ہے:۔
عمومی طور ایک فرد کا نارمل (صحت مند) وزن اسکے جسمانی حُجم (BMI) سے ناپا جاسکتا ہے۔ نارمل بی ایم آئی 18.5 سے 25 تک ہوتا ہے لیکن بی ایم آئی پر جنس اور نسل اثر انداز ہوسکتا ہے۔ بعض ماہرین کی رائے ہے کہ بی ایم آئی صرف وزن اور قدر کو مدنظر رکھ کر نا پا جاتا ہے جب کہ اس سے یہ پتہ نہیں چلتا ہے کہ جسم کا کتنا حجم چربی تشکیل دیتا ہے۔ اسلئے بعض ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ جسم میں اضافی چربی کا پتہ لگانے کیلئے آسان طریقہ یہ ہے کہ کمر کو ناپا جائے، کوئی بھی اپنی کمر کو ناپ سکتا ہے۔ عورتوں کیلئے80 سینٹی میٹر اور مردوں میں 90 سینٹی میٹرکا کمر نارمل ہے۔ اس سے زیادہ کا مطلب ہے کہ جسم میں اضافی چربی جمع ہوچکی ہے۔ وزن کم کرناذرا مشکل ہے، ناممکن نہیں ہے۔ کہنا آسان اور کرنا کٹھن ہے۔
باور کیا جاتا ہے کہ ہمارے اجسام وزن کم کرنے میں ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرتے ہیں۔ہمارے جسموں (خاصکر عورتوں ) کو موٹا پا کے ساتھ ایک عجیب سی نسبت ہے۔ ایک طرف جہاں بھوک اور سوعہ تعذیہ ایک ہم مسئلہ ہے وہاں شوگر بیماری ایک وبائی روپ اختیار کر رہی ہے۔ اکثر عورتیں یہ شکایت کرتی ہیں کہ وہ کچھ نہیں کھاتی ہیں ،پھر بھی اُن کا وزن بڑھتا رہتا ہے۔ …  ’’کچھ نہیں کھانا‘‘اپنے آپ پر ظلم کرنا ہے۔ اس سے بھی وزن بڑھتا ہے۔ ضرورت کے مطابق اور عمر، قد اور وزن کے حساب سے غذا کھانا بے حد ضروری ہے۔ سوال یہ نہیں کہ کون کیا کھاتا ہے بلکہ سوال یہ ہے کہ ایک فرد کتنے حرار ے استعمال کرتا ہے۔ شاید آپ کا جسم چربی کی صورت میں آپ کے اضافی حرارے جمع کرتا ہے تاکہ بوقت فاقہ کشی کام آسکیں۔ شاید کسی نے آپ کے جسم سے یہ نہیں کہا کہ آپ کے کچن میں کافی مقدار میں غذا موجود ہے۔ جو کہا گیا، اس کا مطلب یہ نہیں کہ ہر کوئی موٹا پا اور پھر شوگر بیماری کا شکار ہوگا، نہیں…۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ مسئلہ کو سمجھنا اور پھر حل ڈھونڈنا ہے۔ موٹاپا سے بچنے کیلئے اور پھر شوگر بیماری سے بچنے کیلئے ضروری ہے کہ آپ اپنا طرز زندگی بدل دیں اور اپنے وزن کو اعتدال میں رکھیں تاکہ اضافی چربی ذخیرہ نہ ہوسکے۔ اگر آپ شوگر بیماری میں مبتلا ہیں اور موٹا پا کے شکار ہیں تو فوری طور اپنا وزن اور چربی کم کرنے کی کوشش کریں تاکہ آپ اپنے شوگر کو کنٹرول کرسکیں۔

تمنا . شاہ نواز فاروقی

تمنا

شاہ نواز فاروقی
-انسان کے خیالات معمولی چیز نہیں۔ انسان جیسا سوچتا ہے ویسا بن جاتا ہے۔ لیکن اس کی شرط یہ ہے کہ سوچنے کا عمل صرف ذہن تک محدود نہ رہے بلکہ وہ پورے وجود کی پکار بن جائے۔ لیکن اس بات کا مطلب کیا ہے؟ ہماری زبان کے تین لفظ ہیں: خواہش، آرزو اور تمنا۔ کہنے کو تو تینوں الفاظ ہم معنی ہیں اور شاعری میں اکثر ان کو ہم معنی الفاظ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے، اور ایسا کرنا غلط بھی نہیں۔ تاہم غور کیا جائے تو یہ تین الفاظ وجود کی تین مختلف سطحوں کو ظاہر کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواہش کا لفظ وجود کے کسی ایک گوشے کی علامت ہے۔ یعنی جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ’ہماری خواہش یہ ہے‘ تو اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ہمارے وجود کا ایک گوشہ فلاں شے کی طلب محسوس کررہا ہے۔ ہوسکتا ہے کہ وجود کا یہ حصہ صرف ہمارا ذہن ہو، ہماری کوئی جبلت ہو۔ لیکن جیسے ہی ہم آرزو کا لفظ استعمال کرتے ہیں صورتِ حال تبدیل ہوجاتی ہے۔ اس لیے کہ آرزو وجود کے کسی گوشے کا تقاضا نہیں ہے، بلکہ آرزو کا لفظ اس بات کا اظہار ہے کہ اب کسی چیز کی طلب میں وجود کے ایک سے زیادہ گوشے شریک ہوگئے ہیں۔ مثلاً کوئی شے ذہن کو بھی درکار ہے اور جبلتوں کو بھی مطلوب ہے۔ ایک شعر ہے ؎ خواہش سے کب ہے تیری طلب آرزو سے ہے اک سمت سے نہیں یہ غضب چار سُو سے ہے اگرچہ آرزو اور تمنا تقریباً ہم معنی الفاظ ہیں، لیکن ان لفظوں کو ان کے حقیقی تناظر میں دیکھا جائے تو آرزو بھی ایک محدود تصور ہے۔ خواہش، آرزو اور تمنا میں جامع ترین لفظ تمنا ہے۔ خواہش اگر کنواں ہے تو آرزو جھیل ہے اور تمنا سمندر۔ خواہش اگر صرف جسم ہے تو آرزو جسم اور نفس کی یکجائی کی علامت ہے، اور تمنا بیک وقت جسم، نفس اور روح کا استعارہ۔ خواہش اگر ماضی ہے تو آرزو ماضی اور حال پر محیط حقیقت، اور تمنا ماضی، حال اور مستقبل کا مرکب۔ غالب نے تمنا کے حوالے سے ایک بے مثال شعر کہہ رکھا ہے۔ غالب نے کہا ہے ؎ ہے کہاں تمنا کا دوسرا قدم یارب ہم نے دشتِ امکاں کو ایک نقش پایا غالب نے اس شعر میں ’’موجود‘‘ نہیں ’’ممکن‘‘ کو بھی تمنا کا محض ایک قدم قرار دیا ہے۔ اردو شاعری میں تمنا کا اس سے زیادہ بامعنی استعمال اور کہیں موجود نہیں۔ البتہ میرؔ نے تمنا کے لفظ میں معنی کی ایک نئی جہت کا اضافہ کیا ہے، میرؔ نے کہا ہے ؎ تمنائے دل کے لیے جان دی سلیقہ ہمارا تو مشہور ہے میرؔ نے اس شعر میں تین کام کیے ہیں۔ ایک کام تو انہوں نے یہ کیا ہے کہ انسانی وجود میں تمنا کے مرکز کی نشاندہی کردی ہے اور بتایا ہے کہ وہ دل کے سوا کچھ اور نہیں ہوسکتا۔ میرؔ نے دوسرا کام یہ کیا ہے کہ تمنا کو معلوم سے محسوس بنادیا ہے۔ میرؔ نے تیسرا کام یہ کیا ہے کہ انہوں نے بتادیا کہ انسانی جان اتنی قیمتی ہے کہ اسے صرف پورے وجود کے تقاضے کی نذر کیا جاسکتا ہے۔ مطلب یہ کہ جبلت کے کسی تقاضے کے لیے جان نہیں دی جاسکتی۔ صرف ذہن کے مطالبے پر جان کو دائو پر نہیں لگایا جاسکتا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ہمارے مذہب، ہماری تہذیب اور ہماری تاریخ میں دل کی سب سے بڑی تمنا کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ اسلام اور اسلامی تہذیب میں دل کی سب سے بڑی تمنا صرف ایک ہے، اللہ تعالیٰ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق ہے، مالک ہے، رازق ہے۔ اس کے ہونے سے ہر شے موجود ہے، اس کے ہونے سے ہر چیز میں معنی ہیں۔ مذاہب بالخصوص اسلام کا کمال یہ ہے کہ وہ انسان کو اس کی پیدائش کے ساتھ ہی شعوری طور پر زندگی اور کائنات کی سب سے بڑی حقیقت اور سب سے بڑی تمنا سے منسلک کردیتا ہے۔ نومولود کے ایک کان میں اذان اور دوسرے کان میں اقامت کہی جاتی ہے۔ اسے بتایا جاتا ہے کہ اللہ ہی بڑا ہے۔ اس کے سوا کوئی الہ نہیں۔ اسے آگاہ کیا جاتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، اور اسے فلاح اور نماز کی طرف آنا چاہیے، یہاں تک کہ اس کی زندگی میں نماز ’’قائم‘‘ ہوجائے۔ دیکھا جائے تو یہ ایک مسلمان کی زندگی کا جامع دستور ہے اور ساری زندگی اس دستور کی تفصیل ہے۔ تاریخ شاہد ہے کہ خدا پر ایمان اور اس کے قرب نے کہیں انسان کو پیغمبر بنادیا ہے، کہیں ولی بناکر کھڑا کردیا ہے، کہیں وہ زمین پر اللہ کا نائب بن گیا ہے، کہیں اسے اشیاء پر تصرف حاصل ہوگیا ہے۔ ہماری تہذیب میں خدا پر ایمان نے تفسیر کی بے مثال روایت پیدا کی، علم حدیث کا سمندر تخلیق کیا، سیرت پر ادب کے بحرِ زخار کو جنم دیا، شاعری کی عظیم الشان روایت کو خلق کیا، فقہ کی عظیم الشان عمارت تعمیر کی، فنِ تعمیر کے بے مثال نمونے دنیا کو دیے، جہاں بانی اور جہانگیری کی شاندار روایات قائم کیں۔ کہنے والے کہتے ہیں کہ ایمان کی روایت نے علم پیدا کیا ہے تو اس میں کمال کی کیا بات ہے؟ اس لیے کہ تشکیک نے بھی دنیا میں علم کی بڑی روایت پیدا کی ہے۔ اور وہ غلط نہیں کہتے۔ لیکن تشکیک کے علم کی سطح تشکیک ہی کی طرح سست ہے۔ تشکیک کی روایت کے پیدا کردہ علم کی پائیداری کا یہ حال ہے کہ مغرب میں تشکیک زدہ فلسفی دو تین دہائیوں میں ’’پرانے‘‘ ہوجاتے ہیں۔ کارل مارکس نے تشکیک کی بنیاد پر علم کا ’’تاج محل‘‘ تعمیر کیا تھا، مگر یہ تاج محل صرف 70 سال میں کھنڈر بن گیا اور آج اس تاج محل کی باقیات کو کہیں اور کیا ماسکو میں بھی لوگ ’’آثار قدیمہ‘‘ ماننے کے لیے تیار نہیں۔ حالانکہ ماسکو وہ شہر ہے جہاں مارکس کو 70 سال تک پوجا گیا ہے۔ اس کے برعکس غزالیؒ اور رازیؒ تقریباً ایک ہزار سال سے زندہ ہیں، لیکن یہ زندگی غزالیؒ اور رازیؒ کی زندگی نہیں اُن کے موضوعات کی زندگی ہے جن میں الٰہیات کا موضوع سرفہرست ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ غزالیؒ اور رازیؒ کی عظمت ان کی تمنا کی عظمت ہے۔ بلاشبہ بڑی چیز کی تمنا بھی انسان کو بڑا بنادیتی ہے۔ اس کے برعکس چھوٹی چیز کی تمنا انسان کو چھوٹا بنادیتی ہیٖ۔ ایک زمانہ تھا کہ ہمارے ادب میں ’’عشقِ حقیقی‘‘ کے ساتھ ’’عشقِ مجازی‘‘ کی اصطلاح بھی مروج تھی، اور ہماری شعری روایت میں بڑی شاعری وہ تھی جو بیک وقت محبوبِ حقیقی اور محبوبِ مجازی کے بیان پر مشتمل ہو۔ اس شاعرانہ روایت میں محبوبِ حقیقی خدا تھا اور محبوبِ مجازی انسان۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ جب تک ہماری شاعری ’’حقیقت‘‘ کے شعور کی حامل تھی اُس وقت تک ’’مجاز‘‘ بھی حسین تھا، جمیل تھا، بامعنی تھا، اور اس کا عشق بھی عشق کہلانے کا مستحق تھا۔ لیکن عشقِ حقیقی اور عشقِ مجازی کا تعلق یہ ہے کہ جب تک مجازی عشق، عشقِ حقیقی سے جڑا ہوا ہے اُس وقت تک وہ عشق ہے، لیکن عشقِ حقیقی سے تعلق توڑتے ہی عشقِ مجازی صرف ’’ہوس‘‘ بن کر رہ جاتا ہے۔ ہماری روایت میں بڑی تمنا سے وابستگی یا عدم وابستگی تصورات اور اشیاء کی حقیقت اور معنویت کو اسی طرح تبدیل کرتی ہے۔ ہمارے عہد کا المیہ یہ ہے کہ وہ خواہش، آرزو اور تمنا کے فرق سے آگاہ نہیں، اور اس نے اکثر صورتوں میں خواہش ہی کو تمنا سمجھ لیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ دنیا میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو سرے سے وجودِ باری تعالیٰ کے قائل ہی نہیں، چنانچہ خدا ان کی تمنا ہو ہی نہیں سکتا۔ دنیا میں کروڑوں انسان ایسے ہیں جو خدا کو مانتے تو ہیں مگر انہوں نے خدا کے شریک ایجاد کرلیے ہیں، یعنی انہوں نے بڑی تمنا میں خدا کے ساتھ ان کو بھی شریک کرلیا ہے جو ہرگز خدا کہلانے کے مستحق نہیں۔ رہے مسلمان، تو ان کی بڑی تعداد کے لیے خدا محض ایک عقیدہ، محض ایک تصور ہے۔ وہ ان کی تمنا نہیں ہے۔ ان کے پورے وجود کی پکار نہیں ہے۔ خدا سے مسلمانوں کی محبت اکثر صورتوں میں پارٹ ٹائم محبت ہے۔ تو پھر مسلمانوں کی ترجیح اوّل کیا ہے؟ اس سوال کا جواب ایک لفظ میں ہے: دنیا۔ مسلم معاشرے اپنے بچوں کو شدت، گہرائی اور تواتر کے ساتھ صرف ایک بات بتارہے ہیں: تمہیں پڑھنا ہے اور دل لگا کر پڑھنا ہے، تمہیں محنت کرنی ہے اور جان توڑ محنت کرنی ہے، تمہیں تعلیمی محاذ پر کامیاب ہونا ہے اور بہترین انداز میں کامیاب ہونا ہے تاکہ تم ایک اچھا روزگار حاصل کرسکو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ روزگار ہماری سب سے بڑی تمنا بن گیا ہے۔ اصول ہے: انسان روشنی کے ساتھ رہتا ہے روشنی بن جاتا ہے، عطر بناتا ہے تو اس سے خوشبو آنے لگتی ہے، کوئلوں کا کام کرتا ہے تو اس کے ہاتھ کالے ہوجاتے ہیں۔ ایسی باتوں کو لوگ دنیا کے انکار کے مترادف سمجھتے ہیں۔ لیکن دنیا کے اقرار اور دنیا کی پوجا میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ خدا انسان کی تمنا ہو تو دنیا اپنے مقام پر رہتی ہے، ورنہ دنیا خود خدا بن جاتی ہے۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ دنیا کے ساتھ ہمارے تعلق کی نوعیت اصل چیز ہے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک شخص کے بینک اکائونٹ میں پچاس ارب روپے ہوں اور وہ انہیں پچاس روپوں کے برابر سمجھتا ہوں، اور ہم دیکھتے ہیں کہ دنیا میں بسا اوقات انسان پچاس روپے کے لیے دوسرے انسان کی جان لے لیتا ہے۔ یہی دنیا کے تمنا بن جانے کی صورت ہے۔

Friday, 25 May 2012

آج کا ترکی .... ایک روشن مثال

آج کا ترکی .... ایک روشن مثال .

ڈاکٹر حسین احمد پراچہ 
آج سے کئی برس قبل جب میں ترک دوست بعصوص سلیم کےساتھ استنبول کی ایک بڑی عمارت میں داخل ہوا تو میں سمجھا کہ ہم یہاں کسی پانچ ستارہ ہوٹل میں آ گئے ہیں۔ فرش پر سرخ رنگ کے قالین بچھے ہوئے تھے حتیٰ کہ سیڑھیوں پر بھی قالین بچھا تھا۔ لفٹیں تیزی سے اوپر نیچے آ جا رہی تھیں۔ ابھی تک میں عالم حیرت میں ڈوبا ہوا تھا کہ یہ ہوٹل ہے یا کارپوریشن کا دفتر، اتنے میں ہم ڈپٹی ڈائریکٹر قدیربے کے دفتر میں قدم رکھ چکے تھے۔ قدیربے نے گرم جوشی سے ہمارا استقبال کیا اور استنبول کارپوریشن کی تاریخ اور منصوبوں کے بارے میں آرٹ پیپر پر چھپی ہوئی کتاب مجھے پیش کی۔ اسی اثناءمیں انہوں نے کارپوریشن کے چیف ایڈمنسٹریٹر کو ہماری آمد کے بارے میں بتایا۔ اس مردِ شفیق نے باقی مصروفیات ترک کر کے فرمایا کہ میں ”مسافر“ کےلئے چشمِ براہ ہوں۔
ڈاکٹر ارمن ٹنسر نہایت تپاک سے ملے۔ انہوں نے بتایا کہ میٹروپولیٹن گورنمنٹ کو سٹی کونسل تشکیل دیتی ہے۔ یہ سٹی کونسل 199 ارکان پر مشتمل ہے جو مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ استنبول کی تاریخ میں پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ ایک ہی جماعت کو دوسری ٹرم کےلئے منتخب کیا گیا ہو۔ رفاہ کے میر رجب طیب اردگان نے ایک ٹرم میں ایسے کام کئے جو کارپوریشن کی تاریخ میں پہلے کبھی نہیں ہوئے تھے۔ انہوں نے لگن اور جانفشانی سے کام کیا اور استنبول کے شہریوں کو وہ وہ سہولتیں بہم پہنچائیں جن کا اس سے پہلے تصور بھی محال تھا۔ اُنکی دیانت، امانت، محنت اور جانفشانی کے چرچے دور نزدیک ہر جگہ پہنچ گئے۔ وہ اہل استنبول کے دلوں کی دھڑکن بن گئے۔ 
اس وقت میں رجب طیب اردگان سے نہ مل سکا کیونکہ وہ پسِ دیوار زنداں تھا۔ ایک ”جذباتی“ تقریر کی پاداش میں ترکی کی فوجی عدالت نے انہیں یہ سزا دی۔ تب طیب اردگان نے دل میں یہ ٹھان لی کہ خدمت خلق کا جو جرم انہوں نے استنبول میں انجام دیا ہے وہ جرم اب اُن سے ترکی کے چپے چپے میں سرزد ہو گا۔ وہ جیل سے رہا ہوئے، انہوں نے کھربوں کی کرپشن والی استنبول کارپوریشن کو یوں پاک صاف کیا کہ اپنے پرائے سب پکار اٹھے کہ اب یہاں ایک لیرے کی بھی بدعنوانی نہیں ہوتی۔ 
جن دو شخصیات کی اذانوں نے ترکی کو بیدار کیا ہے ان میں استاد بدیع الزماں نورسی اور پروفیسر نجم الدین اربکان ہیں۔ اربکان ترکی کے وزیراعظم بھی رہے اور اِنکا انتقال 2011ءمیں ہوا۔ استاذ نجم الدین اربکان نے 9 ماہ میں ”ملی گورش“ کے نام سے نوجوانوں کی تحریک شروع کی۔ ترکی کے فوجی حکمرانوں نے اُن کا راستہ روکنے کی ہرممکن کوشش کی اور انکی جماعت پر پابندی عائد کر دی۔ وہ ہر پابندی کے بعد نئی جماعت بنا کر میدان میں نکل آئے۔ ملی نظام پارٹی، پھر سلامت پارٹی، پھر رفاہ پارٹی، پھر فضیلت پارٹی، اسکے بعد سعادت پارٹی۔ ترکی کے موجودہ حکمران رجب طیب اردگان اور صدر ترکی عبداللہ گل پروفیسر نجم الدین اربکان کے ہی ساتھی اور شاگرد ہیں، سیاسی طریق کار سے اختلاف پر اُن سے الگ ہوئے۔ انہوں نے جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (اے کے پارٹی) بنائی اور دو بار کے بعد اب تیسری مرتبہ برسر اقتدار آ گئے ہیں۔ 
رجب طیب اردگان کی اس مخیر العقول اور عظیم کامیابی کا راز بڑا سادہ ہے۔ وہ مختصر الفاظ میں یہ ہے کہ اپنی ذات کی نفی اور عوام کی خدمت بلکہ بے پناہ خدمت۔ طیب اردگان سے پہلے گزشتہ دنوں پاکستان کے دورے پر آئے ہوئے چند ترک دوستوں سے میں نے اسلام آباد میں پوچھا کہ طیب اردگان کی پے بہ پے کامیابیوں کا راز کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ آپ ترکی میں دکانداروں سے پوچھیں، گاہکوں سے پوچھیں، طلبہ سے پوچھیں، حکومتی ملازمین سے پوچھیں یا پرائیویٹ اداروں کے اہلکاروں سے پوچھیں آپ کو ایک ہی جواب ملے گا ہم طیب اردگان کےساتھ ہیں، ہم اس سے دل و جان کے ساتھ محبت کرتے ہیں، ہم اسے کھونا نہیں چاہتے۔ اس نے ترکوں کی حالت بدل دی ہے، اس نے ہمیں فرش سے اٹھا کر عرش پر پہنچا دیا ہے، وہ ایک دیانتدار اور دردمند حکمران ہے۔ انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ کے سروے کےمطابق ترک عوام حکومت کی تعلیمی پالیسی، اسکی اقتصادی پالیسی اور صحت پالیسی سے بہت خوش ہیں تقریباً 60 فیصد عوام حکومت کے اقدامات سے نہ صرف مطمئن ہیں بلکہ دل و جان سے ان خوشگوار کاموں کی قدر کرتے ہیں۔ 
ترک عوام پہلے ہسپتالوں میں ذلیل و خوار ہوتے تھے، غریب کا کوئی پُرسانِ حال نہ تھا۔ ڈاکٹر مریض کو انسان نہیں سمجھتے تھے، سرکاری ہسپتال سے ادویات لینے کےلئے چار چار سو افراد کی لمبی قطاریں بنی ہوتی تھیں لیکن اردگان نے کہا کہ جن غریبوں کی ہیلتھ انشورنس نہیں ہے اسکی کفیل خود حکومت ہو گی، اسی طرح 18 برس سے یا اس سے کم عمر کے تمام بچوں کے علاج معالجے کے اخراجات بھی حکومت ادا کرےگی یہ تعداد تین کروڑ نوے لاکھ بنتی ہے۔ مریض کو نظر انداز کرنا جرم بنا دیا گیا بہت بڑا جرم، ڈاکٹروں کو اس جرم کی پاداش میں ملازمت سے فارغ کر دیا گیا، سرکاری ڈاکٹر کم پڑ گئے تو عوام کے علاج کےلئے پرائیویٹ ڈاکٹروں کی خدمات حاصل کر لی گئیں۔ 
چند روز پہلے میں نے ہفت روزہ امریکی جریدے ”ٹائم“ میں پڑھا کہ اس وقت جاپان اور سنگاپور کی نہیں ترکی اور انڈونیشیا کی اقتصادی ترقی باعثِ تقلید ہے۔ امریکی جریدے نے لکھا کہ اب تک ترکی کو ایک مسلمان ملک ہونے کی حیثیت سے اسکی عوامی خدمت، فلاحی منصوبوں اور تیز رفتار اقتصادی ترقی کو نظر انداز کیا گیا مگر اب جادو سر چڑھ کر بول رہا ہے۔ 
ترکی اپنی تعلیمی ترقی کے اعتبار سے بھی تمام مسلمان ملکوں پر سبقت لے گیا ہے اب وہاں سو فیصد شرح خواندگی ہے۔ ہر ترقی یافتہ ملک کی طرح ترکی نے بھی سارے ملک کےلئے یکساں تعلیم، ایک جیسا نصابِ تعلیم اور اپنی زبان میں تعلیم کا نظام رائج کیا ہے۔ سائنس ہو یا آرٹ، عمرانی علوم ہوں یا تجارتی علوم سب کچھ اپنی زبان میں پڑھایا جاتا ہے۔ قومی زبان میں پڑھنے سے تعلیم آسان اور عام فہم ہو گئی ہے۔ آج ترکی کے ڈاکٹر، ترکی کے انجینئر، ترکی کے ماہرینِ تجارت و اقتصادیات ساری دنیا میں پہچانے جاتے ہیں اور نہایت ہی قدر کی نگاہ سے دیکھے جاتے ہیں۔ ایک ہم ہیں کہ جو غلامی اور غلامانہ سوچ سے ابھی تک دامن نہیں چھڑا سکے۔